وجود

... loading ...

وجود

گاندھی کی پُراسرار موت

جمعرات 01 فروری 2018 گاندھی کی پُراسرار موت

موہن داس کرم چند گاندھی کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہائوس کے لان میں قتل کردیا گیا۔ گاندھی پر پانچ قاتلانہ حملے 1934ء سے 1948ء کے دوران ہوئے جو سارے باقا عدہ نہیں تھے۔ ان میں سے بعض کو محض کوشش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اہم بات یہ کہ ہر قاتلانہ حملے میں نتھورام گاڈسے کا ذکر ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آخری اور حتمی قاتلانہ حملے کی قیادت کرنے والا نتھورام گاڈسے، صرف ہندومہا سبھا کا ممبر ہونے کے باعث ان کا مخالف تھا۔ جبکہ گاندھی کی لمبی عمر جینے کی خواہش تھی۔ نند لال مہتہ لکھتا ہے کہ گاندھی نے ایک بار ایک بنگالی ڈاکٹر کو بلایا اور اس سے کہا کہ وہ ایسی خوراک تجویز کرے جس سے وہ 125سال تک زندہ رہ سکے۔ ڈاکٹر نے اس کے جواب میں گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ کلکتہ واپس چلے جائیں اور اپنی صحت کو ٹھیک کریں۔ مسٹر گاندھی پر متعدد بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ پہلی کوشش 25 جون 1934ء کو ہوئی۔ اس دن مسٹرگاندھی نے پونا کے کارپوریشن آڈیٹوریم میں بھاشن دینا تھا ان کی بیوی کستور بائی بھی ہمراہ تھیں۔ دوکاروں پر مشتمل ایک قافلہ انہیں لے کر جا رہا تھا۔ اگلی کار میں میزبان تھے جبکہ پچھلی کار میں مسز اینڈ مسٹر گاندھی سوار تھے۔ راستے میں انہیں ایک ریلوے کراسنگ عبور کرنا تھا۔ پہلی کار تیز رفتاری سے کراسنگ عبور کر گئی لیکن دوسری کار کے وہاں پہنچنے تک ریلوے کراسنگ بند ہو گیا تھا۔ جونہی پہلی کار آڈیٹوریم پہنچی، اس پر ایک بم پھینکا گیا ، جو پھٹ گیا۔کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا تاہم پونا میونسپل کارپوریشن کا چیف آفیسر، دو پولیس والے اور سات عام لوگ شدید زخمی ہوئے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس (ناکام) قاتلانہ حملے کی نہ تو کوئی تفصیلات یا تحقیقات موجود ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی البتہ نتھو رام گاڈسے اور نرائن آپٹے کا نام سامنے آتا رہا۔ دوسری بار ہونے والے حملے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملہ دراصل ایک ناراض شخص کا غصہ تھا، قاتلانہ حملے کی کوشش نہیں تھی۔ یہ واقعہ دس سال بعد ہوا۔ مئی1944ء میں مسٹر گاندھی کو آغا خان کے محل پونا سے رہا کیا گیا جسے ان کے لیے جیل قرار دیا گیا تھا۔ اس’’ محل جیل‘‘سے رہا ہونے کچھ عرصہ بعد انہیں ملیریا ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں کام نہ کرنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ مسٹر گاندھی نے پونا کے نزدیک ایک پر فضا مقام پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ان کا قیام دل کش بنگلے میں تھا۔ ایک دن بس میں پندرہ بیس لڑکوں کا ایک گروپ نتھو رام گاڈسے کی قیادت میں رہائش گاہ کے باہر آیا۔ وہاں انہوں نے گاندھی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ شور سن کر مسٹر گاندھی نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اندر آکر اطمینان اور سکون سے بات کریں۔ انہوں نے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم شام کی پرارتھنا سبھا میں جب مسٹر گاندھی بھاشن دے رہے تھے، نتھو رام، ہاتھ میں خنجر لیے،گاندھی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے تیزی سے ان کی جانب بڑھا۔ تاہم ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دو آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔ تیسری کوشش بھی نمائشی ہی سمجھی جاتی ہے۔ یہ واقعہ سیواگرام میں پیش آیا جب مسٹر گاندھی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت بمبئی جانے والے تھے۔ جب وہ روانہ ہونے والے تھے تو ہندوئوں کے ایک گروپ نے انہیں روکنا چاہا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسٹر گاندھی بمبئی جائیں اور محمد علی جناح سے بات چیت کریں تاہم آشرم کے رضاکاروں نے اس گروپ کو گھیر لیا۔ ان لوگوں کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اس گروپ کا لیڈر نتھو رام گاڈسے تھا اور اس کے قبضے سے پھر ایک خنجر برآمد ہوا۔ 29 جون1944ء میں چوتھی بار کوشش ہوئی۔

مسٹر گاندھی ایک ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس کا نام ’’گاندھی ا سپیشل‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ گاڑی بمبئی سیکشن پر نرال اور کارجت ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹڑی سے اتر گئی۔ ریل گاڑی کے ڈرائیور نے جو رپورٹ پیش کی۔اس میں کہا گیا تھا کہ گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے ٹریک پر بھاری پتھر رکھے گئے تھے۔گاڑی بھاری پتھروں سے ٹکرا گئی۔ پونا پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکوئوں نے بھاری پتھر رکھے تھے تاکہ وہ مال گاڑیوں کو لوٹ سکیں۔ اس سیکشن پرگاندھی سپیشل سے پہلے اور بعد میں کوئی مال گاڑی نہیں چلی تھی۔ تاہم پولیس اس دعویٰ سے متفق تھی کہ یہ سبوتاژ کی کارروائی تھی۔ چونکہ اس وقت روٹ پرصرف گاندھی سپیشل ٹرین چل رہی تھی، اس لیے سمجھا گیا کہ انہیں ہی نشانہ بنایا جانا تھا۔ اگرچہ ریکارڈ کے مطابق یہ چوتھا حملہ تھا۔ تاہم بعد میں، پونا میں پرارتھنا سبھا میں بھاشن دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا !’’بھگوان کی کرپا سے میں کئی بار موت کے جبڑوں سے بچ نکلا ہوں۔کل بھی میری جان پر ہونے والا حملہ ناکام ہو گیا۔ میں ابھی نہیں مروں گا ، میں 125سال کی عمر تک جینا چاہتا ہوں۔

مسٹر گاندھی پر قاتلانہ حملے کی پانچویں کوشش 20 جنوری 1948ء کے دن ہوئی۔ یہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا جس کی قیادت نتھو رام گاڈسے نے کی۔ برلاس ہائوس جہاں گاندھی کو پرارتھنا کے لیے جانا تھا ، پروگرام طے ہوا کہ باجے کار کرشنا ایک پستول اور بم سمیت ،گاندھی کی پچھلی نشست کی جانب جالی دار سوراخوں میں سے فوٹو اتارنے کے بہانے داخل ہو گا، وہ اشارہ کرے گا تومدن لال پہوا، مجمع کی توجہ بھٹکانے کے لیے پچھلے دروازے کے نزدیک بم پھینکے گا، تو اس سے افراتفری پھیلے گی، اس دوران میں باجے کرشنا اپنے پستول سے گولی چلائے گا اور اس کے فوراً بعد دستی بم پھینک دے گا اور سب بھاگ نکلیں گے۔ مسٹر گاندھی تادم مرگ بھوک ہڑتال کی حالت میں تھے۔ آواز نحیف تھی۔ معاملہ یوں ہوا کہ اس روز بجلی منقطع ہو گئی۔گاندھی برلا ہائوس پہنچے تو ڈاکٹر سوشیلا نائرگاندھی کی ناسازی طبع کے باعث مرکزی نشست پر ان کے الفاظ دہرا رہی تھی۔ سارا پروگرام تبدیل کر کے چھوٹو رام کو پیسے دے کر خریدا گیا اور گاندھی کو تصویر بنانے کے لیے جائے وقوعہ لایا گیا مگر وہ ناکام رہا صورتحال کو دیکھتے ہوئے مدن لال پہوا نے پرارتھنا کی جگہ پر ایک بم پھینک دیا۔ معاملہ بگڑ گیا، لوگ بچ کر نکل گئے۔ مدن لال پہوا پکڑا گیا اور اس نے تسلیم کیا کہ وہ مسٹر گاندھی کی ہتھیا کرنا چاہتا تھا۔

اس ناکامی کے بعد، نتھو رام گاڈسے نے نئی منصوبہ بندی کی۔ ایک برمیٹا آٹومیٹک پستول اور گیارہ رائونڈ،گوالیار سے خریدے اور29جنوری 1948ء کو دِہلی پہنچے۔ 30 جنوری 1948ء کی شام جب مسٹر گاندھی، آل انڈیا کانگریس کے دو مرکزی متحارب لیڈروں پنڈت جواہر لال نہرو اور ولبھ پٹیل کے مابین صلح کرانے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے، اپنے معمول کے مطابق دونوں لڑکیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ اس چبوترے کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں بیٹھ کر وہ بھاشن دیتے تھے۔ اچانک ایک نوجوان تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑے نیچے جھک گیا ، گاندھی اسی انداز میں ’’نمستے‘‘ کا جواب دینے کے لیے جھکے اور فوراً فائر کی آواز سنائی دی۔ اس نے تین گولیاں ان کی چھاتی اور پیٹ میں مار دی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ مسٹر گاندھی فوراً گرے اور مردہ ہو گئے، وہ کوئی لفظ ادا نہیں کر سکے۔ شری دھرم جیت جگ یاسو لکھتے ہیں کہ قتل کی اطلاع ملتے ہی ہندو مہا سبھا کے حامیوں نے پونا اور دوسرے شہروں میں مٹھائی تقسیم کی۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر