... loading ...
موہن داس کرم چند گاندھی کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہائوس کے لان میں قتل کردیا گیا۔ گاندھی پر پانچ قاتلانہ حملے 1934ء سے 1948ء کے دوران ہوئے جو سارے باقا عدہ نہیں تھے۔ ان میں سے بعض کو محض کوشش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اہم بات یہ کہ ہر قاتلانہ حملے میں نتھورام گاڈسے کا ذکر ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آخری اور حتمی قاتلانہ حملے کی قیادت کرنے والا نتھورام گاڈسے، صرف ہندومہا سبھا کا ممبر ہونے کے باعث ان کا مخالف تھا۔ جبکہ گاندھی کی لمبی عمر جینے کی خواہش تھی۔ نند لال مہتہ لکھتا ہے کہ گاندھی نے ایک بار ایک بنگالی ڈاکٹر کو بلایا اور اس سے کہا کہ وہ ایسی خوراک تجویز کرے جس سے وہ 125سال تک زندہ رہ سکے۔ ڈاکٹر نے اس کے جواب میں گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ کلکتہ واپس چلے جائیں اور اپنی صحت کو ٹھیک کریں۔ مسٹر گاندھی پر متعدد بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ پہلی کوشش 25 جون 1934ء کو ہوئی۔ اس دن مسٹرگاندھی نے پونا کے کارپوریشن آڈیٹوریم میں بھاشن دینا تھا ان کی بیوی کستور بائی بھی ہمراہ تھیں۔ دوکاروں پر مشتمل ایک قافلہ انہیں لے کر جا رہا تھا۔ اگلی کار میں میزبان تھے جبکہ پچھلی کار میں مسز اینڈ مسٹر گاندھی سوار تھے۔ راستے میں انہیں ایک ریلوے کراسنگ عبور کرنا تھا۔ پہلی کار تیز رفتاری سے کراسنگ عبور کر گئی لیکن دوسری کار کے وہاں پہنچنے تک ریلوے کراسنگ بند ہو گیا تھا۔ جونہی پہلی کار آڈیٹوریم پہنچی، اس پر ایک بم پھینکا گیا ، جو پھٹ گیا۔کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا تاہم پونا میونسپل کارپوریشن کا چیف آفیسر، دو پولیس والے اور سات عام لوگ شدید زخمی ہوئے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس (ناکام) قاتلانہ حملے کی نہ تو کوئی تفصیلات یا تحقیقات موجود ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی البتہ نتھو رام گاڈسے اور نرائن آپٹے کا نام سامنے آتا رہا۔ دوسری بار ہونے والے حملے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملہ دراصل ایک ناراض شخص کا غصہ تھا، قاتلانہ حملے کی کوشش نہیں تھی۔ یہ واقعہ دس سال بعد ہوا۔ مئی1944ء میں مسٹر گاندھی کو آغا خان کے محل پونا سے رہا کیا گیا جسے ان کے لیے جیل قرار دیا گیا تھا۔ اس’’ محل جیل‘‘سے رہا ہونے کچھ عرصہ بعد انہیں ملیریا ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں کام نہ کرنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ مسٹر گاندھی نے پونا کے نزدیک ایک پر فضا مقام پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ان کا قیام دل کش بنگلے میں تھا۔ ایک دن بس میں پندرہ بیس لڑکوں کا ایک گروپ نتھو رام گاڈسے کی قیادت میں رہائش گاہ کے باہر آیا۔ وہاں انہوں نے گاندھی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ شور سن کر مسٹر گاندھی نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اندر آکر اطمینان اور سکون سے بات کریں۔ انہوں نے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم شام کی پرارتھنا سبھا میں جب مسٹر گاندھی بھاشن دے رہے تھے، نتھو رام، ہاتھ میں خنجر لیے،گاندھی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے تیزی سے ان کی جانب بڑھا۔ تاہم ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دو آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔ تیسری کوشش بھی نمائشی ہی سمجھی جاتی ہے۔ یہ واقعہ سیواگرام میں پیش آیا جب مسٹر گاندھی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت بمبئی جانے والے تھے۔ جب وہ روانہ ہونے والے تھے تو ہندوئوں کے ایک گروپ نے انہیں روکنا چاہا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسٹر گاندھی بمبئی جائیں اور محمد علی جناح سے بات چیت کریں تاہم آشرم کے رضاکاروں نے اس گروپ کو گھیر لیا۔ ان لوگوں کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اس گروپ کا لیڈر نتھو رام گاڈسے تھا اور اس کے قبضے سے پھر ایک خنجر برآمد ہوا۔ 29 جون1944ء میں چوتھی بار کوشش ہوئی۔
مسٹر گاندھی ایک ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس کا نام ’’گاندھی ا سپیشل‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ گاڑی بمبئی سیکشن پر نرال اور کارجت ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹڑی سے اتر گئی۔ ریل گاڑی کے ڈرائیور نے جو رپورٹ پیش کی۔اس میں کہا گیا تھا کہ گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے ٹریک پر بھاری پتھر رکھے گئے تھے۔گاڑی بھاری پتھروں سے ٹکرا گئی۔ پونا پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکوئوں نے بھاری پتھر رکھے تھے تاکہ وہ مال گاڑیوں کو لوٹ سکیں۔ اس سیکشن پرگاندھی سپیشل سے پہلے اور بعد میں کوئی مال گاڑی نہیں چلی تھی۔ تاہم پولیس اس دعویٰ سے متفق تھی کہ یہ سبوتاژ کی کارروائی تھی۔ چونکہ اس وقت روٹ پرصرف گاندھی سپیشل ٹرین چل رہی تھی، اس لیے سمجھا گیا کہ انہیں ہی نشانہ بنایا جانا تھا۔ اگرچہ ریکارڈ کے مطابق یہ چوتھا حملہ تھا۔ تاہم بعد میں، پونا میں پرارتھنا سبھا میں بھاشن دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا !’’بھگوان کی کرپا سے میں کئی بار موت کے جبڑوں سے بچ نکلا ہوں۔کل بھی میری جان پر ہونے والا حملہ ناکام ہو گیا۔ میں ابھی نہیں مروں گا ، میں 125سال کی عمر تک جینا چاہتا ہوں۔
مسٹر گاندھی پر قاتلانہ حملے کی پانچویں کوشش 20 جنوری 1948ء کے دن ہوئی۔ یہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا جس کی قیادت نتھو رام گاڈسے نے کی۔ برلاس ہائوس جہاں گاندھی کو پرارتھنا کے لیے جانا تھا ، پروگرام طے ہوا کہ باجے کار کرشنا ایک پستول اور بم سمیت ،گاندھی کی پچھلی نشست کی جانب جالی دار سوراخوں میں سے فوٹو اتارنے کے بہانے داخل ہو گا، وہ اشارہ کرے گا تومدن لال پہوا، مجمع کی توجہ بھٹکانے کے لیے پچھلے دروازے کے نزدیک بم پھینکے گا، تو اس سے افراتفری پھیلے گی، اس دوران میں باجے کرشنا اپنے پستول سے گولی چلائے گا اور اس کے فوراً بعد دستی بم پھینک دے گا اور سب بھاگ نکلیں گے۔ مسٹر گاندھی تادم مرگ بھوک ہڑتال کی حالت میں تھے۔ آواز نحیف تھی۔ معاملہ یوں ہوا کہ اس روز بجلی منقطع ہو گئی۔گاندھی برلا ہائوس پہنچے تو ڈاکٹر سوشیلا نائرگاندھی کی ناسازی طبع کے باعث مرکزی نشست پر ان کے الفاظ دہرا رہی تھی۔ سارا پروگرام تبدیل کر کے چھوٹو رام کو پیسے دے کر خریدا گیا اور گاندھی کو تصویر بنانے کے لیے جائے وقوعہ لایا گیا مگر وہ ناکام رہا صورتحال کو دیکھتے ہوئے مدن لال پہوا نے پرارتھنا کی جگہ پر ایک بم پھینک دیا۔ معاملہ بگڑ گیا، لوگ بچ کر نکل گئے۔ مدن لال پہوا پکڑا گیا اور اس نے تسلیم کیا کہ وہ مسٹر گاندھی کی ہتھیا کرنا چاہتا تھا۔
اس ناکامی کے بعد، نتھو رام گاڈسے نے نئی منصوبہ بندی کی۔ ایک برمیٹا آٹومیٹک پستول اور گیارہ رائونڈ،گوالیار سے خریدے اور29جنوری 1948ء کو دِہلی پہنچے۔ 30 جنوری 1948ء کی شام جب مسٹر گاندھی، آل انڈیا کانگریس کے دو مرکزی متحارب لیڈروں پنڈت جواہر لال نہرو اور ولبھ پٹیل کے مابین صلح کرانے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے، اپنے معمول کے مطابق دونوں لڑکیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ اس چبوترے کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں بیٹھ کر وہ بھاشن دیتے تھے۔ اچانک ایک نوجوان تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑے نیچے جھک گیا ، گاندھی اسی انداز میں ’’نمستے‘‘ کا جواب دینے کے لیے جھکے اور فوراً فائر کی آواز سنائی دی۔ اس نے تین گولیاں ان کی چھاتی اور پیٹ میں مار دی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ مسٹر گاندھی فوراً گرے اور مردہ ہو گئے، وہ کوئی لفظ ادا نہیں کر سکے۔ شری دھرم جیت جگ یاسو لکھتے ہیں کہ قتل کی اطلاع ملتے ہی ہندو مہا سبھا کے حامیوں نے پونا اور دوسرے شہروں میں مٹھائی تقسیم کی۔
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...