وجود

... loading ...

وجود

گاندھی کی پُراسرار موت

جمعرات 01 فروری 2018 گاندھی کی پُراسرار موت

موہن داس کرم چند گاندھی کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہائوس کے لان میں قتل کردیا گیا۔ گاندھی پر پانچ قاتلانہ حملے 1934ء سے 1948ء کے دوران ہوئے جو سارے باقا عدہ نہیں تھے۔ ان میں سے بعض کو محض کوشش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اہم بات یہ کہ ہر قاتلانہ حملے میں نتھورام گاڈسے کا ذکر ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آخری اور حتمی قاتلانہ حملے کی قیادت کرنے والا نتھورام گاڈسے، صرف ہندومہا سبھا کا ممبر ہونے کے باعث ان کا مخالف تھا۔ جبکہ گاندھی کی لمبی عمر جینے کی خواہش تھی۔ نند لال مہتہ لکھتا ہے کہ گاندھی نے ایک بار ایک بنگالی ڈاکٹر کو بلایا اور اس سے کہا کہ وہ ایسی خوراک تجویز کرے جس سے وہ 125سال تک زندہ رہ سکے۔ ڈاکٹر نے اس کے جواب میں گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ کلکتہ واپس چلے جائیں اور اپنی صحت کو ٹھیک کریں۔ مسٹر گاندھی پر متعدد بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ پہلی کوشش 25 جون 1934ء کو ہوئی۔ اس دن مسٹرگاندھی نے پونا کے کارپوریشن آڈیٹوریم میں بھاشن دینا تھا ان کی بیوی کستور بائی بھی ہمراہ تھیں۔ دوکاروں پر مشتمل ایک قافلہ انہیں لے کر جا رہا تھا۔ اگلی کار میں میزبان تھے جبکہ پچھلی کار میں مسز اینڈ مسٹر گاندھی سوار تھے۔ راستے میں انہیں ایک ریلوے کراسنگ عبور کرنا تھا۔ پہلی کار تیز رفتاری سے کراسنگ عبور کر گئی لیکن دوسری کار کے وہاں پہنچنے تک ریلوے کراسنگ بند ہو گیا تھا۔ جونہی پہلی کار آڈیٹوریم پہنچی، اس پر ایک بم پھینکا گیا ، جو پھٹ گیا۔کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا تاہم پونا میونسپل کارپوریشن کا چیف آفیسر، دو پولیس والے اور سات عام لوگ شدید زخمی ہوئے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس (ناکام) قاتلانہ حملے کی نہ تو کوئی تفصیلات یا تحقیقات موجود ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی البتہ نتھو رام گاڈسے اور نرائن آپٹے کا نام سامنے آتا رہا۔ دوسری بار ہونے والے حملے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملہ دراصل ایک ناراض شخص کا غصہ تھا، قاتلانہ حملے کی کوشش نہیں تھی۔ یہ واقعہ دس سال بعد ہوا۔ مئی1944ء میں مسٹر گاندھی کو آغا خان کے محل پونا سے رہا کیا گیا جسے ان کے لیے جیل قرار دیا گیا تھا۔ اس’’ محل جیل‘‘سے رہا ہونے کچھ عرصہ بعد انہیں ملیریا ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں کام نہ کرنے کی ہدایت کی۔ چنانچہ مسٹر گاندھی نے پونا کے نزدیک ایک پر فضا مقام پر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ان کا قیام دل کش بنگلے میں تھا۔ ایک دن بس میں پندرہ بیس لڑکوں کا ایک گروپ نتھو رام گاڈسے کی قیادت میں رہائش گاہ کے باہر آیا۔ وہاں انہوں نے گاندھی کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ شور سن کر مسٹر گاندھی نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اندر آکر اطمینان اور سکون سے بات کریں۔ انہوں نے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم شام کی پرارتھنا سبھا میں جب مسٹر گاندھی بھاشن دے رہے تھے، نتھو رام، ہاتھ میں خنجر لیے،گاندھی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے تیزی سے ان کی جانب بڑھا۔ تاہم ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دو آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔ تیسری کوشش بھی نمائشی ہی سمجھی جاتی ہے۔ یہ واقعہ سیواگرام میں پیش آیا جب مسٹر گاندھی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت بمبئی جانے والے تھے۔ جب وہ روانہ ہونے والے تھے تو ہندوئوں کے ایک گروپ نے انہیں روکنا چاہا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسٹر گاندھی بمبئی جائیں اور محمد علی جناح سے بات چیت کریں تاہم آشرم کے رضاکاروں نے اس گروپ کو گھیر لیا۔ ان لوگوں کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اس گروپ کا لیڈر نتھو رام گاڈسے تھا اور اس کے قبضے سے پھر ایک خنجر برآمد ہوا۔ 29 جون1944ء میں چوتھی بار کوشش ہوئی۔

مسٹر گاندھی ایک ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس کا نام ’’گاندھی ا سپیشل‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ گاڑی بمبئی سیکشن پر نرال اور کارجت ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹڑی سے اتر گئی۔ ریل گاڑی کے ڈرائیور نے جو رپورٹ پیش کی۔اس میں کہا گیا تھا کہ گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے ٹریک پر بھاری پتھر رکھے گئے تھے۔گاڑی بھاری پتھروں سے ٹکرا گئی۔ پونا پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکوئوں نے بھاری پتھر رکھے تھے تاکہ وہ مال گاڑیوں کو لوٹ سکیں۔ اس سیکشن پرگاندھی سپیشل سے پہلے اور بعد میں کوئی مال گاڑی نہیں چلی تھی۔ تاہم پولیس اس دعویٰ سے متفق تھی کہ یہ سبوتاژ کی کارروائی تھی۔ چونکہ اس وقت روٹ پرصرف گاندھی سپیشل ٹرین چل رہی تھی، اس لیے سمجھا گیا کہ انہیں ہی نشانہ بنایا جانا تھا۔ اگرچہ ریکارڈ کے مطابق یہ چوتھا حملہ تھا۔ تاہم بعد میں، پونا میں پرارتھنا سبھا میں بھاشن دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا !’’بھگوان کی کرپا سے میں کئی بار موت کے جبڑوں سے بچ نکلا ہوں۔کل بھی میری جان پر ہونے والا حملہ ناکام ہو گیا۔ میں ابھی نہیں مروں گا ، میں 125سال کی عمر تک جینا چاہتا ہوں۔

مسٹر گاندھی پر قاتلانہ حملے کی پانچویں کوشش 20 جنوری 1948ء کے دن ہوئی۔ یہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا جس کی قیادت نتھو رام گاڈسے نے کی۔ برلاس ہائوس جہاں گاندھی کو پرارتھنا کے لیے جانا تھا ، پروگرام طے ہوا کہ باجے کار کرشنا ایک پستول اور بم سمیت ،گاندھی کی پچھلی نشست کی جانب جالی دار سوراخوں میں سے فوٹو اتارنے کے بہانے داخل ہو گا، وہ اشارہ کرے گا تومدن لال پہوا، مجمع کی توجہ بھٹکانے کے لیے پچھلے دروازے کے نزدیک بم پھینکے گا، تو اس سے افراتفری پھیلے گی، اس دوران میں باجے کرشنا اپنے پستول سے گولی چلائے گا اور اس کے فوراً بعد دستی بم پھینک دے گا اور سب بھاگ نکلیں گے۔ مسٹر گاندھی تادم مرگ بھوک ہڑتال کی حالت میں تھے۔ آواز نحیف تھی۔ معاملہ یوں ہوا کہ اس روز بجلی منقطع ہو گئی۔گاندھی برلا ہائوس پہنچے تو ڈاکٹر سوشیلا نائرگاندھی کی ناسازی طبع کے باعث مرکزی نشست پر ان کے الفاظ دہرا رہی تھی۔ سارا پروگرام تبدیل کر کے چھوٹو رام کو پیسے دے کر خریدا گیا اور گاندھی کو تصویر بنانے کے لیے جائے وقوعہ لایا گیا مگر وہ ناکام رہا صورتحال کو دیکھتے ہوئے مدن لال پہوا نے پرارتھنا کی جگہ پر ایک بم پھینک دیا۔ معاملہ بگڑ گیا، لوگ بچ کر نکل گئے۔ مدن لال پہوا پکڑا گیا اور اس نے تسلیم کیا کہ وہ مسٹر گاندھی کی ہتھیا کرنا چاہتا تھا۔

اس ناکامی کے بعد، نتھو رام گاڈسے نے نئی منصوبہ بندی کی۔ ایک برمیٹا آٹومیٹک پستول اور گیارہ رائونڈ،گوالیار سے خریدے اور29جنوری 1948ء کو دِہلی پہنچے۔ 30 جنوری 1948ء کی شام جب مسٹر گاندھی، آل انڈیا کانگریس کے دو مرکزی متحارب لیڈروں پنڈت جواہر لال نہرو اور ولبھ پٹیل کے مابین صلح کرانے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے، اپنے معمول کے مطابق دونوں لڑکیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ اس چبوترے کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں بیٹھ کر وہ بھاشن دیتے تھے۔ اچانک ایک نوجوان تیزی سے آگے بڑھا اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑے نیچے جھک گیا ، گاندھی اسی انداز میں ’’نمستے‘‘ کا جواب دینے کے لیے جھکے اور فوراً فائر کی آواز سنائی دی۔ اس نے تین گولیاں ان کی چھاتی اور پیٹ میں مار دی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ مسٹر گاندھی فوراً گرے اور مردہ ہو گئے، وہ کوئی لفظ ادا نہیں کر سکے۔ شری دھرم جیت جگ یاسو لکھتے ہیں کہ قتل کی اطلاع ملتے ہی ہندو مہا سبھا کے حامیوں نے پونا اور دوسرے شہروں میں مٹھائی تقسیم کی۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر