... loading ...
ہڈیوں کا بھربھراپن ایک عام مرض ہے جسے اوسٹیوپوروسس کہا جاتا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اوسٹیوپوروسس ، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایا جانے والا مرض ہے ۔ اوسٹیو پوروسس جسے ہڈیوں کے کھوکھلا ہونے کامر ض بھی کہتے ہیں ۔ اس میں ہڈیوں کی لچک میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور وہ بھر بھرے پن کا شکار اور نرم ہو جاتی ہیں ۔ اور پھر اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کہ جس کے باعث ان کے ٹوٹنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ۔
یہ مرض دونوں ا صناف کے لوگوں میں پایا جاتاہے مگر عموعی طور پر یہ بیماری مردوں کی بہ نسبت خواتین میں زیادہ عام ہے ۔عورتوں میں یہ عموماََ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ ایک کروڑ سے زائد افراد اس عارضے میں مبتلا ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق خواتین میں چونکہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیلشیم کی کمی ہوتی ہے اور پھر دورانِ حمل بھی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ خواتین میں حیض(Menstrual Cycle) کی وجہ سے اور مختلف ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے ہڈیاں کھوکھلی ہو جاتی ہیں ۔ ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے خواتین میں ایسٹروجن کی سطح تبدیل ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے ان میں ہڈ یوں کے کھوکھلے پن کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔
اوسٹیوپوروسس کا مرض شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی بہ نسبت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ شہری زندگی کے حامل افراد میں دھوپ میں نہ نکلنا ، دن کا زیادہ تر وقت بند عمارتوں ، گاڑیوں اور بند جگہوں پرگزرتا ہے جس کے باعث جسم کے لئے ضروری دھوپ سے محروم رہتے ہیں۔ہر وقت ایئر کنڈیشنر ماحول میں رہنا ، موٹاپے کے خوف سے مناسب غذا کا نہ لینا یہ سب عوامل مل کر ہڈیوں کے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ خوراک میں دودھ ، مچھلی اور ہڈیوں کو مضبوط کرنے والے دیگر غذائیت کا استعمال نہیں کرتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں ہڈیوں کی 25 سے تیس سال کی عمر تک نشوونما جاری رہتی ہے اور عمر کی تیسری دہائی کی ابتداء میں یہ ہڈیاں عمر کے دوسرے تمام ادوار کے مقابلے میں مضبوط ہوتی ہیں ۔ اس وقت اگر ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کی تدابیر اور احتیاط کر لی جائیں تو بڑی عمر میں یہ مضبوطی کم ہو جانے کے باوجو د اوسٹیوپوروسس کی نوبت نہیں آتی ہے ۔
ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق انسانی جسم میں محفوظ کیلشیم اور فاسفیٹ کی جذب کردہ مقدار پر ہوتا ہے ۔اگر انسان کے جسم میں کیلشیم کاتناسب ضرورت کے مطابق موجود ہو تو اوسٹیوپوروسس کے خطرات کم ہو سکتے ہیں ۔
ایک طبی تحقیق کے مطابق جسم میں ایسٹروجن (Estrogen) کی کمی بھی اوسٹیوپوروسس کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے ۔ جس کی وجہ سے چالیس سے زائد عمر کی خواتین میںیہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے ۔ جبکہ مرد اینڈروجن (Androgen) کی کمی سے اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ اس کے وہ خواتین یامرد جو زیادہ تر گھروں میں سورج کی روشنی سے دور رہتے ہیں اور دھوپ میں بہت کم نکلتے ہیں ان میں زیادہ تر وٹامن ڈی (D) کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو اوسٹیوپوروسس کی ایک اور اہم وجہ ہے ۔
اس کے علاوہ تھائرائیڈ کے مسائل ، پٹھوں کو آرام کرنے کی عادت ، ہڈیوں کا کینسر ، سگریٹ نوشی وغیرہ بھی اوسٹیو پوروسس کا سبب بن سکتے ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق خاندان میں پہلے سے اگر یہ بیماری موجود ہو تو وہ آگے آنے والی نسلوں میں منتقل ہوسکتی ہے ۔اور مختلف جینیاتی خرابی اور مختلف دوائیوں کے ذیلی اثرات بھی ہڈیوں کے کھوکھلے پن کا باعث بن سکتے ہیں ۔ خواتین میں ہاضمے کی خرابی اور گردوں کی بیماری بھی اس بیماری کو جنم دے سکتے ہیں ۔
نوجوان عورتوں میں پے درپے حمل ٹھیرنا اور مسلسل کئی سالوں تک بچوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے بھی اوسٹیوپوروسس کا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ جب تک بچہ اپنی ماں کے جسم میں پرورش پاتا ہے تو وہ ماں کے کیلشیم کے ذخائر کوا ستعمال کرتا ہے ۔ اگرماں اپنی خوراک کے ذریعے زائد کیلشیم حاصل نہیں کرتی تو وہ یہ کیلشیم ماں کی ہڈیوں سے لینا شروع کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ماں کی ہڈ یاں گھلنے لگتی ہیںاور کمزور ہو جاتی ہیں ۔دودھ پلانے والی مائیں بھی اگر اپنی خوراک میں کیلشیم کی مقدار کا خیال نہ رکھیں تو ان کی بھی ہڈ یاں کمزور اور بھر بھری ہو جاتی ہیں ۔ اور ان پر مناسب اور متوازن خوراک اور اضافی کیلشیم کے استعمال سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔
کاربونینڈ مشروبات (Carbonated Drinks) کابہت زیادہ مقدار میں استعمال ہڈیوں کی مضبوطی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ ایسے مشروبات کے اجزاء کیلشیم کی پیداوار کو روکنے کے ساتھ ساتھ کیلشیم کو ہڈیوں میں بھی جذب نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق جسم میں فاسفورس اور کیلشیم کا ایک قدرتی توازن ہوتا ہے جو ان کاربو نینڈ مشروبات کے استعمال کی وجہ سے فاسفورس کی مقدار بڑھنے پر توازن کو قائم رکھنے کے لئے ہڈیوں سے کیلشیم کا اخراج بھی زیادہ ہوتا ہے جوان کے کھوکھلے ہونے اور ٹوٹنے کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے ۔
بوسٹن کے ہارورڈ میڈیکل اسکول میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق موٹاپے سے ہڈیوں کی بیماری کا خطرہ لاحق ہو جاتاہے جس میں ہڈیاں کمزور پڑجاتی ہیں ۔ تحقیق کے مطابق موٹے افراد کی ہڈیوں کے اندر چربی چھپی ہوتی ہے جس کے باعث وہ کمزور پڑجاتی ہیں اور باآسانی ٹوٹ جاتی ہیں ۔
اس بیماری کی جسم میں کوئی خاص علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے اسے خاموش بیماری کانام بھی دیا جاتا ہے۔ جس کی زیادہ تر وجہ جسم میں کیلشیم کی کمی ہوتی ہے ۔ خصوصاََ ریڑھ کی ہڈ ی، کولہے کے جوڑ اور کلائی کے ہڈ یوں پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، اور بغیر کسی وجہ کے پورے جسم میں درد، ہڈیوں اور جوڑوں میں درد، جسمانی تھکاوٹ ، کمر میں جھکائو اور معمولی چوٹوں پر بھی ہڈیوں کا ٹوٹنا شامل ہے ۔
ہڈیوں کے بھربھرے پن کی ابتدائی علامات میں مریض کوجوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ نشست و برخاست میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر بزرگوں اور عمررسیدہ افراد میں ریڑھ کی ہڈی کامڑ جانا اس بیماری کی خاص علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔
اوسٹیو پوروسس کا مرض کسی بھی عمر میں ہو، اس سے محفوظ رہنے کے لئے علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگرہم ابتدائی مرحلے سے ہی چند چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھ لیں تو ہڈیوں کے کھوکھلے پن کی اس بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اوسٹیو پوروسس کا علاج ممکن توہے مگر علاج کے لئے اس بیماری کا بروقت تشخیص ہونا بھی لازمی ہے ۔ جس کے لئے 45 سال کی عمر سے پہلے ہی اپنے قریبی ڈاکٹر یا کسی معالج سے باقاعدہ چیک اپ کرواتے رہنا چاہیئے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ایک مقدار کردہ کیلشیم کی مقدار کو روزمرہ کی غذا اور دوا کا حصہ لازمی بنانا چاہیئے ۔
اٹھارہ سے پچاس سال کی عمر میں جسم میں کیلشیم کی سطح کا حساب رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ سافٹ ڈرنکس اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا چاہیئے ۔کیونکہ ان کے استعمال سے ہڈیوں میں کیلشیم کی مقدار کم ہونے لگتی ہے ۔ایسے تمام مشروبات جو مصنوعی اجزاء سے مل کر بنتے ہیں ان کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیئے اور لیمونینڈ اور سبز چائے کا استعمال کرنا چاہیئے ۔اپنی خوراک میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ضرور شامل رکھنی چاہیے ۔ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء لازمی استعمال کرنی چاہیئے ۔ دودھ انسانی خوراک میں ایک اہم اور بنیادی اجزاء کی حیثیت رکھتا ہے ۔اور اس میں کیلشیم کی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ دودھ جسم کو پروٹین کی بھی خاصی مقدار فراہم کرتا ہے ۔ ہرے پتوں والی سبزیوں جوکہ کیلشیم اور فاسفورس کی کمی کو پوری کرتی ہیں، لازمی اپنے کھانے میں استعمال کرناچاہیئے ۔ اس کے علاوہ سمندری خوراک (Sea Foods) بھی کیلشیم اور پروٹین حاصل کرنے کا بے حد جامع اور عمدہ ماخذ ہوتے ہیں ۔
کیلشیم کے لئے مختلف سپلیمنٹ (Supplements) بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ لیکن ان سے گردے میں پتھری کے ساتھ اور دیگر امراض ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں لہذا کوشش کرنی چاہیئے کہ کیلشیم کی کمی کو قدرتی طریقوں اور غذائوں کے ذریعے ہی پورا کیا جائے ۔
اس کے علاوہ ہمیں اپنے روزمرہ کی سرگرمیوں میں تقریباََ 30 سے چالیس منٹ کی ورزش کو اپنا معمول بنا لینا چاہیئے ۔ کیونکہ ورزش سے ہڈیوں میں لچک پیدا ہوتی ہے اور وہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اور کوشش کرنی چاہیئے کہ یہ ورزش یا جسمانی سرگرمی سورج کی روشنی میں کی جائے تاکہ جسم میں وٹامن ڈی کی موجودگی کو بھی برقرار رکھا جاسکے۔ وٹامن ڈی ہمارے جسم میں ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی میں بے حد اہم کردار ادا کرتا ہے اور جسم میں وٹامن ڈی ، کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہڈیوں کے بھر بھرے پن کے امکانات کم ہو سکتے ہیں ۔ جتنا ممکن ہو سکے صاف اور کھلی ہوا میں تھوڑا وقت لازمی گزارنا چاہیئے ۔
سورج کی روشنی میں بیٹھنے سے جسے سن باتھ (Sun Bath) بھی کہتے ہیں ، ہمارے جسم میں روزانہ کی وٹامن ڈی کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے ۔ وٹامن ڈی چو نکہ ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے ۔ہماری جلد میں موجود یہ وٹامن سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سے یہ فعال حالت میں آجاتا ہے اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا دیتا ہے ۔ طبی تحقیق کے مطابق بیس منٹ روزانہ کا سورج میں بیٹھنا اوسٹیوپوروسس سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
ہمیں ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو اس ہڈیوں کے ا س کھوکھلے پن کی بیماری سے بچانے کے لئے ابھی سے ہی اقدامات کرنے چاہیئے ،اور خود کو اور اپنے بچوں کو اوسٹیوپوروسس سے بچنے اور صحت مند طرز زندگی گزارنے کے لئے ایک صحت مند انہ طرز ماحول اور زندگی کی طرف مائل کرنا چاہیئے اور نوجوان نسل کو کم عمری سے ہی دودھ اور صحت مندغذائوں کے باقاعدہ استعمال کی ترغیب کے ساتھ ساتھ باقائدہ ورزش اور مختلف جسمانی سرگرمیوں کی عادت ڈلوانی چاہیئے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں میں اس خاموش بیماری کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع کی جاسکے ۔
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...