وجود

... loading ...

وجود

گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

منگل 30 جنوری 2018 گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

آج کی دنیا سائنس اور جدید تحقیق کی روشنی میں آنے والے معاملات اور اسکے ثمرات کی محتاج ہے ۔ بہت سے عوامل سے ناواقفی بھی ایک المیہ ہے ۔ آج اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے قلم اٹھایا ہے تاکہ کچھ جدید اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے۔ اس کرہء ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے سبب عالمی درجہّ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اس مظہر کو عالمی گرمائو یا (گلوبل وارمنگ ) کہا جاتا ہے۔ماحول میں درجہّ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سیارے پہ رہنے والی مخلوق کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ـ گلوبل وارمنگ میںآکسیجن کی کمی،کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ، پانی میں تیزابیت،سمندر کی سطح کا بلندہونا، سمندر کا درجہٰ حرارت بڑھنا، برف کے تودے کا پگھلنا قا بل ذکر عوامل ہیں اس کے اثرات خشکی پر زیادہ ہیں جس کی وجہ سے موسموں کی شدّت، قحط سالی، سیلاب اور برف باری انسانی زندگی کے لیے قدرتی آفات ہیں۔

موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے گلئیشیر پگھلتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتے ہیں پچھلے چند برسوں میںدو ارب سے زائدلوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں یہ بلندی کا عمل یوں تو زمانہ قدیم سے جاری ہے لیکن گذشتہ صدی میں صنعتی سرگرمیاں بڑھنے سے شروع ہوا ،صنعتوں میں پیداواری عمل کے دوران فوسل فیول کے استعمال سے بڑے پیمانے پر اس ماحول دشمن گیس کا اخراج ہوتا ہے اس کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی فضا میں اس گیس کا حجم مسلسل بڑھا رہا ہے۔صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے بہا استعمال فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے اس وقت سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں ہیں جب ہم کوئلہ، تیل یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈگیس پیدا ہوتی ہے یہ گیس جب پودوں اور سمندروں میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے، جو ماحول میں گرمائو کا سبب بنتی ہے ۔قدرت نے ماحول اور آب و ہوا میں ایک توازن برقرار رکھا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کرئہ ارض پر تباہی آتی ہے ۔ اس زمین پربسنے والے تمام انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں۔گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے تمام ممالک کے نمائندے سال میں ایک بار گلوبل وارمنگ پر غور کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن ان اجلاسوں کا اب تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکا اس کی وجہ یہ ہیے کہ طاقتور ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاںمحدود کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس طرح ان کی صنعتی تر قی متاثر ہو گی۔

ماہرین کہہ چکے ہیں کہ آئندہ برسوں میں سطح سمندر بلند ہونے سے کئی ساحلی شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائیں گے،آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث کہیںطوفانی بارشیں تو کہیں سیلاب معمول بن جائیں گے اور کئی خطے جو اس وقت سر سبز و شاداب ہیںوہ خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں آجائیں گے،درجہ حرارت بڑھنے سے جانوروں کی متعدد اقسام اپنا قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیںگے اور اس صورت حال سے انسان بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے۔گزشتہ بیس برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے 1,38,000لوگ زندگی کی بازی سے ہار گئے۔ایشیاء اور افریقا میں مرنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہے۔دنیا کی بااثر اقوام نے کئی عرصہ پہلے یہ عہد کیا تھاکہ وہ گلوبل وارمنگ کو اس سطح تک قابوکرنے کی کوششیںکریں گی کہ موسموںکی تبدیلی کے اثرات لوگوں کے لیے قابل برداشت ہی رہیں، مگر اب آکے دنیاکے کئی ممتازموسمی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل و ارمنگ کی موجودہ شرح برقرار رہی تواس کے بڑے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ یورپ سے شائع ہونیوالے معروف سائنسی ا یٹمو سفیرک کیمسٹری اورفزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے اگر کرئہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس سے ایسے قاتل طوفان حملہ آور ہو نگے کے جس کا انسان نے کبھی تصّور بھی نہیں کیا ہو گا۔پولر آئس شیٹس کے بڑے بڑے تودے ٹوٹ کر بکھر جائیں اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہوجائے گی کہ دنیا کے ساحلی شہر ڈوبنا شروع ہوجائیںاور جیسا کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتہائی خوفناک منظراس صدی کے ختم ہونے سے پہلے ہی تخلیق ہونے کا خدشہ ہے۔گلوبل وارمنگ کے اثرات کے حوالے سے ریسرچ اور اسٹڈیز کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا کی معروف نجی یونیورسٹی میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اوپن ہائیمر اور انکے ساتھیوں نے گلوبل وارمنگ اور مستقبل میںانسانی ہجرت کے درمیان تعلق کے بارے میں اسٹڈی کی جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔اس اسٹڈی میں میسیکو سے امریکا کی جانب انسانی ہجرت کو موضوع بنایا گیا ،پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ہر سال میکسیکن باشندوں کی ایک بڑی تعداد روشن مستقبل کی امید میںسرحد پار امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے، اس کوشش کے دوران بہت سے لوگ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، کچھ لوگ زخمی ہوکر عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں، بڑی تعداد میںلوگ گرفتار ہوتے ہیںلیکن بہت سے اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیںایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا میں6.7 ملین سے 11ملین کے درمیان میکسیکن باشندے غیر قانونی طور پررہائش پزیر ہیں۔

پروفیسرمائیکل اوپن ہائیمر کے مطابق ان کی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ دیگر خطوں میں بھی بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا سبب بنے گی کیونکہ خشک سالی اور قحط کے باعث لوگ زرخیز خطوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے ایک سابق ماہر ماحولیات جیمز ای ہینسن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بد قسمتی سے ایک ایسی صورتحال کے حوالے کر کے جا رہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔اس لیے اس ضمن میں جدت پسندی اورسائینٹفک بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

مضامین
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر