... loading ...
آج کی دنیا سائنس اور جدید تحقیق کی روشنی میں آنے والے معاملات اور اسکے ثمرات کی محتاج ہے ۔ بہت سے عوامل سے ناواقفی بھی ایک المیہ ہے ۔ آج اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے قلم اٹھایا ہے تاکہ کچھ جدید اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے۔ اس کرہء ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے سبب عالمی درجہّ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اس مظہر کو عالمی گرمائو یا (گلوبل وارمنگ ) کہا جاتا ہے۔ماحول میں درجہّ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سیارے پہ رہنے والی مخلوق کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ـ گلوبل وارمنگ میںآکسیجن کی کمی،کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ، پانی میں تیزابیت،سمندر کی سطح کا بلندہونا، سمندر کا درجہٰ حرارت بڑھنا، برف کے تودے کا پگھلنا قا بل ذکر عوامل ہیں اس کے اثرات خشکی پر زیادہ ہیں جس کی وجہ سے موسموں کی شدّت، قحط سالی، سیلاب اور برف باری انسانی زندگی کے لیے قدرتی آفات ہیں۔
موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے گلئیشیر پگھلتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتے ہیں پچھلے چند برسوں میںدو ارب سے زائدلوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں یہ بلندی کا عمل یوں تو زمانہ قدیم سے جاری ہے لیکن گذشتہ صدی میں صنعتی سرگرمیاں بڑھنے سے شروع ہوا ،صنعتوں میں پیداواری عمل کے دوران فوسل فیول کے استعمال سے بڑے پیمانے پر اس ماحول دشمن گیس کا اخراج ہوتا ہے اس کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی فضا میں اس گیس کا حجم مسلسل بڑھا رہا ہے۔صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے بہا استعمال فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے اس وقت سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں ہیں جب ہم کوئلہ، تیل یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈگیس پیدا ہوتی ہے یہ گیس جب پودوں اور سمندروں میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے، جو ماحول میں گرمائو کا سبب بنتی ہے ۔قدرت نے ماحول اور آب و ہوا میں ایک توازن برقرار رکھا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کرئہ ارض پر تباہی آتی ہے ۔ اس زمین پربسنے والے تمام انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں۔گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے تمام ممالک کے نمائندے سال میں ایک بار گلوبل وارمنگ پر غور کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن ان اجلاسوں کا اب تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکا اس کی وجہ یہ ہیے کہ طاقتور ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاںمحدود کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس طرح ان کی صنعتی تر قی متاثر ہو گی۔
ماہرین کہہ چکے ہیں کہ آئندہ برسوں میں سطح سمندر بلند ہونے سے کئی ساحلی شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائیں گے،آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث کہیںطوفانی بارشیں تو کہیں سیلاب معمول بن جائیں گے اور کئی خطے جو اس وقت سر سبز و شاداب ہیںوہ خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں آجائیں گے،درجہ حرارت بڑھنے سے جانوروں کی متعدد اقسام اپنا قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیںگے اور اس صورت حال سے انسان بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے۔گزشتہ بیس برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے 1,38,000لوگ زندگی کی بازی سے ہار گئے۔ایشیاء اور افریقا میں مرنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہے۔دنیا کی بااثر اقوام نے کئی عرصہ پہلے یہ عہد کیا تھاکہ وہ گلوبل وارمنگ کو اس سطح تک قابوکرنے کی کوششیںکریں گی کہ موسموںکی تبدیلی کے اثرات لوگوں کے لیے قابل برداشت ہی رہیں، مگر اب آکے دنیاکے کئی ممتازموسمی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل و ارمنگ کی موجودہ شرح برقرار رہی تواس کے بڑے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ یورپ سے شائع ہونیوالے معروف سائنسی ا یٹمو سفیرک کیمسٹری اورفزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے اگر کرئہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس سے ایسے قاتل طوفان حملہ آور ہو نگے کے جس کا انسان نے کبھی تصّور بھی نہیں کیا ہو گا۔پولر آئس شیٹس کے بڑے بڑے تودے ٹوٹ کر بکھر جائیں اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہوجائے گی کہ دنیا کے ساحلی شہر ڈوبنا شروع ہوجائیںاور جیسا کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتہائی خوفناک منظراس صدی کے ختم ہونے سے پہلے ہی تخلیق ہونے کا خدشہ ہے۔گلوبل وارمنگ کے اثرات کے حوالے سے ریسرچ اور اسٹڈیز کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا کی معروف نجی یونیورسٹی میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اوپن ہائیمر اور انکے ساتھیوں نے گلوبل وارمنگ اور مستقبل میںانسانی ہجرت کے درمیان تعلق کے بارے میں اسٹڈی کی جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔اس اسٹڈی میں میسیکو سے امریکا کی جانب انسانی ہجرت کو موضوع بنایا گیا ،پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ہر سال میکسیکن باشندوں کی ایک بڑی تعداد روشن مستقبل کی امید میںسرحد پار امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے، اس کوشش کے دوران بہت سے لوگ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، کچھ لوگ زخمی ہوکر عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں، بڑی تعداد میںلوگ گرفتار ہوتے ہیںلیکن بہت سے اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیںایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا میں6.7 ملین سے 11ملین کے درمیان میکسیکن باشندے غیر قانونی طور پررہائش پزیر ہیں۔
پروفیسرمائیکل اوپن ہائیمر کے مطابق ان کی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ دیگر خطوں میں بھی بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا سبب بنے گی کیونکہ خشک سالی اور قحط کے باعث لوگ زرخیز خطوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے ایک سابق ماہر ماحولیات جیمز ای ہینسن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بد قسمتی سے ایک ایسی صورتحال کے حوالے کر کے جا رہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔اس لیے اس ضمن میں جدت پسندی اورسائینٹفک بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...