وجود

... loading ...

وجود

گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

منگل 30 جنوری 2018 گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

آج کی دنیا سائنس اور جدید تحقیق کی روشنی میں آنے والے معاملات اور اسکے ثمرات کی محتاج ہے ۔ بہت سے عوامل سے ناواقفی بھی ایک المیہ ہے ۔ آج اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے قلم اٹھایا ہے تاکہ کچھ جدید اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے۔ اس کرہء ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے سبب عالمی درجہّ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اس مظہر کو عالمی گرمائو یا (گلوبل وارمنگ ) کہا جاتا ہے۔ماحول میں درجہّ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سیارے پہ رہنے والی مخلوق کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ـ گلوبل وارمنگ میںآکسیجن کی کمی،کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ، پانی میں تیزابیت،سمندر کی سطح کا بلندہونا، سمندر کا درجہٰ حرارت بڑھنا، برف کے تودے کا پگھلنا قا بل ذکر عوامل ہیں اس کے اثرات خشکی پر زیادہ ہیں جس کی وجہ سے موسموں کی شدّت، قحط سالی، سیلاب اور برف باری انسانی زندگی کے لیے قدرتی آفات ہیں۔

موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے گلئیشیر پگھلتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتے ہیں پچھلے چند برسوں میںدو ارب سے زائدلوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں یہ بلندی کا عمل یوں تو زمانہ قدیم سے جاری ہے لیکن گذشتہ صدی میں صنعتی سرگرمیاں بڑھنے سے شروع ہوا ،صنعتوں میں پیداواری عمل کے دوران فوسل فیول کے استعمال سے بڑے پیمانے پر اس ماحول دشمن گیس کا اخراج ہوتا ہے اس کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی فضا میں اس گیس کا حجم مسلسل بڑھا رہا ہے۔صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے بہا استعمال فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے اس وقت سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں ہیں جب ہم کوئلہ، تیل یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈگیس پیدا ہوتی ہے یہ گیس جب پودوں اور سمندروں میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے، جو ماحول میں گرمائو کا سبب بنتی ہے ۔قدرت نے ماحول اور آب و ہوا میں ایک توازن برقرار رکھا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کرئہ ارض پر تباہی آتی ہے ۔ اس زمین پربسنے والے تمام انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں۔گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے تمام ممالک کے نمائندے سال میں ایک بار گلوبل وارمنگ پر غور کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن ان اجلاسوں کا اب تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکا اس کی وجہ یہ ہیے کہ طاقتور ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاںمحدود کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس طرح ان کی صنعتی تر قی متاثر ہو گی۔

ماہرین کہہ چکے ہیں کہ آئندہ برسوں میں سطح سمندر بلند ہونے سے کئی ساحلی شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائیں گے،آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث کہیںطوفانی بارشیں تو کہیں سیلاب معمول بن جائیں گے اور کئی خطے جو اس وقت سر سبز و شاداب ہیںوہ خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں آجائیں گے،درجہ حرارت بڑھنے سے جانوروں کی متعدد اقسام اپنا قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیںگے اور اس صورت حال سے انسان بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے۔گزشتہ بیس برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے 1,38,000لوگ زندگی کی بازی سے ہار گئے۔ایشیاء اور افریقا میں مرنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہے۔دنیا کی بااثر اقوام نے کئی عرصہ پہلے یہ عہد کیا تھاکہ وہ گلوبل وارمنگ کو اس سطح تک قابوکرنے کی کوششیںکریں گی کہ موسموںکی تبدیلی کے اثرات لوگوں کے لیے قابل برداشت ہی رہیں، مگر اب آکے دنیاکے کئی ممتازموسمی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل و ارمنگ کی موجودہ شرح برقرار رہی تواس کے بڑے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ یورپ سے شائع ہونیوالے معروف سائنسی ا یٹمو سفیرک کیمسٹری اورفزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے اگر کرئہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس سے ایسے قاتل طوفان حملہ آور ہو نگے کے جس کا انسان نے کبھی تصّور بھی نہیں کیا ہو گا۔پولر آئس شیٹس کے بڑے بڑے تودے ٹوٹ کر بکھر جائیں اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہوجائے گی کہ دنیا کے ساحلی شہر ڈوبنا شروع ہوجائیںاور جیسا کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتہائی خوفناک منظراس صدی کے ختم ہونے سے پہلے ہی تخلیق ہونے کا خدشہ ہے۔گلوبل وارمنگ کے اثرات کے حوالے سے ریسرچ اور اسٹڈیز کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا کی معروف نجی یونیورسٹی میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اوپن ہائیمر اور انکے ساتھیوں نے گلوبل وارمنگ اور مستقبل میںانسانی ہجرت کے درمیان تعلق کے بارے میں اسٹڈی کی جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔اس اسٹڈی میں میسیکو سے امریکا کی جانب انسانی ہجرت کو موضوع بنایا گیا ،پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ہر سال میکسیکن باشندوں کی ایک بڑی تعداد روشن مستقبل کی امید میںسرحد پار امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے، اس کوشش کے دوران بہت سے لوگ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، کچھ لوگ زخمی ہوکر عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں، بڑی تعداد میںلوگ گرفتار ہوتے ہیںلیکن بہت سے اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیںایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا میں6.7 ملین سے 11ملین کے درمیان میکسیکن باشندے غیر قانونی طور پررہائش پزیر ہیں۔

پروفیسرمائیکل اوپن ہائیمر کے مطابق ان کی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ دیگر خطوں میں بھی بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا سبب بنے گی کیونکہ خشک سالی اور قحط کے باعث لوگ زرخیز خطوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے ایک سابق ماہر ماحولیات جیمز ای ہینسن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بد قسمتی سے ایک ایسی صورتحال کے حوالے کر کے جا رہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔اس لیے اس ضمن میں جدت پسندی اورسائینٹفک بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر