وجود

... loading ...

وجود

گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

منگل 30 جنوری 2018 گلوبل وارمنگ سے ساحلی شہرتباہی کے دہانے پر!

آج کی دنیا سائنس اور جدید تحقیق کی روشنی میں آنے والے معاملات اور اسکے ثمرات کی محتاج ہے ۔ بہت سے عوامل سے ناواقفی بھی ایک المیہ ہے ۔ آج اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے قلم اٹھایا ہے تاکہ کچھ جدید اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے۔ اس کرہء ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے سبب عالمی درجہّ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اس مظہر کو عالمی گرمائو یا (گلوبل وارمنگ ) کہا جاتا ہے۔ماحول میں درجہّ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سیارے پہ رہنے والی مخلوق کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ـ گلوبل وارمنگ میںآکسیجن کی کمی،کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں اضافہ، پانی میں تیزابیت،سمندر کی سطح کا بلندہونا، سمندر کا درجہٰ حرارت بڑھنا، برف کے تودے کا پگھلنا قا بل ذکر عوامل ہیں اس کے اثرات خشکی پر زیادہ ہیں جس کی وجہ سے موسموں کی شدّت، قحط سالی، سیلاب اور برف باری انسانی زندگی کے لیے قدرتی آفات ہیں۔

موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے گلئیشیر پگھلتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتے ہیں پچھلے چند برسوں میںدو ارب سے زائدلوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں یہ بلندی کا عمل یوں تو زمانہ قدیم سے جاری ہے لیکن گذشتہ صدی میں صنعتی سرگرمیاں بڑھنے سے شروع ہوا ،صنعتوں میں پیداواری عمل کے دوران فوسل فیول کے استعمال سے بڑے پیمانے پر اس ماحول دشمن گیس کا اخراج ہوتا ہے اس کے علاوہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی فضا میں اس گیس کا حجم مسلسل بڑھا رہا ہے۔صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے بہا استعمال فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے اس وقت سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والی زہریلی گیسیں ہیں جب ہم کوئلہ، تیل یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈگیس پیدا ہوتی ہے یہ گیس جب پودوں اور سمندروں میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے، جو ماحول میں گرمائو کا سبب بنتی ہے ۔قدرت نے ماحول اور آب و ہوا میں ایک توازن برقرار رکھا ہے، جب یہ توازن بگڑتا ہے تو کرئہ ارض پر تباہی آتی ہے ۔ اس زمین پربسنے والے تمام انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھیں۔گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے تمام ممالک کے نمائندے سال میں ایک بار گلوبل وارمنگ پر غور کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن ان اجلاسوں کا اب تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکا اس کی وجہ یہ ہیے کہ طاقتور ممالک اپنی صنعتی سرگرمیاںمحدود کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس طرح ان کی صنعتی تر قی متاثر ہو گی۔

ماہرین کہہ چکے ہیں کہ آئندہ برسوں میں سطح سمندر بلند ہونے سے کئی ساحلی شہر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائیں گے،آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث کہیںطوفانی بارشیں تو کہیں سیلاب معمول بن جائیں گے اور کئی خطے جو اس وقت سر سبز و شاداب ہیںوہ خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں آجائیں گے،درجہ حرارت بڑھنے سے جانوروں کی متعدد اقسام اپنا قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جائیںگے اور اس صورت حال سے انسان بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکیں گے۔گزشتہ بیس برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے 1,38,000لوگ زندگی کی بازی سے ہار گئے۔ایشیاء اور افریقا میں مرنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہے۔دنیا کی بااثر اقوام نے کئی عرصہ پہلے یہ عہد کیا تھاکہ وہ گلوبل وارمنگ کو اس سطح تک قابوکرنے کی کوششیںکریں گی کہ موسموںکی تبدیلی کے اثرات لوگوں کے لیے قابل برداشت ہی رہیں، مگر اب آکے دنیاکے کئی ممتازموسمی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل و ارمنگ کی موجودہ شرح برقرار رہی تواس کے بڑے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ یورپ سے شائع ہونیوالے معروف سائنسی ا یٹمو سفیرک کیمسٹری اورفزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے اگر کرئہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس سے ایسے قاتل طوفان حملہ آور ہو نگے کے جس کا انسان نے کبھی تصّور بھی نہیں کیا ہو گا۔پولر آئس شیٹس کے بڑے بڑے تودے ٹوٹ کر بکھر جائیں اور سمندروں میں پانی کی سطح اتنی بلند ہوجائے گی کہ دنیا کے ساحلی شہر ڈوبنا شروع ہوجائیںاور جیسا کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتہائی خوفناک منظراس صدی کے ختم ہونے سے پہلے ہی تخلیق ہونے کا خدشہ ہے۔گلوبل وارمنگ کے اثرات کے حوالے سے ریسرچ اور اسٹڈیز کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا کی معروف نجی یونیورسٹی میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اوپن ہائیمر اور انکے ساتھیوں نے گلوبل وارمنگ اور مستقبل میںانسانی ہجرت کے درمیان تعلق کے بارے میں اسٹڈی کی جو حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔اس اسٹڈی میں میسیکو سے امریکا کی جانب انسانی ہجرت کو موضوع بنایا گیا ،پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ہر سال میکسیکن باشندوں کی ایک بڑی تعداد روشن مستقبل کی امید میںسرحد پار امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے، اس کوشش کے دوران بہت سے لوگ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، کچھ لوگ زخمی ہوکر عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں، بڑی تعداد میںلوگ گرفتار ہوتے ہیںلیکن بہت سے اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیںایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکا میں6.7 ملین سے 11ملین کے درمیان میکسیکن باشندے غیر قانونی طور پررہائش پزیر ہیں۔

پروفیسرمائیکل اوپن ہائیمر کے مطابق ان کی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ دیگر خطوں میں بھی بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت کا سبب بنے گی کیونکہ خشک سالی اور قحط کے باعث لوگ زرخیز خطوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے ایک سابق ماہر ماحولیات جیمز ای ہینسن کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بد قسمتی سے ایک ایسی صورتحال کے حوالے کر کے جا رہے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہوگی۔اس لیے اس ضمن میں جدت پسندی اورسائینٹفک بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

مضامین
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی! وجود اتوار 28 جون 2026
اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی!

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری وجود اتوار 28 جون 2026
بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم وجود اتوار 28 جون 2026
تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر