... loading ...
پانی زندگی ہے اور تمام تہذیبیں پانی کی آسان دستیابی کی وجہ سے دریاؤں کے نزدیک فروغ پاتی رہیں۔ آج پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی وصنعتی شہر کراچی پینے کے صاف پانی کے بحران میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ پانی کی مقدار اتنی نہیں بڑھ رہی جتنا آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اور شہر کی گروتھ بھی پانی کی مانگ بڑھا رہی ہے۔
صاف پانی کی فراہمی حکومت اور متعلقہ حکام کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ کراچی میں پانی کا اپنا کوئی ذخیرہ بھی نہیں ہے کراچی کی بنیادی ضروریات دریائے سندھ سے کینجھر جھیل میں آنے والے پانی سے پوری کی جاتی ہیں جو کراچی سے سوا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اتنے فاصلے سے اونچے نیچے راستوں سے پانی کو پمپ کرکے کراچی پہنچایا جاتا ہے پھر کراچی خود بہت پھیلا ہوا شہر ہے اور اس کے اندر بھی اونچے نیچے پہاڑی علاقے ہیں جہاں پانی پہنچانا الگ چیلنج ہے۔
بلوچستان کے شہر حب سے بھی کراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے جب ڈیم سے آنے والا پانی کینجھر جھیل کے مقابلے میں بہت کم ہے اور وہاں بارشوں میں کمی آتی ہے تو حب ڈیم کا لیول انتہائی ڈیڈ لائن تک بھی پہنچ جاتا ہے اور وہاں سے بھی ضروریات پوری کرنے کے لیے k-4 نامی پانی کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے کینجھر جھیل ٹھٹھہ سے مزید پانی کراچی پہنچایا جاتا رہے گا اس کے مختلف فیز ہوں گے لیکن ماہرین اس منصوبے میں ہونے والی تاخیر اور اس سے پوری ہونے والی ضروریات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔
یہ اتنا حساس اور سنگین معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور حکومت سندھ کو ہنگامی بنیادوں پر اس جانب توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت بھی اس معاملہ کی سنگینی کو سمجھ رہی ہے۔ اس لیے دونوں حکومتوں نے کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کررکھے ہیں اور اس حوالے سے کام بھی جاری ہے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سمندری پانی کو میٹھا کرکے مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
ڈی ایچ اے نے اس کی کوشش بھی کی لیکن اس کا پلانٹ ہی بیٹھ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوبئی جیسا امیر ملک تو ایسا کرسکتا ہے کیونکہ وہاں سمندری پانی کو میٹھا کرکے بیچے جانے والے پانی کی عام بوتل پاکستان کے ڈیڑھ سو روپے کے برابر پڑتی ہے۔ وہاں لوگ مہنگا پانی خرید نے کی سکت رکھتے ہیں لیکن کیا یہ پاکستان میں ممکن ہوگا کیا کراچی کے لوگ اتنا مہنگا پانی افورڈ کرپائیں گے۔
جواب آتا ہے نہیں۔ لہٰذا سمندری پانی کا میٹھا کرکے تمام آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی بات قابل عمل نہیں ہے۔ مستقبل میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کا واحد ذریعہ دریائے سندھ ہوگا وہاں سے کراچی کو فراہم کیا جانے والا پانی بڑھانا پڑے گااور زیادہ مقدار میں پانی کینجھر جھیل ذخیرہ کرنے سے لیکر کراچی کو مسلسل سپلائی کرنے کا نیٹ ورک اور نظام درکار ہوگا۔
کراچی کے سابق ناظم اعلیٰ مصطفی کمال سمجھتے ہیں کہ سندھ اپنے حصے میں سے کراچی کا حصہ بڑھا دے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں اور اہم مسئلہ پر بھی سیاست کررہے ہیں۔ سندھ میں آنے والا پانی آبپاشی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور آخری ذخیرہ کوٹری بیراج پر ہوتا ہے اس کے بعد ٹھٹہ کا کینجھر جھیل تک پہنچتا ہے جہاں سے کراچی کو پانی ملتا ہے،۔
سندھ بھر میں پینے کے پانی کا شیئر دیکھا جائے تو اس میں سے کراچی کو 60 فیصد کے قریب ملتا ہے لہٰذا مصطفی کمال کا مئوقف حقائق پرمبنی نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ میں مصطفی کمال بتا چکے ہیں کہ سندھ کے شیئر سے ہی کراچی کا شیئر بڑھا دیا جائے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ حکومت سندھ اور سندھی قوم پرست رہنماؤں کا ہمیشہ موقف ہے کہ سندھ کو اس کے حصے سے کم پانی ملتا ہے اور پنجاب چوری کرتا ہے دریائے سندھ میں پانی کی مقدار کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے دریاسے سمندر میں جانے والا پانی بہت مختصر رہ گیا ہے اور سمندر سندھ کی زمین نگلتا جا رہاہے۔
لاکھوں ایکڑ اراضی سمندر برد ہوچکی ہے۔ دوسری طرف اعتراف کرنے والے کہتے ہیں کہ ہر چند سال بعد جو سیلاب آتا ہے وہ سارا پانی سندھ کے شہروں دیہاتوں کو تباہ کرنے کے بعد سمندر میں چلا جاتا ہے اس کو ذخیرہ نہیں کیا جاتا ورنہ وہی پانی آبپاشی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے اور پینے کے لیے بھی۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی آبی جارحیت اور سازشوں کے حوالے سے تو نوائے وقت گروپ اور ندائے ملت سب سے زیادہ لکھتا چلا آرہا ہے اور ہمیشہ آواز اٹھاتا ہے کہ بھارت کس طرح دریاؤں کا رخ موڑ کر اور بند باندھ کر پاکستان کو خشک سالی کی طرف لے جارہا ہے اور سیلابی صورتحال میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کو ڈبوتا ہے اور ہماری معیشت کا اربوں کھربوں روپے کا نقصان کراتا ہے۔
سندھ میں واٹر کمیشن بھی ساری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور سپریم کورٹ بھی اس معاملے کی سماعت کررہی ہے لہٰذا تمام سرکاری اداروں میں ہلچل مچ گئی ہے اور افسران اپنی اپنی رپورٹیں حکومت سندھ اور عدالتوں میں پیش کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس حوالے سے سے متعدد اہم اجلاس بلائے اور سیر حاصل بحث کرائی ہے۔ کراچی واٹر بورڈ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت دیگر محکمے اور حکام بھی اپنا اپنا کام کررہے ہیں سندھ کے چیف سیکرٹری رضوان میمن اس معاملے پر کافی متحرک ہیں اور یم ڈی واٹر بورڈہاشم رضا زیدی نے بھی سپریم کورٹ اور حکومت کو مختلف تجاویز اور پلان پیش کئے ہیں جن کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے کہ آنے والے 20،25 سال اور ان سے آگے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ابھی سے کیا حکمت وعملی وضع کی جائے اور کیا اقدامات ضروری ہیں۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا ہے کہ سندھ کی 35 فیصد آبادی کو پینے کا پانی اور 40 فیصد کو سیوریج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ 53 فیصد آبادی کراچی اور حیدرآباد پر مشتمل ہے۔ فراہمی ونکاسی آب کے علیحدہ نظام ہیں۔ زیر زمین پانی میٹھا نہیں رہا خراب ہوتا جارہاہے اور ہسپتالوں پر مریضوں کے دباؤ کی بڑی وجہ خراب پانی ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے ذریعے16.5 ملین آبادی کو پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے جو 35 فیصد بنتا ہے۔
جبکہ اس کی ڈرینج سکیمیں 12.5 ملین کا احاطہ کرتی ہیں جو کہ آبادی کا 40 فیصد بنتا ہے۔ ایسے ہی ایک اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بریفنگ کے دوران محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے سیکرٹری تمیز الدین کھپرو نے بتایا کہ موجودہ سکیموں میں پینے کے پانی کی درکار مجموعی مقدار تقریباََ340 ایم جی ڈی(ملین گیلن یومیہ)ہے جی ڈی سرفس واٹر ہے اس پر وزیراعلیٰ نے کہ کہ زیز زمین پانی کی مقدار میں مزید اضافے کی ضرورت ہے اور اس کی کوالٹی کو بھی چیک کرنا ضروری ہے۔
محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...
داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...
ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...
کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...
جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...
قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...
9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...
معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...