وجود

... loading ...

وجود

ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی پراسرار موت بدستورمعمہ

بدھ 24 جنوری 2018 ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی پراسرار موت بدستورمعمہ

متحدہ قومی موومنٹ جو کہ 22اگست 2017کوبانی ایم کیوایم کی ملک دشمن تقریر کے سبب مکمل طور پر ختم ہو گئی اور یہاں تک کہ ان کے قریبی ساتھیوں جنہیں انہوں نے فرش سے عرش تک پہنچایا ان سمیت ان کا سایہ بھی ساتھ چھوڑ بیٹھا یہاں تک کے پورے پاکستان بلکہ شہر کراچی میں ان کا کوئی نام لیوا نہ رہا تو ان حالات میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف جنہوں نے ہمیشہ متحدہ کی سیاست پراختلاف رکھا ہمیشہ کی طرح بلند حوصلے کے ساتھ اپنی ڈٹ جانے والی سیاست کے تحت نا صرف خود آ ہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے بلکہ اپنے بائے بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں کو بھی اپنے ساتھ شانہ بشانہ چلنے پر مجبور کر دیا اور اس طرح متحدہ کی سیاست کی باگ دوڑ ان ہاتھوں میں آ گئی جنہوں نے ہمیشہ لسانیت کی سیاست کی شدت سے مخالفت کر کے وفاق کی سیاست کا پرچار کیا جس کے پیش نظر ڈاکٹر حسن ظفر عارف جوکہ جنرل ضیاء کے دور میں بھی ایک جھوٹے مقدمے قید و بند کی صعو بتیںجھیل چکے تھے پھر سے کئی بار پابند و سلاسل کیے گئے جبکہ ا ن کے ساتھوں کو بھی جیل اور حوالات کا منہ دیکھنا پڑا جس کے سبب کئی ساتھیوں نے یہ تو متحدہ کی سیاست کرنے سے توبہ کر لی یا پھر متعدد رہنما گوشہ نشین ہو گئے۔

72 سالہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے حوصلوں کو باوجود شدید دبائو کے کم نہیں کیا جا سکا وہ چٹان کی طرح اپنے موقف اور بانی ایم کیوایم کی حمایت میں ڈٹے رہے اور یہاں تک کے انہوں نے زندگی کی آخری سانس بھی بانی ایم کیوایم کے نام کر دی اب جہاں تک آخری لمحات کی بات کی جائے تو وہ گذشتہ ہفتے ڈیفنس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے آرٹس کونسل کے قریب پارٹی کی لیگل ایڈ کمیٹی کے عبدالمجید کادوانی سے ملاقات کے لیے گئے اور پھر گھر نہیں لوٹے رات بھر غائب ہو نے کے سبب ان کی اہلیہ نے جب فون پر عبدالمجید کادوانی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا یہ تھا کہ وہ تو کل شام کو رخصت لے کر اپنے گھر روانہ ہو گئے تھے اسی اثنا میں ماضی میں یونیورسٹی ،کالجز کے اساتذہ اور بائیں با زو کے روشن خیال اساتذہ کی تحریک چلا نے والے ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی اطلاعات نجی چینلز سے نشر ہو نا شروع ہو گئیں، پولیس نے فوری طور پر ریڑھی گوٹھ کے ویران علاقے میں کھڑی گاڑی کی پچھلی نشست سے ان کی لاش بر آمد کی پولیس کا کہنا یہ ہے کہ ان کے جسم اور کسی بھی حصے پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال بھجوایا تو پوسٹ مارٹم میں بھی پو لیس کے بیان کی تائید کی گئی اور اس سلسلے میں جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ایمر جنسی سیمی جمالی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی لاش پر کسی قسم کے تشدد کے آثار نہیں مگر کراچی کی عوام جو کہ اس اعلی تعلیم یافتہ شخص جس نے کئی تحریکیں جنم دیں اور انہیں تحریکوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء کے دور آمریت میں انہیں نا صرف اسلحہ رکھنے کے جرم میں قید کیا گیا بلکہ ملازمت سے بر طر فی بھی ہو ئی کی جدوجہد کے پیش نظر پو لیس اور ہسپتال کی اس رپورٹ کو ماننے سے انکار کر دیا گیا اور ان کا کہنا یہ ہے کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف طبی موت نہیں مرے بلکہ انہیں منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں نے اس سلسلے میں احتجاج کے لیے سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کر تے ہو ئے اسے قتل قرار دیا ان کی موت جو کہ اب تک ایک معمہ بنی ہو ئی ہے کے سلسلے میں سندھ اسمبلی میں بھی اسپیکر آغا سراج درانی کے زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں نا صرف ان کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی بلکہ حکومتی حلقوں جس میں ان کے بیشتر قریبی دوست اور شاگرد بھی شامل ہیں نے ان کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے اس سلسلے میں سول سوسائٹی ،لیبر تنظیمیں اور بیشتر سیاسی جماعتوں نے بھی اسے قتل قرار دیا جبکہ اس سلسلے میں ہیومین رائٹ کمیشن آف پاکستان کے نا ئب صدر اسد اقبال بٹ ،مہناز رحمن ،کرامت حسین ،نا صر منصور و دیگر رہنمائوں نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان رہنمائوں کا بھی کہنا یہ تھا کہ وہ طبعی موت نہیں مرے بلکہ ان کا قتل ہوا ہے لہذا چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر نوٹس لیتے ہو ئے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر وائیں ورنہ سول سو سائٹی ،لیبر تنظیمیں اور با ئیں بازو کی سیاسی پارٹیاں سڑکوں پر آ نے سے گریز نہیں کریں گی۔

اس حوالے سے متحدہ لندن کا بھی موقف مختلف نہیں وہ اس بات کا دعویٰ کر رہے کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو قتل کیا گیا ہے۔ لہذا فوری ان کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ متحدہ (پاکستان ) کے سر براہ ڈاکٹر فاروق ستار جنہوں نے 22 اگست2016 کے بعد بانی ایم کیوایم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی انہوں نے بھی ان کی موت کو ایک قتل قرار دیا مگر ان کے قتل یا موت کے 72 گھنٹے بعد ان کی صاحبزادی کا ہنگامی بیان سامنے آنا اور وضاحت دینا کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف قتل نہیں ہوئے بلکہ طبعی موت مرے ہیں نے لبرل تنظیموں ،سول سوسائٹی اور عوام میںایک طوفان بپا کر دیا ہے اور اس حوالے سے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ بیان کسی دبائو کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ بہر حال معاملات کچھ بھی ہوں سندھ اسمبلی اور سیاسی رہنمائوں جن میں بلاول بھٹو زرداری کے مطالبات کے باوجود اب تک ان کے قتل کے حوالے سے نہ تو کوئی جے آئی ٹی بن سکی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی تحقیقات کا آغاز کیا جا سکا پولیس اب تک اس بات پر بضد ہے کہ وہ طبی موت مرے ہیں جس کے تحت لوگوں میں شدید غم و غصہ پا یا جا رہا ہے ۔موجودہ صورت حال میں قطع نظراس کے کہ پروفیسرحسن ظفرکاتعلق کسی بھی جماعت یاگروہ سے تھا۔ اس بات کی تحقیقات ہوناضروری ہے کہ وہ وکیل سے مل کرابرہیم حیدری کے ویران مقام تک کیسے پہنچے اوران کی موت کیوں کرواقع ہوئی۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر