وجود

... loading ...

وجود

ہڈیوں کی کمزوری

منگل 23 جنوری 2018 ہڈیوں کی کمزوری

بعض اوقات غیرارادی طور پر ہم کئی ایسے غیر صحت مندانہ مشغلے اپنا لیتے ہیں جو ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلاًکاربونیٹڈ مشروبات پینے والے بچے ہڈیوں کی بیماریوں کی بنیاد رکھتے چلے جاتے ہیں۔ تیز میٹھے اور جھاگ دار کاربونیٹڈ مشروبات زیادہ پینے سے ہڈیاں خستہ اور بوسیدہ ہونے لگتی ہیں۔ کمزور ہڈیوں والے بچے ا?گے چل کر سخت کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ وہ نوجوانی ہی میں بوسیدگی عظام یعنی بھربھری ہڈیوں (Osteoporosis) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بیماری حقیقت میں اوائل عمری کا مرض ہے، جس کے اثرات زندگی میں آگے چل کر رونما ہوتے ہیں۔ہڈیوں کی خستگی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان میں نہایت باریک سوراخ ہوجاتے ہیں، جن سے یہ کمزور ہو جاتی ہیں اور دباوپڑنے پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس طرح سے متاثرہ فرد بدہیئت اور معذور ہو جاتا ہے۔ ہڈیوں میں خستگی پیدا ہونے سے ہلاکت بھی ممکن ہے۔ ایسے ضعیف افراد جن کے کولہے کی ہڈی بے احتیاطی میں ٹوٹ جاتی ہے، ان میں بیس فیصد ایک سال کے اندر ہی چل بستے ہیں۔ ایشیا میں عوامی صحت پر نظر رکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں یہ بیماری مہلک ثابت ہو گی۔ ایشیائی ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ 2050ء￿ تک ہر سال 32 لاکھ افراد کے کولہوں کی ہڈیاں اس بیماری کی وجہ سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ ہڈیوں کا خستہ ہونا 25 برس کی عمر میں بھی ہو سکتا ہے، لوگوں کو اس سے ا?گاہ ہونا چاہیے۔ اس بیماری سے آپ اور آپ کے بچے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بس آپ کو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایک عام سا خیال ہے کہ ہمارے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر سال ہمارا جسم ہڈیوں کی اسفنج نما بافتوں (ٹشوز) کو ان کی جگہ سے ہٹا کر خالی جگہ کو پر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سرگرمیاں عمر کے ہر حصے میں جسم پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ہڈیوں کی شکست و ریخت اور تعمیر 30 برس کی عمر تک ہوتی ہے، اس لیے آپ پابندی سے ورزش کریں اور ایسی چیزیں کھائیں جس میں کیلشیم شامل ہو۔ ہڈیوں کے بارے میں سوچئے کہ یہ ریٹائرمنٹ کا فنڈ ہیں، جسے آپ جوانی میں جمع کرتے ہیں تو بڑھاپے میں کام آتا ہے۔ بہت سے بچے اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے لہٰذا کیلشیم کا مناسب ذخیرہ نہیں کر پاتے۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہے، اس لیے کیلشیم کی ذخیرہ اندوزی 90 فیصد افراد 20 برس کی عمر تک ہی کر پاتے ہیں۔ چنانچہ کیلشیم کی کمی کے سبب ہڈیوں میں بھربھرا پن پیدا ہونے لگتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آٹھ سے 13 برس کی لڑکیوں کو سات برس تک روزانہ 800 ملی گرام کیلشیم کھلایا گیا، جو کہ تجویز کردہ مقدار یعنی 1300ملی گرام سے بہت کم تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے نصف لڑکیوں کو کیلشیم کے ضمیمے یا سپلی منٹ کھلائے گئے ، جب کہ باقی لڑکیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ محققین کے مطابق جب بچے بالغ ہورہے ہوں تو انہیں اضافی کیلشیم کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لڑکیاں جنہیں کیلشیم کے ضمیمے کھلائے گئے ان کی ہڈیاں مضبوط ہو گئیں اور ان ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کی شکایت ان لڑکیوں سے کم ہو گئی جنہوں نے ضمیمے نہیں کھائے تھے۔ بہتر ہو گا کہ بڑے اور بچے ایسی غذائیں کھائیں جن میں کیلشیم شامل ہو، مثلاً دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں۔ کیلشیم مچھلیوں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ ہرے پتوں والی سبزیوں، سویابین اور کیلشیم کے طاقت بخش مشروبات بھی اس کمی کو پورا کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کو تلقین کریں کہ وہ روزانہ دن میں تین سے پانچ بار ہڈیاں مضبوط بنانے والی چیزیں کھائیں۔ اگر بچے یہ سوچ کر دودھ نہیں پیتے کہ وہ فربہ ہو جائیں گے تو انہیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ بازاری شکر والے مشروبات پینے والے بچوں کی نسبت دودھ زیادہ پینے والے بچے سڈول جسم کے ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو مناسب مقدار میں کیلشیم نہیں کھا پاتے انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے کیلشیم کے سپلی منٹس لینے چاہئیں۔ بچوں کے لیے ایسے سپلی منٹ خاص طور پر بنائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری حیاتین ’’د‘‘ چند غذاو?ں سے ملتی ہے۔ قدرتی طور پر حیاتین ’’د‘‘ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دھوپ میں بیٹھیں لیکن یہ یقین کر لیں کہ اس سے آپ کی جلد کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا۔ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے ہڈیاں گھلتی جاتی ہیں اور نئی بافتیں نہیں بنتیں۔ سن یاس کے بعد خواتین میں ایسٹروجن کی کمی کے باعث 20 فیصد ہڈیاں گل جاتی ہیں۔ اگر ہڈیوں پر توجہ دی جائے تو ان کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ مردوں کو بھی نقصانات برداشت کرنے پڑتے ہیں اس لیے کہ ان کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے۔ اپنے ڈھانچے کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے ہمیں پابندی سے ورزش کرنی چاہیے۔ بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ کھیل کود میں حصہ لینا چاہیے جب کہ بالغ افراد کو کم از کم نصف گھنٹہ ورزش کرکے متحرک رہنا چاہیے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے پیدل چلنا اور جاگنگ کرنا مفید ہے۔ وزن اٹھانے والی ورزش کرنے سے بھی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ وزن اٹھانے والی ورزشوں کی عادی خواتین جب سن یاس تک پہنچتی ہیں تو ان کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ اور انہیں کم نقصانات پہنچتے ہیں۔ یہاں تک کہ 80برس میں کی جانے والی ورزشوں سے بھی فائدہ پہنچتا ہے اور عمر رسیدہ ہونے پر بھی کولہوں کی ہڈیاں نہیں ٹوٹتیں، اس لیے کہ وہ مضبوط ہوتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر