... loading ...
بعض اوقات غیرارادی طور پر ہم کئی ایسے غیر صحت مندانہ مشغلے اپنا لیتے ہیں جو ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلاًکاربونیٹڈ مشروبات پینے والے بچے ہڈیوں کی بیماریوں کی بنیاد رکھتے چلے جاتے ہیں۔ تیز میٹھے اور جھاگ دار کاربونیٹڈ مشروبات زیادہ پینے سے ہڈیاں خستہ اور بوسیدہ ہونے لگتی ہیں۔ کمزور ہڈیوں والے بچے ا?گے چل کر سخت کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ وہ نوجوانی ہی میں بوسیدگی عظام یعنی بھربھری ہڈیوں (Osteoporosis) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق ہڈیوں کے بھربھرے پن کی بیماری حقیقت میں اوائل عمری کا مرض ہے، جس کے اثرات زندگی میں آگے چل کر رونما ہوتے ہیں۔ہڈیوں کی خستگی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان میں نہایت باریک سوراخ ہوجاتے ہیں، جن سے یہ کمزور ہو جاتی ہیں اور دباوپڑنے پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس طرح سے متاثرہ فرد بدہیئت اور معذور ہو جاتا ہے۔ ہڈیوں میں خستگی پیدا ہونے سے ہلاکت بھی ممکن ہے۔ ایسے ضعیف افراد جن کے کولہے کی ہڈی بے احتیاطی میں ٹوٹ جاتی ہے، ان میں بیس فیصد ایک سال کے اندر ہی چل بستے ہیں۔ ایشیا میں عوامی صحت پر نظر رکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں یہ بیماری مہلک ثابت ہو گی۔ ایشیائی ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ 2050ء تک ہر سال 32 لاکھ افراد کے کولہوں کی ہڈیاں اس بیماری کی وجہ سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ ہڈیوں کا خستہ ہونا 25 برس کی عمر میں بھی ہو سکتا ہے، لوگوں کو اس سے ا?گاہ ہونا چاہیے۔ اس بیماری سے آپ اور آپ کے بچے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بس آپ کو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایک عام سا خیال ہے کہ ہمارے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر سال ہمارا جسم ہڈیوں کی اسفنج نما بافتوں (ٹشوز) کو ان کی جگہ سے ہٹا کر خالی جگہ کو پر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سرگرمیاں عمر کے ہر حصے میں جسم پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ہڈیوں کی شکست و ریخت اور تعمیر 30 برس کی عمر تک ہوتی ہے، اس لیے آپ پابندی سے ورزش کریں اور ایسی چیزیں کھائیں جس میں کیلشیم شامل ہو۔ ہڈیوں کے بارے میں سوچئے کہ یہ ریٹائرمنٹ کا فنڈ ہیں، جسے آپ جوانی میں جمع کرتے ہیں تو بڑھاپے میں کام آتا ہے۔ بہت سے بچے اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے لہٰذا کیلشیم کا مناسب ذخیرہ نہیں کر پاتے۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہے، اس لیے کیلشیم کی ذخیرہ اندوزی 90 فیصد افراد 20 برس کی عمر تک ہی کر پاتے ہیں۔ چنانچہ کیلشیم کی کمی کے سبب ہڈیوں میں بھربھرا پن پیدا ہونے لگتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آٹھ سے 13 برس کی لڑکیوں کو سات برس تک روزانہ 800 ملی گرام کیلشیم کھلایا گیا، جو کہ تجویز کردہ مقدار یعنی 1300ملی گرام سے بہت کم تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے نصف لڑکیوں کو کیلشیم کے ضمیمے یا سپلی منٹ کھلائے گئے ، جب کہ باقی لڑکیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ محققین کے مطابق جب بچے بالغ ہورہے ہوں تو انہیں اضافی کیلشیم کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لڑکیاں جنہیں کیلشیم کے ضمیمے کھلائے گئے ان کی ہڈیاں مضبوط ہو گئیں اور ان ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کی شکایت ان لڑکیوں سے کم ہو گئی جنہوں نے ضمیمے نہیں کھائے تھے۔ بہتر ہو گا کہ بڑے اور بچے ایسی غذائیں کھائیں جن میں کیلشیم شامل ہو، مثلاً دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں۔ کیلشیم مچھلیوں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ ہرے پتوں والی سبزیوں، سویابین اور کیلشیم کے طاقت بخش مشروبات بھی اس کمی کو پورا کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کو تلقین کریں کہ وہ روزانہ دن میں تین سے پانچ بار ہڈیاں مضبوط بنانے والی چیزیں کھائیں۔ اگر بچے یہ سوچ کر دودھ نہیں پیتے کہ وہ فربہ ہو جائیں گے تو انہیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ بازاری شکر والے مشروبات پینے والے بچوں کی نسبت دودھ زیادہ پینے والے بچے سڈول جسم کے ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو مناسب مقدار میں کیلشیم نہیں کھا پاتے انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے کیلشیم کے سپلی منٹس لینے چاہئیں۔ بچوں کے لیے ایسے سپلی منٹ خاص طور پر بنائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری حیاتین ’’د‘‘ چند غذاو?ں سے ملتی ہے۔ قدرتی طور پر حیاتین ’’د‘‘ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دھوپ میں بیٹھیں لیکن یہ یقین کر لیں کہ اس سے آپ کی جلد کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا۔ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے ہڈیاں گھلتی جاتی ہیں اور نئی بافتیں نہیں بنتیں۔ سن یاس کے بعد خواتین میں ایسٹروجن کی کمی کے باعث 20 فیصد ہڈیاں گل جاتی ہیں۔ اگر ہڈیوں پر توجہ دی جائے تو ان کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ مردوں کو بھی نقصانات برداشت کرنے پڑتے ہیں اس لیے کہ ان کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے۔ اپنے ڈھانچے کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے ہمیں پابندی سے ورزش کرنی چاہیے۔ بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ کھیل کود میں حصہ لینا چاہیے جب کہ بالغ افراد کو کم از کم نصف گھنٹہ ورزش کرکے متحرک رہنا چاہیے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے پیدل چلنا اور جاگنگ کرنا مفید ہے۔ وزن اٹھانے والی ورزش کرنے سے بھی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ وزن اٹھانے والی ورزشوں کی عادی خواتین جب سن یاس تک پہنچتی ہیں تو ان کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ اور انہیں کم نقصانات پہنچتے ہیں۔ یہاں تک کہ 80برس میں کی جانے والی ورزشوں سے بھی فائدہ پہنچتا ہے اور عمر رسیدہ ہونے پر بھی کولہوں کی ہڈیاں نہیں ٹوٹتیں، اس لیے کہ وہ مضبوط ہوتی ہیں۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...