وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ ؔ انعام صدیقی

اتوار 21 جنوری 2018 نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ  ؔ انعام صدیقی

جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔

یہاں مثال پیش کی جا سکتی ہے ، تازہ کار اور نوآموز شاعرہ سبیلہ انعام صدیقی کا تعلق نہ صرف نئی نسل سے ہے بلکہ وہ نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ بھی ہیں۔اُن کی شاعری میں نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی بھی موجودہے اور اُن کے مسائل کی ترجمانی بھی پائی جاتی ہے۔سبیلہ انعام صدیقی کے غزلیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رکھّے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اُس کو راہ سے منزل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قاتل کی آگہی

سبیلہ انعام صدیقی نے بیچلرز ان ’’کامرس ‘‘کے بعدماسٹرز(اکنا مکس) کراچی یونیورسٹی سے کیا ہے اورابھی وہ مزید تعلیم حاصل کر نے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ اُن کی شخصیت اور نکھر کر سامنے آئے۔کہتے ہیں علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے ،سبیلہ انعام صدیقی کا بھی خیال یہی ہے، اس لیے وہ علم حاصل کرتی جا رہی ہیں اور اپنی تعلیم میں اضافے کی خواہش مند ہیں۔وہ 22؍فروری کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد کا تعلق ‘‘ مظفر نگر‘یو۔پی ‘‘ بھارت سے ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی کے مشاغل میں عمومی طورپر مطالعہ، ڈریس ڈیز ائننگ اور موسیقی شامل ہے جب کہ شاعری کو اُنھوں نے اپنی رگ و پے میں اُتارلیا ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معمارانِ قوم کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے دن رات منور کر رہی ہیں۔اُن کو قدرت نے شاعری کے ایسے انعام سے نوازاہے کہ وہ کم عمری ہی سے شعر و ادب میں غیرمعمولی دل چسپی لینے لگی تھیںاورجوان ہوکر شاعری کے ہنر میں خو د کو نما یاں کرلیا ہے۔
انھوں نے شاعری میں نئی نسل کے اُس لہجے کو پیش کیا ہے جو اُن کی پہچان بنے گا۔ وہ اپنے ذوقِ سخن کو جا نچنے میں مگن ہیں۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بھیگا ہُوا ہے آنچل ، آنکھوں میں بھی نمی ہے
پھیلا ہُوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے
اک دن سخن کی ملکہ بن جائوں گی سبیلہؔ
پھر آج کیوں ہوں بے کَل،آنکھوں میں بھی نمی ہے

سبیلہ انعام صدیقی مشاعروں میں بھی شرکت کرتی ہیں اور ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی اُن کو سنا اور دیکھا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ عالمی مشاعرے میں بھی شریک ہو چکی ہیں۔یہ اُن کی عمدہ شاعری کی بنا پر ممکن ہوسکا ہے، ورنہ بے شمار شاعراور شاعرات یہ حسرت دل ہی میں لیے رہتے ہیں کہ اُن کو عالمی مشاعرے میں شریک کیا جائے ،بہت کم شعرا کو یہ موقع نصیب ہوتاہے۔شاعرہ موصوفہ کی شعری عمر کم ہے مگر وہ دنیائے شعروادب میں بہت سے کارنامے سرانجام دے چکی ہیں۔وہ غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی اچھی کہہ رہی ہیں۔آئیے اُن کی نظم ’’ یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی‘‘ ملاحظہ کرتے ہیں:

شعلے بھڑک رہے ہیں/عِناد و فساد کے/ اس دور ِ آگہی میں تو/جینا عذاب ہے/مکر و فریب کا یہاں ہے/جال سا بچھا/سچ کا یہاں تو رہنا ہی/مطلق حرام ہے/تازہ ہوا بھی کیسے ملے؟/نسلِ نو کو جب/آ ب و ہوا میں پھیلی بُو/آلودگی سی ہو/منظر یہ سارے دیکھ کے/آنکھیں برس پڑیں/ ہے جان کی اماں نہ ہی/محفوظ مال و زر/یارب دعا ہے رات کی/ کالی گھٹا ہٹے/ ہوجائیں بارشیں یہاں/انوار ِ سحر کی/صورت نظر میں آئے/کسی چارہ گر کی اب/یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی/…

بطور نئی نسل کی شاعرہ، عمدہ کا رکر دگی پرسبیلہ انعام صدیقی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعرائے کرام کے منتخب کلا م پر مبنی کتا ب ’’دی ٹیلنٹ انٹر نیشنل ۲۰۱۵ء ‘‘ میں بھی اُن کے کلام کو شامل کیا گیا۔ شہدائے پشاور کی یاد میں ایک کتا ب ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ میں بھی اُن کے کلا م کو منتخب کیا گیاہے اور اس وقت ادب کے مستند اور قابل لحاظ ویب سائیٹ ‘‘ریختہ‘‘میں بھی ان کی بہت سی غزلوں اور نظموں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’لوح ، ارژنگ،سنگت ،تخلیق ، چہارسو، ادب وفن، دنیائے ادب اور دیگر مؤقرادبی جرائدورسائل اور اخبارات میںاکــثر اُن کی تخلیقاتِ شعری شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اُنھوں نے غزل اورنظم کے ساتھ ساتھ جاپانی صنفِ سخن ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔چند اُردو ہائیکو پیشِ خدمت ہیں:
۱۔ساجن سے کہنا/اُس کے ہاتھوں پہنوں گی/پھولوں کا گہنا/…
۲۔ایسا ہو انداز/جس کو دیکھ کے بول پڑے/دل کا ہر اک ساز/…
۳۔بارش کا موسم/اکثر کہتا رہتا ہے/ہلکا کر لو غم/…
۴۔رب کی ایسی شان/ اک خلیے کو بخشی ہے/اُس نے کتنی جان/…
۵۔اُن کا ہو احسان/محشر میں گر وہ رکھ لیں/مجھ عاصی کا مان/…

سبیلہ انعام صدیقی نے اپنے تخلیقی سفر میں زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور اپنے عہد کی حسیت کو بھی نما یاں کیا ہے ۔ پیا ر و محبت سے لے کر ظلم و تشد د اور دہشت گردی سے لے کرذات کے خول میں بند ہو کر زند گی گزارنے والے بے حس لو گوں کی کیفیات کو اپنے جنبشِ قلم سے مجتمع کر دیا ہے۔سبیلہ انعام صدیقی نے جہاں مجازی محبت کی لطا فتوں کو اُجا گر کیا ہے وہیں عشقِ حقیقی کی خوشبو سے اپنے کلام کومعطّر بھی کیا ہے۔اُن کے کلام میں عشقِ حقیقی کے نمونے ملاحظہ ہوں:
حمدیہ
یارب ہر ایک نعمت و راحت کا شکریہ
کرتی ہوں پیش لطف و عنایت کا شکریہ
نعتیہ
نبی کی ذات اور آل نبیـ کو
زمانے بھر کا رہبر سوچتی ہوں

غیر منقوط شاعری سے مراد ایسی نظم جس کو بغیر نقطوں کے منظوم کیا گیا ہو،غیرمنقوط شاعری میں الفاظ کی فیکٹری موجود ہو، اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق بدل بدل کر لفظ استعمال کرنا جانتاہو،غیر منقوط شاعری کے نمونے جن شعرا کے سامنے آئے ہیں اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔غیر منقو ط غزل بھی سبیلہ انعام صدیقی کے شعری سرما ئے میں نظر آتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ بہ خوبی لگایاجاسکتا ہے کہ اُن کا مزاج مختلف فنی تجر بے کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہے اور وہ الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے ذہن میں محفوظ رکھتی ہیں۔آئیے اُن کی ایک غیر منقوط غزل کے دو اشعارملاحظہ کرتے ہیں اور اُن کے فن کی داد دیتے ہیں:
ہے راس دل کو اُداس موسم
کہ دکھ کو دل ہی سہا کرے گا
کسک اُٹھے گی ہمارے دل سے
کسی سے گر وہ ملا کرے گا

پروینؔ شاکر کی طرح ہر شاعرہ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نسوانی لہجے میں بات کرے اور کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرے مگر اکثر شاعرات اس رویے سے پہلو بچاکر گزرجاتی ہیں اور کچھ شاعرات اس کا برملا اظہار کر دیتی ہیں مگر کچھ شاعرات کا اظہار بے معنی ہو تاہے جو اپنی وقعت کھو دیتاہے مگر چند شاعرات کا اظہار اتنا توانا ہوتاہے کہ قاری کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتاہے اور قاری اُس کے کلام کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتاہے، یہ اُس کلام کی خوبی ہوتی ہے کہ یا تو سنتے ہی دل میں اُتر جائے یا قاری کو اپنے معانی و مفاہیم کی گہرائی میں اُتارے،سبیلہ انعام صدیقی کے یہ اشعار اِسی صفت سے متصف ہے… ملاحظہ ہو:
جہاں میں جس کی شہرت کُو بہ کُو ہے
وہ مجھ سے آج محو ِ گفتگو ہے
رہا آباد خوابوں میں جو اب تک
خو شا قسمت ! کہ اب وہ روبرو ہے

سبیلہ انعام صدیقی ابھی جوان ہیں اور ان کے حوصلے بلندہیں،ان کے کلام میں بھر پور توانائی موجودہے اسی لیے مجھے ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہوگئی ہیں،مجھے اُمید ہے کہ اگر یہ اسی طرح مطالعے کی شوقین رہیں اور مشقِ سخن جاری رکھی تو وہ ایک کہنہ مشق شاعرہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہوں گی۔
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

پاکستان بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگاتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔افواج پاکستان نے بھارت کی ایک اور چال کو ناکام بنا کر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مرتبہ یہ کارنامہ پاک بحریہ نے انجام دیا ہے جس نے جاسوسی اور جنگی مقاصد سے چوری چھپے پاکستان کی حدود میں گھسنے کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ بھارتی آبدوز کی حقیقی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔ 16/ اکتوبر کو بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود کے قریب موجود تھی اور پاک...

پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلا...

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے ایک بار پھر انتخابی اصلاحات کیلئے مجوزہ ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کو شفاف انتخابات کیلئے فارمولا یا قانون دینے کا کوئی حق نہیں،نیب کا ادارہ ہی آمریت کی باقیات میں سے ہے ،یہ ہمیشہ مخالفین اور حزب اختلاف کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہوا ہے ،اس ادارے سے احتساب کی کوئی توقع نہیں ، ہم نئے الیکشن چاہتے ہیں ، اسمبلی کے اندر تبدیلی کی بات ہوتی تو پیپلز پارٹی کی بات مان لیتے،...

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق گوجرانوالا کینٹ میں کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کور کمانڈر گوجرانوالا تعینات کردیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کی۔ واضح رہے کہ پاک فوج میں 6 اکتوبر کو اہم تقرر وتبادلے کیے گئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا ...

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار کیا ہے ۔ پیر کو آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے استقبال کیا، اس موقع پر آرمی چیف کو داخلی سیکیورٹی امور اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

وفاقی حکومت نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مہنگائی اور معاشی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں انہیں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر ٹیکسز کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزراء اپنے...

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق کولن پاول کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کا انتقال کورونا کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے ہوا۔خیال رہے کہ کولن پاول سابق امریکی صدر جارج بش جونیئر کے دور میں 2001 سے لیکر 2005 تک امریکا کے سیکرٹری خارجہ رہے۔افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے دوران کولن پاول ہی وزیر خارجہ تھے اور انہیں پہلے افریقی نژاد امریکی وزیرخارجہ ہونیکا اعزاز حاصل ہے۔سیاست میں آنے سے قبل کولن پاول امریکی فوج ک...

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں، کچھ لوگ چاہتے ہیں میں سیاست اور ملک میں واپس نہ آؤں کیونکہ میرے آنے سے انکی دکانیں بند ہوجائیں گی۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ کراچی اور پاکستان میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہوں اور مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مسائل کے مستقل حل کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چاہتا ہوں کہ سیاسی استحکام ہو، ملک...

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

انٹربینک میں ڈالر 173.24 روپے کا ہو گیا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے سے درآمدی بل اور مہنگائی میں مزید اضافے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کی اونچی اڑان کے نتیجے میں انٹربینک نرخ 173 روپے سے بھی تجاوز کرگئے اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 2.06 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے قیمت 173.24 روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تی...

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

شوکت ترین کو ایک مرتبہ پھر مشیر خزانہ وریونیو تعینات کردیا گیا۔ شوکت ترین کی تقرری کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردیا گیا ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر شوکت ترین کی تقرری کی منظوری دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت ترین کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کی چھ ماہ کی مدت 16اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص رکن قومی اسمبلی یا رکن سینیٹ بنے بغیر چھ ماہ تک وفاقی و...

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق ممتاز دانشور ،شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی 75برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ اجمل نیازی 1947 میں موسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوئے، گورڈن کالج راولپنڈی، گورنمنٹ کالج میانوالی، گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں لیکچرر رہے۔ڈاکٹر اجمل نیازی ایک قومی اخبار میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ۔ اجمل نیازی نے 45 سال ادب کی خدمت میں گزارے، انہوں نے اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کی۔ اجمل نیازی...

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

ملک کے تیل کی درآمد کا بل رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 97 فیصد سے بڑھ کر 4.59 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2.32 ارب ڈالر تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی اضافے کی وجہ بنی ہے۔تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ تجارتی خسارے کو فعال کر رہا ہے اور حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔گھریلو صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دیکھا گیا۔پاکستا...

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا

مضامین
یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
یہ رات کب لپٹے گی؟

تماشا اور تماشائی وجود پیر 18 اکتوبر 2021
تماشا اور تماشائی

’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ

محنت رائیگاں نہیں جاتی وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
محنت رائیگاں نہیں جاتی

بیس کی چائے وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
بیس کی چائے

امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت

روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی