وجود

... loading ...

وجود

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ انعام صدیقی

اتوار 21 جنوری 2018 نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ   انعام صدیقی

جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔

یہاں مثال پیش کی جا سکتی ہے ، تازہ کار اور نوآموز شاعرہ سبیلہ انعام صدیقی کا تعلق نہ صرف نئی نسل سے ہے بلکہ وہ نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ بھی ہیں۔اُن کی شاعری میں نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی بھی موجودہے اور اُن کے مسائل کی ترجمانی بھی پائی جاتی ہے۔سبیلہ انعام صدیقی کے غزلیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رکھّے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اُس کو راہ سے منزل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قاتل کی آگہی

سبیلہ انعام صدیقی نے بیچلرز ان ’’کامرس ‘‘کے بعدماسٹرز(اکنا مکس) کراچی یونیورسٹی سے کیا ہے اورابھی وہ مزید تعلیم حاصل کر نے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ اُن کی شخصیت اور نکھر کر سامنے آئے۔کہتے ہیں علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے ،سبیلہ انعام صدیقی کا بھی خیال یہی ہے، اس لیے وہ علم حاصل کرتی جا رہی ہیں اور اپنی تعلیم میں اضافے کی خواہش مند ہیں۔وہ 22؍فروری کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد کا تعلق ‘‘ مظفر نگر‘یو۔پی ‘‘ بھارت سے ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی کے مشاغل میں عمومی طورپر مطالعہ، ڈریس ڈیز ائننگ اور موسیقی شامل ہے جب کہ شاعری کو اُنھوں نے اپنی رگ و پے میں اُتارلیا ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معمارانِ قوم کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے دن رات منور کر رہی ہیں۔اُن کو قدرت نے شاعری کے ایسے انعام سے نوازاہے کہ وہ کم عمری ہی سے شعر و ادب میں غیرمعمولی دل چسپی لینے لگی تھیںاورجوان ہوکر شاعری کے ہنر میں خو د کو نما یاں کرلیا ہے۔
انھوں نے شاعری میں نئی نسل کے اُس لہجے کو پیش کیا ہے جو اُن کی پہچان بنے گا۔ وہ اپنے ذوقِ سخن کو جا نچنے میں مگن ہیں۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بھیگا ہُوا ہے آنچل ، آنکھوں میں بھی نمی ہے
پھیلا ہُوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے
اک دن سخن کی ملکہ بن جائوں گی سبیلہؔ
پھر آج کیوں ہوں بے کَل،آنکھوں میں بھی نمی ہے

سبیلہ انعام صدیقی مشاعروں میں بھی شرکت کرتی ہیں اور ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی اُن کو سنا اور دیکھا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ عالمی مشاعرے میں بھی شریک ہو چکی ہیں۔یہ اُن کی عمدہ شاعری کی بنا پر ممکن ہوسکا ہے، ورنہ بے شمار شاعراور شاعرات یہ حسرت دل ہی میں لیے رہتے ہیں کہ اُن کو عالمی مشاعرے میں شریک کیا جائے ،بہت کم شعرا کو یہ موقع نصیب ہوتاہے۔شاعرہ موصوفہ کی شعری عمر کم ہے مگر وہ دنیائے شعروادب میں بہت سے کارنامے سرانجام دے چکی ہیں۔وہ غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی اچھی کہہ رہی ہیں۔آئیے اُن کی نظم ’’ یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی‘‘ ملاحظہ کرتے ہیں:

شعلے بھڑک رہے ہیں/عِناد و فساد کے/ اس دور ِ آگہی میں تو/جینا عذاب ہے/مکر و فریب کا یہاں ہے/جال سا بچھا/سچ کا یہاں تو رہنا ہی/مطلق حرام ہے/تازہ ہوا بھی کیسے ملے؟/نسلِ نو کو جب/آ ب و ہوا میں پھیلی بُو/آلودگی سی ہو/منظر یہ سارے دیکھ کے/آنکھیں برس پڑیں/ ہے جان کی اماں نہ ہی/محفوظ مال و زر/یارب دعا ہے رات کی/ کالی گھٹا ہٹے/ ہوجائیں بارشیں یہاں/انوار ِ سحر کی/صورت نظر میں آئے/کسی چارہ گر کی اب/یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی/…

بطور نئی نسل کی شاعرہ، عمدہ کا رکر دگی پرسبیلہ انعام صدیقی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعرائے کرام کے منتخب کلا م پر مبنی کتا ب ’’دی ٹیلنٹ انٹر نیشنل ۲۰۱۵ء ‘‘ میں بھی اُن کے کلام کو شامل کیا گیا۔ شہدائے پشاور کی یاد میں ایک کتا ب ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ میں بھی اُن کے کلا م کو منتخب کیا گیاہے اور اس وقت ادب کے مستند اور قابل لحاظ ویب سائیٹ ‘‘ریختہ‘‘میں بھی ان کی بہت سی غزلوں اور نظموں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’لوح ، ارژنگ،سنگت ،تخلیق ، چہارسو، ادب وفن، دنیائے ادب اور دیگر مؤقرادبی جرائدورسائل اور اخبارات میںاکــثر اُن کی تخلیقاتِ شعری شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اُنھوں نے غزل اورنظم کے ساتھ ساتھ جاپانی صنفِ سخن ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔چند اُردو ہائیکو پیشِ خدمت ہیں:
۱۔ساجن سے کہنا/اُس کے ہاتھوں پہنوں گی/پھولوں کا گہنا/…
۲۔ایسا ہو انداز/جس کو دیکھ کے بول پڑے/دل کا ہر اک ساز/…
۳۔بارش کا موسم/اکثر کہتا رہتا ہے/ہلکا کر لو غم/…
۴۔رب کی ایسی شان/ اک خلیے کو بخشی ہے/اُس نے کتنی جان/…
۵۔اُن کا ہو احسان/محشر میں گر وہ رکھ لیں/مجھ عاصی کا مان/…

سبیلہ انعام صدیقی نے اپنے تخلیقی سفر میں زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور اپنے عہد کی حسیت کو بھی نما یاں کیا ہے ۔ پیا ر و محبت سے لے کر ظلم و تشد د اور دہشت گردی سے لے کرذات کے خول میں بند ہو کر زند گی گزارنے والے بے حس لو گوں کی کیفیات کو اپنے جنبشِ قلم سے مجتمع کر دیا ہے۔سبیلہ انعام صدیقی نے جہاں مجازی محبت کی لطا فتوں کو اُجا گر کیا ہے وہیں عشقِ حقیقی کی خوشبو سے اپنے کلام کومعطّر بھی کیا ہے۔اُن کے کلام میں عشقِ حقیقی کے نمونے ملاحظہ ہوں:
حمدیہ
یارب ہر ایک نعمت و راحت کا شکریہ
کرتی ہوں پیش لطف و عنایت کا شکریہ
نعتیہ
نبی کی ذات اور آل نبیـ کو
زمانے بھر کا رہبر سوچتی ہوں

غیر منقوط شاعری سے مراد ایسی نظم جس کو بغیر نقطوں کے منظوم کیا گیا ہو،غیرمنقوط شاعری میں الفاظ کی فیکٹری موجود ہو، اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق بدل بدل کر لفظ استعمال کرنا جانتاہو،غیر منقوط شاعری کے نمونے جن شعرا کے سامنے آئے ہیں اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔غیر منقو ط غزل بھی سبیلہ انعام صدیقی کے شعری سرما ئے میں نظر آتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ بہ خوبی لگایاجاسکتا ہے کہ اُن کا مزاج مختلف فنی تجر بے کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہے اور وہ الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے ذہن میں محفوظ رکھتی ہیں۔آئیے اُن کی ایک غیر منقوط غزل کے دو اشعارملاحظہ کرتے ہیں اور اُن کے فن کی داد دیتے ہیں:
ہے راس دل کو اُداس موسم
کہ دکھ کو دل ہی سہا کرے گا
کسک اُٹھے گی ہمارے دل سے
کسی سے گر وہ ملا کرے گا

پروینؔ شاکر کی طرح ہر شاعرہ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نسوانی لہجے میں بات کرے اور کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرے مگر اکثر شاعرات اس رویے سے پہلو بچاکر گزرجاتی ہیں اور کچھ شاعرات اس کا برملا اظہار کر دیتی ہیں مگر کچھ شاعرات کا اظہار بے معنی ہو تاہے جو اپنی وقعت کھو دیتاہے مگر چند شاعرات کا اظہار اتنا توانا ہوتاہے کہ قاری کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتاہے اور قاری اُس کے کلام کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتاہے، یہ اُس کلام کی خوبی ہوتی ہے کہ یا تو سنتے ہی دل میں اُتر جائے یا قاری کو اپنے معانی و مفاہیم کی گہرائی میں اُتارے،سبیلہ انعام صدیقی کے یہ اشعار اِسی صفت سے متصف ہے… ملاحظہ ہو:
جہاں میں جس کی شہرت کُو بہ کُو ہے
وہ مجھ سے آج محو ِ گفتگو ہے
رہا آباد خوابوں میں جو اب تک
خو شا قسمت ! کہ اب وہ روبرو ہے

سبیلہ انعام صدیقی ابھی جوان ہیں اور ان کے حوصلے بلندہیں،ان کے کلام میں بھر پور توانائی موجودہے اسی لیے مجھے ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہوگئی ہیں،مجھے اُمید ہے کہ اگر یہ اسی طرح مطالعے کی شوقین رہیں اور مشقِ سخن جاری رکھی تو وہ ایک کہنہ مشق شاعرہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہوں گی۔
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

متحدہ قومی موومنٹ پراپرٹیز کیس میں مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا نے عدالت میں گواہی ریکارڈ کرا دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل نے مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا سے کمپیوٹرز اور ریکارڈنگ سسٹم کے بارے میں سوالات کیے۔ وکیل نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے کی سماعت سے قبل جان بوجھ کر اہم ش...

ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار الیکشن کے مطالبے اور موجودہ حکومت کی طرف سے مطالبے کو نظر انداز کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ...

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

سرکاری حکام نے ایران میں جاری مظاہروں میں 200 افراد بشمول سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جبکہ صدر ابراہیم رئیسی نے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہوئے ایران کو انسانی حقوق اور آزادی کا ضامن قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ...

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کو استعفے جمع کرانے سے یروک دیا۔تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی کی قیادت میں سندھ کی پارلیمانی پارٹی نے لاہور میں چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف حلیم عادل شیخ اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خرم...

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، آئندہ سال مارچ یا اس مہینے کے آخر تک الیکشن کیلئے تیار ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے ن...

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اتحادی حکومت انتخابات کی بات پر آئی تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔ پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے...

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی وجود - هفته 03 دسمبر 2022

راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں عبد اللہ اور امام الحق کے بعد بابر اعظم نے بھی سنچری بنا دی۔ تفصیلات کے مطابق پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 181 رنز بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے کیا، ...

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

چین اور بھارت سے بھی آگے نکلتے ہوئے اب پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن چکا ہے جبکہ ہر دس میں سے ایک فرد ہیپاٹائٹس کی کسی نہ کسی کیفیت میں گرفتار ہے۔ڈاکٹروں اور عوامی صحت کے ماہرین نے زور دے کر کہا کہ اس ضمن میں پی سی آر ٹیسٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ ہیپاٹائٹس ...

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا، وزیراعلیٰ  سندھ نے لیڈرشپ سے بات کرکے جواب دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات میں اہم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے محمد وسیم کا نام دے دیا۔ ایم کیوایم نے مطالبہ...

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے وجود - هفته 03 دسمبر 2022

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وقار مہدی کے مقابلے میں اپنے امیدوار کے کاغذات واپس لے لیے۔ کراچی میں الیکشن کمیشن کے باہر سعید غنی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ وقار مہدی بلامقابلہ منتخب سینیٹ...

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پی ای ڈبلیو ریسرچ کی رپورٹ نے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسے سوشل ہاسٹیلٹی انڈیکس میں شام، افغانستان اور مالی سے بھی بدتر قرار دے دیا۔ ریسرچ کے مطابق گورنمنٹ ریسٹرکشن انڈیکس میں بھارت کا اسکور 10 میں سے 9.4 ہے، بھارت نے اقلیتوں پر سنگین مظالم ڈھائے۔ رپورٹ کے مطابق مودی را...

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ وجود - هفته 03 دسمبر 2022

رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ جولائی تا نومبر 2023 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے پانچ ماہ میں مجموعی طور پر77 لاکھ ٹن پیٹرول، فرنس آئل اور ڈیزل فروخت ہوا جو 2022 کے96 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے، آئل کمپن...

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار