وجود

... loading ...

وجود

خاتمہ بالایمان کیسے نصیب ہو؟

جمعه 19 جنوری 2018 خاتمہ بالایمان کیسے نصیب ہو؟

اللہ تعالیٰ جس کوایمان کی سلامتی والی موت نصیب فرمادیں اس سے بڑا خوش قسمت بھلا اور کون ہو سکتا ہے !!بسا اوقات انسان ساری زندگی جنت کے قریب کرنے والے اعمال کرتا رہتا ہے لیکن ان میں ریاکاری ، دکھلاوا اور خودنمائی کا زہر بھی خود ملاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اخلاص ، رضاء الہی اور خدا کی خوشنودی ختم ہو جاتی ہے۔ اب خدائے لم یزل کا قانون عدل یہ ہے کہ جو جیسا کام کرے اس کا صلہ اس کو ویسا ہی ملے اس لیے کبھی گناہوں کا زہر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا اختتام بہت برا ہوتا ہے۔ اعاذنا اللہ

کبھی خدا کا دریائے کریم یوں موج مارتا ہے کہ نالائق اور عذاب کے مستحق کا بیڑا پار لگ جاتا ہے۔ وہ ساری زندگی نافرمانی میں مبتلا رہتا ہے ایسے اعمال کرتا ہے جو اسے جہنم کے کنارے پر لا کھڑا کرتے ہیں لیکن یکایک وہ کریم ذات اس کو حسن خاتمہ کی دولت عطاء کر دیتی ہے۔ اعطانا اللہ

اس لیے ہم سب کو ہر وقت حسن خاتمہ کی فکر کرتے رہنا چاہیے ، اس کے کرم کو مانگتے ہی رہنا چاہیے ، اس کے کرم کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے چند اعمال کا تذکرہ ہم ذیل میں کرنے لگے ہیں جن کو کرتے رہنے سے انسان شقاوت و بدبختی سے محفوظ ہوجاتا ہے اور خاتمہ بالایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔

1:نعمت ایمان پر شکر:اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس ذات نے ہمیں گھر بیٹھے اسلام کی دولت نصیب فرمائی ، ایمان نصیب فرمایا ، اس کی قدر دنیا میں صحیح معنوں میں معلوم نہیں ہو سکتی آخرت میں جب کفار کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور بعض بدعمل اہل ایمان کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا کچھ عرصے بعد کفار اْن اہل ایمان کو طعنہ دیں گے کہ ہم کافر ہو کر جہنم میں اور تم مسلمان ہو کر بھی جہنم میں ہمارے کفر نے ہمیں نقصان پہنچایا تو تمہارے ایمان نے تمہیں کون سے فائدہ دیا ؟ جیسے ہم ویسے ہی تم۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو حکم دیں گے کہ تم جہنم سے تمام اہل ایمان کو نکال کر جنت میں داخل کر دو ، چنانچہ ملائکہ جہنم میں اتریں گے ان پر جہنم کی آگ ایسے ہی بے اثر ہو جائے گی جیسے دنیا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی ہو گئی تھی ، ملائکہ بدعمل اہل ایمان کو جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچائیں گے جب کفار یہ منظر دیکھیں گے کہ صرف کلمہ اسلام کی وجہ سے اہل ایمان کو ہمیشہ کے لیے جہنم سے نجات اور جنت میں خلود (دوام اور ہمیشگی ) نصیب ہو رہی ہے تو وہ بے ساختہ ہو کر یہ حسرت کریں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے۔ اس لیے اسلام والی نعمت اور ایمان والی حالت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ اس سے نعمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے ، نعمت ایمان پر شکر کرنے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ایمان والی موت نصیب ہوتی ہے۔

2:کثرت ذکر اللہ:اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جو شخص اس کو تسلسل کے ساتھ کثرت سے کرتا رہے تو ایسا شخص خاتمہ بالایمان کی سرفرازی پا لیتا ہے۔ کثرت ذکر اللہ کے لیے صحبت اھل اللہ ضروری ہے ، اولیاء اللہ کی مجالس میں اصلاح عقائد و اعمال کی غرض سے طلب علم کی نیت سے شریک ہوتے رہنا چاہیے۔ اس بابرکت عبادت کی مبارک عادت میں موت کے وقت انسان کے حسن خاتمہ کی ضمانت ہے۔ کثرت سے ذکر اللہ کرنے والے کو اللہ کریم آخر وقت میں کلمہ طیبہ نصیب فرماتے ہیں۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص کلمہ پڑھتے ہوئے فوت ہوا تو جنت میں داخل ہو گا۔ (سنن ابی داؤد ، باب فی التلقین ، حدیث نمبر3118)

3:دعاؤں کا اہتمام:خاتمہ بالایمان اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے اسی پر اخروی زندگی کی کامیابی کا مدار ہے ،لہٰذا اس نعمت کے حصول کے لیے اللہ تعالی سے خوب دعائیں مانگنی چاہییں۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں ایسی دعائیں مذکور ہیں ان میں سے صرف تین دعائیں ذکر کی جاتی ہیں۔ جن کو اہتمام سے مانگنے پر اللہ خاتمہ بالایمان نصیب فرمائیں گے:
1: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدّْنیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر 201)
ترجمہ:اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما۔ اور ہمیں آگ (جہنم ) کے عذاب سے بچا۔
2:رَبَّنَا لَا تْزِغ قْلْوبَنَا بَعدَاِذ ھَدیتَنَا وَھَب لَنَا مِن لَدْنکَ رَحمَۃًاِنّک اَنتَ الوَھَّابْ ( سورۃ آل عمران، آیت نمبر 8 )
ترجمہ:اے ہمارے رب!آپ نے جو ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ہے (اسی پر برقرار رکھیے گا)اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ نہ پیدا ہونے دینا۔
3:اَنتَ وَلِیّ فِی الدّْنیَا وَالآخِرَۃِ تَوَفَّیِ مْسلِمًا وَاَلحِقنِی بِالصَّالِحِینَ(سورۃ یوسف، آیت نمبر 101)
ترجمہ:(اے اللہ )آپ ہی دنیا اور آخرت میں میری حفاظت فرمانے والے ہیں ۔ مجھے اس حالت میں موت نصیب فرمانا کہ میں فرماں بردار ہوں اور(حشرمیں ) نیک لوگوں کے ساتھ جمع فرمانا۔
نوٹ:اس بات کی کوشش کریں کہ عربی میں دعائیں یاد کریں اور مانگیں۔ تاہم اگر عربی میں یاد کرنا کسی بھی وجہ سے دشوار ہو تو اپنی اپنی زبان میں اللہ سے حسن خاتمہ کی دعائیں مانگیں۔
4:اللہ سے حسن ظن رکھنا:اللہ تعالیٰ سے خیر، مغفرت ، ثواب اور انعام کی امیدرکھیں۔ انسان میں یہ کیفیت اس وقت تک پیدا نہیں ہوتی جب تک وہ گناہوں میں مبتلا رہتا ہے ، پہلا کام یہ کرنا ہے کہ گناہ اور گناہوں والی جگہیں چھوڑ دیں ، دوسرا کام سابقہ گناہوں پر صدق دل کے ساتھ توبہ کریں ، اس کے بعد استغفار کریں۔ تیسرا کام آئندہ اس گناہ کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کریں۔ اس کے باوجود پھر بھی گناہ ہوجائے فوراً توبہ کریں۔ باربار توبہ کرنے سے انسان کے قلب کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے خدا کی ذات کے رحم و کرم اور بخشش و مغفرت کی آس لگ جاتی ہے۔ پھر اسی کیفیت میں مزید تقویت پیدا ہوتی ہے تو انسان کو یقین کامل ہو جاتا ہے کہ اللہ پاک ضرور میری مغفرت فرما دیں گے۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ہے:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے بندے کے قلبی احساس کی رعایت کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، باب فضل الذکر ، حدیث نمبر 6902)
نوٹ:حدیث قدسی کہتے ہیں:وہ حدیث ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لفظوں میں بیان کرے اور اس کی نسبت اپنے رب کی طرف کرے۔
نمبر5:صلوٰۃ وسلام :اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے ساری مخلوقات بالخصوص انسانوں پر اتنے احسانات ہیں کہ جن کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ہی ان احسانات کا بدلہ چکایا جا سکتا ہے۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق میں ایک اہم حق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام کا تحفہ پیش کرنا ہے۔ کیونکہ اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ کے قریب درود بھیجے تو آپ خود سنتے ہیں اور جواب بھی عنایت فرماتے ہیں اور اگر کوئی دور سے بھیجے تو ملائکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ درود پاک خدا کی بارگاہ میں اتنی مقبول ترین عبادت ہے کہ اگر ریاکاری سے بھی کی جائے اللہ تب بھی قبول فرما لیتے ہیں ، درود بھیجنے والے شخص پر اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرماتے ہیں اور جس پر اللہ کی نظر عنایت ہو جائے اس کو خاتمہ بالایمان کی دولت مل جاتی ہے۔
نوٹ:یہ بات ہمیشہ ذہن نشین فرما لیں کہ درود پاک پڑھتے وقت اور لکھتے وقت مکمل پڑھا اور لکھا جائے اگرچہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ بعض لوگ اس میں سستی اور غفلت سے کام لیتے ہیں اور ( ؐ ) کی علامت لگا لیتے ہیں۔ اپنے محسن کے حق کی ادائیگی میں اس طرح بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ مختصر طور پر صلوٰۃ وسلام ان الفاظ میں پڑھ لیا کریں۔ صلی اللہ علیہ وسلم
نمبر 6:مسواک:احادیث مبارکہ میں مسواک کرنے کے فضائل و احکام تفصیل کے ساتھ موجود ہیں مشائخ فرماتے ہیں کہ مسواک کرنے کے ستر فوائد ہیں ان میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسواک کرنے والے کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے۔
اہم ترین بات:خاتمہ بالایمان صرف اسے نصیب ہوتا ہے جس کے عقائد درست ہوں ان میں لچک ، کمزوری اور فساد نہ ہو ، اس لیے خاتمہ بالایمان کے لیے بنیادی چیز عقائد کا درست اور پختہ ہونا ضروری ہے مذکورہ بالا اعمال اور دیگر تمام مسنون اعمال حسن خاتمہ کے لیے معاون ہیں۔ اس سے یہ بات بھی واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہے کہ اگر عقائد درست نہ ہوں اور اعمال سنت کے مطابق نہ ہوں تو حسن خاتمہ کے لیے کی جانے والی تمام محنتوں کا اختتام برا ہوتا ہے۔
آخر میں مختصراً چند ان اعمال کا تذکرہ بھی ضروری ہے جن کی وجہ سے انسان خاتمہ بالایمان کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے۔
1:فرائض و واجبات کو مسلسل ترک کرتے رہنا۔
2: شرعی احکام و مسائل کا مذاق اڑانا
3:اہل اسلام کی مقتدر شخصیات علما دین کی بوجہ علم دین تحقیر و تذلیل کرنا
4: توبہ میں تاخیر کرنا
5:حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ذات ہمیں ان تمام کاموں کی توفیق نصیب فرمائے جن کی برکت سے حسن خاتمہ کی سعادت ملتی ہے اور ایسے تمام کاموں سے محفوظ فرمائے جن کی نحوست سے خاتمہ بالایمان سے محرومی ملتی ہے۔کیونکہ اعمال کا دارومدار حسن خاتمہ پر ہے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الذی قال:انما الاعمال بالخواتیم


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر