وجود

... loading ...

وجود

معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت

جمعه 12 جنوری 2018 معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت

مفتی محمد وقاص رفیعؔ
معاشرتی و اجتماعی زندگی میں ہر فرد کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سہنے اور اپنی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے دوسروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس میں ایک دوسرے کے ساتھ اَن بن اور خفگی و رنجش کا ہوجانا ایک بدیہی سی بات ہے، جس سے کوئی بھی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ پر سے کوا اور بات سے بتنگڑ بناکر اِس معمولی سی رنجش و خفگی کو ہوا دے کر خاندانی و قبائلی آگ کا الاؤ بھڑکادیا جائے، اور زمانہ جاہلیت کی یادیں تازہ کردی جائیں، بلکہ اِس کا سب سے اچھا اوربہترین حل یہ ہے کہ جس سے غلطی صادر ہوئی ہے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اُس کی معافی مانگے، اسی طرح جس شخص سے معافی مانگی جائے اُسے بھی چاہیے کہ وہ غلطی کی معافی مانگنے والے کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کردے۔ اِس سے معاشرے میں باہمی محبت و بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کی ہوائیں چلتی ہیں اور معاشرہ ایک درُست اور مثبت سمت کی جانب بڑی تیزی کے ساتھ گامزن ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ا سے فرماتے ہیں کہ : ’’ ترجمہ:آپ اِن صحابہ کو معاف فرمادیجئے! ۔‘‘ (آلِ عمران: ۱۵۹) ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور اُنہیں چایئے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔‘‘ (سور ۃ النور:۲۲)
حضرت ابو الدرداء صفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورا کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکرص آئے، اُنہوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا، جس سے اُن کے گھٹنے ننگے ہورہے تھے، اور اِس کا اُنہیں احساس نہیں تھا، اُنہیں دیکھ کر حضورا نے فرمایا: ’’تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرص نے آکر سلام کیا ، اور عرض کیا: ’’میرے اور ابن الخطاب (ص) کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، جلدی میں مَیں اُن کو نامناسب بات کہہ بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی، جس پرمیں نے اُن سے معافی مانگی، لیکن اُنہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا، تو میں آپ ا کی خدمت میں حاضر ہوگیاہوں،( اب آپ ا جیسے فرمائیں )حضور ا نے فرمایا: ’’اے ابوبکر(ص)! اللہ تمہیں معاف فرمائے! ۔‘‘ اِدھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمرص کو ندامت ہوئی تو اُنہوں نے حضرت ابوبکر صکے گھر آکر پوچھا: ’’یہاں ابوبکرص آئے ہیں؟۔‘‘ گھر والوں نے کہا: ’’نہیں!۔‘‘ تو وہ بھی حضورا کی خدمت میں آگئے ۔ اُنہیں دیکھ کر حضور ا کا چہرہ (غصہ کی وجہ سے) بدلنے لگا ، جس سے حضرت ابوبکرص ڈر گئے، اور اُنہوںنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو دفعہ عرض کیا: ’’یا رسول اللہ(ا)! اللہ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے۔‘‘ پھر حضور انے فرمایا: ’’اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا، تو تم سب سے کہا تھا تم غلط کہتے ہو ، لیکن اُس وقت ابوبکر صنے کہا تھا آپ ا ٹھیک کہتے ہیں ، اُنہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی ، پھر آپ ا نے دو دفعہ فرمایا: ’’کیا تم میرے اِس ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑ دوگے؟۔‘‘ چنانچہ حضور اکے اِس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابوبکرص کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ حضورا کی زوجۂ محترمہ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا( میں اُن کے پاس گئی تو مجھ سے ) کہا: ’’ہماری درمیان کوئی بات ہوجایا کرتی تھی، جیسے سوکنوں میں ہوا کرتی ہے، تو جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی ۔‘‘ میں نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے ، اور اُن سے درگزر فرمائے ، اور اُن باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے!۔‘‘ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’آپ نے مجھے خوش کیا ، اللہ آپ کو خوش فرمائے!۔‘‘ پھر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے پیغام بھیج کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور اُن سے بھی یہی کہا۔‘‘

حضرت رجاء بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ’’میں حضور ا کی مسجد میں تھا (وہاں اور لوگ بھی تھے) کہ اتنے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے ، اُنہوں نے سلام کیا، لوگوں نے سلام کا جواب دیا ، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (بھی وہاں تھے وہ) خاموش رہے۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بلند آواز سے کہا : ’’وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: ’’میں تمہیں وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟۔‘‘لوگوں نے کہا: ’’ضرور بتائیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’یہی حضرت ہیں، جو ابھی یہاں سے گزر کر گئے ہیں!۔‘‘ اللہ کی قسم! ’’جنگ صفین‘‘ کے بعد سے اب تک نہ میں اُن سے بات کرسکا ہوںاور نہ اُنہوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ اور اللہ کی قسم! اُن کا مجھ سے راضی ہوجانا مجھے اُحد پہاڑ جتنا مال ملنے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ حضر ابو سعیدص نے اُن سے کہا: ’’تم اُن کے پاس چلے کیوں نہیں جاتے ؟‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’میں جانے کو تیار ہوں ۔ چنانچہ دونوں حضرات نے طے کیا کہ اگلے دِن صبح اُن کے پاس جائیں گے (وہ دونوں اگلنے دِن صبح اُن کے پاس گئے) میں بھی دونوں حضرات کے ساتھ گیا، حضرت ابو سعیدص نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت حسینص نے اجازت دے دی، میں اور حضرت ابو سعیدص اندر چلے گئے ، حضرت ابو سعیدص نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے لیے اجازت مانگی ، لیکن حضرت حسین صنے اجازت نہ دی ، لیکن حضرت ابو سعیدص اجازت مانگتے رہے ، آخر حضرت حسینص نے اجازت دے دی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اندر آئے ، اُنہیں دیکھ کر حضرت ابو سعیدص اپنی جگہ سے ہٹنے لگے ، وہ حضرت حسینص کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، تو حضرت حسینص نے حضرت ابو سعیدص کو اپنی طرف کھینچ لیا ، حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کھڑے رہے، بیٹھے نہیں، جب حضرت حسینص نے یہ منظر دیکھا، تو اُنہوں نے حضرت ابو سعیدص کو ذرا پرے کرکے بیٹھنے کی جگہ بنادی ، وہاں آکر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما دونوں کے بیچ میں بیٹھ گئے، پھر حضرت ابو سعید صنے سارا قصہ سنایا تو حضرت حسینص نے کہا: ’’اے ابن عمرو(رضی اللہ عنہما)! کیا ایسی ہی بات ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہوں؟۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’جی ہاں! بالکل۔ رب کعبہ کی قسم! آپ تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا: ’’تو پھر آپ نے ’’جنگ صفین‘‘ کے دِن مجھ سے اور میرے والد سے جنگ کیوں کی؟ اللہ کی قسم! میرے والد تو مجھ سے بہتر تھے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’بالکل آپ کے والد آپ سے بہتر ہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ حضرت عمرو صنے حضور ا سے میری شکایت کی تھی کہ: ’’ عبد اللہ دِن بھر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے۔ ‘‘حضور ا نے مجھ سے فرمایا: ’’ رات کو نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو اور دِن میں روزے بھی رکھا کرو اور افطار بھی کیا کرو اور اپنے والد (عمروص) کی بات مانا کرو!۔‘‘ ’’جنگ صفین‘‘ کے موقع پر اُنہوں نے مجھے قسم دے کر کہا تھا کہ: ’’ اِس میں شرکت کرو!۔‘‘ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو اُن کے لشکر میں اضافہ کیا اور نہ میں نے تلوار سونتی اور نہ نیزہ کسی کو مارا اور نہ تیر چلایا۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا : ’’ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس کام سے خالق کی نافرمانی ہورہی ہو اُس میں مخلوق کی نہیں ماننی چاہیے؟ ۔‘‘حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’معلوم ہے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمااپنا عذر بار بار بیان کرتے رہے ، جس پر آخر حضرت حسین صنے اُن کے عذر کو قبول کرلیا (اور اُن کو معاف کردیا)۔

یہ ہیں اسلام کی وہ مبارک اور نورانی تعلیمات کہ جن کی برکت اور نورانیت کی وجہ سے ہمارا یہ انسانی معاشرہ باہمی رنجش و ناراضگی اور خفگی و ناخوش گواری سے چھٹکارا حاصل کرکے اخوت و بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرسکتا ہے، لیکن ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہمیں اِس نکتے پر آکر کھڑا ہونا ہوگا، اسلام کی اِن رُوشن اور مبارک تعلیمات کو سینے لگانا ہوگا، اور اُنہیں مذہب اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا، تب کہیں جاکر ہمارے اِس معاشرے اور ہماری اِس اجتماعی زندگی سے نفرتوں ،حقارتوں، اور دُشمنیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کا بول بالا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر