وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت

جمعه 12 جنوری 2018 معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت

مفتی محمد وقاص رفیعؔ
معاشرتی و اجتماعی زندگی میں ہر فرد کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سہنے اور اپنی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے دوسروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس میں ایک دوسرے کے ساتھ اَن بن اور خفگی و رنجش کا ہوجانا ایک بدیہی سی بات ہے، جس سے کوئی بھی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ پر سے کوا اور بات سے بتنگڑ بناکر اِس معمولی سی رنجش و خفگی کو ہوا دے کر خاندانی و قبائلی آگ کا الاؤ بھڑکادیا جائے، اور زمانہ جاہلیت کی یادیں تازہ کردی جائیں، بلکہ اِس کا سب سے اچھا اوربہترین حل یہ ہے کہ جس سے غلطی صادر ہوئی ہے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اُس کی معافی مانگے، اسی طرح جس شخص سے معافی مانگی جائے اُسے بھی چاہیے کہ وہ غلطی کی معافی مانگنے والے کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کردے۔ اِس سے معاشرے میں باہمی محبت و بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کی ہوائیں چلتی ہیں اور معاشرہ ایک درُست اور مثبت سمت کی جانب بڑی تیزی کے ساتھ گامزن ہوجاتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ا سے فرماتے ہیں کہ : ’’ ترجمہ:آپ اِن صحابہ کو معاف فرمادیجئے! ۔‘‘ (آلِ عمران: ۱۵۹) ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور اُنہیں چایئے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔‘‘ (سور ۃ النور:۲۲)
حضرت ابو الدرداء صفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورا کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکرص آئے، اُنہوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا، جس سے اُن کے گھٹنے ننگے ہورہے تھے، اور اِس کا اُنہیں احساس نہیں تھا، اُنہیں دیکھ کر حضورا نے فرمایا: ’’تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرص نے آکر سلام کیا ، اور عرض کیا: ’’میرے اور ابن الخطاب (ص) کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، جلدی میں مَیں اُن کو نامناسب بات کہہ بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی، جس پرمیں نے اُن سے معافی مانگی، لیکن اُنہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا، تو میں آپ ا کی خدمت میں حاضر ہوگیاہوں،( اب آپ ا جیسے فرمائیں )حضور ا نے فرمایا: ’’اے ابوبکر(ص)! اللہ تمہیں معاف فرمائے! ۔‘‘ اِدھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمرص کو ندامت ہوئی تو اُنہوں نے حضرت ابوبکر صکے گھر آکر پوچھا: ’’یہاں ابوبکرص آئے ہیں؟۔‘‘ گھر والوں نے کہا: ’’نہیں!۔‘‘ تو وہ بھی حضورا کی خدمت میں آگئے ۔ اُنہیں دیکھ کر حضور ا کا چہرہ (غصہ کی وجہ سے) بدلنے لگا ، جس سے حضرت ابوبکرص ڈر گئے، اور اُنہوںنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو دفعہ عرض کیا: ’’یا رسول اللہ(ا)! اللہ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے۔‘‘ پھر حضور انے فرمایا: ’’اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا، تو تم سب سے کہا تھا تم غلط کہتے ہو ، لیکن اُس وقت ابوبکر صنے کہا تھا آپ ا ٹھیک کہتے ہیں ، اُنہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی ، پھر آپ ا نے دو دفعہ فرمایا: ’’کیا تم میرے اِس ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑ دوگے؟۔‘‘ چنانچہ حضور اکے اِس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابوبکرص کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ حضورا کی زوجۂ محترمہ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا( میں اُن کے پاس گئی تو مجھ سے ) کہا: ’’ہماری درمیان کوئی بات ہوجایا کرتی تھی، جیسے سوکنوں میں ہوا کرتی ہے، تو جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی ۔‘‘ میں نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے ، اور اُن سے درگزر فرمائے ، اور اُن باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے!۔‘‘ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’آپ نے مجھے خوش کیا ، اللہ آپ کو خوش فرمائے!۔‘‘ پھر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے پیغام بھیج کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور اُن سے بھی یہی کہا۔‘‘

حضرت رجاء بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ’’میں حضور ا کی مسجد میں تھا (وہاں اور لوگ بھی تھے) کہ اتنے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے ، اُنہوں نے سلام کیا، لوگوں نے سلام کا جواب دیا ، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (بھی وہاں تھے وہ) خاموش رہے۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بلند آواز سے کہا : ’’وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: ’’میں تمہیں وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟۔‘‘لوگوں نے کہا: ’’ضرور بتائیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’یہی حضرت ہیں، جو ابھی یہاں سے گزر کر گئے ہیں!۔‘‘ اللہ کی قسم! ’’جنگ صفین‘‘ کے بعد سے اب تک نہ میں اُن سے بات کرسکا ہوںاور نہ اُنہوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ اور اللہ کی قسم! اُن کا مجھ سے راضی ہوجانا مجھے اُحد پہاڑ جتنا مال ملنے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ حضر ابو سعیدص نے اُن سے کہا: ’’تم اُن کے پاس چلے کیوں نہیں جاتے ؟‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’میں جانے کو تیار ہوں ۔ چنانچہ دونوں حضرات نے طے کیا کہ اگلے دِن صبح اُن کے پاس جائیں گے (وہ دونوں اگلنے دِن صبح اُن کے پاس گئے) میں بھی دونوں حضرات کے ساتھ گیا، حضرت ابو سعیدص نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت حسینص نے اجازت دے دی، میں اور حضرت ابو سعیدص اندر چلے گئے ، حضرت ابو سعیدص نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے لیے اجازت مانگی ، لیکن حضرت حسین صنے اجازت نہ دی ، لیکن حضرت ابو سعیدص اجازت مانگتے رہے ، آخر حضرت حسینص نے اجازت دے دی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اندر آئے ، اُنہیں دیکھ کر حضرت ابو سعیدص اپنی جگہ سے ہٹنے لگے ، وہ حضرت حسینص کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، تو حضرت حسینص نے حضرت ابو سعیدص کو اپنی طرف کھینچ لیا ، حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کھڑے رہے، بیٹھے نہیں، جب حضرت حسینص نے یہ منظر دیکھا، تو اُنہوں نے حضرت ابو سعیدص کو ذرا پرے کرکے بیٹھنے کی جگہ بنادی ، وہاں آکر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما دونوں کے بیچ میں بیٹھ گئے، پھر حضرت ابو سعید صنے سارا قصہ سنایا تو حضرت حسینص نے کہا: ’’اے ابن عمرو(رضی اللہ عنہما)! کیا ایسی ہی بات ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہوں؟۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’جی ہاں! بالکل۔ رب کعبہ کی قسم! آپ تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا: ’’تو پھر آپ نے ’’جنگ صفین‘‘ کے دِن مجھ سے اور میرے والد سے جنگ کیوں کی؟ اللہ کی قسم! میرے والد تو مجھ سے بہتر تھے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’بالکل آپ کے والد آپ سے بہتر ہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ حضرت عمرو صنے حضور ا سے میری شکایت کی تھی کہ: ’’ عبد اللہ دِن بھر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے۔ ‘‘حضور ا نے مجھ سے فرمایا: ’’ رات کو نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو اور دِن میں روزے بھی رکھا کرو اور افطار بھی کیا کرو اور اپنے والد (عمروص) کی بات مانا کرو!۔‘‘ ’’جنگ صفین‘‘ کے موقع پر اُنہوں نے مجھے قسم دے کر کہا تھا کہ: ’’ اِس میں شرکت کرو!۔‘‘ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو اُن کے لشکر میں اضافہ کیا اور نہ میں نے تلوار سونتی اور نہ نیزہ کسی کو مارا اور نہ تیر چلایا۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا : ’’ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس کام سے خالق کی نافرمانی ہورہی ہو اُس میں مخلوق کی نہیں ماننی چاہیے؟ ۔‘‘حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’معلوم ہے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمااپنا عذر بار بار بیان کرتے رہے ، جس پر آخر حضرت حسین صنے اُن کے عذر کو قبول کرلیا (اور اُن کو معاف کردیا)۔

یہ ہیں اسلام کی وہ مبارک اور نورانی تعلیمات کہ جن کی برکت اور نورانیت کی وجہ سے ہمارا یہ انسانی معاشرہ باہمی رنجش و ناراضگی اور خفگی و ناخوش گواری سے چھٹکارا حاصل کرکے اخوت و بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرسکتا ہے، لیکن ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہمیں اِس نکتے پر آکر کھڑا ہونا ہوگا، اسلام کی اِن رُوشن اور مبارک تعلیمات کو سینے لگانا ہوگا، اور اُنہیں مذہب اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا، تب کہیں جاکر ہمارے اِس معاشرے اور ہماری اِس اجتماعی زندگی سے نفرتوں ،حقارتوں، اور دُشمنیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کا بول بالا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


وفاقی حکومت کا والدین کے حقوق کے تحفظ کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ وجود - اتوار 29 نومبر 2020

وفاقی حکومت نے والدین کے حقوق کے تحفظ کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق آرڈیننس کیذریعے اولاد کو والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے سے روکا جاسکے گا۔آرڈیننس کے بعد بچے ذاتی ملکیتی مکان سے بھی والدین کو بے دخل نہیں کرسکیں گے ، والد 10 روز میں آسان طریقہ کار اختیار کرکے بچوں کو بیدخل کرسکے گا۔

وفاقی حکومت کا والدین کے حقوق کے تحفظ کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

کورونا کیسز، مثبت آنے کی شرح 6.3 فیصد ہونے کے ایک روز بعد دوبارہ 7 فیصد ہوگئی وجود - اتوار 29 نومبر 2020

ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کیے گئے ٹیسٹس کینتائج مثبت آنے کی شرح میں ہفتہ کے روز معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ 6.3 فیصد تک کم ہوئی تھی تاہم ایک روز بعد ہی دوبارہ یہ شرح 7 فیصد پر پہنچ گئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 40 ہزار 369 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 7 فیصد یعنی 2 ہزار 829 مثبت آئے تاہم ایک روز قبل ملک میں ریکارڈ تعداد یعنی 48 ہزار 223 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں 3 ہزار 45 مثبت آئے تھے یوں کیسز کے مثبت آنے کی شرح 6...

کورونا کیسز، مثبت آنے کی شرح 6.3 فیصد ہونے کے ایک روز بعد دوبارہ 7 فیصد ہوگئی

امریکا نے افغانستان میں 10 فوجی اڈے بند کردیے وجود - اتوار 29 نومبر 2020

امریکا نے رواں برس طالبان کے ساتھ امن کے معاہدے کے بعد سے تاحال اپنے 10 فوجی کیمپس بند کردیئے ہیں جب کہ قندھار ایئر فیلڈ اور جلال آباد ایئربیس میں بھی گنتی کے امریکی فوجیوں کے گھر رہ گئے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 29 فروری کو دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد سے افغانستان میں اب تک 10 امریکی فوجی اڈوں کو بند کردیا گیا ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے کچھ فوجی اڈوں کو مکمل طور پر خالی کرد...

امریکا نے افغانستان میں 10 فوجی اڈے بند کردیے

دہشت گردی میں ماخوذ ایرانی سفارت کار پر فردِ جْرم عائد وجود - اتوار 29 نومبر 2020

بیلجیئم کی عدالت میں دہشت گردی میں ماخوذ ایک ایرانی سفارت کار سمیت چار افراد پر فرد جر م عاید کردی گئی ہے اور استغاثہ نے عدالت سے سفارت کار کو 20 سال قید کی سزا سنانے کی درخواست کی ہے ۔بیلجیئن عدالت کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اس کیس میں ایرانی سفارت کار کو 20 سال قید ،جس جوڑے کے قبضے سے بم برآمد ہوا تھا،اس کو 18 سال اور چوتھے مشتبہ ملزم کو 15 سال قید سنانے کی درخواست کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ وفاقی پراسیکیوٹر نے عدالت سے مؤخرالذکر تینوں ایرانی نژاد ملزموں کی بیلجیئم کی شہریت خ...

دہشت گردی میں ماخوذ ایرانی سفارت کار پر فردِ جْرم عائد

دنیا بھر کے 3 ارب سے زیادہ افراد پانی کی قلت سے متاثر وجود - اتوار 29 نومبر 2020

دنیا کے 3 ارب سے زیادہ افراد کو اس تازہ پانی کی کمی کا سامنا ہے اور گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران ہر فرد کے لیے دستیاب پانی کی مقدار میں 20 فیصد تک کمی آئی ہے ۔یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کی جانب سے جاری رپورٹ میں سامنے آئی۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں ڈیڑھ ارب افراد کو پانی کی شدید کمی یا قحط سالی کا سامنا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتی طلب اور ناقص انتظام کی وجہ سے مختلف خطوں میں کاشتکاری بہت مشکل ہوچکی ہے ۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اربوں افراد کو بھوک ...

دنیا بھر کے 3 ارب سے زیادہ افراد پانی کی قلت سے متاثر

ایران کے جوہری پروگرام میں مدد، امریکا کی روسی ، چینی کمپنیوں پر معاشی پابندیاں وجود - اتوار 29 نومبر 2020

ایران کے جوہری میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرکے امریکا نے چین اور روس کی 4 کمپنیوں پر معاشی پابندیاں لگا دیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے چین کی دو کمپنیوں چینگدو بیسٹ نیو میٹیریلز اور زیبو ایلیم جب کہ روس کی دو کمپنیوں نیلکو گروپ اور جوائنٹ اسٹاک کمپنی ایلکون پر 2 سال کے لیے برآمدات اور تجارتی مراعات پر پابندی لگادی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہیں وہ ایران کے...

ایران کے جوہری پروگرام میں مدد، امریکا کی روسی ، چینی کمپنیوں پر معاشی پابندیاں

ڈنمارک کی وزیراعظم کورونا پابندیوں پر کسانوں سے معافی مانگتے ہوئے آبدیدہ وجود - اتوار 29 نومبر 2020

خاتون وزیراعظم میٹے فیڈرکسن وبا کے دوران کورونا احتیاطوں کے پیش نظر کیے جانے والے اقدامات پر کسانوں اور تاجروں سے معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ملک ڈنمارک میں ا?بی نیولوں میں کورونا کی موجودگی اور انسانوں میں پھیلاو? کے انکشاف پر اس جانور کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں سے لاکھوں نیولوں کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔حکومتی حکم پر ا?بی نیولوں کی افزائش کرنے والے کسانوں اور تاجروں نے لاکھوں ایسے نیولوں کو مار دیا تھا جن میں وائرس کی تشخیص نہی...

ڈنمارک کی وزیراعظم کورونا پابندیوں پر کسانوں سے معافی مانگتے ہوئے آبدیدہ

آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل وجود - هفته 28 نومبر 2020

بھارتی معیشت جولائی اور ستمبر کے دوران 7.5 فیصد سکڑنے سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی بڑی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں شامل ہوگئی کیونکہ یہ آزادی کے بعد پہلہ مرتبہ تکنیکی کساد بازاری میں داخل ہوئی ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کساد بازاری میں داخل ہوگئی ہے ۔اگرچہ اعداد و شمار میں گزشتہ سہ ماہی میں ریکارڈ 23.9 فیصد سکڑنے کے مقابلے میں اعداد و شمار میں بہتری تھی تاہم یہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایشیا کی تیسری بڑ...

آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ وجود - هفته 28 نومبر 2020

ایرانی وزارت دفاع کے شعبہ تحقیق کے سربراہ محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن فخری زادے تہران کے قریب دہشتگرد حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ محسن فخری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران دہشت گرد حملے کی سختی سے مذمت کرت...

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش وجود - هفته 28 نومبر 2020

امریکی گلوکارہ چیر نے وزیر اعظم عمران خان کو تعاون کی پیشکش کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے کاون ہاتھی سے متعلق امریکی گلوکارہ کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کاون ہاتھی نے 35 سال تک عوام میں خوشیاں بانٹیں۔ امریکی گلوکارہ نے سرسبز پاکستان کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو سراہا اور ان کے بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی۔گلوکارہ چیر نے گرین پاکستان اقدامات سے متعلق پی ٹی آئی حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی وجود - هفته 28 نومبر 2020

موسم بہار میں کورونا وائرس کی وباء پر بہترانداز میں قابو پانے والے ملکوں جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔جنوبی کوریا میں مسلسل دوسرے روز 500 سے زائد نئے کیس رپورٹ ہونے سے مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے بستر کم پڑ گئے ۔ دوسری جانب جرمنی میں 22 ہزار سے زائد نئے کیسز کے بعد مجموعی تعداد 10لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ملک بھر میں پابندیاں مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔یونان میں لاک ڈائون میں7 دسمبر تک توسیع کردی گئی تاہم برطانیہ اور فرانس نے پابندیوں میں نرم...

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ وجود - هفته 28 نومبر 2020

یورپین پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار یورپ میں 'بنیادی حقوق کی صورتحال 19ـ2018' کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کی منظوری کیلئے ووٹنگ کے موقع پر کیا گیا۔ جس کے حق میں 330 ووٹ آئے ،298 نے مخالفت کی اور 65 ارکان غیر حاضر رہے ۔رپورٹ میں یورپ کے کئی ممالک کی حکومتوں کی جانب سے عدالتوں کی خودمختاری اور اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے کئی ممبر م...

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ