... loading ...
مفتی محمد وقاص رفیعؔ
معاشرتی و اجتماعی زندگی میں ہر فرد کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سہنے اور اپنی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے دوسروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس میں ایک دوسرے کے ساتھ اَن بن اور خفگی و رنجش کا ہوجانا ایک بدیہی سی بات ہے، جس سے کوئی بھی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا، لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ پر سے کوا اور بات سے بتنگڑ بناکر اِس معمولی سی رنجش و خفگی کو ہوا دے کر خاندانی و قبائلی آگ کا الاؤ بھڑکادیا جائے، اور زمانہ جاہلیت کی یادیں تازہ کردی جائیں، بلکہ اِس کا سب سے اچھا اوربہترین حل یہ ہے کہ جس سے غلطی صادر ہوئی ہے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اُس کی معافی مانگے، اسی طرح جس شخص سے معافی مانگی جائے اُسے بھی چاہیے کہ وہ غلطی کی معافی مانگنے والے کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کردے۔ اِس سے معاشرے میں باہمی محبت و بھائی چارگی اور اتحاد و اتفاق کی ہوائیں چلتی ہیں اور معاشرہ ایک درُست اور مثبت سمت کی جانب بڑی تیزی کے ساتھ گامزن ہوجاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ا سے فرماتے ہیں کہ : ’’ ترجمہ:آپ اِن صحابہ کو معاف فرمادیجئے! ۔‘‘ (آلِ عمران: ۱۵۹) ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: اور اُنہیں چایئے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔‘‘ (سور ۃ النور:۲۲)
حضرت ابو الدرداء صفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورا کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکرص آئے، اُنہوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا، جس سے اُن کے گھٹنے ننگے ہورہے تھے، اور اِس کا اُنہیں احساس نہیں تھا، اُنہیں دیکھ کر حضورا نے فرمایا: ’’تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرص نے آکر سلام کیا ، اور عرض کیا: ’’میرے اور ابن الخطاب (ص) کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، جلدی میں مَیں اُن کو نامناسب بات کہہ بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی، جس پرمیں نے اُن سے معافی مانگی، لیکن اُنہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا، تو میں آپ ا کی خدمت میں حاضر ہوگیاہوں،( اب آپ ا جیسے فرمائیں )حضور ا نے فرمایا: ’’اے ابوبکر(ص)! اللہ تمہیں معاف فرمائے! ۔‘‘ اِدھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمرص کو ندامت ہوئی تو اُنہوں نے حضرت ابوبکر صکے گھر آکر پوچھا: ’’یہاں ابوبکرص آئے ہیں؟۔‘‘ گھر والوں نے کہا: ’’نہیں!۔‘‘ تو وہ بھی حضورا کی خدمت میں آگئے ۔ اُنہیں دیکھ کر حضور ا کا چہرہ (غصہ کی وجہ سے) بدلنے لگا ، جس سے حضرت ابوبکرص ڈر گئے، اور اُنہوںنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو دفعہ عرض کیا: ’’یا رسول اللہ(ا)! اللہ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے۔‘‘ پھر حضور انے فرمایا: ’’اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا، تو تم سب سے کہا تھا تم غلط کہتے ہو ، لیکن اُس وقت ابوبکر صنے کہا تھا آپ ا ٹھیک کہتے ہیں ، اُنہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی ، پھر آپ ا نے دو دفعہ فرمایا: ’’کیا تم میرے اِس ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑ دوگے؟۔‘‘ چنانچہ حضور اکے اِس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابوبکرص کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ حضورا کی زوجۂ محترمہ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا( میں اُن کے پاس گئی تو مجھ سے ) کہا: ’’ہماری درمیان کوئی بات ہوجایا کرتی تھی، جیسے سوکنوں میں ہوا کرتی ہے، تو جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی ۔‘‘ میں نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے ، اور اُن سے درگزر فرمائے ، اور اُن باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے!۔‘‘ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’آپ نے مجھے خوش کیا ، اللہ آپ کو خوش فرمائے!۔‘‘ پھر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے پیغام بھیج کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور اُن سے بھی یہی کہا۔‘‘
حضرت رجاء بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ’’میں حضور ا کی مسجد میں تھا (وہاں اور لوگ بھی تھے) کہ اتنے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے ، اُنہوں نے سلام کیا، لوگوں نے سلام کا جواب دیا ، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (بھی وہاں تھے وہ) خاموش رہے۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بلند آواز سے کہا : ’’وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: ’’میں تمہیں وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟۔‘‘لوگوں نے کہا: ’’ضرور بتائیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’یہی حضرت ہیں، جو ابھی یہاں سے گزر کر گئے ہیں!۔‘‘ اللہ کی قسم! ’’جنگ صفین‘‘ کے بعد سے اب تک نہ میں اُن سے بات کرسکا ہوںاور نہ اُنہوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ اور اللہ کی قسم! اُن کا مجھ سے راضی ہوجانا مجھے اُحد پہاڑ جتنا مال ملنے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ حضر ابو سعیدص نے اُن سے کہا: ’’تم اُن کے پاس چلے کیوں نہیں جاتے ؟‘‘ اُنہوں نے کہا: ’’میں جانے کو تیار ہوں ۔ چنانچہ دونوں حضرات نے طے کیا کہ اگلے دِن صبح اُن کے پاس جائیں گے (وہ دونوں اگلنے دِن صبح اُن کے پاس گئے) میں بھی دونوں حضرات کے ساتھ گیا، حضرت ابو سعیدص نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت حسینص نے اجازت دے دی، میں اور حضرت ابو سعیدص اندر چلے گئے ، حضرت ابو سعیدص نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کے لیے اجازت مانگی ، لیکن حضرت حسین صنے اجازت نہ دی ، لیکن حضرت ابو سعیدص اجازت مانگتے رہے ، آخر حضرت حسینص نے اجازت دے دی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اندر آئے ، اُنہیں دیکھ کر حضرت ابو سعیدص اپنی جگہ سے ہٹنے لگے ، وہ حضرت حسینص کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، تو حضرت حسینص نے حضرت ابو سعیدص کو اپنی طرف کھینچ لیا ، حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہما کھڑے رہے، بیٹھے نہیں، جب حضرت حسینص نے یہ منظر دیکھا، تو اُنہوں نے حضرت ابو سعیدص کو ذرا پرے کرکے بیٹھنے کی جگہ بنادی ، وہاں آکر حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما دونوں کے بیچ میں بیٹھ گئے، پھر حضرت ابو سعید صنے سارا قصہ سنایا تو حضرت حسینص نے کہا: ’’اے ابن عمرو(رضی اللہ عنہما)! کیا ایسی ہی بات ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہوں؟۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’جی ہاں! بالکل۔ رب کعبہ کی قسم! آپ تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا: ’’تو پھر آپ نے ’’جنگ صفین‘‘ کے دِن مجھ سے اور میرے والد سے جنگ کیوں کی؟ اللہ کی قسم! میرے والد تو مجھ سے بہتر تھے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’بالکل آپ کے والد آپ سے بہتر ہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ حضرت عمرو صنے حضور ا سے میری شکایت کی تھی کہ: ’’ عبد اللہ دِن بھر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے۔ ‘‘حضور ا نے مجھ سے فرمایا: ’’ رات کو نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو اور دِن میں روزے بھی رکھا کرو اور افطار بھی کیا کرو اور اپنے والد (عمروص) کی بات مانا کرو!۔‘‘ ’’جنگ صفین‘‘ کے موقع پر اُنہوں نے مجھے قسم دے کر کہا تھا کہ: ’’ اِس میں شرکت کرو!۔‘‘ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو اُن کے لشکر میں اضافہ کیا اور نہ میں نے تلوار سونتی اور نہ نیزہ کسی کو مارا اور نہ تیر چلایا۔‘‘ حضرت حسینص نے کہا : ’’ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس کام سے خالق کی نافرمانی ہورہی ہو اُس میں مخلوق کی نہیں ماننی چاہیے؟ ۔‘‘حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: ’’معلوم ہے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمااپنا عذر بار بار بیان کرتے رہے ، جس پر آخر حضرت حسین صنے اُن کے عذر کو قبول کرلیا (اور اُن کو معاف کردیا)۔
یہ ہیں اسلام کی وہ مبارک اور نورانی تعلیمات کہ جن کی برکت اور نورانیت کی وجہ سے ہمارا یہ انسانی معاشرہ باہمی رنجش و ناراضگی اور خفگی و ناخوش گواری سے چھٹکارا حاصل کرکے اخوت و بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرسکتا ہے، لیکن ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہمیں اِس نکتے پر آکر کھڑا ہونا ہوگا، اسلام کی اِن رُوشن اور مبارک تعلیمات کو سینے لگانا ہوگا، اور اُنہیں مذہب اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا، تب کہیں جاکر ہمارے اِس معاشرے اور ہماری اِس اجتماعی زندگی سے نفرتوں ،حقارتوں، اور دُشمنیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کا بول بالا ہوگا۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...