وجود

... loading ...

وجود

روم کی آگ اور ساز بجانے والا نیرو

منگل 09 جنوری 2018 روم کی آگ اور ساز بجانے والا نیرو

نیروجب سترہ برس کی عمر میں شہنشاہ روم بنا تو وہ ایک ایسی قسم کا نوجوان لگتا تھا جو فنوں کا دلدادہ تھا اور جسے چاہے جانے کا شوق بھی تھا۔ اس کی ٹانگیں پتلی، لمبی اور پیٹ بڑھا ہوا تھا۔ چہرے پر بے نیازی اور خودی پسندی کی جھلک تھی اور اپنے آپ کو مرکز کائنات سمجھتا تھا۔ بچپن ہی سے اسے داد پانے کا شوق تھا۔ خاص طور پر جب اس نے سرکس میں ٹرائے پر ایک ڈراما میں حصہ لیا تو ہجوم نے دیکھا کہ ان کے شہنشاہ کو اپنے لیے تالیاں بجوانے کا کتنا شوق ہے۔ اپنی حکومت کے آغاز میں اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے عظیم دادا کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے۔ اس نے لوگوں کو انعام و اکرام اور تحفے دیے۔ اس کے لیے شان دار کھیلوں اور مقابلوں کا اہتمام کیا۔ چونکہ اسے خون دیکھنے سے نفرت تھی اس لیے مقابلے میں کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں تھی، یہاں تک مجرموں کو بھی معاف کر دیا جاتا تھا۔ ڈراما، کھیلوں اور گھوڑا سواری پر زور تھا۔ نیرو گھوڑوں کو بہت چاہتا تھا۔ موسیقی کا بھی عاشق تھا اور اس کے کوئی جنگی عزائم نہ تھے۔ وہ نہایت روادار فرماں روا لگتا تھا۔اس کی نخوت بے جا مگر بے ضرور تھی۔ اس نے گانے اور Lyre بجانے میں تربیت حاصل کی تھی۔ اس کی آواز ہلکی تھی اس لیے اسے کہا گیا تھا کہ اگر وہ اسے زور دار بنانا چاہتا ہے تو سیدھا لیٹ جائے اور سینہ پر بھاری بھرکم پتھر رکھے تاکہ سانس لینے کے اعصاب مضبوط ہوں۔ وہ اس تجویز پر باقاعدگی سے عمل کرتا تھا۔
پھر اس نے اپنے مہمانوں کے سامنے گانا شروع کیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے اتنا خوش ہوا کہ ا سٹیج کا رخ کیا۔ شاید محتاط ہونے کی بجائے اس نے روم کی بجائے نیپلز کا انتخاب کیا۔ اس کے گانے کے دوران زلزلے نے اسٹیج کو ہلا کر رکھ دیا مگر وہ گاتا رہا۔ جب روم والوں نے اس کے گانے کے متعلق سنا تو اس کا گانا سننے کے لیے انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ نیرو نے اعلان کیا کہ وہ بعد میں محل کے باغ میں گائے گا لیکن جب اس کے محافظوں نے فوراً گانا سنانے کی درخواست کی تو ازراہ کرم اس نے ان کی بات مان لی۔ داد ملی تو اس نے Lyre بجانے کے پبلک مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اس کی باری آئی تو نیرو نے انتہائی طویل وہ پیرا گایا جو گھنٹوں جاری رہا۔ جلد ہی نیرو مختلف المیہ ڈراموں میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگا۔ کئی مہذب رومنوں کی طرح وہ یونان کو موسیقی اور ڈراما کا گھر سمجھتا تھا۔ Lyre مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے وہ بار بار وہاں جانے لگا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مقابلہ وہی جیتا تھا۔
یونانی ہمیشہ اسے ڈنر کے بعد گانے کے لیے کہتے تھے۔ اس کا کہنا تھا ’’صرف یونانی میرے جینئس کو سمجھنے کے اہل ہیں۔‘‘ نیرو کی ماں اگریپینا اس کے لیے ایک اور مسئلہ تھی۔ جب نیرو شہنشاہ بنا تو اگریپینا کو یہی توقع تھی کہ اس کے اختیارات میں کمی نہیں ہوگی۔ پہلے تو نیرو نے اسے وہی کرنے دیا جو وہ چاہتی تھی اور اپنے قدم جماتا رہا مگر جلد ہی اس کے ان طریقوں سے بیزار ہونے لگا جن سے وہ حکومت چلاتی تھی۔ ایسے میں نیرو کے ایک پرانے استاد نے اسے اگریپینا سے نجات کی ترکیب بتائی۔ اسے بحری جہازوں کے ایک بیڑے کا کمانڈر بنایا گیا تو اس نے بتایا کہ ایک ایسی کشتی بنانی کوئی مشکل نہیں جو سمندر میں جاکر ٹوٹ جائے۔ چنانچہ خلیج نیپلز پر Baiae کے مقام پر منروا کے تہوار میں نیرو نے اپنی ماں کو شرکت کی دعوت دی۔ ایک شام پہلے انہوں نے Bauli کے مقام پر (جو Baiae سے دور نہیں تھا) مل کر کھانا کھایا۔ پارٹی کا اہتمام نیرو کے ایک دولت مند دوست نے کیا تھا۔ اس موقع پر نیرو اپنی ماں کو خصوصی توجہ کے ساتھ پیش آیا، اس کے رویہ میں مہربانی اور رحم کی جھلک بھی تھی تاکہ اسے کوئی شک نہ ہو جب وہ اسے کہے کہ اسے بحری سفر کرنا ہے جبکہ وہ خود خشکی کے راستے سفر کرے گا۔
جہاز اگریپینا کو لے کر روانہ ہو گیا۔ جہاز کافی بڑا، تقریباً بیس یا پچیس فٹ لمبا تھا۔ وہ ایک خاموش تاروں بھری رات تھی اگریپینا اپنی دوست ایسردینا کے ساتھ تھی۔ ایک اشارے پر جہاز کی چھت اچانک گر گئی۔ اگریپینا کی ایک دوست بوجھ تلے مر گئی جبکہ وہ اور ایسردینا محفوظ رہیں۔ جہاز کو ٹوٹ کر بکھر جانا تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ جہاز میں سوار عملے کے لوگ جو سازش میں شامل تھے انہوں نے اپنا بوجھ ایک طرف ڈال کر جہاز الٹانے کی کوشش کی، اس وقت تک واضح ہو چکا تھا کہ یہ اگریپینا کے قتل کی کوشش ہے۔ اگریپینا کو بچانے کے لیے ایسردینا نے یوں مدد چاہی ’’مجھے بچائو میں شہنشاہ کی ماں ہوں‘‘ جس پر عملے نے اسے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ ابہام سے فائدہ اٹھا کر اگریپینا اپنے زخمی کندھے کے باوجود تیر کر کشتیوں تک پہنچ گئی تو ایک کشتی اسے واپس Bauli لے گئی۔ وہاں سے اس نے نیرو کو پیغام بھیجا کہ دیوتائوں کی عنایت سے وہ ایک خطرناک حادثے میں زندہ بچ گئی ہے۔ یہ ایک خطرناک غلطی تھی۔ اسے جلدی سے روم واپس پہنچ جانا چاہیے تھا اور اپنے قتل کی کوشش کو خبر کی صورت ہر طرف پھیلا دینا چاہیے تھا تاکہ اگر نیرو اسے دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کرتا تو اس کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا۔جب نیرو کو پیغام ملا تو اس نے سوچنے میں دیر نہیں کی۔ اسے یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس کی اپنی زندگی خطرہ میں ہے اور اس کی ذمہ دار اس کی ماں ہے۔ اس نے زمین پر ایک تلوار گرائی اور شور مچادیا کہ اسے قتل کرنے کے لیے آدمی بھیجا گیا ہے۔اگریپینا کو ڈبونے کی خبر باولی میں پھیل چکی تھی۔ لوگ ساحل سمندر پر جمع ہو گئے مگر فوج نے انہیں منتشر کر دیا۔ اس عرصہ میں نیرو نے اپنے پرانے استادوں کو دو آدمیوں کے ساتھ بھیجا کہ اس کی ماں کو قتل کر دیں۔ وہ بزور اس کے بیڈروم میں داخل ہوئے۔ وہ سمجھی کہ اس کی خیریت پوچھنے آئے ہیں۔ اس کے ٹکڑے کر دیے گئے۔
ماں کی سرزنش سے آزاد ہو کر نیرو عیاشیوں میں ڈوب گیا۔ وہ اپنی شامیں ریستورانوں میں گزارنے لگا تھا۔ دکانیں لوٹتا، رات کی تاریکی میں مسافروں پر حملے کرتا۔ اب اسے خون سے گھن بھی نہیں آتی تھی، یہاں تک کہ مزاحمت کاروں کو چھرا گھونپ دیتا۔ اس کی دعوتیں اور جشن رات بھر جاری رہتے۔ 64 عیسوی میں روم آگ سے جل کر تباہ ہوا جو ایک ہفتہ تک بھڑکتی رہی۔ یہ افواہ بالکل غلط تھی کہ یہ آگ نیرو نے لگوائی تھی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا اس وقت وہ مضطرب اور بے چین تھا۔ اس نے اپنا وائلن لیا اور ’’ٹرائے کی شکست‘‘ نامی گیت (جس کی دھن اس نے خود بنائی تھی) گاتا رہا۔ جب آگ اتنے عرصہ تک بھڑکتی رہی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نیرو اتنے لمبے عرصے تک بے پروا ہو کر وائلن بجاتا رہے اور گیت گاتا رہے۔ مگر جب یہ افواہ لوگوں میں پھیلی تو اس کی پہلے سے بڑھی ہوئی بدنامی میں اور اضافہ ہوا۔ جب پبلک عمارتوں کو گرانے سے آگ رفع ہوئی تو نیرو نے قابل ستائش کام کیے۔ اس نے امدادی انتظامات کیے اور بھاری مقدار میں اناج منگوایا اور اس کی قیمت کم کردی۔نیرو کو کیا ضرورت تھی کہ وہ آگ لگواتا؟ مورخ کہتے ہیں کہ اسے شہر کے درمیان ایک صاف بڑے رقبہ کی ضرورت تھی جہاں نیا محل بنانا چاہتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیرو نے گولڈن ہاوس کے نام سے اپنا ایک عظیم الشان محل بنایا۔ اس نے روم کے کئی علاقوں کو ازسر نو تعمیر کیا مگر آگ کی ذمہ داری بدستور اس پر عائد رہی۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر