... loading ...
نیروجب سترہ برس کی عمر میں شہنشاہ روم بنا تو وہ ایک ایسی قسم کا نوجوان لگتا تھا جو فنوں کا دلدادہ تھا اور جسے چاہے جانے کا شوق بھی تھا۔ اس کی ٹانگیں پتلی، لمبی اور پیٹ بڑھا ہوا تھا۔ چہرے پر بے نیازی اور خودی پسندی کی جھلک تھی اور اپنے آپ کو مرکز کائنات سمجھتا تھا۔ بچپن ہی سے اسے داد پانے کا شوق تھا۔ خاص طور پر جب اس نے سرکس میں ٹرائے پر ایک ڈراما میں حصہ لیا تو ہجوم نے دیکھا کہ ان کے شہنشاہ کو اپنے لیے تالیاں بجوانے کا کتنا شوق ہے۔ اپنی حکومت کے آغاز میں اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے عظیم دادا کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے۔ اس نے لوگوں کو انعام و اکرام اور تحفے دیے۔ اس کے لیے شان دار کھیلوں اور مقابلوں کا اہتمام کیا۔ چونکہ اسے خون دیکھنے سے نفرت تھی اس لیے مقابلے میں کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں تھی، یہاں تک مجرموں کو بھی معاف کر دیا جاتا تھا۔ ڈراما، کھیلوں اور گھوڑا سواری پر زور تھا۔ نیرو گھوڑوں کو بہت چاہتا تھا۔ موسیقی کا بھی عاشق تھا اور اس کے کوئی جنگی عزائم نہ تھے۔ وہ نہایت روادار فرماں روا لگتا تھا۔اس کی نخوت بے جا مگر بے ضرور تھی۔ اس نے گانے اور Lyre بجانے میں تربیت حاصل کی تھی۔ اس کی آواز ہلکی تھی اس لیے اسے کہا گیا تھا کہ اگر وہ اسے زور دار بنانا چاہتا ہے تو سیدھا لیٹ جائے اور سینہ پر بھاری بھرکم پتھر رکھے تاکہ سانس لینے کے اعصاب مضبوط ہوں۔ وہ اس تجویز پر باقاعدگی سے عمل کرتا تھا۔
پھر اس نے اپنے مہمانوں کے سامنے گانا شروع کیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے اتنا خوش ہوا کہ ا سٹیج کا رخ کیا۔ شاید محتاط ہونے کی بجائے اس نے روم کی بجائے نیپلز کا انتخاب کیا۔ اس کے گانے کے دوران زلزلے نے اسٹیج کو ہلا کر رکھ دیا مگر وہ گاتا رہا۔ جب روم والوں نے اس کے گانے کے متعلق سنا تو اس کا گانا سننے کے لیے انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ نیرو نے اعلان کیا کہ وہ بعد میں محل کے باغ میں گائے گا لیکن جب اس کے محافظوں نے فوراً گانا سنانے کی درخواست کی تو ازراہ کرم اس نے ان کی بات مان لی۔ داد ملی تو اس نے Lyre بجانے کے پبلک مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اس کی باری آئی تو نیرو نے انتہائی طویل وہ پیرا گایا جو گھنٹوں جاری رہا۔ جلد ہی نیرو مختلف المیہ ڈراموں میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگا۔ کئی مہذب رومنوں کی طرح وہ یونان کو موسیقی اور ڈراما کا گھر سمجھتا تھا۔ Lyre مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے وہ بار بار وہاں جانے لگا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مقابلہ وہی جیتا تھا۔
یونانی ہمیشہ اسے ڈنر کے بعد گانے کے لیے کہتے تھے۔ اس کا کہنا تھا ’’صرف یونانی میرے جینئس کو سمجھنے کے اہل ہیں۔‘‘ نیرو کی ماں اگریپینا اس کے لیے ایک اور مسئلہ تھی۔ جب نیرو شہنشاہ بنا تو اگریپینا کو یہی توقع تھی کہ اس کے اختیارات میں کمی نہیں ہوگی۔ پہلے تو نیرو نے اسے وہی کرنے دیا جو وہ چاہتی تھی اور اپنے قدم جماتا رہا مگر جلد ہی اس کے ان طریقوں سے بیزار ہونے لگا جن سے وہ حکومت چلاتی تھی۔ ایسے میں نیرو کے ایک پرانے استاد نے اسے اگریپینا سے نجات کی ترکیب بتائی۔ اسے بحری جہازوں کے ایک بیڑے کا کمانڈر بنایا گیا تو اس نے بتایا کہ ایک ایسی کشتی بنانی کوئی مشکل نہیں جو سمندر میں جاکر ٹوٹ جائے۔ چنانچہ خلیج نیپلز پر Baiae کے مقام پر منروا کے تہوار میں نیرو نے اپنی ماں کو شرکت کی دعوت دی۔ ایک شام پہلے انہوں نے Bauli کے مقام پر (جو Baiae سے دور نہیں تھا) مل کر کھانا کھایا۔ پارٹی کا اہتمام نیرو کے ایک دولت مند دوست نے کیا تھا۔ اس موقع پر نیرو اپنی ماں کو خصوصی توجہ کے ساتھ پیش آیا، اس کے رویہ میں مہربانی اور رحم کی جھلک بھی تھی تاکہ اسے کوئی شک نہ ہو جب وہ اسے کہے کہ اسے بحری سفر کرنا ہے جبکہ وہ خود خشکی کے راستے سفر کرے گا۔
جہاز اگریپینا کو لے کر روانہ ہو گیا۔ جہاز کافی بڑا، تقریباً بیس یا پچیس فٹ لمبا تھا۔ وہ ایک خاموش تاروں بھری رات تھی اگریپینا اپنی دوست ایسردینا کے ساتھ تھی۔ ایک اشارے پر جہاز کی چھت اچانک گر گئی۔ اگریپینا کی ایک دوست بوجھ تلے مر گئی جبکہ وہ اور ایسردینا محفوظ رہیں۔ جہاز کو ٹوٹ کر بکھر جانا تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ جہاز میں سوار عملے کے لوگ جو سازش میں شامل تھے انہوں نے اپنا بوجھ ایک طرف ڈال کر جہاز الٹانے کی کوشش کی، اس وقت تک واضح ہو چکا تھا کہ یہ اگریپینا کے قتل کی کوشش ہے۔ اگریپینا کو بچانے کے لیے ایسردینا نے یوں مدد چاہی ’’مجھے بچائو میں شہنشاہ کی ماں ہوں‘‘ جس پر عملے نے اسے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ ابہام سے فائدہ اٹھا کر اگریپینا اپنے زخمی کندھے کے باوجود تیر کر کشتیوں تک پہنچ گئی تو ایک کشتی اسے واپس Bauli لے گئی۔ وہاں سے اس نے نیرو کو پیغام بھیجا کہ دیوتائوں کی عنایت سے وہ ایک خطرناک حادثے میں زندہ بچ گئی ہے۔ یہ ایک خطرناک غلطی تھی۔ اسے جلدی سے روم واپس پہنچ جانا چاہیے تھا اور اپنے قتل کی کوشش کو خبر کی صورت ہر طرف پھیلا دینا چاہیے تھا تاکہ اگر نیرو اسے دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کرتا تو اس کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا۔جب نیرو کو پیغام ملا تو اس نے سوچنے میں دیر نہیں کی۔ اسے یہ ظاہر کرنا تھا کہ اس کی اپنی زندگی خطرہ میں ہے اور اس کی ذمہ دار اس کی ماں ہے۔ اس نے زمین پر ایک تلوار گرائی اور شور مچادیا کہ اسے قتل کرنے کے لیے آدمی بھیجا گیا ہے۔اگریپینا کو ڈبونے کی خبر باولی میں پھیل چکی تھی۔ لوگ ساحل سمندر پر جمع ہو گئے مگر فوج نے انہیں منتشر کر دیا۔ اس عرصہ میں نیرو نے اپنے پرانے استادوں کو دو آدمیوں کے ساتھ بھیجا کہ اس کی ماں کو قتل کر دیں۔ وہ بزور اس کے بیڈروم میں داخل ہوئے۔ وہ سمجھی کہ اس کی خیریت پوچھنے آئے ہیں۔ اس کے ٹکڑے کر دیے گئے۔
ماں کی سرزنش سے آزاد ہو کر نیرو عیاشیوں میں ڈوب گیا۔ وہ اپنی شامیں ریستورانوں میں گزارنے لگا تھا۔ دکانیں لوٹتا، رات کی تاریکی میں مسافروں پر حملے کرتا۔ اب اسے خون سے گھن بھی نہیں آتی تھی، یہاں تک کہ مزاحمت کاروں کو چھرا گھونپ دیتا۔ اس کی دعوتیں اور جشن رات بھر جاری رہتے۔ 64 عیسوی میں روم آگ سے جل کر تباہ ہوا جو ایک ہفتہ تک بھڑکتی رہی۔ یہ افواہ بالکل غلط تھی کہ یہ آگ نیرو نے لگوائی تھی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا اس وقت وہ مضطرب اور بے چین تھا۔ اس نے اپنا وائلن لیا اور ’’ٹرائے کی شکست‘‘ نامی گیت (جس کی دھن اس نے خود بنائی تھی) گاتا رہا۔ جب آگ اتنے عرصہ تک بھڑکتی رہی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نیرو اتنے لمبے عرصے تک بے پروا ہو کر وائلن بجاتا رہے اور گیت گاتا رہے۔ مگر جب یہ افواہ لوگوں میں پھیلی تو اس کی پہلے سے بڑھی ہوئی بدنامی میں اور اضافہ ہوا۔ جب پبلک عمارتوں کو گرانے سے آگ رفع ہوئی تو نیرو نے قابل ستائش کام کیے۔ اس نے امدادی انتظامات کیے اور بھاری مقدار میں اناج منگوایا اور اس کی قیمت کم کردی۔نیرو کو کیا ضرورت تھی کہ وہ آگ لگواتا؟ مورخ کہتے ہیں کہ اسے شہر کے درمیان ایک صاف بڑے رقبہ کی ضرورت تھی جہاں نیا محل بنانا چاہتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیرو نے گولڈن ہاوس کے نام سے اپنا ایک عظیم الشان محل بنایا۔ اس نے روم کے کئی علاقوں کو ازسر نو تعمیر کیا مگر آگ کی ذمہ داری بدستور اس پر عائد رہی۔
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...