... loading ...
زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس میں ذہنی دباو سے فرار بہت مشکل ہے۔ چاہے وجہ اوور ٹائم ہے، امتحانات ہیں، کسی قریبی مریض کی دیکھ بھال ہے۔۔۔ شدید ذہنی دباو ایک معمول بن چکا ہے۔ جب ہم دباومیں ہوتے ہیں تو مقابلہ کرنے کا نظام متحرک ہو جاتا ہے اور جسم بھر میں ’’ایڈرینالین‘‘ بھیج دیتا ہے۔ اس سے ردعمل کی رفتار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور ہم مقابلہ کرنے کے بہتر طور پر قابل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمارا جسم اس طرح تخلیق نہیں ہوا کہ وہ روز روز دباوکا مقابلہ کرتا پھرے۔ دباو کے نفسیاتی اثرات جیسا کہ چڑچڑا پن، بھوک کی کمی اور سونے میں مشکل سے ہر وہ فرد واقف ہے جس کا واسطہ ذہنی دباو سے پڑا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ دباو کا اثر جسم کے کم و بیش ہر حصے پر پڑتا ہے، جس میں دل،آنت، اور مدافعتی نظام شامل ہے۔ لہٰذا سال نو میں اپنے دباو کی سطح کو کنٹرول میں رکھیے اور اس کی مندرجہ ذیل تین وجوہ ہیں۔آپ کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے:جب ہمارا مقابلے کرنے کا نظام متحرک ہوتا ہے تو فشار خون میں اضافہ ہوتا ہے اور خون کی روانی جسم کے غیر بنیادی حصوں سے پٹھوں کی جانب ہو جاتی ہے۔ مسلسل یا بار بار فشار خون دل کی شریانوں پر دباو? ڈالتا ہے جس سے دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بلند فشار خون کے ساتھ ہونے والی ہر دھڑکن شریانوں کی لچک کو کم کرتی جاتی ہے اور یہ رکاوٹ پیدا کرنے لگتی ہیں جس سے دل کو خون کی فراہمی میں فرق پڑتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق گھر یا دفتر میں کام کرنے والے وہ افراد جنہیں شدید دباو کا سامنا ہوتا ہے ان میں دل کا دورہ پڑنے کا امکان ان افراد کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتا ہے جنہیں اس کا سامنا نہیں ہوتا۔ دل کے نظام پر دباوکا ایک اور اثر بہت زیادہ ردعمل سے ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان کو کم درجے کے ذہنی دباو کا سامنا ہے لیکن یہ مسلسل زیادہ عرصہ سے ہے تو دباو کے خلاف جسم کا ردعمل زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ اس سے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز رہ سکتی ہیں اور فشار خون بڑھ سکتا ہے۔ یہ اضافے شریانوں کو نقصان دیتے ہیں اور ان میں رکاوٹ اور پھر دل کے دورے کے امکان کو بڑھا دیتے ہیں۔ ۲۔ باتھ آنے جانے کا کچھ پتا نہیں:وہی نظام جو فشار خون میں اضافہ کرتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کو بڑھاتا ہے، وہی دباوے دوران خوراک کے انہظام کو بھی آہستہ کرتا ہے۔ جب آپ دباو میں ہوتے ہیں تو معدے اور انتڑیوں میں پیدا ہونے والے کیمیکل بدل جاتے ہیں۔ خوراک مختلف طرح سے تحلیل ہو سکتی ہے جس سے جذب ہونے اور توانائی حاصل کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قبض یا اسہال یا پیٹ میں بے چینی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ شدید دباو سے امراض بھی زیادہ شدید ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے جن میں آنتوں کا سینڈروم اور آنتوں کی جلن شامل ہیں۔ اگرچہ ان کے اسباب تاحال پوری طرح واضح نہیں لیکن خیال کیا جاتاہے کہ شدید دباو کی وجہ ’’ماسٹ خلیے‘‘ ہیں جو پیٹ میں مدافعتی خلیے ہوتے ہیں۔ ۳۔ بیمار ہونے کا زیادہ امکان:ہمیں اس امر کا ادراک خاصے عرصے سے ہو چکا ہے کہ دباو کے شکار افراد میں چھوٹی چھوٹی بیماریوں میں جلد مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں گزشتہ چند دہائیوں کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دباو ہمارے مدافعتی نظام یا امیون سسٹم کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ اس کی بہترین مثال الزائمر کے مریضوں کا خیال رکھنے والے افراد ہیں جو شدید دباو کا شکار رہتے ہیں۔ جب انہیں فلو کی ویکسین دی گئی تو عام افراد کی نسبت دباوکے شکار ان افراد کے مدافعتی نظام کا ردعمل سست رہا۔ اسی طرح جب امتحانات کے دوران میڈیکل کے طلبہ کو ہیپاٹائیٹس کی ویکسینیشن کی گئی، تو جن طلبہ کو بہتر معاشرتی معاونت حاصل تھی اور انہیں کم دباو اور تشویش کا سامنا تھا ان کے مدافعتی نظام کا ردعمل بہتر رہا، یعنی ان پر ویکسین کا اثر زیادہ ہوا۔ دوسرے الفاظ میں اگر شرکا دباوا شکار ہوں، ان کا مدافعتی نظام بہتر طور پر کام نہیں کرتا اور وہ وائرس کے حملہ کا مقابلہ اچھے انداز سے نہیں کر پاتے۔ نزلہ زکام اور وائرس اور بیکٹیریا سے ہونے والی انفیکشنز، یہاں تک کہ کینسر کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ دباو کو کیسے کم کیا جائے:دباو کو کم کرنے کے لیے مختلف طرح کی حکمت عملیاں اپنائی جا سکتی ہیں، تاہم تازہ تحقیقات سے ہی ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ ایسا کرنا کتنا مفید ہے۔ اس معاملے کی سمجھ گزشتہ چند دہائیوں میں بہتر طور پر آئی ہے۔ 2002ء میں کیا گیا ایک تجربہ دلچسپ مثال ہے۔ تجربے میں شریک افراد کو مصنوعی ایڈرالین کے انجکشن لگائے گئے تاکہ ان کا فشار خون اور دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔ لیکن جب ان میں ایک بور ہو گیا اور اس نے مرقبہ شروع کر دیا تو اس کے دل کی دھڑکن فوراً پہلے والی حالت پر آ گئی۔ اس تجربے کے نتائج کو 2008ء میں آزمایا گیا۔ اس میں محققین نے سینے کے کینسر میں تازہ مبتلا ہونے والے مریضوں کو ذہنی کاوش سے دباو کم کرنے کے پروگرام میں شامل کیا جس میں سانس لینے کے بارے آگاہی، مراقبہ اور یوگا سے مدد لی گئی تھی۔آٹھ ہفتوں کے پروگرام کے بعد، ان عورتوں کے مدافعتی نظام میں حیران کن بہتری آئی وہ صحت مند افراد کی طرح کام کرنے لگا۔ وہ عورتیں پہلے سے اچھا اور پرامید محسوس کرنے لگیں اور اپنے دوستوں اور خاندان سے زیادہ گہرے تعلق کا احساس ان میں جاگ گیا۔شدید دباو کو وقفے وقفے سے ختم کرنا ہمارے مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ اس کے لیے ورزش کرنا خصوصاً اہم ہے۔ آخر میں آپ کو اپنے دباو کی سطح سے آگاہ ہونا چاہیے، آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ کیا کرنا آپ کے لیے اس حوالے سے بہتر ہے۔ اگر آپ اپنے دباو کو کنٹرول میں رکھیں گے تو آپ اس کے جسمانی فوائد کو پا کر حیران رہ جائیں گے۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...