... loading ...
بدن پر تیل ملنا:بچے کے بدن پر تیل ملنے میں کوئی ہرج نہیں مالش اگر ٹھیک طریقے سے کی جائے تو اس سے رگ اور پٹھے کھل جاتے ہیں اور ان کی ورزش ہو جاتی ہے۔ لیکن بچے کی مالش زیادہ طاقت سے نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ بچے کی کھال اور پٹھے نازک ہوتے ہیں اور اس کے بدن کے جوڑ بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس لیے بچے کی مالش بہت ہلکے ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ تیل کی مالش اس لیے بھی اچھی ہے کہ رگوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ دوران خون کو بھی ٹھیک رکھتی ہے اور چربی کو کم کرتی ہے۔ تیل مالش کا سب سے بڑا فائدہ ماں بچے کی اس طویل سنگت کے روپ میں نکلتا ہے جو مالش کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس طرح ماں کو بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ مالش کے لیے کوئی بھی تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں اس کے لیے کوئی نفیس قسم کا تیل ہی استعمال کیا جائے۔ ہاں یہ احتیاط بھی کرنی چاہیے کہ تیل میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔ ناریل، زیتوں اور تل کا تیل دوسروں کے مقابلے میں اس لیے اچھا ہے کہ اس سے جلد میں سوزش یا جلن نہیں ہوتی۔ بچے کی زبان:اس بات کی ضرورت نہیں کہ ا?پ اس کی زبان کی صفائی کریں۔ قدرت نے بچے کے منہ کی صفائی کا نظام خود بخود بنا دیا ہے جس کی وجہ سے بچے کے منہ کی صفائی ازخود قدرتی طور پر ہوتی رہتی ہے۔ بچے کے ناخن بڑھ جائیں تو انہیں چھوٹی قینچی یا بچوں کے نیل کٹر سے کاٹیں۔ بچوں کو قولنج کا درد: بچوں کو قولنج کا درد اس وقت ہوتا ہے جب ان کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ تکلیف سے چیخنے لگتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بچہ جب بہت تیزی سے دودھ پیتا ہے تو دودھ کے ساتھ اس کے پیٹ میں بہت سی ہوا چلی جاتی ہے۔ اس لیے اس درد کا علاج یہ ہے کہ ہوا کا اخراج ہو۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچے کو ا?ہستہ دودھ پلایا جائے تاکہ پیٹ میں ہوا داخل ہی نہ ہو۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر اس کی پیٹھ تھپکنا چاہیے تاکہ بچے کو ڈکاریں ا?ئیں اور ڈکاروں کے ذریعہ پیٹ میں پھنسی ہوئی ہوا نکل جائے۔ اس کے بعد بچے کو داہنی کروٹ سے لٹا دیں اور اس کی پیٹھ کی طرف بائیں جانب تکیہ لگا دیجیے۔ اس سے بھی ہوا کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ درد کی صورت میں بچے کو پیٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ پیٹ کے دبنے سے اسے ڈکاریں ا?ئیں اور پیٹ میں موجود ہوا خارج ہو جائے۔ سب سے اہم بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ بچے کو ا?رام سے لیٹا رہنے دیجیے اور ہر کسی کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیجیے اور نہ گود میں اٹھانے دیجیے۔ جہاں تک ممکن ہو ماں ہی اس کی تمام ضروریات پوری کرے۔لیکن بہت پیار کے ساتھ۔ نرم اور جاذب کپڑے: اگر ماں نے بچے کی پیدائش سے پہلے فراکیں وغیرہ تیار کر لی ہیں تو بہتر ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایسے نرم کپڑے کی فراکیں وغیرہ بنائی جائیں جو پسینہ اور نمی جذب کر لیں۔ کپڑے نرم، ہلکے اور ڈھیلی ڈھالے ہوں تو اچھا ہے۔ جاڑوں میں بچوں کو تین چار سویٹر پہنانے سے بہتر ہو گا کہ اسے ایک (یا زیادہ سے زیادہ دو)گرم سویٹر پہنا کر کمبل ڈال دیں۔ کمبل چارپائی پر ا?ڑا کر کے اس طرح ڈالیں کہ بچے کے سینہ پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔ بچے کو ایک ہی سویٹر پہنانا اس لیے بہتر ہے کیونکہ بہت سارے اونی کپڑے ایک ساتھ پہننے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ گرمی سے گھبرا جائے اور بے چین ہو جائے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلائے۔ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی بہترین غذا ہے اور جب تک ڈاکٹر منع نہ کرے ماں بچے کو قبل از وقت دودھ پلانا بند نہ کرے۔ تین ماہ کا بچہ: تین ماہ کا بچہ اپنی گرد ن گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی ماں کو پہچاننے لگتا ہے۔ کھیل میں ٹانگیں اٹھا کر اپنے پیر پکڑتا ہے اور مسکراتا ہے۔ یہ گویا اس کی سماجی زندگی کا ا?غاز ہوتا ہے۔ بیٹھنے اور چلنے کی عمر:چار ماہ کے بچے کو اگر اوندھا کرکے لٹا دیں تو وہ اپنا سر اور سینہ اوپر اٹھا لیتا ہے اور وہ سیدھا لیٹا ہو تو اس کو ہاتھ پکڑ کر اٹھا سکتے ہیں۔ اس عمر کو پہنچ کر اس کا سر ٹھہرنے لگتا ہے لیکن پھر بھی تھوڑی سی ڈگمگاہٹ باقی رہ جاتی ہے۔ پانچ ماہ کی عمر میں بچہ سہارے سے بیٹھنے لگتا ہے۔ بعض بچے اس عمر میں دودھ پیتے وقت گلاس، پیالہ بھی پکڑنے لگتے ہیں۔ سات مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے بیٹھنے لگتا ہے۔ ا?ٹھ ماہ کی عمر میں وہ سہارے سے کھڑا ہو جاتا ہے اور دس گیارہ مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے کھڑا ہونے لگتا ہے۔ وہ دیوار یا رسی کے سہارے زینہ بھی چڑھ سکتا ہے۔ اب وہ ’’ماما، بابا‘‘ جیسے الفاظ بھی کہنے لگتا ہے۔ اٹھارہویں مہینہ میں وہ اور مضبوطی سے قدم جما کر چلنے لگتا ہے اور کئی دوسرے الفاظ بولنا سیکھ جاتا ہے۔ دو سال کی عمر میں بچہ دوڑنے کے قابل ہو جاتاہے۔ زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے اور اپنے ا?س پاس کی چیزوں کو زیادہ اچھی طرح پہچاننے لگتا ہے۔ بچے کی بڑھوتری کا سلسلہ 20 سال کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ والدین کو شروع کے چند سالوں میں بچے کی ہر بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ ابتدائی زمانہ میں بچے کو اگر کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو اس کی تلافی متعدد بار ممکن نہیں ہوتی مثلاً اگر سکول میں داخلے وقت ذرا پہلے اس کی طرف بے توجہی برتی جائے تو بچہ پڑھنے لکھنے سے جی چرانے لگتا ہے اور سکول میں ٹھیک نہیں چل پاتا۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...