وجود

... loading ...

وجود

بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

اتوار 07 جنوری 2018 بھوپال کی منفرد تہذیب اور چٹوری گلی

شہلا حیات
بھارت کاہر شہر اپنے انواع واقسام کے کھانوں میں ایک دوسرے سے جدا شناخت رکھتاہے، اگرچہ اب بھارت کے ہر بڑے شہر میں بھارت کے مختلف شہروں کے مشہور اورمرغوب کھانے بھی بآسانی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کھانوں کے ان کے شہروں میں جس اہتمام کے ساتھ پکایا جاتاہے، دوسرے شہروں میں وہ ذائقہ حاصل نہیں ہوپاتا، کھانوں کے اعتبار سے بھارت کے وہ شہر زیادہ مشہور ہیں جہاں نوابوں اورراجہ مہاراجائوں کے حکمرانی رہی ہے کیونکہ ان کو طرح طرح کے کھانوں کاجنون کی حد تک شوق تھا ،یہی وجہ ہے کہ بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح بھوپال بھی طرح طرح کے کھانوںکے لیے اپنی الگ شناخت رکھتاہے،خوبصورت جھیلوں کا شہر، محلات و مساجد کا شہر بھوپال نہ صرف اپنی تاریخ بلکہ اپنے دسترخوان کے لیے بھی شہرت رکھتا ہے۔بھوپال کی معروف مسجد تاج المساجدبھی اپنی مثال آپ ہے جسے نواب بیگم بھوپال نے تعمیر کروایا ہے۔

ہندوستان کی اس شاہی ریاست پر چار بیگمات نے بڑی لیاقت و فراست سے حکمرانی کی۔آخری نواب بیگم نے بالآخر حکومت کی عنان اپنے بیٹے کے سپرد کی جو کہ بھوپال کے آخری نواب ثابت ہوئے۔دوسری بہت سی ریاستوں کی طرح بھوپال بھی ہندوستان کا حصہ بن گیا اور نواب خاندان کو حکومت ہند نے تا زندگی جاگیر عطا کی۔ دہلی کی معروف طباخ سلمیٰ حسین لکھتی ہیں کہ دو جھیلوں کے درمیان آباد یہ شہر ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے۔ مسجدوں سے آتی مؤذن کی صدا، مندروں کے ناقوس، خوشنما ویران محل، خوبصورت جھیلوں کا خاموش پانی اور با رونق بازار یہ ہے بھوپال کا مختصر تعارف۔قدیم بھوپال میں مسلم تہذیب و ثقافت کا رنگ اب بھی نمایاں ہے۔ 1707 میں مغلیہ فوج کے افغان سردار دوست محمد خان، پرمار خاندان کے راجا بھوج کے بسائے شہر کو حاصل کیا اور اسے دوبارہ مستحکم کیا۔ نئے بھوپال شہر کی بنیاد رکھی اور نوابی دور کا آغاز ہوا۔ چونکہ دوست محمد افغان نژاد تھے اس لیے بھوپال کی ابتدائی تاریخ بہت حد تک اسلامی تہذیب و تمدن میں رچی بسی رہی اور آج بھی بھوپال میں کافی حد تک مسلم معاشرے کی جھلک موجود ہے۔

شاملا پہاڑی پر بنی شاملا کوٹھی جسے جنرل عبیداللہ خان نے 1911 میں بنوایا تھا نوابی دور کے اختتام پر خاندان کی رہائش گاہ بنی۔ 1945 میں سترہ برس کی دلھن بیگم ثریا رشید کے قدم سے یہ کوٹھی آباد ہوئی۔شاملا کوٹھی وسیع رقبے میں پھیلی تھی۔ باورچی خانہ وسیع تھا جہاں پانچ رکابدار اور 15 باورچی انواع و اقسام کی غذائوں کو تیار کرتے تھے۔ ہر رکاب دار اپنے فن میں ماہر تھا۔ رکابدار سراج بیکنگ کے ماہر تھے اور دیگچی کو مہر بند کر کے انگارے کے اوپر رکھ کر مزیدار کیک تیار کرتے تھے۔ چھوٹے موٹے نہیں بلکہ تین تین منزلہ کیک اسی ترکیب سے تیار کیے جاتے تھے۔

شاملا کوٹھی کے اطراف میں پھیلا جنگل بہترین شکار گاہ تھی اور کوٹھی کے مکینوں کا بہترین شغل شکار ہی تھا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ شکار کا گوشت پانی میں دھویا نہیں جاتا تھا بلکہ گیلے کپڑے سے صاف کیا جاتا تھا اور باورچی عمدہ کباب، کوفتے، پسندے اور فلفورا بنا کر دسترخوان پر پیش کرتے تھے۔ زائد گوشت دھوپ میں سکھا کر سال بھر استعمال کیا جاتا تھا۔ برسات کے موسم میں جب شکار کرنا دشوار ہوتا تو یہی گوشت مختلف طریقوں سے پکایا جاتا تھا۔گوشت کے علاوہ ترکاریوں کے عمدہ پکوان بھی وہاں بنائے جاتے تھے۔ ہر ترکاری گوشت کے ساتھ پکائی جاتی تھی۔ جب موسمی سبزیوں پر بہار ہوتی تو بڑے اہتمام سے ان کی ہانڈی تیار ہوتی تھی۔

نواب شاہ جہاں بیگم نے لکھنؤ سے رکابدار بلوائے اور نوابی دسترخوان اودھی کھانوں سے سج گیا۔ اودھ اور افغانی کھانوں کے میل جول سے کئی نئے پکوان وجود میں آئے۔بھوپال میں گوشت کا استعمال بہت ہوا ہے۔نوابی دسترخوان اور لذیذ کھانوں سے نظر ہٹائی تو ابراہیم پورہ کی چٹوری گلی سامنے آ گئی۔ چٹوری گلی واقعی چٹوری ہے اور اگر بھوپال میں چٹوراپن نہیں کیا تو بھوپال کا سفر ادھورا رہا۔ ‘کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں۔کھانوں میں زعفران کا استعمال ایران کی دین ہے اور یہ مغل بادشاہوں کے دسترخوان میں مخصوص اہمیت کا حامل رہا ہے اور مغل حکمرانوں کی وساطت سے ہی زعفران ہندوستان پہنچی اورپھر امراکے کھانوں اور طبیبوں کی دوائوں کالازمی جزو بن گئی اپنی تمام تر صفات کے ساتھ ایک قیمتی اثاثہ ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

زعفران کو نازک پتیوں میں رنگ و نور کا جادو کہا جا سکتا ہے جس کا نہ صرف غذاؤں کو خوشبودار اور رنگین بنانے میں دنیا کے ہرگوشے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔یونان و مصر و روما بھی اس کے سحر آگوں اور مدہوش کن اثرات سے نہ بچ سکے۔ زعفران کب اور کیسے وجود میں آیا؟ اس کے متعلق مختلف علاقوں کے دلچسپ افسانے ہیں۔یونانی اساطیر میں یہ پایا جاتا ہے کہ کِرکس نامی گبرو جوان سی لیکس نامی خوبصورت حسینہ کے عشق میں گرفتار ہوا لیکن حسینہ نے اس کے جذبات کی قدر نہ کی اور اسے فالسی رنگ کے خوبصورت پھول میں تبدیل کر دیا۔ یہ فالسی رنگ کا پھول اب زعفران کہلاتا ہے۔ بھارت میں کشمیر کا پامپور زعفران کی کاشت کے لیے معروف ہے۔کشمیر کے معروف دانشور محمد یوسف تینگ کا کہنا ہے کہ زعفران اور کشمیر کا پرانا ساتھ ہے۔ کشمیر کے حکمراں یوسف شاہ چک (86-1579) نے پامپور میں زعفران کی کاشت شروع کی تھی۔ حقیقت خواہ کچھ ہو آج پامپور زعفران کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور وہاں کے دو سو سے زیادہ گاؤں تقریبا ڈھائی ہزار کلو زعفران پیدا کرتے ہیں۔اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زعفران اپنی بہار پر ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند تاروں کا جال اور فرش پر زعفران کی رنگین بہار جنت کا منظر پیش کرتی ہے،اور آج بھی بھارت ہی نہیں بلکہ برصغیر کے ہر شہر اورقریئے کے امرا کے کھانوں میں زعفران کی رنگینی لازمی ہوتی ہے۔

بھوپال کی چٹوری گلی میں اگرچہ اب شاید ہی کسی دکان میں کسی مشروب یاکھانے میں زعفران ڈالی جاتی ہو لیکن زعفران کی جگہ زعفرانی رنگ ضرور استعمال کیاجاتاہے، بھوپال کی چٹوری گلی میںکھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہر دم گاہکوں سے بھری رہتی ہیں۔ کوئی سلیمانی چائے کا مزہ لے رہا ہے تو کوئی نہاری کا پیالہ لیے بیٹھا ہے۔ بھوپال کے انوکھے ناشتے کا لطف اٹھانے کے لیے لوگ صبح صبح چٹوری گلی پہنچ جاتے ہیں۔ گرم گرم پھوہا، ساتھ بیکانیری سیو اور سنہری گرم جلیبی، نمکین اور میٹھاپن ہی بھوپال کی خاصیت ہے۔بھوپال میں قسم قسم کے کباب کا رواج ہے۔چٹوری گلی کی مشہور ڈش بن کباب ہے۔ ہاتھ سے کٹے موٹے قیمے کے تلے کباب بن رکھ کر پیاز چٹنی کے ساتھ کھائیے اور باورچی کو دعائیں دیتے آگے بڑھ جائیے جہاں نلی گوشت آپ کو للچانے کے لیے کافی ہے۔ وہاں سائیکل سوپ والا بھی اپنی مثال آپ ہے۔ کہتے ہیں کہ سالوں پہلے ایک نیپالی نوجوان آیا اور سائیکل پر ٹماٹر کا شوربہ بیچنے لگا۔ شوربہ مزیدار تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سائیکل سوپ والااب وہاں تین چار دکانوں کا مالک ہے۔

گلاوٹی کباب کی کہانی بھی بھوپال سے ملتی ہے۔ پتہ چلا کہ حاجی مراد علی بھوپال کے رکابدار تھے جو بعد میں لکھنؤ جا بسے۔ چونکہ وہ لولے تھے اس لیے یہ کباب ان کے نام سے مشہور ہوا۔ بھوپال میں گلاوٹی کباب رسک بسکٹ پر رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔
چٹوری گلی شیطان کی آنت کی طرح ہے۔ جہاں چلتے چلاتے برفی رس ملائی پر نظر چلی ہی جاتی ہے۔ پتے کے دونے پر برف کا چورا، اس پر ربڑی کی موٹی تہہ اور گلاب کے شربت کا چھڑکاؤ۔ گلی سے باہر نکلتے ہوئے پان کا بیڑا منھ میں رکھیے اور بھوپال کے مکینوں کو دعا دیتے جائیے۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر