وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پروین شاکر نوخیز جذبوں کی شاعرہ

اتوار 07 جنوری 2018 پروین شاکر  نوخیز جذبوں کی شاعرہ

بیسویں صدی میں اقبال اور جوش سے شروع ہونے والی اردونظم کی پرعظمت شاعری کا تسلسل نصف صدی کے بعد تک بغیر تعطل کے جاری رہا اور فیض گویا اس کلاسیکی روایت کے آخری امین ٹھہرے۔ 1950ء کی دہائی سے ذرا پہلے انگریزی شاعری کے براہ راست اثر کے تحت نظم کی نئی ہیئت آزاد نظم کی صورت میں وجود میں آئی جو اردو نظم کا تسلسل ہی تھا مگر ہیئت کی تبدیلی کے سبب سے افکار و خیال میں اور ان کے اظہار میں بھی تبدیلی بہرحال رونما ہوئی۔ آزاد نظم کی اس نئی روایت کا آغاز پاکستان میں ن م راشد اوربھارت میں غلام ربانی تاباں نے بیک وقت کیا تھا جس کے ساتھ ہی تصدق حسین خالد اور میرا جی نے اس کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ کیا تھا۔ انگریزی شاعری کے اثرات میں مزید وسعت 60 کی دہائی کے آخری حصے میں آئی جب فکر و تخیل میں اور شاعری کے موضوعات میں تبدیلی کے ساتھ مختصر بلکہ مختصر ترین نظموں کی نئی ہیئت سامنے آئی جب کہ خواتین شعراء کے کلام میں نسائی احساس اور نسائیت کی تحریک کے اثرات نمایاں ہوئے۔ اس کیفیت اظہار کی نمائندہ شاعرات میں فہمیدہ ریاض کے بعد پروین شاکر کا نام آتا ہے۔ اس سے بہت پہلے ادا جعفری نسائی احساس کی شاعری کی بنیاد رکھ چکی تھیں مگر انہوں نے خود کو محدود نہیں کیا تھا۔

متذکرہ دونوں تبدیلیوں کی نمائندہ شاعری فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر کے کلام کے بنیادی اوصاف میں شامل ہے۔ اس سے قبل نسائی اظہار کی شاعری کے اثرات زہرہ نگاہ اور کشور ناہید کے یہاں پائے جاتے تھے مگر پروین شاکر نے نسائی احساسات میں خصوصاً عورت کے جنسی احساسات کے اظہار کو نرم لفظوں میں بیان کرکے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ واضح رہے کہ وہ نسائی شاعری تک محدود رہیں اور فہمیدہ ریاض کی طرح نسائیت کی شاعرہ نہیں بن سکیں۔ تاہم فہمیدہ ریاض کے بعد پروین شاکر 70 کی دہائی میں بہت مقبول شاعرہ ثابت ہوئی تھیں۔

پروین شاکر کی مقبولیت کا بڑا سبب نازک نسوائی احساسات کے اظہار سے لبریز شاعری تھی مگر مختصر نظم میں بھی پروین شاکر کو اختصاص حاصل تھا۔ مختصر نظم کا طریقۂ اظہار 60 کی دہائی کے آخری حصے میں رائج ہوچکا تھا مگر اکثر نظمیں جو مشاعروں میں سنائی جاتی تھیں ان میں اظہار کے تاثر میں اتنی کمی پائی جاتی تھی کہ شاعر کو بتانا پڑتا تھا کہ حضرات نظم ختم ہوگئی ہے۔ اسی طرح جو نظمیں شائع ہوتی تھیں ان میں تاثر اور تاثر اظہار میں کمی کے باعث شدید تشنگی کا احساس ہوتا تھا۔ پروین شاکر کو فخر حاصل تھا کہ اس کی مختصر نظمیں جو تین مصرعوں سے سات آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہوتی تھیں تاثر سے خالی نہیں ہوتی تھیں اور ان میں اکثر کسی خیال کے اظہار کی تکمیل نظر آتی تھی۔ یہ دراصل جدید انگریزی شاعری کے براہ راست اثرات کا مسئلہ تھا۔

مختصر نظموں کی صورت میں کسی خیال کی فوری اور تنہا لہر کو گرفت میں لانے کی یہ کیفیت پروین شاکر کے شعری اظہار میں غزل کے ساتھ ساتھ ابتدا سے وجود میں آگئی تھی۔ مختصر نظموں کی مختصر ترین صورت پروین کے پہلے مجموعۂ کلام ’’خوشبو‘‘ میں زیادہ نظر آتی ہے تاہم یہ سلسلہ ’’خود کلامی‘‘ اور پھر آخری مجموعہ شعری انکار تک جاری رہا اور پسند کیاگیا تھا۔ تاہم اس پسندیدگی کا سبب محض اختصار نہیں تھا بلکہ ان نظموں کا نفس مضمون تھا جہاں کسی نو خیز لڑکی کے رومانی احساسات کی لہروں کو قلم بند کیا گیا تھا۔ مختصر نظموں کا سلسلہ جب وسیع ہوا تو اس میں کہیں کہیں جنسی احساس کی لطیف لہریں بھی نظر آئیں۔ اس طرح پروین شاکر کی شاعری میں مختصر نظم نوجوان نسل بلکہ نو خیز نسل میں مقبولیت کا سبب بنی۔ واضح رہے کہ جنسی احساسات کے بارے میں نوخیز جذبوں کے اظہار کے شیدائی ہر عمر کے قاری میں اور خصوصاً غیر سنجیدہ قاری میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور سنجیدہ قاری کی مخصوص تعداد بھی اس کی اسیر ہوتی ہے۔ سو پروین شاکر کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 70 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے۔ مگر پروین شاکر کی مقبولیت میں ان کی غزل کے اشعار کے ساتھ اس زمانے کے معروف ٹی وی اینکرز کا بڑا حصہ تھا۔ اس وقت صرف ایک ہی چینل یعنی PTV ہوا کرتا تھا جس کے معروف معدودے چند اینکرز طارق عزیز، دلدار پرویز بھٹی سمیت موقع بے موقع پروین شاکر کے اشعار سنایا کرتے تھے۔

ابھی میں نے یہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے کہ پروین شاکر کی غزل کے اشعار ٹی وی اینکرز کی جانب سے بار بار پڑھے جانے کے سبب اس کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بنے تھے اور اس سے قبل میں نے یہ عرض کیا ہے کہ رومان اور نوخیز محبت نازک جنسی جذبات اور اس سے ملحق احساسات سے مملو پروین شاکر مختصر اورنسبتاً مختصر نظمیں کی مقبولیت بلکہ ایوان ادب میں اس کی پہلی شناخت کا سبب بنی تھیں۔ اب میں نظم اور غزل کو علیحدہ علیحدہ مقبولیت کا سبب بتانے یعنی ان دونوں باتوں کے ظاہری تضاد اس کو ختم کرنے کے لیے یہ عرض کرتا ہوں کہ غزل کے اشعار میں بھی پروین شاکر کے وہی اشعار زبان زد خاص و عام ہوئے تھے جن میں جنسی احساس کی خفی یا جلی لہر موجود تھی۔ مثلاً ؎
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھیلتیں
صبح میرے جوڑے کی ہر کلی سلامت تھی
گونجتا تھا خوشبو میں رات بھر کا سناٹا
ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا
وہ رات پھر مجھے سوتے میں ڈسنے آئے گا
وہ جانتا ہے کہ کھلتا ہے مجھ پہ زہر کا رنگ
کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک
جسم برسات میں بھیگے ہوئے جنگل کی طرح
پروین شاکر کی مقبولیت کے مسلم ہونے میں مہدی حسن کی آواز کا بڑا حصہ ہے جب کہ مہدی حسن کی گلوکاری تک پروین شاکر کی رسائی میں ٹی وی اور ٹی وی اینکرز کا بڑا دخل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پروین شاکر اپنے آخری مجموعے انکار تک آتے آتے اپنی غزل کے حوالے سے پہچانی جانے لگی تھی لیکن پروین کی پہلی پہچان نظم ہی تھی میں نے پروین شاکر کی نظم کو اپنا موضوع اسی لیے قرار دیا ہے کہ نظم میں پروین شاکر اپنا الگ تشخص رکھتی ہے جب کہ غزل میں چند مقبول غزلوں اور معدودے چند اشعار کے علاوہ اسے اختصاص حاصل نہیں ہے کیونکہ اس کی غزل کا اپنا الگ کوئی اسلوب نہیں ہے بلکہ الگ لہجہ بھی مرتب نہیں ہونے پایا تھا۔

نظم میں پروین شاکر کے اختصاص کے محور اور اس کی اساس یعنی اس کے موضوع سخن اور رومانی احساسات کے بے باکانہ اظہار کی بات میں ابتدا ہی میں کرلی تھی مگر وہ اجمالی بیان تھا جسے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے۔ یعنی پروین کے موضوع سخن اوربے باک اظہار کی تفصیل کے لیے اس کی نظموں کے حوالے بھی ضروری ہیں مگر اس سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں پروین شاکر کو نسائی احساس کے اظہار تک محدود رہنے والی شاعرہ اور نسائیت کی شاعرہ نہ بن سکنے کی بات کیوں کرتا ہوں۔

سو اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہر چند اردو کی شعری روایت میں خواتین کا نام یعنی خواتین شعرا کا نام بیسویں صدی کے آخری نصف حصے میں بار سماعت ہو پایا اور اس سے قبل انیسویں صدی میں مہہ لقا چندا بائی اور بیسویں صدی کی ابتداء میں علامہ اقبال کے زمانے میں صرف ز خ ش (زاہدہ خاتون شیروانیہ) کا نام ہی ملتا ہے۔ یا مذہبی شاعری میں روپ کماری کا نام مستند ہے مگر 40 کی دہائی میں 1936ء کی ترقی پسند تحریک کے باضابطہ اعلان و ترویج کے بعد سے آج تک اردو میں خواتین شاعرات کی خاصی تعداد سامنے آئی تھی تاہم اس فہرست کو بھی تین ذیلی فہرستوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے یعنی خواتین کی شاعری، نسائی شاعری اور نسائیت کی شاعری۔ پہلی نوعیت میں وہ شاعری ہے جو خواتین نے تخلیق کی تاہم اگر نام حذف کردیا جائے تو اسے خاتون کی شاعری سمجھنے کا کوئی احتمال نہیں رہتا۔ اس شاعری کا تعلق فارسی شاعرہ زیب النسا سے آج تک گھریلو خواتین کی وہ شاعری ہے جو مختلف اہل قلم خاندانوں کی خواتین کرتی چلی آئی ہیں۔ تاہم اس شاعری میں عظمت کی راہ اس طرح نکلتی ہے کہ وہ شعری اظہار جو زندگی کے بارے میں شاعر کے حسی اورمشاہداتی تجربات سے رونما ہونے والے جذباتی اور حسیاتی یا احساساتی ردعمل سے وجود میں آتا ہے اس کی اکثریت صنفی احساسات سے ماورا ہے یعنی شاعری کی مجموعی اعلیٰ صورت اس بات سے عاری ہے کہ تخلیق کار مرد ہے یا عورت۔ ایسی شاعری کے ضمن میں البتہ 40 کی دہائی کے آخر میں خواتین شعرا کے یہاں اظہار میں تانیث کا صیغہ استعمال ہونے لگا تھا (اسے اختر شیرانی کا اثر بھی کہا جاسکتا ہے) جس سے پہچان کی عمومی شکل میں آسانی فراہم ہوئی تھی۔ شاعری کی اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ شعری اظہار میں نسوانی احساس کی شرط کو لازم نہ سمجھنے والی سب سے بڑی شاعرہ کے طور پر ادا جعفری کا نام لیا جاتا ہے جب کہ اس مختصر فہرست میں سحاب قزلباش، زہرہ نگاہ، شہناز مزمل اور صفیہ ملیح آبادی کے نام آتے ہیں۔

دوسری فہرست میں ان خواتین کے نام ہیں یا ایسی شاعری ہے جس میں خالص نسائی احساسات جذبات کے نازک مرحلوں کا اظہار کیا گیا ہے جسے پڑھ کر صاف پتا چل جاتا ہے کہ تخلیق کار عورت ہے۔ اس شاعری کو نسائی شاعری کہا جاتا ہے تاہم خاتون شاعر پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ نسانی احساسات کے اظہار تک محدود رہے بلکہ ایسی شاعرات کی اکثر شاعری ان کے صنفی احساسات سے ماورا بھی نظر آتی ہے۔

خاتون شعرا کی شاعری کی تیسری نوعیت وہ شاعری ہے جس میں عورت کے شخصی وجود ہونے کا اظہار بھی ہے اور شعری اظہار میں مردانہ معاشرے کے کسی بھی جبر کو نا مانتے ہوئے ہر اس موضوع پر گفتگو کا ادعا ہے جو معاشرے میں شجر ممنوعہ کہلاتا رہا ہے۔ شاعری کی یہ نوعیت جو مغرب کی نسائیت کی تحریک کے اثرات کے تحت رونما ہوئی ہے دراصل اس شعری اظہار پر مشتمل ہے جو عورت کے ہر نوعیت کے استیصال یعنی جنسی اور شخصی استیصال سے فکری استیصال تک کے خلاف احتجاج اور فریاد اور اس کے خلاف بغاوت پر دلالت کرتاہے۔ اس تحریک کے ابتدائی مراحل میں مغربی ادب میں ورجینیا وولف اور جیمس جوائس کا نام آتا ہے اور اس کی انتہائی شکل میں مغربی شاعرہ اور ادیبہ سلویا پلاتھ کا نام سب سے زیادہ اہم ہے۔
(سلویا پلاتھ کی زندگی کا اختتام خودکشی پر ہوا تھا)

ان تعریفات کی روشنی میں پروین شاکر کی نظم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس نے اول اول نو خیز لڑکی کے نو خیز رومانی جذبات کو مختصر نظموں کی صورت میں قلم بند کیا اور پھر خالص نسوانی احساسات کی ترجمانی کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے نسبتاً طویل نظموں میں اپنے اظہار کو جاری رکھا۔ پروین شاکر کی شاعری کے اولین دور میں اپنی شاعری میں (جو اس کے پہلے مجموعے خوشبو کا حصہ ہے) نوخیز جذبوں سے آگے بڑھ کر نازک نسوانی احساسات اور پھر جنسی جذبے اور احساس کے اظہار کی شاعری کی۔ جس میں جنسی احساس اور اس کی تسکین کی صورت میں حاصل ہونے والی سرشاری کو بھی قلم بند کیا۔ پروین شاکر کی شاعری کا یہی دور اس کی شناخت اور مقبولیت کا دور ہے جس کا تسلسل آخری عمر تک یعنی اسلام آباد میں اس کی حادثاتی موت تک جاری رہا۔ اس پہلے دور کی شاعری میں اس نوعیت کے اظہار تک وہ بہت جلد پہنچ گئی تھی اور اس منزل پر ابتدا میں ان کا اظہار سادہ تھا مگر جلد ہی استعاراتی طرز اور تراکیب لفظی کی خوبصورتی اس میں شامل ہوگئی۔

اس بات کو محسوس کرنے کے بعد کہ ایک نوجوان شاعرہ کی طرف سے ایکسئیسی کے اتنے کھلے اظہار کی اس نظم نے ستر کی دہائی میں کیا دھوم مچائی ہوگی اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پروین شاکر کا اختصاص یہی رہا تھا اور ہے۔ تاہم جب اس کی عمر اور شعور میں اضافہ ہوا تو یہ اظہار بھی علامت اور استعارہ کے پیرہن اختیار کرتا چلا گیا اور موضوعات سخن میں وسعت آئی تھی مگر پروین شاکر نسائیت کی شاعری تک نہیں پہنچی اور نسائی شاعری تک محدود رہی۔ نسائیت سے ایک قدم بلکہ کئی قدم آگے بڑھ کر جنس کو موضوع بنانے اور اس کے احساسات کا کھل کر اظہار کرنے کی باغیانہ صفت اس کی شاعری کا حصہ ضرور بنی تھی مگر عورت کے استیصال کے بارے میں احتجاج اس کی شاعری کا اس طرح حصہ نہیں بنا کہ اسے نسائیت کی شاعرہ سمجھا جاسکے۔ سو میں اسے نسائی احساس کے اظہار کی بے حجاب شاعرہ کہتا ہوں۔

عہد موجود کی شاعرات میں نسائیت کی تحریک کی ترجمانی کرنے والی شاعرہ فہمیدہ ریاض ہیں۔ اس تحریک کے براہ راست اثرات میں فہمیدہ ریاض کے یہاں بغاوت یعنی سماج کی ان روایات سے بغاوت کا رجحان بلکہ اعلان پایا جاتا رہا ہے جو مردانہ حاکمیت کے مشاعرے نے نافذ کر رکھی ہیں۔ اس سے قبل کبھی کشور ناہید نے نسائیت کا چیمپئن بننے کی کوشش کی تھی مگر وہ بے باک مردانہ لہجے (شاعری میں کم اور گفتگو میں زیادہ) سے آگے نہیں بڑھ پائی تھیں۔

یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اردو میں شاعرات کی اکثریت ادا جعفری کی شعری روایت سے منسلک ہے جہاں نسوانی احساسات یا نسائی طرز اظہار شرط اول نہیں ہے بلکہ شاعری اور اس کی اقدا اور اس کی جمالیات اہم ہیں۔ لاہور میں ثمینہ راجا (مرحوم) یاسمین حمید منصورہ احمد(مرحوم) کے نام اہم ہیں جب کہ کراچی میں شاہدہ حسن، شاہدہ تبسم، پروین حیدر ، معصومہ شیرازی اور رخسانہ صبا قابل ذکر ہیں اور اس روایت کا حصہ ہیں۔ یہ تمام شاعرات پروین شاکر کی طرح شہرت حاصل نہیں کرسکیں کیونکہ انہوں نے جنسی جذبے اوراحساسات کو اس طرح موضوع نہیں بتایا جس طرح پروین شاکر نے بتایا تھا اور پھر یہ بھی ہے کہ ان کے زمانے تک میڈیا کے پھیلاؤ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ کے باوجود یعنی ٹی وی چینل کی بہتات کے باوجود اس میڈیا نے ادب اور شعر کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا تھا۔ اور اب وہ اینکر پرسن بھی نہیں رہے جو کسی خاتون شاعر کے اشعار گاہ گاہ سناتے رہتے تھے۔

وہ اینکر پرسن تو نہیں رہے سوائے انور مقصود کے (جو اب اسٹیج ڈرامہ کے حوالے ہوگئے ہیں) مگر ان کے سبب پروین شاکر کی شاعری عوام کے حافظہ کا حصہ بہرحال بن گئی تاہم صرف ایسا نہیں تھا کہ اینکر پرسن کی عنایات کام آئی ہوں بلکہ پروین شاکر کی شاعری میں نو خیز ذہنوں کے ساتھ رومان پسند لوگوں کے لیے بھی جاذبیت موجود تھی۔

پھر یوں ہوا کہ ’’خوشبو‘‘ کی1977ء میں اشاعت اول کے ساتھ ہی مہدی حسن کی آواز نے پروین شاکر کی مقبولیت میں عوامی مقبولیت کا رنگ بھر دیا اور ہم جیسے اہل ادب نے اپنے تئیں سوچ لیا کہ اب پروین شاکر کے یہاں نو خیز عشق اور جنسی تجربے کی نوخیزیت کا زمانہ ختم ہوجائے گا اور ان کی غزل میں جو بلوغت فکر نظر آنے لگی تھی وہی ان کی نظم میں بھی نظر آنے لگے گی۔ مگر ان کے دوسرے مجموعے ’’صد برگ‘‘ میں ان کی یہ نظمیں محل نظر بنیں تو پتہ چلا کہ نوخیز عشق کی چاہت اور نو خیز جنسی تجربے کی حدت پروین کی شاعری کا مستقل موضوع بن چکے ہیں۔ یہ نظمیں ملاحظہ کریں جس کے توسط سے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ عشق نوخیز اور جنسی تجربے کے نازک احساسات کا اظہار میں اس کے آخری مجموعے ’’انکار‘‘ تک تسلسل پایا جاتا ہے۔ جذبہ اوراحساس اور اس کے اظہار کی نوخیزیت کو تاحیات برقرار رکھنا یا اس کا برقرار رہنا ساری تنقیدی روش کا ہدف ہونے کے باوجود پروین کے کلام کی ایک منفرد صفت ٹھہرتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
وصال

خمار لذت سے ایک پل کو/جو آنکھیں چونکیں/تو نیم خوابیدہ سرخوشی میں/غرور تاراجگی نے سوچا/خدائے برتر کے قہر سے /آدم و حوا/بہشت سے جب بھی نکلے ہوں گے/سپردگی کی اسی انتہا پر ہوں گے/اسی طرح ہم بدن اور ہم خواب و ہم تمنا/
سپردگی
زمین اپنے قدیم محور کے گرد رقصاں ہے/اور فضا میں/کسی پراسرار سرخوشی کا سرور اس طرح/بہہ رہا ہے/کہ جیسے باد شمال نے جھوم کر ہرے موسموں/کے تن میں/کہیں رگ تاک کھول دی ہو/نظر سے اوجھل کوئی خوشی ہے/کہ جسم کی پور پور کو چھو رہی ہے آکر/لہو کی نیلی صداقتوں میں اترنے والی گلابی لذت/مرا بدن چومنے لگی ہے/ آب و آتش بہم ہوئے ہیں/ ہوانے مٹی کے سامنے سر جھکا دیا ہے

پروین کی ان نظموں کو پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر میرا ادعا یہ ہے کہ نوخیزی عشق اور اس میں جنس کے نوخیز تجربے کی آنچ سے ہی پروین شاکر نے شاعری تخلیق کی اور اس کی شاعری کا یہ ڈھب اس کی شاعری کی ابتدا سے انتہائی دنوں تک یعنی ’’خوشبو‘‘ سے ’’صد برگ‘‘ اور پھر خود کلامی اور آخری مجموعے انکار تک موجود ہے اور جس طرح ہر شخص میں ایک بچہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اسی طرح پروین شاکر کے یہاں ایک نوخیز لڑکی ہمیشہ زندہ رہتی۔ عملی زندگی میں البتہ ایسے زمانے بھی آئے جب شاید پروین نے ایک جہاں دیدہ عورت کی طرح اپنے حسن کا خراج بھی حاصل کیا یا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی شاعری میں ہمیشہ ایک نوخیز اور عشق شعار لڑکی ہمیشہ موجود رہی جو محبوب کی تمنا میں خود کو سپردگی کی منزل سے گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ’’خود کلامی‘‘ میں موجود نظمیں ’’سرشاری‘‘، بے بسی کی نظم، بے یقینی کی نظم اور، پھر پھولوں کا کیا ہوگا، اسی نوخیز عشق اور جنس کی دھیمی آنچ کی مظہر ہیں۔ آخری مجموعے ’’انکار‘‘ میں بھی یہی کیفیت اس کی نظموں کا محور ہے۔
موضوع سخن اور نفس مضمون اس وقت شعری اظہار کی جان بنتے ہیں جب اس اظہار میں خوبصورتی پائی جاتی ہو۔ پروین شاکر کی نظم کا یہی ماجرا ہے۔ مندرجہ بالا نظم کے تو محض آخری چند مصرعے ہی جمالیاتی اظہار کی اکائی نہتے نظر آتے ہیں لیکن خوشبو سے انکار تک نوخیزی عشق اور نوخیز جنسی تجربے کے احساس اور اظہار کی نظمیں خوبصورت ہیں اور یہی جمالیاتی اظہار ہے جس کے سبب پروین شاکر کی مقبولیت محض نوخیز لوگوں تک اور نوجوانوں یا ٹین ایجرز تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر عمر کے قاری نے اس کی شاعری میں کشش محسوس کی تھی۔ پروین کی ساری نظمیں یا بیشتر نظمیں آزاد نظم کی ہیئت میں ہیں مگر ان میں وہ نغمگی ہے جو پابند نظموں کی نغمگی کے ہم پلہ ہے۔ پروین کی یہ شاعری موضوع کے اعتبار سے نسوانی احساس کی شاعری ہے جب کہ اظہار کی سطح پر بھی اس تمام ماجرے کو بیان کرنے میں پروین کو کومل لفظ عطا ہوئے ہیں اس لیے اس کی اکثر نظمیں دل میں گھر کرلیتی ہیں اور یہ اس کے اظہار کی خوبصورتی ہی ہے جس نے محدود موضوعات کے باوجود پروین شاکر کی شاعری کو مقبول عام بنا دیا تھا۔

تاہم اس مرحلے پر مجھے پروین شاکر کی سوچ اور اس کی شاعری میں ایک نوعیت کی دوئی کا ذکر کرنا ہے۔ پروین کی اس سوچ میں جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتابوں کے دیباچوں میںکیا ہے اور اس سوچ میں جوان کے تخلیقی اظہار کا حصہ بنی مجھے دوئی نظر آتی ہے۔ اپنے دیباچوں کے اعتبار سے انہیں ایک قادر الکلام شاعرہ ہونے کے ساتھ (بہ اعتبار غزل اور نثر) ان کے شعری موضوعات میں بھی بلوغت نظری نظر آنی چاہیے تھی اور موضوعات میں پھیلاؤ ہونا چاہیے تھا مگر ان کے کلام میں خصوصاً خود کلامی اور انکار میں کچھ موضوعات اپنے جھلک تو دکھاتے ہیں لیکن ان میں وہ وسعت نظری اور بلوغت فکر نہیں ہے جو ان موضوعات کا تقاضہ ہے۔ اسی لیے شعری اظہار میں بھی کچا پن نظر آتا ہے۔

اس ضمن میں یوں ہے کہ اپنے رومانی طرز اظہار اور موضوعات کے ساتھ اپنی شاعری میں پروین شاکر نے بے زمینی کے دکھ کو بھی موضوع بنایا ہے یعنی اردو بولنے والوں کو فرزند زمین ماننے سے سندھ کے مخصوص ذہن کے لوگوں کی طرف سے انکار پر بھی اظہار خیال بہ صورت نظم کیا ہے۔ ان کی نظمیں جو ان کے مجموعۂ شعر ’’انکار‘‘ میں شامل ہیں بہ عنوان ’’سندھ کی بیٹی کا سوال‘‘ اور ’’فرزند زمین‘‘ اسی موضوع اور احساس کا اظہار ہیں علاوہ ازیں وطن عزیز کے حوالے سے اور خصوصاً ماضی میں فوج کے قابل تنقید کردار کے بارے میں ان کی نظمیں ’’بہار ابھی بہار پر ہے‘‘ اور ’’شہزادی کا المیہ‘‘ قابل ذکر ضرورہیں۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں اہل علم و صحافت پر کوڑوں کی سزا کے موضوع پر ٹکٹکی نامی نظم یا ’’روز سیاہ‘‘ یا ’’کتوں کا سپاس نامہ‘‘ پروین کے یہاں موضوعات کی وسعت کا اشاریہ ہیں مگر یوں ہے کہ یہ ساری نظمیں احساس کی گہرائی اور بلاغت فکر سے عاری نظر آتی ہیں اسی لیے ان کے اظہار میں بھی وہ خوبصورتی نہیں جو عمومی طور پر پروین شاکر کی شاعری کا حصہ ہے۔ مجھے افسوس کی منزل سے یہ سوچ کر گزرنا پڑا کہ وہ بلاغت فکر جو پروین کے دیباچوں میں ہے وہ اس کی شاعری کا حصہ کیوں نہیں بن پائی۔ میں اپنے اس افسوس کا ماجرا بیان کرنے کے لیے پروین شاکر کے دیباچوں کی تحریر سے کچھ ٹکڑے پیش کرنا چاہتا ہوں جہاں بلوغت فکر نظر آتی ہے مگر جوان کی شاعری میں نہیں آئی۔

ملاحظہ فرمائیں:
’’صد برگ تک آتے آتے منظر بدل چکا تھا۔ میری زندگی کا بھی اور اس سرزمین کا بھی جس کے ہونے سے میرا ہونا ہے۔ رزم گاہ جہاں میں ہم نے کتنے معرکے ایک ساتھ ہارے اور بہت سے خوابوں پر اکھٹے مٹی برابر کی۔ شام غریباں کی پینٹنگ کیسی بنے گی؟ کوفہ شہر کے منارے سبز تو نہیں ہوسکتے نا۔ سچائی جب مخبروں میں گھر جائے تو گفتگو علامتوں کے سپرد کردی جاتی ہے۔‘‘
(’’صد برگ‘‘ کے انتسابی جملے)
’’گریز پالمحوں کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پر ہوا کے بازو تھامے ایک لڑکی کھڑی ہے اور سوچ رہی ہے کہ آپ سے کیا کہے۔ برس بیتے گئی رات کے سناٹے میں اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اس پر اس کے اندر کی لڑکی منکشف کردے۔ مجھے یقین ہے یہ سن کر اس کا خدا اس دعا کی سادگی پر ایک بار تو ضرور مسکرایا ہوگا (کچی عمر کی لڑکیاں یہ نہیں جانتیں کہ آشوب آگہی سے بڑا عذاب زمین والوں پر آج تک نہیں اترا) پر وہ اس کی بات مان گیا اور اسے چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہر ہزار در کا اسم عطا کردیا گیا … شہر ذات … کہ جس کے سب دروازے اندر کی سمت کھلتے ہیں اور جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘
(خوشبو)
یہ بلوغت احساس و اظہار اور تفکر کی یہ لہریں جو پروین شاکر کی نثر میں موجود تھیں اس طرح ان کے کلام میں جلوہ گر نہیں ہوسکیں جس طرح توقع کی جاسکتی تھی۔ تاہم جذبہ واحساس کی لہروں کی فراوانی ان کے کلام کا حصہ ضرور بن گئی۔ اور کیونکہ شاعری کی اصل تعریف یہی ہے کہ ’’وہ کلام جو جذبہ اور احساس کی شدت سے تخلیق ہوتا ہے اور جس میں جذبے اور احساس کی کروٹیں محسوس ہورہی ہوتی ہیں شاعری کہلاتا ہے۔‘‘ اس لیے پروین شاکر شاعری تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور پڑھنے والوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ کیا ہے اگر وہ تفکر اور تعقل کی سرحدیں عبور کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی اور موضوعات کی وسعت محض برائے وسعت ہی رہی اور یوں ہوا کہ ’’خوشبو‘‘ کے دیباچے کا یہ جملہ درست ثابت ہوتا چلا گیا کہ وہ لڑکی شہر ذات میں داخل ہوئی اور پھر واپس نہ آسکی۔ مگر یوں بھی ہوا کہ اس شہر ذات کی ایسی ایسی شبیہیں اس نے اپنی شاعری میں پیش کیں اور کلیڈا اسکوپ کی طرح ایسے خوبصورت نقش اس نے ابھارے کہ شاعری کا حق ادا کردیا یعنی اس شاعری کا جو شہر ذات سے شروع ہوتی ہے اور وہیں تک ختم ہوجاتی ہے۔ اس لڑکی نے اگر باہر دیکھا تھا تو بہت کم دیکھا۔ اس نے شہر ذات میں ایک نوخیز لڑکی طرح جو کچھ دیکھ لیا وہ کسی اورکے حصے میں بہت کم آیا۔ نسائی احساس کی اتنی غنائیت سے بھرپور شاعری دوسری خواتین شعرا کو کم ملی کیونکہ یہ غنائیت لفظوں اور اظہار کی خوبصورتی سے نہیں برآمد ہوئی بلکہ نوخیزی عشق اور نوخیزیٔ جذباتِ جنسی کے اظہار سے مرتب ہوئی ہے۔

تاہم اس کے علاوہ بھی پروین شاکر کے کلام میں خوبصورت نظمیں ستاروں کی طرح چمکتی اور جھلملاتی نظر آتی ہیں۔ نظم خوشبو، نظم خود کلامی کے علاوہ، نئی رات، کوئی رات کی رانی سے یہ کہہ دے، خوبصورت نظمیں ہیں۔ ’’مشترکہ دشمن کی بیٹی‘‘ خوبصورت اور فکر انگیز نظم ہے۔
سو یوں ہے کہ پروین شاکر کی نظم کی شاعری میں خوبصورتی جذبہ وا حساس کی ان لہروں کے سبب ہے جو پڑھنے والے کو محسوس ہوتی ہیں اور یہ کہ پروین کی شاعری میں جذبہ و احساس کی شدت ایمائیت، شعری اصطلاحات اور استعارہ اور علامت سے ترتیب پاتی ہے۔ جہاں جہاں یہ التزام نہیں ہے وہاں پروین کی شاعری میں بے رنگی آگئی ہے۔ اسی لیے پروین شاکر کی نثری نظموں میں اکثر ایک طرح کی بے رنگی ہے۔
اس مضمون کے اختتامی مرحلے پر پروین شاکر کے کلام میں دوئی کی ایک اور صورت کا ذکر ضروری ہے جو دیگر شاعروں کے یہاں بھی پائی جاتی ہے یعنی نظم اور غزل کی جمالیات کی دوئی۔ پروین شاکر کی شاعری کے ضمن میں اس دوئی کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ نظم اور غزل کی جمالیاتی سطح میں جتنا فرق پروین کے یہاں ہے اتنا بہت کم ہوا کرتا ہے۔ منتخب نظموں کو چھوڑ کر یہ فرق بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح نثری نظموں میں پروین شاکر کی شاعری مکمل بے رنگی کا شکار نظر آتی ہے اسی طرح اس کی بہت سی نظمیں بے رنگ ہیں۔ تاہم اس فرق کے احساس سے یہ بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ پروین شاکر کی غزل خوبصورت غزل ہے۔ وہ اپنا ذاتی اسلوب تو نہیں بنا سکی مگر خوبصورت غزل کی تخلیق میں کامیاب نظر آتی ہے۔ پروین کی غزل میں جہاں اکثر لفظوںکے دروبست سے یہ جھلک رہا ہو کہ یہ کلام کسی عورت کا کلام ہے یعنی نسائی احساس اشعار سے جھلکتا ہو بہت خاصے کی چیز ہے۔ پروین کی غزل پر مضمون مجھ پر قرض ہے۔

چلتے چلتے پروین شاکر کی نظم کے حوالے سے ایک بات اور یاد آگئی جس کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ اس نظم سے ایک بڑی شخصیت قرۃ العین حیدر کا تعلق ہے اور جس نظم پرقرۃ العین حیدر ناراض ہوئیں اور پروین شاکر نے اسے تنازعہ بنا دیا۔ اس واقعے اور اس نظم سے پروین شاکر کی خود پسندی کا پہلو بھی عیاں ہوتا ہے۔ ہوا یوں کہ 70 کی دہائی کے آخری دنوں میں پروین بمبئی گئیں۔ قرۃ العین سے ملیں اور ان کے لیے ایک نظم لکھ کر پاکستان آکر شائع کرادی۔ نظم میں ایک عظیم عورت کا ذکر تھا جس کی محرومیاں کوئی نہیں سمجھتا۔ نظم میں بین السطور جنسی محرومی کا تاثر بھی تھا۔ قرۃ العین تک یہ نظم پہنچی تو وہ بہت برافروختہ ہوئیں اور رسالے کے مدیر نسیم درانی کو اس نظم کی اشاعت پر سرزنش بھی کی۔ یہ نظم اچھی تھی اگر اس کا عنوان ’’قرۃ العین حیدر‘‘ نہ ہوتا۔ خود پسندی کی بات یہ ہے کہ پروین شاکر نے قرۃ العین حیدر کی شخصیت پر اپنی شخصیت کا قیاس کیا۔ خود پسندی شاعر کے لیے ضروری ہے مگر اپنے پرقیاس کرنا ٹھیک نہیں۔ اب وہ دونوں ہی دنیا میں نہیں ہیں مگرذکر باقی ہے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون وجود - هفته 25 جنوری 2020

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ(ٹی بی آئی)کی تشخیص کی گئی ہے ۔ ایک ترجمان کے مطابق فی الحال 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔لیک...

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی وجود - هفته 25 جنوری 2020

ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں 19افراد ہلاک، 750 سے زائد زخمی جبکہ 30افراد لاپتہ ہوگئے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کے صوبائی گورنر نے کہا کہ مشرقی صوبے الازگ میں زلزلے سے 19افراد ہلاک اور 750سے زائد زخمی ہوگئے ،مزید ...

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران وجود - جمعه 24 جنوری 2020

ایران نے مشرق وسطی کو درپیش مسائل کے حل اور خطہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر وجود - جمعه 24 جنوری 2020

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر26 ہوگئی جبکہ830 افراد متاثر بھی ہوئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوروناوائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے قریب 7شہروں میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی جب کہ شہریوں کو جھیلوں، دریائوں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ۔عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے ۔ حکام نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی وبا ئوقرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلا پر کڑی نظر رکھی جارہی ...

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

ایران کی پیراملٹری فوج بسیج کے کمانڈرعبدالحسین مجدمی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمانڈرعبدالحسین مجدمی کوصوبہ خوزستان کے شہردرخوین میں گھرکے سامنے نقاب پوش افراد نے نشانہ بنایا۔ پیراملٹری فوج کے سربراہ عبدالحسین مجدمی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھی تھے ۔ موٹرسائیکل پر سوار دو بندوق برداروں نے حملہ کیا، حملہ آوروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور چار گولیاں چلائی گئی ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس ...

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ، چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارن...

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کربرہم ہو گئے ۔ ایمانویل میکرون نے انگریزی میں ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے کہا کہ باہر جائوجو تم نے میرے سامنے کیا وہ بالکل پسند نہیں آیا، سب کو رولز معلوم ہیں ناں؟ یہ قواعد صدیوں سے ہیں، میرے ساتھ فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے ، قانون کا احترام کریں ۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے ، 1967 ء میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فران...

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار وجود - بدھ 22 جنوری 2020

بھارتی بزنس مین مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ، 2019 میں ان کی دولت 58.4 ارب ڈالر رہی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کے 15 ارب پتی شخصیات کی مجموعی دولت 197.8 ارب ڈالر کے برابر ہے ۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں متعدد بھارتی ارب پتی شخصیات کی دولت میں کمی ہوئی لیکن مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ۔15عشاریہ 3ارب ڈالر کے ساتھ بھارتی صنعت کار شیونادر دوسرے نمبر پر رہے ، جبکہ بھارت کے تیسرے امیر ترین شخص بی...

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران وجود - بدھ 22 جنوری 2020

ایران کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو بزدلانہ حملے میں شہید کرنے والے امریکا پر مردانہ وار کارروائی کرکے جواب دیں گے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ امریکا نے بزدلوں کی طرح حملہ کرکے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا ہے جس کا ہم مردوں کی طرح بہادری سے جواب دیں گے ۔قدس فورس کے سربراہ نے کہا کہ ایران امریکا کی طرح پیچھے سے بزدلانہ وار نہیں کرتا بلکہ مردوں کی طرح سا...

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق وجود - بدھ 22 جنوری 2020

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا ، امریکی حکام کی جانب سے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہ...

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار وجود - منگل 21 جنوری 2020

  وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے بارے میں حتمی اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ا نہوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے صدرٹرمپ خود ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔اس فیصلے کے حوالے سے وقت ایک اہم عنصرہوگا کیونکہ اس معاملے میں تاخیرامریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس منصوبے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔وائٹ ہائوس نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امن سے خوشحالی کے نام...

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار