وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پروین شاکر نوخیز جذبوں کی شاعرہ

اتوار 07 جنوری 2018 پروین شاکر  نوخیز جذبوں کی شاعرہ

بیسویں صدی میں اقبال اور جوش سے شروع ہونے والی اردونظم کی پرعظمت شاعری کا تسلسل نصف صدی کے بعد تک بغیر تعطل کے جاری رہا اور فیض گویا اس کلاسیکی روایت کے آخری امین ٹھہرے۔ 1950ء کی دہائی سے ذرا پہلے انگریزی شاعری کے براہ راست اثر کے تحت نظم کی نئی ہیئت آزاد نظم کی صورت میں وجود میں آئی جو اردو نظم کا تسلسل ہی تھا مگر ہیئت کی تبدیلی کے سبب سے افکار و خیال میں اور ان کے اظہار میں بھی تبدیلی بہرحال رونما ہوئی۔ آزاد نظم کی اس نئی روایت کا آغاز پاکستان میں ن م راشد اوربھارت میں غلام ربانی تاباں نے بیک وقت کیا تھا جس کے ساتھ ہی تصدق حسین خالد اور میرا جی نے اس کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ کیا تھا۔ انگریزی شاعری کے اثرات میں مزید وسعت 60 کی دہائی کے آخری حصے میں آئی جب فکر و تخیل میں اور شاعری کے موضوعات میں تبدیلی کے ساتھ مختصر بلکہ مختصر ترین نظموں کی نئی ہیئت سامنے آئی جب کہ خواتین شعراء کے کلام میں نسائی احساس اور نسائیت کی تحریک کے اثرات نمایاں ہوئے۔ اس کیفیت اظہار کی نمائندہ شاعرات میں فہمیدہ ریاض کے بعد پروین شاکر کا نام آتا ہے۔ اس سے بہت پہلے ادا جعفری نسائی احساس کی شاعری کی بنیاد رکھ چکی تھیں مگر انہوں نے خود کو محدود نہیں کیا تھا۔

متذکرہ دونوں تبدیلیوں کی نمائندہ شاعری فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر کے کلام کے بنیادی اوصاف میں شامل ہے۔ اس سے قبل نسائی اظہار کی شاعری کے اثرات زہرہ نگاہ اور کشور ناہید کے یہاں پائے جاتے تھے مگر پروین شاکر نے نسائی احساسات میں خصوصاً عورت کے جنسی احساسات کے اظہار کو نرم لفظوں میں بیان کرکے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ واضح رہے کہ وہ نسائی شاعری تک محدود رہیں اور فہمیدہ ریاض کی طرح نسائیت کی شاعرہ نہیں بن سکیں۔ تاہم فہمیدہ ریاض کے بعد پروین شاکر 70 کی دہائی میں بہت مقبول شاعرہ ثابت ہوئی تھیں۔

پروین شاکر کی مقبولیت کا بڑا سبب نازک نسوائی احساسات کے اظہار سے لبریز شاعری تھی مگر مختصر نظم میں بھی پروین شاکر کو اختصاص حاصل تھا۔ مختصر نظم کا طریقۂ اظہار 60 کی دہائی کے آخری حصے میں رائج ہوچکا تھا مگر اکثر نظمیں جو مشاعروں میں سنائی جاتی تھیں ان میں اظہار کے تاثر میں اتنی کمی پائی جاتی تھی کہ شاعر کو بتانا پڑتا تھا کہ حضرات نظم ختم ہوگئی ہے۔ اسی طرح جو نظمیں شائع ہوتی تھیں ان میں تاثر اور تاثر اظہار میں کمی کے باعث شدید تشنگی کا احساس ہوتا تھا۔ پروین شاکر کو فخر حاصل تھا کہ اس کی مختصر نظمیں جو تین مصرعوں سے سات آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہوتی تھیں تاثر سے خالی نہیں ہوتی تھیں اور ان میں اکثر کسی خیال کے اظہار کی تکمیل نظر آتی تھی۔ یہ دراصل جدید انگریزی شاعری کے براہ راست اثرات کا مسئلہ تھا۔

مختصر نظموں کی صورت میں کسی خیال کی فوری اور تنہا لہر کو گرفت میں لانے کی یہ کیفیت پروین شاکر کے شعری اظہار میں غزل کے ساتھ ساتھ ابتدا سے وجود میں آگئی تھی۔ مختصر نظموں کی مختصر ترین صورت پروین کے پہلے مجموعۂ کلام ’’خوشبو‘‘ میں زیادہ نظر آتی ہے تاہم یہ سلسلہ ’’خود کلامی‘‘ اور پھر آخری مجموعہ شعری انکار تک جاری رہا اور پسند کیاگیا تھا۔ تاہم اس پسندیدگی کا سبب محض اختصار نہیں تھا بلکہ ان نظموں کا نفس مضمون تھا جہاں کسی نو خیز لڑکی کے رومانی احساسات کی لہروں کو قلم بند کیا گیا تھا۔ مختصر نظموں کا سلسلہ جب وسیع ہوا تو اس میں کہیں کہیں جنسی احساس کی لطیف لہریں بھی نظر آئیں۔ اس طرح پروین شاکر کی شاعری میں مختصر نظم نوجوان نسل بلکہ نو خیز نسل میں مقبولیت کا سبب بنی۔ واضح رہے کہ جنسی احساسات کے بارے میں نوخیز جذبوں کے اظہار کے شیدائی ہر عمر کے قاری میں اور خصوصاً غیر سنجیدہ قاری میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور سنجیدہ قاری کی مخصوص تعداد بھی اس کی اسیر ہوتی ہے۔ سو پروین شاکر کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 70 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے۔ مگر پروین شاکر کی مقبولیت میں ان کی غزل کے اشعار کے ساتھ اس زمانے کے معروف ٹی وی اینکرز کا بڑا حصہ تھا۔ اس وقت صرف ایک ہی چینل یعنی PTV ہوا کرتا تھا جس کے معروف معدودے چند اینکرز طارق عزیز، دلدار پرویز بھٹی سمیت موقع بے موقع پروین شاکر کے اشعار سنایا کرتے تھے۔

ابھی میں نے یہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے کہ پروین شاکر کی غزل کے اشعار ٹی وی اینکرز کی جانب سے بار بار پڑھے جانے کے سبب اس کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بنے تھے اور اس سے قبل میں نے یہ عرض کیا ہے کہ رومان اور نوخیز محبت نازک جنسی جذبات اور اس سے ملحق احساسات سے مملو پروین شاکر مختصر اورنسبتاً مختصر نظمیں کی مقبولیت بلکہ ایوان ادب میں اس کی پہلی شناخت کا سبب بنی تھیں۔ اب میں نظم اور غزل کو علیحدہ علیحدہ مقبولیت کا سبب بتانے یعنی ان دونوں باتوں کے ظاہری تضاد اس کو ختم کرنے کے لیے یہ عرض کرتا ہوں کہ غزل کے اشعار میں بھی پروین شاکر کے وہی اشعار زبان زد خاص و عام ہوئے تھے جن میں جنسی احساس کی خفی یا جلی لہر موجود تھی۔ مثلاً ؎
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھیلتیں
صبح میرے جوڑے کی ہر کلی سلامت تھی
گونجتا تھا خوشبو میں رات بھر کا سناٹا
ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا
وہ رات پھر مجھے سوتے میں ڈسنے آئے گا
وہ جانتا ہے کہ کھلتا ہے مجھ پہ زہر کا رنگ
کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک
جسم برسات میں بھیگے ہوئے جنگل کی طرح
پروین شاکر کی مقبولیت کے مسلم ہونے میں مہدی حسن کی آواز کا بڑا حصہ ہے جب کہ مہدی حسن کی گلوکاری تک پروین شاکر کی رسائی میں ٹی وی اور ٹی وی اینکرز کا بڑا دخل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پروین شاکر اپنے آخری مجموعے انکار تک آتے آتے اپنی غزل کے حوالے سے پہچانی جانے لگی تھی لیکن پروین کی پہلی پہچان نظم ہی تھی میں نے پروین شاکر کی نظم کو اپنا موضوع اسی لیے قرار دیا ہے کہ نظم میں پروین شاکر اپنا الگ تشخص رکھتی ہے جب کہ غزل میں چند مقبول غزلوں اور معدودے چند اشعار کے علاوہ اسے اختصاص حاصل نہیں ہے کیونکہ اس کی غزل کا اپنا الگ کوئی اسلوب نہیں ہے بلکہ الگ لہجہ بھی مرتب نہیں ہونے پایا تھا۔

نظم میں پروین شاکر کے اختصاص کے محور اور اس کی اساس یعنی اس کے موضوع سخن اور رومانی احساسات کے بے باکانہ اظہار کی بات میں ابتدا ہی میں کرلی تھی مگر وہ اجمالی بیان تھا جسے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے۔ یعنی پروین کے موضوع سخن اوربے باک اظہار کی تفصیل کے لیے اس کی نظموں کے حوالے بھی ضروری ہیں مگر اس سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں پروین شاکر کو نسائی احساس کے اظہار تک محدود رہنے والی شاعرہ اور نسائیت کی شاعرہ نہ بن سکنے کی بات کیوں کرتا ہوں۔

سو اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہر چند اردو کی شعری روایت میں خواتین کا نام یعنی خواتین شعرا کا نام بیسویں صدی کے آخری نصف حصے میں بار سماعت ہو پایا اور اس سے قبل انیسویں صدی میں مہہ لقا چندا بائی اور بیسویں صدی کی ابتداء میں علامہ اقبال کے زمانے میں صرف ز خ ش (زاہدہ خاتون شیروانیہ) کا نام ہی ملتا ہے۔ یا مذہبی شاعری میں روپ کماری کا نام مستند ہے مگر 40 کی دہائی میں 1936ء کی ترقی پسند تحریک کے باضابطہ اعلان و ترویج کے بعد سے آج تک اردو میں خواتین شاعرات کی خاصی تعداد سامنے آئی تھی تاہم اس فہرست کو بھی تین ذیلی فہرستوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے یعنی خواتین کی شاعری، نسائی شاعری اور نسائیت کی شاعری۔ پہلی نوعیت میں وہ شاعری ہے جو خواتین نے تخلیق کی تاہم اگر نام حذف کردیا جائے تو اسے خاتون کی شاعری سمجھنے کا کوئی احتمال نہیں رہتا۔ اس شاعری کا تعلق فارسی شاعرہ زیب النسا سے آج تک گھریلو خواتین کی وہ شاعری ہے جو مختلف اہل قلم خاندانوں کی خواتین کرتی چلی آئی ہیں۔ تاہم اس شاعری میں عظمت کی راہ اس طرح نکلتی ہے کہ وہ شعری اظہار جو زندگی کے بارے میں شاعر کے حسی اورمشاہداتی تجربات سے رونما ہونے والے جذباتی اور حسیاتی یا احساساتی ردعمل سے وجود میں آتا ہے اس کی اکثریت صنفی احساسات سے ماورا ہے یعنی شاعری کی مجموعی اعلیٰ صورت اس بات سے عاری ہے کہ تخلیق کار مرد ہے یا عورت۔ ایسی شاعری کے ضمن میں البتہ 40 کی دہائی کے آخر میں خواتین شعرا کے یہاں اظہار میں تانیث کا صیغہ استعمال ہونے لگا تھا (اسے اختر شیرانی کا اثر بھی کہا جاسکتا ہے) جس سے پہچان کی عمومی شکل میں آسانی فراہم ہوئی تھی۔ شاعری کی اعلیٰ اقدار اور اعلیٰ شعری اظہار میں نسوانی احساس کی شرط کو لازم نہ سمجھنے والی سب سے بڑی شاعرہ کے طور پر ادا جعفری کا نام لیا جاتا ہے جب کہ اس مختصر فہرست میں سحاب قزلباش، زہرہ نگاہ، شہناز مزمل اور صفیہ ملیح آبادی کے نام آتے ہیں۔

دوسری فہرست میں ان خواتین کے نام ہیں یا ایسی شاعری ہے جس میں خالص نسائی احساسات جذبات کے نازک مرحلوں کا اظہار کیا گیا ہے جسے پڑھ کر صاف پتا چل جاتا ہے کہ تخلیق کار عورت ہے۔ اس شاعری کو نسائی شاعری کہا جاتا ہے تاہم خاتون شاعر پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ نسانی احساسات کے اظہار تک محدود رہے بلکہ ایسی شاعرات کی اکثر شاعری ان کے صنفی احساسات سے ماورا بھی نظر آتی ہے۔

خاتون شعرا کی شاعری کی تیسری نوعیت وہ شاعری ہے جس میں عورت کے شخصی وجود ہونے کا اظہار بھی ہے اور شعری اظہار میں مردانہ معاشرے کے کسی بھی جبر کو نا مانتے ہوئے ہر اس موضوع پر گفتگو کا ادعا ہے جو معاشرے میں شجر ممنوعہ کہلاتا رہا ہے۔ شاعری کی یہ نوعیت جو مغرب کی نسائیت کی تحریک کے اثرات کے تحت رونما ہوئی ہے دراصل اس شعری اظہار پر مشتمل ہے جو عورت کے ہر نوعیت کے استیصال یعنی جنسی اور شخصی استیصال سے فکری استیصال تک کے خلاف احتجاج اور فریاد اور اس کے خلاف بغاوت پر دلالت کرتاہے۔ اس تحریک کے ابتدائی مراحل میں مغربی ادب میں ورجینیا وولف اور جیمس جوائس کا نام آتا ہے اور اس کی انتہائی شکل میں مغربی شاعرہ اور ادیبہ سلویا پلاتھ کا نام سب سے زیادہ اہم ہے۔
(سلویا پلاتھ کی زندگی کا اختتام خودکشی پر ہوا تھا)

ان تعریفات کی روشنی میں پروین شاکر کی نظم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس نے اول اول نو خیز لڑکی کے نو خیز رومانی جذبات کو مختصر نظموں کی صورت میں قلم بند کیا اور پھر خالص نسوانی احساسات کی ترجمانی کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے نسبتاً طویل نظموں میں اپنے اظہار کو جاری رکھا۔ پروین شاکر کی شاعری کے اولین دور میں اپنی شاعری میں (جو اس کے پہلے مجموعے خوشبو کا حصہ ہے) نوخیز جذبوں سے آگے بڑھ کر نازک نسوانی احساسات اور پھر جنسی جذبے اور احساس کے اظہار کی شاعری کی۔ جس میں جنسی احساس اور اس کی تسکین کی صورت میں حاصل ہونے والی سرشاری کو بھی قلم بند کیا۔ پروین شاکر کی شاعری کا یہی دور اس کی شناخت اور مقبولیت کا دور ہے جس کا تسلسل آخری عمر تک یعنی اسلام آباد میں اس کی حادثاتی موت تک جاری رہا۔ اس پہلے دور کی شاعری میں اس نوعیت کے اظہار تک وہ بہت جلد پہنچ گئی تھی اور اس منزل پر ابتدا میں ان کا اظہار سادہ تھا مگر جلد ہی استعاراتی طرز اور تراکیب لفظی کی خوبصورتی اس میں شامل ہوگئی۔

اس بات کو محسوس کرنے کے بعد کہ ایک نوجوان شاعرہ کی طرف سے ایکسئیسی کے اتنے کھلے اظہار کی اس نظم نے ستر کی دہائی میں کیا دھوم مچائی ہوگی اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پروین شاکر کا اختصاص یہی رہا تھا اور ہے۔ تاہم جب اس کی عمر اور شعور میں اضافہ ہوا تو یہ اظہار بھی علامت اور استعارہ کے پیرہن اختیار کرتا چلا گیا اور موضوعات سخن میں وسعت آئی تھی مگر پروین شاکر نسائیت کی شاعری تک نہیں پہنچی اور نسائی شاعری تک محدود رہی۔ نسائیت سے ایک قدم بلکہ کئی قدم آگے بڑھ کر جنس کو موضوع بنانے اور اس کے احساسات کا کھل کر اظہار کرنے کی باغیانہ صفت اس کی شاعری کا حصہ ضرور بنی تھی مگر عورت کے استیصال کے بارے میں احتجاج اس کی شاعری کا اس طرح حصہ نہیں بنا کہ اسے نسائیت کی شاعرہ سمجھا جاسکے۔ سو میں اسے نسائی احساس کے اظہار کی بے حجاب شاعرہ کہتا ہوں۔

عہد موجود کی شاعرات میں نسائیت کی تحریک کی ترجمانی کرنے والی شاعرہ فہمیدہ ریاض ہیں۔ اس تحریک کے براہ راست اثرات میں فہمیدہ ریاض کے یہاں بغاوت یعنی سماج کی ان روایات سے بغاوت کا رجحان بلکہ اعلان پایا جاتا رہا ہے جو مردانہ حاکمیت کے مشاعرے نے نافذ کر رکھی ہیں۔ اس سے قبل کبھی کشور ناہید نے نسائیت کا چیمپئن بننے کی کوشش کی تھی مگر وہ بے باک مردانہ لہجے (شاعری میں کم اور گفتگو میں زیادہ) سے آگے نہیں بڑھ پائی تھیں۔

یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اردو میں شاعرات کی اکثریت ادا جعفری کی شعری روایت سے منسلک ہے جہاں نسوانی احساسات یا نسائی طرز اظہار شرط اول نہیں ہے بلکہ شاعری اور اس کی اقدا اور اس کی جمالیات اہم ہیں۔ لاہور میں ثمینہ راجا (مرحوم) یاسمین حمید منصورہ احمد(مرحوم) کے نام اہم ہیں جب کہ کراچی میں شاہدہ حسن، شاہدہ تبسم، پروین حیدر ، معصومہ شیرازی اور رخسانہ صبا قابل ذکر ہیں اور اس روایت کا حصہ ہیں۔ یہ تمام شاعرات پروین شاکر کی طرح شہرت حاصل نہیں کرسکیں کیونکہ انہوں نے جنسی جذبے اوراحساسات کو اس طرح موضوع نہیں بتایا جس طرح پروین شاکر نے بتایا تھا اور پھر یہ بھی ہے کہ ان کے زمانے تک میڈیا کے پھیلاؤ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے پھیلاؤ کے باوجود یعنی ٹی وی چینل کی بہتات کے باوجود اس میڈیا نے ادب اور شعر کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا تھا۔ اور اب وہ اینکر پرسن بھی نہیں رہے جو کسی خاتون شاعر کے اشعار گاہ گاہ سناتے رہتے تھے۔

وہ اینکر پرسن تو نہیں رہے سوائے انور مقصود کے (جو اب اسٹیج ڈرامہ کے حوالے ہوگئے ہیں) مگر ان کے سبب پروین شاکر کی شاعری عوام کے حافظہ کا حصہ بہرحال بن گئی تاہم صرف ایسا نہیں تھا کہ اینکر پرسن کی عنایات کام آئی ہوں بلکہ پروین شاکر کی شاعری میں نو خیز ذہنوں کے ساتھ رومان پسند لوگوں کے لیے بھی جاذبیت موجود تھی۔

پھر یوں ہوا کہ ’’خوشبو‘‘ کی1977ء میں اشاعت اول کے ساتھ ہی مہدی حسن کی آواز نے پروین شاکر کی مقبولیت میں عوامی مقبولیت کا رنگ بھر دیا اور ہم جیسے اہل ادب نے اپنے تئیں سوچ لیا کہ اب پروین شاکر کے یہاں نو خیز عشق اور جنسی تجربے کی نوخیزیت کا زمانہ ختم ہوجائے گا اور ان کی غزل میں جو بلوغت فکر نظر آنے لگی تھی وہی ان کی نظم میں بھی نظر آنے لگے گی۔ مگر ان کے دوسرے مجموعے ’’صد برگ‘‘ میں ان کی یہ نظمیں محل نظر بنیں تو پتہ چلا کہ نوخیز عشق کی چاہت اور نو خیز جنسی تجربے کی حدت پروین کی شاعری کا مستقل موضوع بن چکے ہیں۔ یہ نظمیں ملاحظہ کریں جس کے توسط سے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ عشق نوخیز اور جنسی تجربے کے نازک احساسات کا اظہار میں اس کے آخری مجموعے ’’انکار‘‘ تک تسلسل پایا جاتا ہے۔ جذبہ اوراحساس اور اس کے اظہار کی نوخیزیت کو تاحیات برقرار رکھنا یا اس کا برقرار رہنا ساری تنقیدی روش کا ہدف ہونے کے باوجود پروین کے کلام کی ایک منفرد صفت ٹھہرتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
وصال

خمار لذت سے ایک پل کو/جو آنکھیں چونکیں/تو نیم خوابیدہ سرخوشی میں/غرور تاراجگی نے سوچا/خدائے برتر کے قہر سے /آدم و حوا/بہشت سے جب بھی نکلے ہوں گے/سپردگی کی اسی انتہا پر ہوں گے/اسی طرح ہم بدن اور ہم خواب و ہم تمنا/
سپردگی
زمین اپنے قدیم محور کے گرد رقصاں ہے/اور فضا میں/کسی پراسرار سرخوشی کا سرور اس طرح/بہہ رہا ہے/کہ جیسے باد شمال نے جھوم کر ہرے موسموں/کے تن میں/کہیں رگ تاک کھول دی ہو/نظر سے اوجھل کوئی خوشی ہے/کہ جسم کی پور پور کو چھو رہی ہے آکر/لہو کی نیلی صداقتوں میں اترنے والی گلابی لذت/مرا بدن چومنے لگی ہے/ آب و آتش بہم ہوئے ہیں/ ہوانے مٹی کے سامنے سر جھکا دیا ہے

پروین کی ان نظموں کو پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر میرا ادعا یہ ہے کہ نوخیزی عشق اور اس میں جنس کے نوخیز تجربے کی آنچ سے ہی پروین شاکر نے شاعری تخلیق کی اور اس کی شاعری کا یہ ڈھب اس کی شاعری کی ابتدا سے انتہائی دنوں تک یعنی ’’خوشبو‘‘ سے ’’صد برگ‘‘ اور پھر خود کلامی اور آخری مجموعے انکار تک موجود ہے اور جس طرح ہر شخص میں ایک بچہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اسی طرح پروین شاکر کے یہاں ایک نوخیز لڑکی ہمیشہ زندہ رہتی۔ عملی زندگی میں البتہ ایسے زمانے بھی آئے جب شاید پروین نے ایک جہاں دیدہ عورت کی طرح اپنے حسن کا خراج بھی حاصل کیا یا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی شاعری میں ہمیشہ ایک نوخیز اور عشق شعار لڑکی ہمیشہ موجود رہی جو محبوب کی تمنا میں خود کو سپردگی کی منزل سے گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ’’خود کلامی‘‘ میں موجود نظمیں ’’سرشاری‘‘، بے بسی کی نظم، بے یقینی کی نظم اور، پھر پھولوں کا کیا ہوگا، اسی نوخیز عشق اور جنس کی دھیمی آنچ کی مظہر ہیں۔ آخری مجموعے ’’انکار‘‘ میں بھی یہی کیفیت اس کی نظموں کا محور ہے۔
موضوع سخن اور نفس مضمون اس وقت شعری اظہار کی جان بنتے ہیں جب اس اظہار میں خوبصورتی پائی جاتی ہو۔ پروین شاکر کی نظم کا یہی ماجرا ہے۔ مندرجہ بالا نظم کے تو محض آخری چند مصرعے ہی جمالیاتی اظہار کی اکائی نہتے نظر آتے ہیں لیکن خوشبو سے انکار تک نوخیزی عشق اور نوخیز جنسی تجربے کے احساس اور اظہار کی نظمیں خوبصورت ہیں اور یہی جمالیاتی اظہار ہے جس کے سبب پروین شاکر کی مقبولیت محض نوخیز لوگوں تک اور نوجوانوں یا ٹین ایجرز تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر عمر کے قاری نے اس کی شاعری میں کشش محسوس کی تھی۔ پروین کی ساری نظمیں یا بیشتر نظمیں آزاد نظم کی ہیئت میں ہیں مگر ان میں وہ نغمگی ہے جو پابند نظموں کی نغمگی کے ہم پلہ ہے۔ پروین کی یہ شاعری موضوع کے اعتبار سے نسوانی احساس کی شاعری ہے جب کہ اظہار کی سطح پر بھی اس تمام ماجرے کو بیان کرنے میں پروین کو کومل لفظ عطا ہوئے ہیں اس لیے اس کی اکثر نظمیں دل میں گھر کرلیتی ہیں اور یہ اس کے اظہار کی خوبصورتی ہی ہے جس نے محدود موضوعات کے باوجود پروین شاکر کی شاعری کو مقبول عام بنا دیا تھا۔

تاہم اس مرحلے پر مجھے پروین شاکر کی سوچ اور اس کی شاعری میں ایک نوعیت کی دوئی کا ذکر کرنا ہے۔ پروین کی اس سوچ میں جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتابوں کے دیباچوں میںکیا ہے اور اس سوچ میں جوان کے تخلیقی اظہار کا حصہ بنی مجھے دوئی نظر آتی ہے۔ اپنے دیباچوں کے اعتبار سے انہیں ایک قادر الکلام شاعرہ ہونے کے ساتھ (بہ اعتبار غزل اور نثر) ان کے شعری موضوعات میں بھی بلوغت نظری نظر آنی چاہیے تھی اور موضوعات میں پھیلاؤ ہونا چاہیے تھا مگر ان کے کلام میں خصوصاً خود کلامی اور انکار میں کچھ موضوعات اپنے جھلک تو دکھاتے ہیں لیکن ان میں وہ وسعت نظری اور بلوغت فکر نہیں ہے جو ان موضوعات کا تقاضہ ہے۔ اسی لیے شعری اظہار میں بھی کچا پن نظر آتا ہے۔

اس ضمن میں یوں ہے کہ اپنے رومانی طرز اظہار اور موضوعات کے ساتھ اپنی شاعری میں پروین شاکر نے بے زمینی کے دکھ کو بھی موضوع بنایا ہے یعنی اردو بولنے والوں کو فرزند زمین ماننے سے سندھ کے مخصوص ذہن کے لوگوں کی طرف سے انکار پر بھی اظہار خیال بہ صورت نظم کیا ہے۔ ان کی نظمیں جو ان کے مجموعۂ شعر ’’انکار‘‘ میں شامل ہیں بہ عنوان ’’سندھ کی بیٹی کا سوال‘‘ اور ’’فرزند زمین‘‘ اسی موضوع اور احساس کا اظہار ہیں علاوہ ازیں وطن عزیز کے حوالے سے اور خصوصاً ماضی میں فوج کے قابل تنقید کردار کے بارے میں ان کی نظمیں ’’بہار ابھی بہار پر ہے‘‘ اور ’’شہزادی کا المیہ‘‘ قابل ذکر ضرورہیں۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں اہل علم و صحافت پر کوڑوں کی سزا کے موضوع پر ٹکٹکی نامی نظم یا ’’روز سیاہ‘‘ یا ’’کتوں کا سپاس نامہ‘‘ پروین کے یہاں موضوعات کی وسعت کا اشاریہ ہیں مگر یوں ہے کہ یہ ساری نظمیں احساس کی گہرائی اور بلاغت فکر سے عاری نظر آتی ہیں اسی لیے ان کے اظہار میں بھی وہ خوبصورتی نہیں جو عمومی طور پر پروین شاکر کی شاعری کا حصہ ہے۔ مجھے افسوس کی منزل سے یہ سوچ کر گزرنا پڑا کہ وہ بلاغت فکر جو پروین کے دیباچوں میں ہے وہ اس کی شاعری کا حصہ کیوں نہیں بن پائی۔ میں اپنے اس افسوس کا ماجرا بیان کرنے کے لیے پروین شاکر کے دیباچوں کی تحریر سے کچھ ٹکڑے پیش کرنا چاہتا ہوں جہاں بلوغت فکر نظر آتی ہے مگر جوان کی شاعری میں نہیں آئی۔

ملاحظہ فرمائیں:
’’صد برگ تک آتے آتے منظر بدل چکا تھا۔ میری زندگی کا بھی اور اس سرزمین کا بھی جس کے ہونے سے میرا ہونا ہے۔ رزم گاہ جہاں میں ہم نے کتنے معرکے ایک ساتھ ہارے اور بہت سے خوابوں پر اکھٹے مٹی برابر کی۔ شام غریباں کی پینٹنگ کیسی بنے گی؟ کوفہ شہر کے منارے سبز تو نہیں ہوسکتے نا۔ سچائی جب مخبروں میں گھر جائے تو گفتگو علامتوں کے سپرد کردی جاتی ہے۔‘‘
(’’صد برگ‘‘ کے انتسابی جملے)
’’گریز پالمحوں کی ٹوٹی ہوئی دہلیز پر ہوا کے بازو تھامے ایک لڑکی کھڑی ہے اور سوچ رہی ہے کہ آپ سے کیا کہے۔ برس بیتے گئی رات کے سناٹے میں اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اس پر اس کے اندر کی لڑکی منکشف کردے۔ مجھے یقین ہے یہ سن کر اس کا خدا اس دعا کی سادگی پر ایک بار تو ضرور مسکرایا ہوگا (کچی عمر کی لڑکیاں یہ نہیں جانتیں کہ آشوب آگہی سے بڑا عذاب زمین والوں پر آج تک نہیں اترا) پر وہ اس کی بات مان گیا اور اسے چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہر ہزار در کا اسم عطا کردیا گیا … شہر ذات … کہ جس کے سب دروازے اندر کی سمت کھلتے ہیں اور جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘
(خوشبو)
یہ بلوغت احساس و اظہار اور تفکر کی یہ لہریں جو پروین شاکر کی نثر میں موجود تھیں اس طرح ان کے کلام میں جلوہ گر نہیں ہوسکیں جس طرح توقع کی جاسکتی تھی۔ تاہم جذبہ واحساس کی لہروں کی فراوانی ان کے کلام کا حصہ ضرور بن گئی۔ اور کیونکہ شاعری کی اصل تعریف یہی ہے کہ ’’وہ کلام جو جذبہ اور احساس کی شدت سے تخلیق ہوتا ہے اور جس میں جذبے اور احساس کی کروٹیں محسوس ہورہی ہوتی ہیں شاعری کہلاتا ہے۔‘‘ اس لیے پروین شاکر شاعری تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئیں اور پڑھنے والوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ کیا ہے اگر وہ تفکر اور تعقل کی سرحدیں عبور کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی اور موضوعات کی وسعت محض برائے وسعت ہی رہی اور یوں ہوا کہ ’’خوشبو‘‘ کے دیباچے کا یہ جملہ درست ثابت ہوتا چلا گیا کہ وہ لڑکی شہر ذات میں داخل ہوئی اور پھر واپس نہ آسکی۔ مگر یوں بھی ہوا کہ اس شہر ذات کی ایسی ایسی شبیہیں اس نے اپنی شاعری میں پیش کیں اور کلیڈا اسکوپ کی طرح ایسے خوبصورت نقش اس نے ابھارے کہ شاعری کا حق ادا کردیا یعنی اس شاعری کا جو شہر ذات سے شروع ہوتی ہے اور وہیں تک ختم ہوجاتی ہے۔ اس لڑکی نے اگر باہر دیکھا تھا تو بہت کم دیکھا۔ اس نے شہر ذات میں ایک نوخیز لڑکی طرح جو کچھ دیکھ لیا وہ کسی اورکے حصے میں بہت کم آیا۔ نسائی احساس کی اتنی غنائیت سے بھرپور شاعری دوسری خواتین شعرا کو کم ملی کیونکہ یہ غنائیت لفظوں اور اظہار کی خوبصورتی سے نہیں برآمد ہوئی بلکہ نوخیزی عشق اور نوخیزیٔ جذباتِ جنسی کے اظہار سے مرتب ہوئی ہے۔

تاہم اس کے علاوہ بھی پروین شاکر کے کلام میں خوبصورت نظمیں ستاروں کی طرح چمکتی اور جھلملاتی نظر آتی ہیں۔ نظم خوشبو، نظم خود کلامی کے علاوہ، نئی رات، کوئی رات کی رانی سے یہ کہہ دے، خوبصورت نظمیں ہیں۔ ’’مشترکہ دشمن کی بیٹی‘‘ خوبصورت اور فکر انگیز نظم ہے۔
سو یوں ہے کہ پروین شاکر کی نظم کی شاعری میں خوبصورتی جذبہ وا حساس کی ان لہروں کے سبب ہے جو پڑھنے والے کو محسوس ہوتی ہیں اور یہ کہ پروین کی شاعری میں جذبہ و احساس کی شدت ایمائیت، شعری اصطلاحات اور استعارہ اور علامت سے ترتیب پاتی ہے۔ جہاں جہاں یہ التزام نہیں ہے وہاں پروین کی شاعری میں بے رنگی آگئی ہے۔ اسی لیے پروین شاکر کی نثری نظموں میں اکثر ایک طرح کی بے رنگی ہے۔
اس مضمون کے اختتامی مرحلے پر پروین شاکر کے کلام میں دوئی کی ایک اور صورت کا ذکر ضروری ہے جو دیگر شاعروں کے یہاں بھی پائی جاتی ہے یعنی نظم اور غزل کی جمالیات کی دوئی۔ پروین شاکر کی شاعری کے ضمن میں اس دوئی کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ نظم اور غزل کی جمالیاتی سطح میں جتنا فرق پروین کے یہاں ہے اتنا بہت کم ہوا کرتا ہے۔ منتخب نظموں کو چھوڑ کر یہ فرق بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح نثری نظموں میں پروین شاکر کی شاعری مکمل بے رنگی کا شکار نظر آتی ہے اسی طرح اس کی بہت سی نظمیں بے رنگ ہیں۔ تاہم اس فرق کے احساس سے یہ بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ پروین شاکر کی غزل خوبصورت غزل ہے۔ وہ اپنا ذاتی اسلوب تو نہیں بنا سکی مگر خوبصورت غزل کی تخلیق میں کامیاب نظر آتی ہے۔ پروین کی غزل میں جہاں اکثر لفظوںکے دروبست سے یہ جھلک رہا ہو کہ یہ کلام کسی عورت کا کلام ہے یعنی نسائی احساس اشعار سے جھلکتا ہو بہت خاصے کی چیز ہے۔ پروین کی غزل پر مضمون مجھ پر قرض ہے۔

چلتے چلتے پروین شاکر کی نظم کے حوالے سے ایک بات اور یاد آگئی جس کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ اس نظم سے ایک بڑی شخصیت قرۃ العین حیدر کا تعلق ہے اور جس نظم پرقرۃ العین حیدر ناراض ہوئیں اور پروین شاکر نے اسے تنازعہ بنا دیا۔ اس واقعے اور اس نظم سے پروین شاکر کی خود پسندی کا پہلو بھی عیاں ہوتا ہے۔ ہوا یوں کہ 70 کی دہائی کے آخری دنوں میں پروین بمبئی گئیں۔ قرۃ العین سے ملیں اور ان کے لیے ایک نظم لکھ کر پاکستان آکر شائع کرادی۔ نظم میں ایک عظیم عورت کا ذکر تھا جس کی محرومیاں کوئی نہیں سمجھتا۔ نظم میں بین السطور جنسی محرومی کا تاثر بھی تھا۔ قرۃ العین تک یہ نظم پہنچی تو وہ بہت برافروختہ ہوئیں اور رسالے کے مدیر نسیم درانی کو اس نظم کی اشاعت پر سرزنش بھی کی۔ یہ نظم اچھی تھی اگر اس کا عنوان ’’قرۃ العین حیدر‘‘ نہ ہوتا۔ خود پسندی کی بات یہ ہے کہ پروین شاکر نے قرۃ العین حیدر کی شخصیت پر اپنی شخصیت کا قیاس کیا۔ خود پسندی شاعر کے لیے ضروری ہے مگر اپنے پرقیاس کرنا ٹھیک نہیں۔ اب وہ دونوں ہی دنیا میں نہیں ہیں مگرذکر باقی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا وجود - هفته 08 جون 2019

لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو مردوں کے ایک گروہ نے مار مار کر لہو لہان کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ کیمڈن ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک چلتی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو بوسہ نہ دینے پر تشدد کا نشانا بنایا گیا، 28 سالہ متاثرہ خاتون گیمونیٹ کا کہنا تھاکہ وہ رات گئے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار تھیں کہ اس دوران مردوں کے ایک جتھے نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور بوسہ لینے کی کوشش کی۔گیمونیٹ نے بتایا کہ بوسہ دینے سے انکار پر اسے اور اس کی دوست کو سرِعام مارا پیٹا گیا ...

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش وجود - هفته 08 جون 2019

جرمنی میں دو ایسے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو ئی جو انتہائی مہلک زہر رائسین سے حملے کے لیے ایک بم تیار کرنا چاہتے تھے۔ ملزمان میں سے ایک تیونس کا شہری ہے اور دوسری اس کی جرمن بیوی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ڈسلڈورف شہر کی انتہائی سخت سکیورٹی والی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت میں شروع ہوئی۔ان دونوں ملزمان کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے آغاز پر استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ 30سالہ تیونسی نژاد ملزم س...

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت وجود - هفته 08 جون 2019

عالمی ادارہ صحت نے جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں مناسب پیش رفت نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ افراد دنیا بھر میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی لپیٹ میں آتے ہیں،دنیا کی مجموعی آبادی میں اوسطاً پچیس فیصد افراد کو کوئی نہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق صحت کے عالمی ادارے نے ہفتے کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ ایسی بیماریوں میں افزائش کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ...

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ وجود - جمعه 07 جون 2019

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے کہاہے کہ جرمنی میں 2018ء کے دوران پندرہ ہزار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانابنایا گیا۔ اس سلسلے میں بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ 2017ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ ہزار کا مطلب ہے کہ اوسطاً چالیس وا...

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات وجود - جمعرات 06 جون 2019

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں زہرآلود فضا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں کیا گیا۔یہ رپورٹ مرکز برائے سائنس اور ماحول (سی ایس ای) نے تیار کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے پانی مہیا کرنے کے 86 فی صد ادارے خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔اس نے ملک کی قابل تجدید توانائی کے لیے پیش رفت کو بھی مایوس کن قرار دیا ہے۔بھارت اپنے شہروں میں آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں ...

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد وجود - جمعه 24 مئی 2019

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی، الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جولین اسانج کو 175برس قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولین اسانج نے خفیہ ذرائع کے نام غیر قانونی طور پر شائع کیے اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی۔حاصل کی گئی معلومات افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق تھیں۔

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم وجود - جمعه 24 مئی 2019

افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔ لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن...

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ وجود - جمعرات 23 مئی 2019

پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاؤ ہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور ...

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

اسرائیلی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصی کے محافظ کو مسجد سے باہر نکلتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان فراس الدبس نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے قبلہ اول کے محافظ علی احمد کو باب الاسباط سے باہر آتے ہوئے ...

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا عارضی پابندیاں ختم کردے تو شمالی کوریا اپنا ایک جوہری پلانٹ مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری شہری معیشت اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والی پابندیاں ختم کرے تو ہم...

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا