وجود

... loading ...

وجود

موجودہ عالمی بحران ،ملکی انتشار اور شہید بھٹوکی سیاسی پیشنگوئیاں

جمعه 05 جنوری 2018 موجودہ عالمی بحران ،ملکی انتشار اور شہید بھٹوکی سیاسی پیشنگوئیاں

آصف اقبا ل
حضر ت انسا ن کی مو ت اس وقت واقع ہو تی ہے جب لو گ اس کو اور اس کی با تو ں کو بھو ل جا ئیں مگر قا ئد عوام شہید ذوالفقا ر علی بھٹو جیسے عظیم رہنما کی فکر اور نظر یے تو اٹیمی تو انا ئی کے ما نند ہوتے ہیں جو ہزاروں بر س تا ریک گو شوں کو منو ر رکھتے ہیں اور اپنے خون سے ظلم و جبر کے خلا ف شمع کو روشن رکھتے ہیں ۔جنہو ں نے ظلم و جبر کے خلا ف سر نہیں جھکا یا اور کچلے ہو ئے مظلوم طبقا ت کی حما یت میں اتنا آگے نکل گئے کہ اپنی جا ن بھی ان کے لیے نچھا ور کردی ۔بقو ل فیض احمد فیض
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شا ن سلا مت رہتی ہے
یہ جا ن تو آنی جا نی ہے
اس جا ن کی کو ئی با ت نہیں
عوام کا حا فظہ اتنا کمزور نہیں ،وہ جا نتے ہیں کہ قیا م پا کستان سے لے کر اب تک اس ملک کے مظلو م عوام کو کس کس طرح سے بے آبر و اور رسوا کیا گیا ۔ کن کن حر بوں سے عوام کو غر بت اور جہا لت کے اند ھیر ے غار میں دھکیلا گیا ۔70سا ل کے طو یل عر صے میں جب جب روشنی کی کرن نمو دار ہوئی اس کو شب پر ستو ں نے عو ام سے چھیننا چا ہا ۔ شو کت اسلا م سے لے کر کفر کے فتوؤں، سا زشوں ، جھو ٹی اخبا ری رپو رٹوں، گمر اہ کن اخبا ری کا لموں، جھو ٹی گو اہیوں سے تختہ دار تک ذوالفقا ر علی بھٹو کی شہا دت عوام کے حا فظے میں اس طر ح پیوست ہے جیسے کل ہی کی با ت ہو ۔جب ملک کے عوام ، اہل فکر ، دانش ور اور اس ملک سے محبت کر نے والوں کے خواب کو ایسی بھیا نک تعبیر دی گئی کہ جمہو ریت کا نا م لینے سے پہلے اپنی جا ن ہتھیلی پر رکھنا پڑ تی ہے ۔ کیوں کہ جس طر ح جمہو ریت کی بے حر متی ہوئی، جس طر ح سے عوام کی عز ت نفس کومجروح کیا گیا اور جس طر ح سے ان کے خواب چھینے گئے وہ لمحا ت دردنا ک بھی ہیں اور عبر ت انگیز بھی ۔ اور جب بہت یاد آتا ہے تو سوائے آہوں اور اندھیر وں کے کچھ نظرنہیں آتا ۔تا ریخ گواہ ہے کہ قیا م پا کستان کے دس سال بعد ہی ملک میں مارشل لا ء نا فذ کر کے اس نا تواں مملکت کی بنیا دوں کو ہلا دیا گیا جو مملکت کو دولخت کرنے کے بعد ہی اختتا م پذ یر ہوا۔ ان ہی حا لا ت میں شہید بھٹو نے تا ریخ کی پکا ر پر لیبک کہا کیوں کہ وہ پا کستان کے عوام اور پا کستان کی تا ریخ کی ضرورت تھے ۔ جس طرح قا ئد اعظم ہند وستان کے مسلما نوں کی تا ریخی ضر ورت تھے۔ انھوں نے عوام کی خا طر، عوام کو ساتھ لے کر چلنے کا جمہو ری راستہ اپنا یا جو کہ قا ئد اعظم کا راستہ تھا اور پھر ان کی جد وجہد ، فکر اور عمل سے ثا بت ہوا کہ شہید بھٹو قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کے صحیح جا نشین اور ان کی legacyکے جا ئز، فکری اور نظریاتی وارث تھے۔آج انقلا ب کا نعر ہ لگانے والے عمران نیازی اور نام نہاد تحریک ووٹ کے تقدس اور نظام عدل کے نام پر چلانے والے نواز شریف اور نیا پا کستان بر استہ دھر ناو تحریک کی کال دینے والوں کے لیے قا ئدعوام کی جد وجہد ایک مثا ل ہو نی چا ہیے ۔ عظیم قیادت کو عظیم نصب العین کی ضرورت ہوتی ہے ایسا نصب العین جو لیڈر کو کام کرنے کی تحریک دے اور اسے پوری قوم کو متحرک رکھنے کے قابل بنائے لوگ ایسے لیڈروں سے محبت بھی کرتے ہیں اور مخالفین کے روپ میں ناپسندکرتے ہوئے نفرت بھی۔ان کے متعلق درمیانہ رویہ اپنانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک لیڈر کے لیئے صرف اچھائی سے واقف ہونا ضروری نہیں بلکہ اسے اچھائی کی راہ پر عمل پیرا ہونے کے قابل بھی ہونا چاہئے۔ درست فیصلے کرنے کی قوت سے عاری اور نصب العین سے محروم کوئی فرد کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ ایک عظیم قائد کو بصیرت اور درست مقاصد حاصل کرنے کی اہلیت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔شہید بھٹو نے اپنے حسن سلو ک ، تد بر، فکر اور تخیل سے ایسا انقلا ب بر پا کر دیا کہ عوام ان کے ایک اشا رے پر طا غو تی قو توں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور مضبو ط ایو بی آمر یت کے بت کو پا ش پا ش کر دیا ۔
آیا وہ بام پر تو کچھ ایسا لگا منیر
جیسے فلک پہ رنگ کا بازار کھل گیا
شہید بھٹو نے ملک میں جمہو ریت کے علا وہ کسی اور راستے کا انتخا ب پسند نہ فر ما یا ۔پھر جب لٹے پٹے پا کستان کی قیا دت انہیں سو نپ دی گئی تو ایسی ایسی اصلا حا ت کی گئیں کہ حقیقی معنوں میں صر ف سا ڑھے پا نچ سا لہ دو ر اقتدار میں ہی ملک میں انقلا ب آگیا ۔ عوام کو شنا خت دینے کے لیے بنیا دی کا م یعنی شنا ختی کا رڈ کا اجراء کیا گیا ۔ عوام کو پا سپو رٹ سے روشنا س کر وادیا گیا ۔ آج لا کھوں پا کستا نی غیر مما لک میں روزگا ر کما کر زرمبا دلہ بھیج کر اس ملک کی معیشت کی مضبو طی کے لیے اہم کر دار ادار کر ہے ہیں ، وہ خو د اور اور ان کے اہل خا نہ خو ش حا ل زند گی بسر کر رہے ہیں تو اس کا کر یڈ ٹ اسی عظیم مفکر کو جا تا ہے کیوں کہ اس سے پہلے پا کستا نی بیر ون ملک ملا زمتوں کے لیے نہیں جا سکتے تھے ۔بھٹو شہید نے نو ے ہزار سو ل و فو جی جنگی قید یو ں کو با عزت رہا ئی دلوائی اور ہزاروں مر بع میل علا قہ بھی بھا رت کے قبضے سے کا میا ب مذاکر ات کے ذریعے واگزار کر وایا ۔ پھر وطن عزیز کے دفا ع کو نا قا بل تسخیر بنا نے کے لیے ایٹمی پر وگر ام کا با قا عد ہ آغا ز کر وایا ۔ آج پا کستا ن کے ایٹمی قو ت ہونے کا کر یڈ ٹ لینے والے شا ید اس وقت کسی ادارے میں اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہوں گے ۔ جب اس ایٹمی پر وگر ام کے لیے بھٹو شہید ڈاکٹر عبدالقد یر خا ن کو ہا لینڈ سے لا نے کیلیے قا ئل کر رہے تھے۔ مشر قی پا کستان کھونے کے بعد پا کستان کی معیشت بہت حد تک کمزور ہو چکی تھی ۔ مگر بھٹو شہید نے فر وری 1974میں لا ہو ر میں اسلا می سر بر اہی کانفر نس کا نعقا د کر کے اپنے دو ست اسلا می مما لک کے مد د سے معیشت کو اپنے پیر وں پر کھڑا کر دیا تھا ۔اس کے علا وہ بھٹو شہید نے صنعت ، زراعت ، تعلیم کے لیے ایسی اصلا حا ت کیں جس کا تذ کر دہ کر نے کے لیے ہزاروں صفحا ت پر مبنی کتاب کی تصنیف بھی کم ہوگی لیکن اس ملک کے مزدور، کسان اور طلبا ء کی آج بھی بھٹو ازم سے محبت اس کی سند ہے ۔قا ئد عوام بھٹو شہید کی سیا ست ایک عبا دت تھی ۔انھوں نے عوام اور ملک کو اند ھیر وں سے نکا لنے کے لیے جا مع منشو ر دیا تھا ۔ انھوںنے کشمیر ،فلسطین اور تیسر ی دنیا کے عوام کے لیے روشنی دی مگر اہل ہو س نے اس خواب کو ریزہ ریزہ کر دیا ۔گیا رہ سا لہ طو یل آمر یت کے عر صے میںملک کو ایک ایسے اکھا ڑے میں تبد یل کر دیا گیا کہ جس میں جمہو ریت با زیگر وں کے ہا تھوں تما شا بن کر رہ گئی ۔بالآخر سپر سامراج کے حکم پر مقامی ٹھیکیداروں نے شہید بھٹو کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
میرے ہمراہ دریا جارہا ہے
گیا رہ سا ل کا یہ عر صہ محر ومیوں ، نا انصا فیوں ، غا صبا نہ چیر ہ دستیوں ، جمہو ریت کے جھو ٹے دعوے داروں، اسلا م کے نا م نہا د ٹھیکیداروں ،ضمیر فر و شوں ،لسا نی دہشت گر دوں ، فر قہ پر ستوں کی سیا ہ کا ریوں کی ایک طو یل داستان ہے ۔ جب سپرپاور امریکہ اس خطہ کا چوہدری بھارت کو بنانا چاہتا ہے۔۔۔ جب افغانستان میں امریکی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر تھوپہ جاتا ہے۔۔۔ جب پاکستان کو امدادبند کرنے کی دھمکی کے ساتھ پچھلے دیئے گئے پیسوں کا حساب مانگا جاتا ہے۔۔۔ جب سانحہ کارساز کے نتیجے میں 175افراد کو شہید اور 500سے زائد لوگوں کو زخمی کیا جاتا ہے ۔۔۔جب 18سال قبل شہید بینظیر بھٹو انتہا پسند گروپوں کے متعلق اپنے خدشات کو باور کرارہی تھیں تواسے قطعی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔۔۔ جب 27دسمبر 2007کو شہید بینظیر بھٹو جیسی جلیل القدر ہستی جو کہ عالمی وژن کی حامل بین الاقوامی شخصیت تھیں کو انتہا پسندوں کے ذریعے دہشت گردی کا نشانہ بناکر منظر سے ہٹایا جاتا ہے ۔۔۔جب صدرآصف علی زرداری کی قیادت میں PPPکی حکومت کی جانب سے گوادر پورٹ چین کے حوالے کرکے سی پیک کے منصوبے کی راہ ہموار کرنے کے جرم میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک صوبے تک محدود کرکے علاقائی جماعت بنانے کی مکروہ سازش کا حصہ بنایا جاتا ہے۔۔۔جب قرضوں کی معیشت کے ذریعے عوام کی زندگی کو اجیرن کیا جاتا ہے ۔۔۔ جب اداروں کی حدود کا آئینی تعین ہونے کے باوجود اختیارات اور بالادستی کی جنگ میں ریاست کو جھونکا جاتا ہے ۔۔۔جب 50ہزار سے زائد پاکستانیوں کو دہشت گردی کی جنگ میں ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔۔۔جب اے پی ایس کے معصوم شہدائوں کے اسکول پر حملے کے بعدبہت دیر سے اس خطرناک کھیل کا ادراک ہونا شروع ہوتا ہے ۔۔۔ جب نوجوان مشعال خان کو پشاور یونیورسٹی میں بے گناہ شہید کردیا جاتا ہے۔۔۔تو یہ باتیں ہماری سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ، تجزیہ نگار، دانشور اور سیاسی و سماجی رہنمائوں کی سمجھ میں آتی ہیں کہ ہمارے ملک و قوم کے ساتھ بڑا ہی گھنائونا اور خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب ، فوجی عدالتیں اور آپریشن رد الفساد کیا جاتا ہے تو ان حالات میں شہید بھٹو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور ان کی لامحدود ذہانت، بصیرت افروز قیادت کی کمی کا ادراک مزید شدید سے شدید تر ہوجاتا ہے۔یہ تمام باتیں تا ریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔1988،1993،2002، 2008اور 2013کے انتخا با ت کے مو قع پردہشت گر د اور انتہا پسند قو تو ں کی جا نب پا کستا ن پیپلز پا رٹی پر اعلا نیہ و غیر اعلا نیہ پا بند ی نے ثا بت کر دیا کہ عوام اپنے دوستوں اور دشمنو ں کو اخبا ری کا لم نگا روں ،نا م نہا د دانشوروں سے زیا دہ بہتر طو رپر سمجھتے ہیں ۔ عوام وہی جمہو ریت چا ہتے ہیں جو شہید ذوالفقا ر علی بھٹو کی تھی ۔عوام پیپلز پا رٹی کو منتخب کر کے جب ایوانو ں میں بٹھا تے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ ان کی امنگو ں کی صحیح تر جما نی کا حق صر ف بھٹو ازم میں پو شید ہ ہے ۔ عوام ایسے نما ئند ے چا ہتے ہیں جو وقتی مفا د اور اقتد ار کے لیے پا رٹی چھو ڑ کرکسی اور کا علم نہ اٹھا ئیں بلکہ سا زشی عنا صر کے سا منے سینہ سپر ہو کر جمہو ریت کے خلا ف ہر سا زش کو نا کا م بنا دیں ۔ کیوں کہ بھٹو فو بیا کا شکا ر عنا صرکو پیپلز پا رٹی کی سینیٹ انتخا با ت میںکا میا بی بر داشت نہیں ہو رہی تھی اور وہ اس خو ف کی وجہ سے ہر نا جا ئز ہتھکنڈے استعما ل کر رہے تھے ۔اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ان کی بر داشت سے با ہر تھی ۔ وہ انجینئرڈ کا میابیو ں کے عا دی ہیں ،چو ر دروازہ اور مختصر راستہ نے ان کو اقتد ار تک پہنچا یا ۔ ورنہ عوام کی چو ائس آج بھی پا کستان پیپلز پا رٹی ہے ۔جس کو انھوںنے پچھلے پا نچ سا لوں کا مینڈ یٹ دیاتھا۔
اگر اب بھی آزادانہ ،منصفا نہ غیر جا نبدارانہ چو ائس عوام کو دی جا تی تو یقیناً فیصلہ2013کے الیکشن کا PPPکے حق میں ہوتا PPPکی پچھلی حکو مت نے اٹھا رہویں تر میم کی مد د سے کسی بھی غیر آئینی اقد ام کے راستے کو بند کر دیا ہے ۔ اور جمہو ریت پا کستان کو ہمیشہ کیلیے تحفے میں دیدی ۔ یہ شہید قا ئد عوام اور شہید جمہو ریت بینظیر بھٹو کا خو اب تھا ۔شہید قا ئد ین آج بھی ہر با شعو ر ذہن کی روشنی ہیں ۔آج بھی سب زند ہ دلوں کی دھڑکن ہیں ۔ ان کے افکا ر ایک افق سے دو سر ے افق تک پھیلتے رہتے ہیں ۔سال ، مہینے ، صد یا ں ان کا راستہ نہیں روک سکتیں کیوں کہ شہید بھٹو جیسے لیڈروں کی وقت ضرورت نہیں ہو تا وہ لیڈ روقت کی ضرورت ہو تے ہیں ۔وہ جو تا ریخ میں زندہ رہنا چا ہتے ہیں ۔ انھیں یہ احسا س ہو تا ہے کہ ان کی فا نی زندگی کا تسلسل ، ان کے جسما نی وجو د کی بقا ء ، ان کے اصو لو ں کی بقا ء ، زندہ رہنے کی بجا ئے جا ن کی قر با نی میں زیا دہ مو ثر ہے تو وہ جا ن پر کھیل جا تے ہیں ۔انھیں یقین ہو تا ہے کہ ان کی مو ت میں ہی قو م کی حیا ت ہے ۔
قتل گا ہوں سے چن کر ہما رے علم
اور نکلیں گے عشا ق کے قافلے
شہید بھٹو جمہو ریت کو ایسا نغمہ قرار دیتے تھے جو انقلا بیو ں کی روح کو ہر وقت سر شا ررکھتا ہے ۔ جو بہتر ین نظا م حکو مت دیتا ہے ۔ جس میں انسا ن کوشخصی آزادی حا صل ہوتی ہے ۔اس کی عزت نفس کی اہمیت ہوتی ہے اور مملکت بھی روشن اور تر قی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو نہ صرف حقائق معلوم ہوں بلکہ ان سرزد ہوئی غلطیوں کا برملا اعتراف بھی افراد اور اداروں کو کرنا ہوگا۔آج سے 41سال قبل 28 اپریل 1977کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں جن خدشات کا اظہار عالمی سازشوں ، خطہ کی صورتحال اور ملک کے مستقبل کے بارے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا وہ لفظ بہ لفظ موجودہ صورتحال میں بھٹو شہید کی عالمی و سیاسی پیشنگوئی بن کر سامنے آیا ہے خواہ اس کا تعلق اسٹیبلشمنٹ کے پرانے جانشین نواز شریف کی صورت میں برطرفی و مجھے کیوں نکالا کا نادان سوال ہو یا یہ اسٹیبلشمنٹ کے نئے جانشین عمران نیازی کی نواز شریف کی جگہ نئی بھرتی ہوجو کام میاں صاحبان نے ماضی میں کیا اب اسی کھیل کو تسلسل سے جاری رکھنے کے لیئے عمران نیازی کی جماعت کو ن لیگ کی جگہ ٹاسک دیا گیا ہے۔میاں نواز شریف ، شہباز شریف صاحبان، سیالوی و دیگر مذہبی گروپس کی حمایت سے دیا گیا ٹاسک پورا کررہے تھے جبکہ آج عمران نیازی یہ کام اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق کو اپنا اتحادی بناکر کر سر انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔
آج ان کے 90ویں یو م پیدا ئش کے موقعے پر پا کستان پیپلز پا رٹی کا ہر ورکر، ہر جمہو ریت پسند پر یہ عہد کر تا ہے کہ ہم نوجوان قائد و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جمہو ریت کی سر بلند ی، معاشی مساوات، انتہا پسندی و دہشت گردی اور مذہب و سیاست کے گٹھ جوڑ کے خلاف پاکستان کو ایک جدید جمہوری اور ترقی پسند ریاست بنانے کے لیئے ہر وقت قر با نی دینے کو تیا ر ہیں جس طرح قا ئد عوام شہید ذوالفقا ر علی بھٹو اور شہید جمہو ریت محتر مہ بینظیر بھٹو نے اپنی جا نیں قر با ن کر دیں لیکن مملکت اور عوام کے حقو ق پر سمجھو تہ نہ کیا ۔
شا ید جب ہی احمد فر از نے یہ کہا
آج ایسا نہیں ایسا نہیں ہو نے دینا
اے مرے سو ختہ جا نوں میرے پیا رے لو گو
اب کہ گر زلزلہ آئے تو قیا مت ہو گی
مر ے دلگیر اور درد کے ما رے لو گو
کسی غا صب کسی ظا لم کسی قاتل کے لیے
خو د کو تقسیم نہ کر نا مرے سا رے لوگو
n n


متعلقہ خبریں


امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

مضامین
آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر