وجود

... loading ...

وجود

چیچک

منگل 02 جنوری 2018 چیچک

متعدی امراض کی ہلاکت خیزی میں اس مرض کا نمبر سب سے اول ہے مدت مدید سے تمام دنیا اس کی گرفت میں چلی آرہی ہیں زمانہ قدیم کے توہم پرست انسانوں نے اسے دیوی(ماتا) سمجھ کر اس کی پوجا شروع کردی تھی کیونکہ اس کی اہمیت اور تباہ کاریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آتا تھا امیر، غریب، مرد، عورت بچے کوئی بھی اس کے پنجے سے محفوظ نہیں اس مرض کی بربادیوں اور انسان کشی کی طاقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرایا جائے تاکہ اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے میں کبھی بھی غفلت نہ کی جائے۔خوش قسمتی سے اس قدر خطر ناک مرض سے بچاؤ کا طریقہ بھی معلوم ہوگیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا طریقہ سمجھ میں آگیا ہے جس سے آبادیوں کو چیچک کی وبا سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے ،اس کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے اس لیے یہ اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ بچاؤ کے اس طریقے سے گریز نہ کیا جائے تاکہ زندگی بر اس موذی مرض سے نجات مل جائے اور یہ طریقہ وہ ہے جسے (Vaccination) چیچک کا ٹیکہ کہتے ہیں،چیچک کا ٹیکہ دراصل اس چیچک کا مادہ ہوتا ہے جو مویشیوں کو اور بالخصوص گائے کو لاحق ہوجاتی ہیں جب اس کے مادے سے یہ مرض مصنوعی طور پر انسان میں پیدا کیا جائے تو اس سے صرف مقامی طور پر مرض پیدا ہوجاتا ہے اوراگرچہ مرض اپنی مدت پوری کرتا ہے لیکن انسان کی جان کے لیے مضر نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ہی یہ مرض انسانی جسم میں ایسی قوت مدافعت پیدا کردیتے ہیں جو چیچک کے مرض کو جسم کے اندر پیدا نہیں ہونے دیتی،اس طرح انسان اس موذی مرض سے نجات حاصل کرلیتا ہے اور یہ قوت جو جسم کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں تمام عمر باقی رہتی ہیں اگر اس قوت کے کمزور پڑجانے کی وجہ سے چیچک کا مرض کسی کو اَبھی دبائے تو وہ اس قدر ہلکی قسم کا ہوتا ہے ،البتہ اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ہلکی قسم کا مرض بھی متعدی ہوتا ہے اور اسی کی روک تھام نہ کی جائے تو وبا کی صورت اختیار کرلیتا ہے،اس لیے اگر کسی آبادی کو ٹیکے لگا کر اس مرض سے مامون بھی کردیا گیا ہو پھر بھی اس مرض کے بچاؤ کے طریقے سے غافل نہیں رہنا چاہیے،جب کوئی شخص اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے فوراً اس ہسپتال میں پہنچادیں جو متعدی امراض کے لئے مخصوص ہو مکان،کپڑے اور دیگر اشیاء کو جن کے ساتھ مریض کا تعلق رہا ہو فوراً پاک صاف کریں مکان کو سفیدی کرائیں اشیا کو جراثیم کو مارنے والی ادویات سے دھوکر اچھی طرح صاف کرلیں گھر کے تمام افراد اور دیگر اشخاص جن کے ساتھ اس کا میل جول رہا ہو ان کو چیچک کا ٹیکہ لگوائیں اور دوبارہ ٹیکہ لگوائیں،میل ملاپ پر اگر چار دن سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہو تو بھی ٹیکہ لگوانا مفید رہے گا کیونکہ اگر چیچک نکل بھی آئے گی تو وہ ہلکی قسم کی ہوگئی میل ملاپ رکھنے والوں کو سولہ دن تک قرنطینہ میں رکھیں یا ہر روز ان کا معائنہ کراتے رہیں۔
وبائی خناق: یہ ایک ایسا متعدی مرض ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتاہے اس کی چھوت براہ راست بھی ہوتی ہیں اور دوسرے واسطوں سے بھی یہ مرض بالعموم بچوں میں پایا جاتا ہے چنانچہ ان کا گلا سوج جاتا ہے اور بڑا تیز بخار آنے لگتا ہے اور بچہ کمزور ہوکر چارپائی پر لیٹ جاتاہے اس مرض کی خصوصیت یہ ہے کہ سوجے ہوئے گلے پر ایک جھلی سی بن جاتی ہیں جو عام سطح سے اونچی ہوتی ہیں اور یہ چمکدار سفید سرمئی رنگ کی ہوتی ہیں اس لیے اردگرد کی سرخی سے جلد پہنچائی جاسکتی ہیں اسے اگر اکھاڑنے کی کوشش کی جائے تو اکھڑتی نہیں البتہ اس سے خون بہنے لگتاہے اور یہی جھلی اس مرض کی مخصوص علامت ہے اس سے سانس بھی بدبودار ہوتاہے اور ناک سے مواد بہتا ہے۔ یہ مرض دنیا کے ان حصوں میں پایا جاتا ہے جہاں کی آب وہوا متعدل ہو یہ موسم خزاں اور سردیوں کے موسم میں زیادہ پایا جاتا ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب بارش کم ہوتو یہ زیادہ پھیلتا ہے خناق ان بچوں میں دیکھا جاتاہے جن کی عمر دو سے پانچ سال تک ہوتی ہیں،نوزائیدہ بچے شاذونادر ہی اس کا شکار ہوتے ہیں۔مرض سے یہ چھٹکارا پانے کے بعد کمزوری کے زمانے میں یہ موذی جراثیم بچوں کے گلے کے اندر موجود رہتے ہیں اور تقریباً آٹھ ہفتوں کے بعد بچہ ان جراثیم سے پاک ہوتا ہے بعض بچوں کے گلے میں یہ جراثیم مدت تک قائم رہتے ہیں اگرچہ ان کی موجودگی سے ان کو کئی تکلیف نہیں ہوتی ایسے بچوں کو”مرض بردار“ کہتے ہیں اور یہ بچے اس اعتبار سے خطرہ ناک ہوتے ہیں کہ یہ مرض پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں ایسے بچے اکثر کمزور ہی نظر آتے ہیں اوران کا رنگ بھی زرد ہوتا ہے ان کے گلے اکثر خراب رہتے ہیں اور ناک سے ہر وقت مواد بہتا رہتا ہے۔وبائی خناق کے تمام مریضوں کو مرض شروع ہونے کے وقت سے چار ہفتے تک بالکل علیحدہ رکھیں بالخصوص کسی بچے کو ان کے پاس نہ آنے دیں جس گھر میں وبائی خناق مریض ہو اس گھر کے تمام بچوں کو سکول میں جانے سے روک دینا چاہیے،وبائی خناق کے خلاف حفاظتی ٹیکہ لگوائیں،بچے کو بستر پر آرام کرانا بے حد ضروری ہوتا ہے جو کم از کم پندرہ دن کے لیے ہونا چاہیے۔
خسرہ: ایک شدید متعدی بخار ہے جس میں منہ کے اندر گلے اور سانس کے تمام راستے میں سوزش پیدا ہوجاتی ہیں اور جلد پر مخصوص قسم کے چھالے یا دانے نکل آتے ہیں۔
یہ مرض تمام دنیا میں پایا جاتا ہے لڑکے اور لڑکیاں یکساں طور پر اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں یہ مرض زیادہ تر بچوں میں دیکھا جاتا ہے مریضوں کی نصف تعداد ان بچوں کی ہوگی جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے ادھر چھ سال کی عمر تک کے بچے اس میں مبتلا نہیں ہوتے یہ مرض زیادہ تر نادار اور گنجان آبادیوں میں پایا جاتاہے،متوسط درجے کے لوگوں کے بچوں میں بھی اس وقت دیکھا جاتا ہے جب وہ سکول جانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔اس کی وبا بڑی تیزی سے پھیلتی ہیں اور اس دوران میں کئی ایک اموات بھی واقع ہوجاتی ہیں بڑے بڑے شہروں میں تو یہ مرض ہر وقت ہی ہوتا ہے لیکن سردیوں کے موسم میں زیادہ ہوجاتا ہے اس کی چھوت براہ راست ہی لگتی ہیں اس کے جراثیم تھوک اور بلغم میں ہوتے ہیں۔اس کے مخصوص دانے بخار کے آنے کے چوتھے دن نکلتے ہیں گاہے ایک دن اور گاہے ایک دن بعد دانوں کے ساتھ گردن اور بغل کی گٹلیاں بھی بڑھ جاتی ہیں آنکھیں ناک اور منہ سرخ ہوجاتے ہیں اور ان سے پانی بہتا ہے کھانسی بھی ہوتی ہیں طبیعت روشنی سے گھبراتی ہیں دانے سے سے پہلے بھوروں پر کان کے پیچھے اور نیچے اور منہ کے اردگرد نکلتے ہیں اور پھر بڑی تیزی سے چہرے گردن بازوؤں پیٹھ اور ٹانگوں پر پھیل جاتے ہیں جس ترتیب سے یہ دانے نکلتے ہیں اسی ترتیب سے یہ دانے دو یا تین دن تک قائم رہ کر مدھم پڑجاتے ہیں۔خسرہ زیادہ تر سکولوں میں پھیلتاہے اور اس پر ضبط قائم رکھنے میں ایک بڑی دشواری ہے کہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتا ہے چنانچہ مخصوص قسم کے دانوں کے نکلنے سے چار پانچ دن پہلے بھی اس کی چھوت لگ چکی ہوتی ہیں،مریض کو بستر پر لٹائے رکھیں مریض کا کمرہ ایسا ہو جس میں ہوا کی آمدورفت خاصی ہو البتہ روشنی کمرے کے اندر براہ راست نہیں آنی چاہیے،کپڑے ڈھیلے پہنائیں اور ایسے ہونے چاہیں جو بچے کو سردی سے بچائیں چست کپڑے نہیں پہنانے چاہیں تاکہ سانس کے آنے جانے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور ہمیشہ بھی خشک ہوتا رہے دانتوں اور گلے کو صاف رکھیں گلے کو صاف رکھنے کے لیے شیر گرم پانی میں قدرے نمک ملا کر غرارے کرائیں بخار کے دوران سوائے دودھ کے کچھ نہ دیں اور اگر اس میں تھوڑی سی چائے ملادی جائے تو مفید رہے گی پھل یا ان کا رس وغیرہ استعمال نہ کریں پیاس بجھانے کے لیے تازہ یا شیر گرم پانی پلائیں اور اس میں موسم کا خیال رکھیں جسم کو تولیے سے صاف کرتے رہیں کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر