... loading ...
متعدی امراض کی ہلاکت خیزی میں اس مرض کا نمبر سب سے اول ہے مدت مدید سے تمام دنیا اس کی گرفت میں چلی آرہی ہیں زمانہ قدیم کے توہم پرست انسانوں نے اسے دیوی(ماتا) سمجھ کر اس کی پوجا شروع کردی تھی کیونکہ اس کی اہمیت اور تباہ کاریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آتا تھا امیر، غریب، مرد، عورت بچے کوئی بھی اس کے پنجے سے محفوظ نہیں اس مرض کی بربادیوں اور انسان کشی کی طاقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرایا جائے تاکہ اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے میں کبھی بھی غفلت نہ کی جائے۔خوش قسمتی سے اس قدر خطر ناک مرض سے بچاؤ کا طریقہ بھی معلوم ہوگیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا طریقہ سمجھ میں آگیا ہے جس سے آبادیوں کو چیچک کی وبا سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے ،اس کی شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے اس لیے یہ اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ بچاؤ کے اس طریقے سے گریز نہ کیا جائے تاکہ زندگی بر اس موذی مرض سے نجات مل جائے اور یہ طریقہ وہ ہے جسے (Vaccination) چیچک کا ٹیکہ کہتے ہیں،چیچک کا ٹیکہ دراصل اس چیچک کا مادہ ہوتا ہے جو مویشیوں کو اور بالخصوص گائے کو لاحق ہوجاتی ہیں جب اس کے مادے سے یہ مرض مصنوعی طور پر انسان میں پیدا کیا جائے تو اس سے صرف مقامی طور پر مرض پیدا ہوجاتا ہے اوراگرچہ مرض اپنی مدت پوری کرتا ہے لیکن انسان کی جان کے لیے مضر نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ہی یہ مرض انسانی جسم میں ایسی قوت مدافعت پیدا کردیتے ہیں جو چیچک کے مرض کو جسم کے اندر پیدا نہیں ہونے دیتی،اس طرح انسان اس موذی مرض سے نجات حاصل کرلیتا ہے اور یہ قوت جو جسم کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں تمام عمر باقی رہتی ہیں اگر اس قوت کے کمزور پڑجانے کی وجہ سے چیچک کا مرض کسی کو اَبھی دبائے تو وہ اس قدر ہلکی قسم کا ہوتا ہے ،البتہ اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ہلکی قسم کا مرض بھی متعدی ہوتا ہے اور اسی کی روک تھام نہ کی جائے تو وبا کی صورت اختیار کرلیتا ہے،اس لیے اگر کسی آبادی کو ٹیکے لگا کر اس مرض سے مامون بھی کردیا گیا ہو پھر بھی اس مرض کے بچاؤ کے طریقے سے غافل نہیں رہنا چاہیے،جب کوئی شخص اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے فوراً اس ہسپتال میں پہنچادیں جو متعدی امراض کے لئے مخصوص ہو مکان،کپڑے اور دیگر اشیاء کو جن کے ساتھ مریض کا تعلق رہا ہو فوراً پاک صاف کریں مکان کو سفیدی کرائیں اشیا کو جراثیم کو مارنے والی ادویات سے دھوکر اچھی طرح صاف کرلیں گھر کے تمام افراد اور دیگر اشخاص جن کے ساتھ اس کا میل جول رہا ہو ان کو چیچک کا ٹیکہ لگوائیں اور دوبارہ ٹیکہ لگوائیں،میل ملاپ پر اگر چار دن سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہو تو بھی ٹیکہ لگوانا مفید رہے گا کیونکہ اگر چیچک نکل بھی آئے گی تو وہ ہلکی قسم کی ہوگئی میل ملاپ رکھنے والوں کو سولہ دن تک قرنطینہ میں رکھیں یا ہر روز ان کا معائنہ کراتے رہیں۔
وبائی خناق: یہ ایک ایسا متعدی مرض ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتاہے اس کی چھوت براہ راست بھی ہوتی ہیں اور دوسرے واسطوں سے بھی یہ مرض بالعموم بچوں میں پایا جاتا ہے چنانچہ ان کا گلا سوج جاتا ہے اور بڑا تیز بخار آنے لگتا ہے اور بچہ کمزور ہوکر چارپائی پر لیٹ جاتاہے اس مرض کی خصوصیت یہ ہے کہ سوجے ہوئے گلے پر ایک جھلی سی بن جاتی ہیں جو عام سطح سے اونچی ہوتی ہیں اور یہ چمکدار سفید سرمئی رنگ کی ہوتی ہیں اس لیے اردگرد کی سرخی سے جلد پہنچائی جاسکتی ہیں اسے اگر اکھاڑنے کی کوشش کی جائے تو اکھڑتی نہیں البتہ اس سے خون بہنے لگتاہے اور یہی جھلی اس مرض کی مخصوص علامت ہے اس سے سانس بھی بدبودار ہوتاہے اور ناک سے مواد بہتا ہے۔ یہ مرض دنیا کے ان حصوں میں پایا جاتا ہے جہاں کی آب وہوا متعدل ہو یہ موسم خزاں اور سردیوں کے موسم میں زیادہ پایا جاتا ہے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب بارش کم ہوتو یہ زیادہ پھیلتا ہے خناق ان بچوں میں دیکھا جاتاہے جن کی عمر دو سے پانچ سال تک ہوتی ہیں،نوزائیدہ بچے شاذونادر ہی اس کا شکار ہوتے ہیں۔مرض سے یہ چھٹکارا پانے کے بعد کمزوری کے زمانے میں یہ موذی جراثیم بچوں کے گلے کے اندر موجود رہتے ہیں اور تقریباً آٹھ ہفتوں کے بعد بچہ ان جراثیم سے پاک ہوتا ہے بعض بچوں کے گلے میں یہ جراثیم مدت تک قائم رہتے ہیں اگرچہ ان کی موجودگی سے ان کو کئی تکلیف نہیں ہوتی ایسے بچوں کو”مرض بردار“ کہتے ہیں اور یہ بچے اس اعتبار سے خطرہ ناک ہوتے ہیں کہ یہ مرض پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں ایسے بچے اکثر کمزور ہی نظر آتے ہیں اوران کا رنگ بھی زرد ہوتا ہے ان کے گلے اکثر خراب رہتے ہیں اور ناک سے ہر وقت مواد بہتا رہتا ہے۔وبائی خناق کے تمام مریضوں کو مرض شروع ہونے کے وقت سے چار ہفتے تک بالکل علیحدہ رکھیں بالخصوص کسی بچے کو ان کے پاس نہ آنے دیں جس گھر میں وبائی خناق مریض ہو اس گھر کے تمام بچوں کو سکول میں جانے سے روک دینا چاہیے،وبائی خناق کے خلاف حفاظتی ٹیکہ لگوائیں،بچے کو بستر پر آرام کرانا بے حد ضروری ہوتا ہے جو کم از کم پندرہ دن کے لیے ہونا چاہیے۔
خسرہ: ایک شدید متعدی بخار ہے جس میں منہ کے اندر گلے اور سانس کے تمام راستے میں سوزش پیدا ہوجاتی ہیں اور جلد پر مخصوص قسم کے چھالے یا دانے نکل آتے ہیں۔
یہ مرض تمام دنیا میں پایا جاتا ہے لڑکے اور لڑکیاں یکساں طور پر اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں یہ مرض زیادہ تر بچوں میں دیکھا جاتا ہے مریضوں کی نصف تعداد ان بچوں کی ہوگی جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے ادھر چھ سال کی عمر تک کے بچے اس میں مبتلا نہیں ہوتے یہ مرض زیادہ تر نادار اور گنجان آبادیوں میں پایا جاتاہے،متوسط درجے کے لوگوں کے بچوں میں بھی اس وقت دیکھا جاتا ہے جب وہ سکول جانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔اس کی وبا بڑی تیزی سے پھیلتی ہیں اور اس دوران میں کئی ایک اموات بھی واقع ہوجاتی ہیں بڑے بڑے شہروں میں تو یہ مرض ہر وقت ہی ہوتا ہے لیکن سردیوں کے موسم میں زیادہ ہوجاتا ہے اس کی چھوت براہ راست ہی لگتی ہیں اس کے جراثیم تھوک اور بلغم میں ہوتے ہیں۔اس کے مخصوص دانے بخار کے آنے کے چوتھے دن نکلتے ہیں گاہے ایک دن اور گاہے ایک دن بعد دانوں کے ساتھ گردن اور بغل کی گٹلیاں بھی بڑھ جاتی ہیں آنکھیں ناک اور منہ سرخ ہوجاتے ہیں اور ان سے پانی بہتا ہے کھانسی بھی ہوتی ہیں طبیعت روشنی سے گھبراتی ہیں دانے سے سے پہلے بھوروں پر کان کے پیچھے اور نیچے اور منہ کے اردگرد نکلتے ہیں اور پھر بڑی تیزی سے چہرے گردن بازوؤں پیٹھ اور ٹانگوں پر پھیل جاتے ہیں جس ترتیب سے یہ دانے نکلتے ہیں اسی ترتیب سے یہ دانے دو یا تین دن تک قائم رہ کر مدھم پڑجاتے ہیں۔خسرہ زیادہ تر سکولوں میں پھیلتاہے اور اس پر ضبط قائم رکھنے میں ایک بڑی دشواری ہے کہ یہ بڑی تیزی سے پھیلتا ہے چنانچہ مخصوص قسم کے دانوں کے نکلنے سے چار پانچ دن پہلے بھی اس کی چھوت لگ چکی ہوتی ہیں،مریض کو بستر پر لٹائے رکھیں مریض کا کمرہ ایسا ہو جس میں ہوا کی آمدورفت خاصی ہو البتہ روشنی کمرے کے اندر براہ راست نہیں آنی چاہیے،کپڑے ڈھیلے پہنائیں اور ایسے ہونے چاہیں جو بچے کو سردی سے بچائیں چست کپڑے نہیں پہنانے چاہیں تاکہ سانس کے آنے جانے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور ہمیشہ بھی خشک ہوتا رہے دانتوں اور گلے کو صاف رکھیں گلے کو صاف رکھنے کے لیے شیر گرم پانی میں قدرے نمک ملا کر غرارے کرائیں بخار کے دوران سوائے دودھ کے کچھ نہ دیں اور اگر اس میں تھوڑی سی چائے ملادی جائے تو مفید رہے گی پھل یا ان کا رس وغیرہ استعمال نہ کریں پیاس بجھانے کے لیے تازہ یا شیر گرم پانی پلائیں اور اس میں موسم کا خیال رکھیں جسم کو تولیے سے صاف کرتے رہیں کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...
مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...
ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...