... loading ...
پاکستان اور چین نے افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی ہے، بیجنگ میں سہ فریقی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریق باہمی روابط کو فروغ دیں گے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا،تینوں ممالک کے مابین سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا،چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ بہت ضروری ہے،پاکستان اور چین افغانسان میں امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین خطے میں امن کو فرغ دینے کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کو افغانستان تک وسعت دینا چاہتا ہے اور امید ہے وہ اِس منصوبے کا حصہ بن جائے گا۔ سی پیک کی وجہ سے خطے میں ترقی ہو گی، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، ہماری سرحدیں ملتی ہیں اِس لیے امن ہمارا مشترکہ مشن ہے، ہم چین کے پْرامن ہمسائیگی کے نظریئے سے متفق ہیں، مستقبل کی ترقی اور امن ہم سب کے مفاد میں ہے، مذاکرات میں سرحدی انتظام اور معلومات کے تبادلے پر زور دیا گیا اور افغانستان سے تعاون کو فروغ دینے کے لیے راستے تلاش کیے گئے۔ پاکستان اور چین نے افغانستان کو اقتصادی راہداری کے منصوبے میں شمولیت کی جو دعوت دی ہے توقع کرنی چاہئے کہ افغانستان کی طرف سے اس کا مثبت جواب آئے گا،کیونکہ سی پیک، چینی صدر کے وڑن ’’وَن بیلٹ ون روڈ‘‘ کا ہی حصہ ہے، جس کے تحت تین براعظم آپس میں خشکی کے راستے مل جائیں گے اور ساٹھ سے زیادہ ممالک اِس سے مستفید ہوں گے اِس لیے اگر افغانستان بھی اِس منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو اِس کا سب سے زیادہ فائدہ اْسے یہ ہو گا کہ گوادر کی بندرگاہ تک رسائی بھی مل جائے گی، جہاں سے اْس کی برآمدات اور درآمدات براستہ سڑک افغانستان سے آ اور جا سکیں گی۔
اِس وقت بھی اْس کی درآمدات و برآمدات پاکستان کے ذریعے ہی آتی جاتی ہیں،کیونکہ افغانستان کی اپنی کوئی بندرگاہ نہیں اور وہ خشکی سے گِھرا ہْوا مْلک ہے، تاہم افغان تجارت کی وجہ سے پاکستان میں سمگلنگ کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے،کیونکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت،افغانستان جو اشیا درآمد کرتا ہے، اْن کی وہاں کوئی مارکیٹ نہیں اور نہ ہی اْن اشیائے تعیش کا کوئی خریدار ہے، اور اگر ہیں تو بہت ہی کم،بلکہ نہ ہونے کے برابر،افغانستان کا یہ مال پاکستان کے قبائلی علاقے میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں سے پورے مْلک میں پھیل جاتا ہے، اگر یہ مال باقاعدہ طور پر درآمد ہو تو پاکستان کو کسٹمز اور ڈیوٹیوں کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے،لیکن قبائلی تاجروں اور افغان حکام کے باہمی گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ تجارت ہوتی ہے جو حقیقت میں سمگلنگ ہی ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب یہی مال فروخت کے لیے قبائلی علاقوں سے باہر نکل کر دوسرے شہروں میں جاتا ہے تو کسٹمز حکام جگہ جگہ چھاپے مارتے ہیں اور اِس مال کو یا تو ضبط کر لیتے ہیں یا اس پر بھاری ڈیوٹی اور جرمانہ عائد کر دیتے ہیں۔اگر سی پیک کے منصوبوں کے ذریعے افغانستان پاکستان کے ساتھ منسلک ہو جائے تو گوادر کی بندرگاہ اس کے تجارتی سامان کے لیے بآسانی استعمال ہو سکتی ہے،بلکہ آگے بڑھ کر وسط ایشیائی ممالک تک اس رابطے کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے حکام جہاں کہیں بھی ملتے ہیں اْن میں پْرجوش مصافحے اور معانقے ہوتے ہیں۔گرمجوشی کا اظہار بھی ہوتا ہے وعدے وعید بھی کیے جاتے ہیں، ایک دوسرے کو برادر مسلمان مْلک کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے،لیکن جونہی یہ اپنے اپنے ممالک میں واپس آتے ہیں کبھی حامد کرزئی اور کبھی اشرف غنی پاکستان کے خلاف الزام تراشی پر اْتر آتے ہیں اور افغانستان کی مشکلات کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،ہر بار یہ عہد بھی کیا جاتا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا،لیکن بھارت افغانستان میں بیٹھ کر یہی کام کر رہا ہے اس کے تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں آ کر کارروائیاں کرتے ہیں۔گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اِس راز سے تفصیلی پردہ اٹھا دیا ہے، بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ادارے کے باہمی روابط بھی آشکار ہو چکے ہیں،اِن سب حقائق کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت جاسوس یادیو کے اہلِ خانہ کی اسلام آباد میں ملاقات کرائی تو بھارتی حکام نے اْن کے جوتوں میں میٹل چِپ لگا کر بھیج دی جب لیبارٹری تجزیئے کے لیے یہ جوتے روک لیے گئے تو بھارتی حکام نے ملاقات کی نیکی کو سرے سے نظر انداز کر کے پاکستان پر نئی الزام تراشی شروع کر دی اور بھارتی میڈیا بھی اِس مہم میں اپنی حکومت کا ہمنوا ہو گیا، حالانکہ اِس فراخ دِلی پر پوری دْنیا میں پاکستان کے اقدام کی تعریف ہو رہی ہے۔
امریکا نے بھارت کو افغانستان میں جو نیا کردار دیا ہے اس کا فائدہ اْٹھا کر بھی بھارت نئی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،ایسے میں یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ اگر افغانستان کو سی پیک کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا تو وہ بھارت کے ساتھ مل کر اِن منصوبوں کو تار پیڈو نہیں کرے گا، افغانستان کو کی جانے والی پیشکش اپنی جگہ جتنی بھی نیک نیتی سے کی گئی ہو، بھارت اپنے خبثِ باطن سے باز آنے والا نہیں،کیونکہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کانفرنس کے لیے جب بھارت کو بیجنگ کانفرنس میں دعوت دی گئی تو اس نے یہ دعوت مسترد کر دی تھی اور بعد میں سی پیک پر بھی لایعنی اعتراض جڑ دیا جو چین کے صدر شی چنگ پنگ نے مسترد کر دیا اِس کے باوجود چینی قیادت نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی،لیکن اِس منصوبے پر بھارت کی تیوڑی ابھی تک چڑھی ہوئی ہے،اِس لیے جب افغانستان کو منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے تو یہ پس منظر بھی سامنے رکھا جائے،کہیں کل کلاں بھارت افغانستان کے ذریعے ہی کوئی واردات نہ کر ڈالے۔اگر افغانستان خلوصِ نیت سے اور بھارتی سحر سے آزاد ہو کر منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو چشمِ ما روشن دِل ماشاد۔
(تجزیہ)
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...
ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...