وجود

... loading ...

وجود

امربالمعروف ونہی عن المنکر

جمعه 29 دسمبر 2017 امربالمعروف  ونہی عن المنکر

مولانا رضوان اللہ پشاوری
ایک انسان جب دنیا میں آتا ہے تواس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ،اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں ایک گمراہی کا راستہ اور دوسرا حق اور نجات کا ، گمراہی کے راستے کی دعوت دینے والا شیطان ہوتا ہے ،حق کے راستے کی دعوت والے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنھم اور صالحین امت وعلماء کرام ہوتے ہیں، جن کا کام ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرنا اور گمراہیوں والے راستے سے روکنا ہوتاہے ، جس کو تبلیغ اور دعوت کہتے ہیں۔تبلیغ کا مقصد یہ ہے کہ’’امربالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘کے ذریعے انسان کی پوری زندگی کتاب وسنت کے مطابق ہوجائے ۔رب چاہے زندگی کو گزاریں اور من چاہے زنگی سے اجتناب کریں۔اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی اہمیت اور شرائط:

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی قوانین میں سے دو اہم قانون اور فروع دین میں سے ہیں ۔قرآن کریم اور معصوم راہنماؤں نے اس فریضہ کے بارے میں کافی تاکید کی ہے ۔ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دوسر ے ادیان آسمانی نے بھی اپنے تربیتی احکام کو جاری کرنے کے لیے ان کا سہارا لیا ہے ۔لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا معنی:
امر یعنی فرمان اور حکم دینا ۔نہی یعنی روکنا اور منع کرنا۔معروف یعنی پہچانا ہوا، نیک ، اچھا ۔منکر یعنی ناپسند ، ناروا اوربد ۔
اصطلاح میں معروف ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو اطاعت پروردگار اور اس سے تقرب اور لوگوں کے ساتھ نیکی کے عنوان سے پہچانی جائے اور ہر وہ کام جسے شارع مقدس نے برا جانا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے اسے منکر کہتے ہیں ۔
معروف اور منکر کے وسیع دائرے :
معروف اور منکر صرف جزئی امور ہی میں محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا دائرہ بہت وسیع ہے معروف ہر اچھے اور پسندیدہ کام اور منکر ہر برے اور ناپسند کام کو شامل ہے،دین اور عقل کی نظر میں بہت سے کام معروف اور پسندیدہ ہیں جیسے نماز اور دوسرے فروع دین، سچ بولنا، وعدہ کو وفا کرنا، صبر و استقامت، فقراء اور ناداروں کی مدد، عفو و گذشت، امید و رجاء ، راہ خدا میں انفاق ، صلۂ رحمی ، والدین کا احترام، سلام کرنا ، حسن خلق اور اچھا برتاؤ، علم کو اہمیت دینا، ہم نوع ، پڑ وسیوں اور دوستوں کے حقوق کی رعایت، حجاب اسلامی کی رعایت، طہارت و پاکیزگی ، ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی اوردیگر سینکڑ وں نمونے ۔
اس کے مقابلہ میں بہت سے ایسے امور پائے جاتے ہیں جنہیں دین اور عقل نے منکر اور ناپسند شمار کیا ہے ، جیسے :ترک نماز ، روزہ نا رکھنا، حسد ، کنجوسی ، جھوٹ، تکبر ، غرور ، منافقت، عیب جوئی او ر تجسس، افواہ پھیلانا، چغلخوری ، ہوا پرستی ، برا بھلاکہنا، جھگڑ ا کرنا، نا امنی پھیلنا کرنا، اندھی تقلید، یتیم کامال کھا جانا، ظلم اور ظالم کی حمایت کرنا، مہنگا بیچنا، سود خوری ، رشوت لینا، انفرادی اور اجتماعی حقوق کو پامال کرناوغیرہ وغیرہ۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی اہمیت:
پروردگار عالم فرماتا ہے :مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور مدد گار ہیں کہ ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ۔(سورہ توبہ )
حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دو الٰہی فریضوں کا دوسرے اسلامی احکام سے مقایسہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :یاد رکھو کہ جملہ اعمال خیر مع جہاد راہ خدا ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو گہرے سمندرمیں لعاب دہن کے ذرات کی حیثیت ہوتی ہے ۔

رسول خدا ایک خوبصورت مثال میں معاشرے کو ایک کشتی سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں :اگر کشتی میں سوار افراد میں سے کوئی یہ کہے کہ کشتی میں میرا بھی حق ہے لہٰذا میں اس میں سوراخ کر سکتا ہوں اور دوسرے مسافرین ا سکو اس کام سے نہ روکیں تو اس کا یہ کام سارے مسافروں کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔اس لیے کہ کشتی کے غرق ہونے سے سب کے سب غرق اور ہلاک ہوجائیں گے اور اگر دوسرے افراد اس شخص کو اس کام سے روک دیں تو وہ خود بھی نجات پاجائے گا اور دوسرے مسافرین بھی ۔(صحیح بخاری)

اسلام صرف انسانوں کے متعلق ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا حکم نہیں دیتا ہے بلکہ جانوروں کے سلسلہ میں بھی ا سکو اہمیت دی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بوڑ ھا عابد نماز میں مشغول تھا کہ اس کی نگاہ دو بچوں پر پڑ ی جو ایک مرغے کے پر کو اکھاڑ رہے تھے عابد ان بچوں کو اس کام سے روکے بغیر اپنی عبادت میں مصروف رہا ، خدا وند عالم نے اسی وقت زمین کو حکم دیا کہ میرے اس بندے کو نگل جا۔

شرائط امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:
علمائے کرام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ شرائط بیان کیے ہیں جن کو خلاصہ کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے :
(1)معروف اور منکر کی شناخت :
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو صحیح طریقہ سے انجام دینے کی سب سے اہم شرط معروف اورمنکر ، ان کے شرائط اور ان کے طریقہ کار کو جاننا ہے ، لہٰذا اگر کوئی شخص معروف اور منکر کو نہ جانتا ہو تو وہ کس طرح ا سکو انجام دینے کی دعوت دے سکتا ہے یا اس سے روک سکتا ہے ؟ایک ڈاکٹر اور طبیب اسی وقت بیمار کا صحیح علاج کر سکتا ہے جب وہ درد ، ا سکی نوعیت اور اس کے اسباب و عوامل سے آگاہ ہو ۔

(2)تاثیر کا احتمال اور امکان:
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی دوسری شرط امر و نہی کی تاثیر کا احتمال اور امکان پایا جاتا ہو ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرایک بیکار اور بے مقصد کام نہیں ہے بلکہ ایک عمل ہے حساب و کتاب اور خاص قوانین و شرائط کے ساتھ ۔ اس فریضہ کی اہمیت اس حد تک ہے کہ خدا وند عالم نے تاثیر نہ رکھنے کے قوی گمان کے باوجود بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو واجب قرار دیا ہے ۔

گناہوں سے روکنے کی کوشش
نہ کرنے پر دنیا میں سزا:
گناہوں سے روکنے کی کوشش نہ کرنے پر آخرت کی سزا تو الگ رہی ،اس کے علاوہ دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی قوم میں ہو اور وہاں گناہ کے کام ہو رہے ہوں وہ گناہ کرنے والوں کو گناہ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو،(پھر بھی)نہ روکے توا للہ تعالیٰ (گناہ سے روکنے میں غفلت کرنے والوں کو)مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔(ابوداؤد)
اب دنیا میں آنے والے عذاب عمومی بھی ہوسکتے ہیں ،جیسے زلزلہ، طوفان،قحط سالی،خشک سالی،مہنگائی،آپس کے لڑائی جھگڑے ، قومیت، وطنیت کے نام پر قتال، ظالم بادشاہوں کا مسلط ہونا وغیرہ۔اسی طرح خصوصی نوعیت کے مختلف عذاب بھی ہوسکتے ہیں،جیسے ذاتی اور خاندانی دشمنی،اولاد کا نافرمان ہونا،قسم قسم کی نت نئے بیماریاں ،بھوک، افلاس،تنگ دستی ،وغیرہ یہ سب اجتماعی انفرادی گناہوں کا وبال ہے ۔

گناہ گاروں کی بستی الٹ دی گئی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ فلاں شہر کو الٹ دو(عذاب میں اس بستی کو الٹ پلٹ دو)،اس کے باشندوں سمیت،پس جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ،باری تعالیٰ !بے شک اس میں تیر افلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تیری نافرمانی نہیں کی ؟تو ارشاد باری تعالیٰ ہو ا کہ اس شہر کو الٹ دو، اس نیک بند ے پر اور ان لوگوں پر،کیوں کہ میری خاطر (یعنی میری نافرمانیوں اور کھلے عام گناہوں کو دیکھ کر)کبھی اس کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلا ۔(شعب الایمان)اور ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے نیک کاموں کا حکم کیا کرواور برے کاموں سے روکا کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر ایساعذاب نازل کرے ،پھر تم اس سے (عذاب دور کرنے کی)دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ۔ (ترمذی)
اللہ تعالیٰ ہمیں خودبھی نیک کاموںاور دوسروں کو بھی نیکی کی طرف بلانے کی توفیق عطا فرمائیں ۔(آمین،بجاہ سید المرسلین)
ژ ژ


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر