وجود

... loading ...

وجود

اِنسانی صحت پر جذبات کے اثرات

منگل 26 دسمبر 2017 اِنسانی صحت پر جذبات کے اثرات

دْنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو سردرد‘ کمردرد‘ پیٹ کا درد‘ بھوک نہ لگنے‘ کھانے کے بعد بوجھ محسوس ہونے‘ سینے کے درد‘ کبھی ڈکاروں‘ بدہضمی‘ بے خوابی‘ دل کی دھڑکن تیز ہونے‘ بے ہوشی کے دورے پڑنے‘ سانس پھولنے‘ کمزوری اور جوڑوں کے درد وغیرہ کی شکایت ہوتی ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی بیماری کی تشخیص نہیں کر پاتا۔ ایکسرے اور مختلف معائنوں کے بعد ڈاکٹر ان سے کہتے ہیں کہ انہیں کوئی بیماری نہیں‘ سب نفسیات کا کھیل ہے۔ وہ وٹامن اور ذہنی سکون کی مقوی دوائیں اور غذائیں استعمال کرتے ہیں۔ بعض افراد کا ڈاکٹروں پر سے اعتماد آٹھ جاتا ہے اور وہ نیم حکیم یا تعویز گنڈے کرنے والوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ نتیجتاً خاندان کی معاشی اور مالی حالت پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا سینہ کھول کر دیکھا جائے تو دھاگے کی طرح دو سفید اعصاب (nerves) دل کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو ہاتھ لگا کے چھو بھی سکتے ہیں۔ یہ اعصاب دماغ کے نچلے حصے حرام مغزسے دل کی طرف آتے ہیں۔ ان میں سے اگر ایک کو بیٹری کے تار سے ملا کر جوڑا جائے تو دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے اور دوسرے کو چھونے سے دل کی رفتار بتدریج رک جاتی ہے۔ اس سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ ایک تندرست دل کس طرح خودبخود تیزی سے دھڑکتا ہے یا اس کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ جنگ‘ جھگڑے‘ غم و غصے اور ڈر کی حالت میں دماغ سے اعلانات حرام مغز میں اور اعصاب کے ذریعے تمام جسم میں پہنچتے ہیں تاکہ جسم یا تو حریف کا مقابلہ کرنے‘ مرنے مارنے پر تل جائے یا بھاگ کر جان بچانے کی تیاری کرے۔ غصے کی حالت میں دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں۔ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بازوو?ں اور ٹانگوں کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور انسان مرنے مارنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ غصے کی زیادتی معدے میں زخم کا موجب بن جاتی ہے۔ ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے غصے کو دبائے چونکہ اس حالت میں جذبات کو سختی سے دبایا جاتا ہے۔ اس لیے معدے پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایک آدمی جو ڈاکٹر کے پاس صرف اس لیے جاتا ہے کہ کبھی کبھی اس کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے۔ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ غصے میں دل کا دھڑکنا تو کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن بظاہر آرام اور بے فکری سے بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ سب چھپے ہوئے جذبات اور خیالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جن کو لاشعوری کہا جاتا ہے اور جو ہمارے تحت الشعور اور لاشعور کے ذریعے خیالات‘ حرکات و سکنات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی اپنے جذبات‘ اپنی خواہشات‘ اپنے خیالات و واقعات کا پتا نہیں چلتا لیکن ان کے دل متاثر ہو کر گاہے بگاہے تیزی سے دھڑکتے ہیں۔
غم یا خوف کی حالت میں‘ چاہے وہ شعوری ہو یا لاشعوری‘ خون کی کمی کی وجہ سے کھانا ہضم نہیں ہوتا اور معدے کی حرکات کی وجہ سے زیادہ دیر تک معدے میں پڑا رہتا ہے اور خمیر بننے لگتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک تو اشتہا کم ہو جاتی ہے، دوسرا کھانے کے وقت پیٹ میں اتنی جگہ نہیں ہوتی اور خمیر بننے سے ڈکاریں ا?تی ہیں۔ کمر کے کچھ درد جذبات کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ انسان چونکہ جذبات سے مبرا نہیں ہو سکتا‘ اس لیے یہ بات اس کے لیے ناممکن ہے کہ جذبات اور ان کے اثرات سے متاثر نہ ہو۔ تاہم اگر انسان کوشش کرے توان کے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ :
…اپنے جذبات پر قابو رکھا جائے۔
… دوسروں کی بات پر غصہ کرنے کے بجائے اس پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے۔
… صبر سے کام لیا جائے۔
… صبح سویرے ورزش کو معمول بنایا جائے۔
… دوسروں کے بارے میں منفی خیالات نہ رکھے جائیں۔
… اپنے دکھوں اور مسائل کے حوالے سے دوست احباب سے مشورہ لیا جائے۔
…دوستوں کو مخلصانہ مشورے دیے جائیں۔
انسان اگر دل کی گہرائیوں سے عبادت کرے اور باوضو رہے تو جذباتی مسائل پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ چونکہ خوراک بھی انسانی جسم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے اس لیے کھانے پینے کے معاملے میں ہمیشہ بہت خیال رکھا جائے۔ بھنی ہوئی اور تیز مصالحے والی اشیا سے پرہیز کیا جائے۔ سادہ غذا استعمال کی جائے۔ کھانا وقت پر اور بھوک رکھ کر کھانا چاہیے۔ اپنے وقت پر مناسب نیند لینے سے بھی جذباتی مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر