وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں دس ہزارکسانوں کی خودکشی ‘مودی کے منہ پرطمانچہ

جمعرات 21 دسمبر 2017 بھارت میں دس ہزارکسانوں کی خودکشی ‘مودی کے منہ پرطمانچہ

راجہ محمد فیاض
ریاست مہاراشٹر میں اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں پچھلے تین سال کی بی جے پی حکومت کے دور اقتدار میں 10000 کسانوں نے فصل خراب ہونے اور قرض کے سبب خودکشی کر لی ہے۔ حکومت کے ذریعے کسانوں کی قرض معافی کے اعلان کے بعد بھی ریاست میں کسانوں کو کوئی راحت ملتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بحران زدہ علاقوں میں خودکشی کا سلسلہ جاری ہے۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مہاراشٹر کے مراٹھواڑا علاقے میں جنوری سے اب تک 907 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ ‘ مراٹھواڑا علاقے کے آٹھ ضلعوں میں جنوری سے اب تک 907 کسانوں نے خودکشی کی۔ افسر ان خودکشی کی وجہ فصلوں کا خراب ہونا اور کسانوں پر بڑھتے قرض کو بتا رہے ہیں۔ ‘خبر میں کہا گیا ہے کہ ‘ اورنگ آباد ڈویزنل کمشنریٹ کے مطابق، ‘ جنوری سے اب تک 907 خودکشیوں میں ضلع بیڑ میں سب سے زیادہ 187، ناندیڑ میں 141، اورنگ آباد میں 125، عثمان آباد میں 119 اور ضلع پربھنی میں 118 کسانوں نے خودکشی کی۔ تین دیگر اضلاع جالنا، ہنگولی اور لاتور میں 100 کسانوں نے خودکشی کی۔حکومت کی طرف سے مقرراسپیشل ٹاسک فورس کے چیف کشور تیواری نے کہا، ‘ اصل میں قرض معافی کی رقم کسانوں کو نہیں مل رہی ہے۔’مہاراشٹر میں اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے تین سال کے دور اقتدار میں 10000 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ ہندی اخبار نوبھارت ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق، اسمبلی سیشن شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن کے لیڈر رادھاکرشن وکھے پاٹل اور دھننجے منڈے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے تین سال میں ریاست میں 10000 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔خبر میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن نے اسمبلی میں کسانوں کی خودکشی اور بچوں کی موت کی شرح کا مسئلہ اٹھانے کی تیاری کے سلسلے میں کہا کہ بی جے پی کے تین سال میں 10000 کسانوں نے خودکشی کی اور 67000 بچوں کی موت ہوئی۔ حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کیا، لیکن چھے مہینے بعد بھی اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں مل پایا ہے۔صرف من پسندافرادکے قرضے معاف ہوئے ۔ متاثرہ کسانوں کوکوئی فائدہ نہ ہوسکا۔
مدھیہ پردیش کے ضلع ہردا میں بجلی بل جمع کرنے کے لیے عدالتی نوٹس ملنے سے دکھی ہوکر ایک کسان نے سوموار کو مبینہ طور پر کنویں میں کودکر جان دے دی۔ہردا کیپولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش کمار سنگھ نے بتایا، ہنڈیا تھانے کے گرام ابگائوں کلاں کے کسان دنیش پانڈیہ (60) نے کنویں میں کودکر خودکشی کر لی۔ وہاں کے باشندوں کی اطلاع پر موقع پر پہنچی پولیس نے اس کی لاش کو کنویں سے باہر نکالا اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہردا اسپتال بھیجا۔مردہ کسان کا بیٹا سنجے پانڈے نے بتایا، تین دن پہلے پولیس اہلکار ہمارے گھر پر آئے تھے۔ انہوں نے والد کو 9111 روپیے کا بجلی بل جمع کروانے کا عدالتی نوٹس دیا تھا۔نوٹس کے مطابق بل جمع کرنے کی آخری تاریخ 12 دسمبر تھی۔ تبھی سے میرے والد پریشان تھے اور ذہنی دبائومیں تھے۔ اسی کے سبب انہوں نے اپنی جان دے دی۔سنجے نے کہا کہ میرے والد اتوار دوپہر سے لاپتہ تھے۔ رشتہ دار اور محلے والے ان کی تلاش کر رہے تھے۔ سوموار کی صبح ان کی لاش کنویں میں تیرتی ہوئی ملی۔۔اتر پردیش میں مظفرنگر ضلع کے مدکریم پور گائوں میں دل کا دورہ پڑنے سے 37سالہ کسان کی موت ہو گئی۔ فیملی ممبروں نے بتایا کہ وہ زمین کے معاملوں کو لیکر پریشان تھے۔ سب ڈویڑن مجسٹریٹ رام اوتار گپتا نے بتایا کہ کسان کی فیملی کے مطابق، مول چند کو اس کی زمین کا معاوضہ نہیں ملا ہے۔ اسی وجہ سے وہ پریشان تھا اور اسی وجہ سیاس کی موت ہوئی ہے۔ فیملی نے الزام لگایا کہ اس کی زمین ریلوے نے لی ہے لیکن اس کا معاوضہ اس کو نہیں دیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ واقعہ کی بابت جانچ کے حکم دے دئے گئے ہیں۔اڑیشہ میں بھی کسانوں کا مسائل سلجھنے کے بجائے خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے برگڑھ میں اتوار کو ایک ساٹھ سالہ کسان نے خودکشی کر لی۔ نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، کارلا گائوں کے ارجن ستنامی نے پیسٹی سائڈ پی کر خودکشی کر لی۔خبر کے مطابق، ارجن نے پانچ ایکڑ زمین پر دھان کی فصل اگائی تھی۔ اس میں سے دو ایکڑ زمین ان کی اپنی ہے اور تین ایکڑ لیز پر لی تھی۔ دھان کی کھیتی کے لیے انہوں نے کوآپریٹو سوسائٹی سے 60000 اور 30000 روپے پرائیویٹ لون لیا تھا۔ارجن کی بیوی الکمتی سمنامی نے بتایا کہ ارجن قرض اور فصل خراب ہونے سے ذہنی دبائومیں تھے۔ قرض کے لیے ساہوکار ان کو پریشان کر رہا تھا۔
بھارت میں اعداد و شمار کے مطابق، 2012 اور 2017 کے درمیان 2،665 قیدیوں کی تشدد موت ہوئی دوسری جانب کی صورت حال ہے۔ ریاست اتر پردیش میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جیل میں مختلف الزامات میں بند دو ہزار سے زائد قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔ مرنے والے قیدیوں میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔یہ چونکانے والے حقائق حق اطلاعات قانون کے تحت آگرہ کے سماجی کارکن نریش پارس کے مانگے گئے سوالات کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ اتر پردیش میں 62 ضلع جیل، پانچ سنٹرل جیل اور تین خصوصی جیل ہیں۔جیل حکام نے آر ٹی آئی کے کارکن کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2012 اور 2017 کے درمیان 2،665 قیدیوں کی موت ہوئی۔ ان میں سے 360 قیدیوں کی موت 2012 میں، 358، 2013 میں ، 339، 2014 میں ،412 میں ، 2015 میں 2016، اورجب کہ رواں سال جنوری ست جولائی تک 188قیدیوں کی موت ۔آر ٹی آئی کے کارکن مسٹر پارس نے بتایا کہ مرنے والے قیدیوں میں سے نصف سے زیادہ عمردراز تھے۔ ان قیدیوں کے مقدمات عدالت میں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10 جنوری، 2013 کو بلندشہر میں جیل میں ایک 106 سالہ خاتون قید کی موت ہوگئی تھی جبکہ بستی جیل میں مرنے والے 100 سالہ قیدی دسمبر 2016 میں موت ہوئی تھی۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود هفته 14 مارچ 2026
انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود هفته 14 مارچ 2026
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر