وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 17 دسمبر 2017 استقبال کتب

کتاب:اُردو ناول …تاریخ و ارتقا(تنقید)
(آغاز سے اکیسویں صدی تک)
مصنف:ڈاکٹر محمد اشرف کمال
قیمت:۸۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
ڈاکٹر محمد اشرف کمال کی دودرجن سے زائد تصانیف زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں،وہ ایک ماہر تعلیم ہیں اس لیے ان کی زیادہ تر کتابیں نصابی نوعیت کی ہوتی ہیں جو ریسرچ ورک میں کام آتی ہیں،’’اُردو ناول…تاریخ وارتقا‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس میں ناول کیا ہے،ناول کی اقسام،ناول کے فنی لوازمات، پلاٹ، کہانی، کردار، مکالمہ، منظر نگاری،زبان و بیان،اُردو ناول کی تاریخ اور سینکڑوں ناول نگاروں کا تذکرہ لکھا گیا ہے۔ان ناول نگاروں میں ڈپٹی نذیر احمد سے شاعرعلی شاعر تک کا تذکرہ کیا گیاہے،ان کی ناول نگاری کا جائزہ لیاگیاہے،۵۱۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ناول اور ناول نگاروں کے حوالے سے بڑا تحقیقی کام ہے،جو ریسرچ اسکالرز کی ضروریات کو بھی پوری کرتاہے۔ خواتین ناول نگاروں کی ناول نگاری پر بھی بھر پور روشنی ڈالی گئی ہے۔ان میں عذرا عباس، نجمہ سہیل،بشرارحمن،طاہرہ اقبال، عذرا اصغر، نسیم انجم اور معتدد خواتین افسانہ نگاروں کا تذکرہ کیا گیاہے۔
……………
کتاب :ناول کا نیا جنم(تحقیقی جائزہ)
(مشرق و مغرب کے حوالے سے)
محقق :خرم سہیل
قیمت:۱۲۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
’’ناول کا نیا جنم‘‘ایک ایسی کتاب ہے جس میں مشرق و مغرب کے حوالے سے ناول پر تنقیدی، تحقیقی، تجزیاتی اور مطالعاتی مضامین شامل اشاعت کیے گئے ہیں،اس کتاب نہ صرف ناول پر تنقیدی مضامین ہیں بلکہ ناول کی تاریخ،ارتقا،ناول نگاروں کے انٹرویو، ناول کے اجزائے ترکیبی،مغرب میں ناول کا تخلیقی پس منظر،انگریزی زبان میں ناول نگاری کی ابتدا،انگریزی کے بڑے ناول نگار،مغربی ناول نگاروں کی شخصیت اور ان کی اہم تخلیقات کا جائزہ لیاگیاہے،اکیسویں صدی اور عالمی ادب کے معروف ناول نگاروں ،انیسویں صدی میں اُردو ناول نگاری کی ابتدا،آزادی کے بعد اُردو ناول کے خدوخال، آزادی کے بعد اُردو ناول کی نئی صورت حال،ترقی پسند تحریک کا اُردو ناول پر اثر،اُردو ناول میں فسادات، ہجرت، اُردو ناول کے ہمہ گیر سروکار،اُردو ناول پر مختلف فلسفہ و فکر کے اثرات اورناول نگاروں کے بارے میں بے شمار معلومات اس کتاب کا حصہ ہیں۔یہ کتاب فکشن میں یار رہ جانے والی ہے۔
……………
کتاب:مزے مزے کے مشاعرے(مزاحیہ مضامین)
مؤلف:شجاع الدین غوری
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
شجاع الدین غوری کا میدان مزاح نگاری ہے ان کی اب تک طنزو مزاح کی چار کتابیں ۱۔یہ اقبالیے(علامہ اقبال پر مزاحیہ مضامین)،۲۔بذلہ سنجانِ دوعالم (کراچی کے مزاح نگاروں کا انتخاب)، ۳۔نیرنگ مزاح(مزاحیہ نثر پارے)، ۴۔ مزے مزے کے مشاعرے (مزاحیہ مشاعروں کی روداد)شامل ہیں،زیرنظر کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں برصغیر پاک و ہند کے حوالے سے مزاحیہ مشاعروں کی روداد مختلف مزاح نگاروں کے قلم سے یکجا کی گئی ہیں جن میں مولانا عبدالماجد دریا آبادی،نیاز فتح پوری،حاجی لق لق،مرزا فرحت اللہ بیگ،عشرت رحمانی،شوکت تھانوی،کنہیا لال کپور،مجید لاہوری،مشتاق احمد یوسفی،ابن انشا،ارشد محمود،سید ضمیر جعفری،شجاع الدین غوری،برق آشیانوی،مجتبیٰ حسین،یوسف ناظم،رام لال نابھوی،عظیم اختر،شاہدہ صدیقی،منظور عثمانی،اسد رضا،محمود فیضانی شامل ہیں،مزاح پڑھنے والوں کے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے جسے مطالعہ کرتے وقت ہنسی ضبط کرنا محال ہو جاتاہے۔
……………
کتاب:خوابوں کا جزیرہ(افسانے)
افسانہ نگار:رضیہ فصیح احمد
قیمت:۶۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
رضیہ فصیح احمد فکشن کا ایک بڑا نام ہے،جن کے متعدد افسانوی مجموعے اور کئی ناول شائع ہو چکے ہیں،آج کل ان کے فن و شخصیت پر تحقیقی کام ہو رہا ہے،ان کے قلم کی روانی انھیں بے چین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی کوئی نہ کوئی نئی کتاب منظر عام پر آتی رہتی ہے،زیرنظر کتاب رضیہ فصیح احمد کے غیر مطبوعہ افسانوں کا مجموعہ ہے،اس سے قبل ان کے فن و شخصیت پر تحریر کی گئی کتاب’’رضیہ فصیح احمد کے افسانوں کا تحقیقی مطالعہ‘‘ شائع ہوئی تھی جسے معروف شاعرو ادیب جناب اکرم کنجاہی نے ترتیب دیا تھا،’’خوابوں کا جزیرہ‘‘کا پیش لفظ معروف افسانہ نگار جناب نجم الحسن رضوی نے لکھا ہے جب کہ کتاب میں ۲۷؍افسانے اور ۱۴؍افسانچے شامل اشاعت کیے گئے ہیں،ان کے افسانے معاشرے میں پھیلے عنوانات کا حصار کرتے ہیں اور وہ فی زمانہ واقعات کو موضوعات بناتی ہیں،ان کی تحریر موثراور سلیس ہوتی ہے جس میں ابلاغ کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔
……………
کتاب:پھول،کلیاں،تارے(بچوں کا ادب)
کلام:اعجاز رحمانی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
ویسے تو جناب اعجاز رحمانی کی حمدو نعت ،منظوم سیرت النبی،منظوم تاریخ اسلام،منظوم سیرت خلفائے راشدین اورغزل کی پانچ ضخیم کلیات شائع ہوچکی ہیں مگر’’ پھول، کلیاں، تارے‘‘ پہلی بارمنظرعام پر آئی ہے جس میں بچوں کی نظمیں،لطیفے اور منظوم مشاعروں کے احوال بیان کیے گئے ہیں،یہ کتاب بچوں کے ادب پر مشتمل ہے،جناب اعجاز رحمانی جہاں بڑوں کی نفسیات سے آگاہ ہیں وہاں وہ بچوں کی ذہین عمر اور نشوونما سے بھی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ بچوں کی تعلیمی تربیت کس طرح کی جائے،زیرنظر کتاب میں بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دی گئی ہے تاکہ بچہ لطیفے پڑھنے کا لطف بھی اٹھائے اور اُردو قرأت میں بھی مہارت پیدا کرتے جائے،اسی لیے جناب اعجاز رحمان نے آسان فہیم،روانی اور سلاست کے ساتھ بچوں کے لیے منظوم ادب تخلیق کیا ہے ۔یہ بچوں کے لیے اچھی کتاب ثابت ہوگی۔
……………
کتاب :اُردو بستی لندن سے(تنقید)
مصنف:یشب تمنا
قیمت:۳۵۰ روپے
ناشر:اُردوورثہ،لندن
اُردو ورثہ، لندن کے زیراہتمام شائع ہونے والی معروف شاعر و ادیب جناب یشب تمنا کے تنقیدی مضامین کی کتاب’’اُردو بستی لندن سے‘‘حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس میں ان کے۲۳ تنقیدی مضامین شامل ہیں ۔یہ مضامین معروف اور قد آور ادبی شخصیات پر لکھے گئے ہیں جن میںناصر کاظمی،ساقی فاروقی،ظفر اقبال،رفیع الدین راز،اختر ضیائی، حبیب حیدر آبادی، باصر کاظمی، صدیقہ حبیب شبنم،رضا علی عابدی،ڈاکٹر جاوید شیخ،سلیم فگار،سعید اختر درانی،یاسمین حبیب،ڈاکٹر اعظم کمال،فرخندہ رضوی،سہیل انور،فاروق ساغر اور سیمیں برلاس شامل ہیں۔ شخصی مضامین کے علاوہ کچھ مضامین تنقیدی بھی ہیں ۔ عرض ناشرکے عنوان سے محترمہ سیدہ تحسین فاطمہ نے اظہار رائے کیا ہے۔ جناب یشب تمنا کی شاعری اور مضمون نگاری دونوں قابل ذکر ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے حاصل زندگی ادبی سرمائے کو کتابی اشکال میں پیش کیا ہے جو اُردو ادب کے دامن کو مالا مال کرتاہے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر