وجود

... loading ...

وجود

ا مریکی فوج کی سفاکی‘قبضے کے لیے رقہ کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا

بدھ 08 نومبر 2017 ا مریکی فوج کی سفاکی‘قبضے کے لیے رقہ کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا

رقہ کا بیشتر حصہ کھنڈر بن چکا ہیروس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی فورسز نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے دوران رقہ شہر بمباری کی ہے اور اسے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا ہے۔سریئن ڈیمو کریٹک فورسز نے گذشتہ ہفتے رقہ کا کنٹرول سنبھالا اور اتوار کو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شام میں تیل کی پیداوار کے سب سے بڑے علاقے پر اختیار حاصل کر لیا ہے۔رقہ کی پیچیدہ جنگ اس وقت کیوں؟علاقے سے حاصل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رقہ میں زیادہ تر علاقے کھنڈر بن چکے ہیں۔ روس نے اس تباہی کا موازنہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن شہر ڈریزڈن کی تباہی سے کیا ہے۔امریکی اتحادی فوجوں کا کہنا ہے کہ اس نے کوشش کی ہے کہ کم سے کم شہریوں کو نقصان پہنچے۔خود روس پر بھی گذشتہ برس حلب میں بمباری کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم سے متعلق تفتیش کاروں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ رقہ میں شہریوں کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔شامی کارکنوں کا کہنا ہے ہے کہ کم از کم 1130 سے 1873 شہری مارے جا چکے ہیں اور ان میں بیشتر شہری ہلاکتیں امریکی اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے باعث ہوئی ہیں۔روسی وزرات دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رقہ شہر کے کھنڈرات ڈریزڈن کی تباہی کی یاد دلاتے ہیں۔میجر جنرل ایگور کونسشینوف کا کہنا تھا ’رقہ کثو ڈریزڈن کی 1945 والی قسمت ملی ہے جس امریکی بمباری سے صفایا ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مغرب کو اب رقہ میں مالی امداد پہنچانے کی بہت جلدی ہے کیونکہ وہ وہاں ہونے والے جرائم کی شہادتوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔امریکی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے کے لیے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے انتہائی سخت طریقہ کار اپنائے تھے۔سریئن ڈیمو کریٹک فورسز نے چار ماہ کی جنگ کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی دولتِ اسلامی کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا۔ دولتِ اسلامیہ تین سال سے اس علاقے پر قابض تھی۔
ن کا کہنا تھا کہ انھوں نے شدت پسندوں کے لیے مالی مدد کے بڑے ذریعے العمر آئل فیلڈ پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔اب شام میں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی ان کے آخری گڑھ مشرقی صوبے دیر الزور میں جاری ہے۔روسی فضائی فوج اور ایرانی ملیشیا کی حمایت یافتہ شامی فوج یہاں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔
عراق کے شہر موصل میں جاری فوجی کارروائی جب آگے بڑھ رہی تھی تو امریکی حکام نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خود ساختہ’ دارالحکومت’ رقہ کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس وقت سے یہ آپریشن جاری تھا اور امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہاتھا کہ رقہ کا گھیراؤ یا اسے تنہا کرنا اور بالآخر اسے مکمل آزادی دلانا ہمارے اتحاد کے منصوبے کا اگلا قدم ہے۔لیکن رقہ میں کارروائی کا انحصار اس وقت کرد فورسز پر تھا اور اس سے نہ صرف ترکی کی طرف سے بلکہ کم از کم آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سبب بننے کاخدشہ تھا ۔اس وقت آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کا صرف امتزاج ہی نہیں بلکہ اس کا حجم بھی ایک اہم پہلو تھا کیونکہ اس وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھاکہ رقہ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل ذکر فوجیوں کی تعداد میسر ہے کہ نہیں۔
رقہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے اس کا خود ساختہ دارالخلافہ تھا۔ موصل اور رقہ میں بیک وقت کارروائی گروہ کی آپریشنل منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتی تھی اور اس کے جنگجو خاص کر غیر ملکیوں کے فرار کو محدود کیاجاسکتاتھا۔امر یکہ نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کیاتھا کہ دوسرے ممالک میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی رقہ میں کی گئی تو رقہ کو تنہا کر کے وہاں سے فرار کے راستوں کو بند کرنا آپریشن کا ابتدائی ہدف ہو گا۔رقہ میں دولت اسلامیہ یا داعش کے خلاف کارروائی کے دوران امریکا کی کوشش تھی کہ وہ شام میں عرب جنگجوؤں کی تعداد بڑھائے عراق میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حاصل سہولت اس وقت شام میں میسر نہیں تھی۔
عراق میں حکومت ہی سب مسائل کی جواب دہ ہے اور عراق میں کم از کم اتحادیوں کی تسلیم شدہ حکومت ہے۔ اس کے علاوہ عراق میں امریکا کے پاس عراقی سیکورٹی فورسز کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے قابل ذکر وقت اور سرمایہ موجود ہے۔عراق میں مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں مصروف تھا اور امریکا کو عراق میں زمین پر ممکنہ طور پر رابط کاری اور براہ راست زمینی لڑائی میں حصہ لیے بغیر خاصی تعداد میں مشیروں اور ا سپیشل سکیورٹی فورسز کی تعداد میسر تھی۔رقہ میں اس وقت آپریشن شروع کرنے کے اعلان پر امریکا نے تسلیم کیا تھا کہ اسے اس وقت دستیاب سب سے باصلاحیت فورسز کے ساتھ کارروائی کرنی ہے اور یہ خود ساختہ سیرئین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف ہے۔یہ کرد اور عرب ملیشیا فورسز پر مشتمل اتحاد ہے اور اس نے رقہ کے شمال میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں لیکن اس اتحاد میں اکثریت کردوں کی پاپولر پروٹیکشن یونٹ یعنی ‘وائے پی جی’ کے جنگجوؤں کی ہے اور یہ تعداد بعض اندازوں کے مطابق 25 سے 30 ہزار کے قریب ہے۔
ترکی جس نے پہلے ہی اپنی فوج اور ٹینکوں کو شامی حدود میں دھکیل رکھا تھا،لیکن ترکی کو امریکا کی کرد تنظیم ایس ڈی ایف کے کردار پر بنیادی اختلافات تھے اور اس کے ساتھ رقہ میں آپریشن کے لیے تعین کردہ وقت پر بھی یہی صورتحال تھی۔ترکی پہلے ہی کرد جنگجوؤں کے ساتھ تنازع کا شکار ہے اور امریکا کو اتحاد کے انتظامی امور میں سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ امریکا کے اندر اس وقت یہ بحث جاری تھی کہ شام میں زمین پر کتنی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ کردوں کو بھاری ہتھیاروں سمیت امریکی اسلحے کی فراہمی پر بھی بات چیت جاری تھی لیکن اس منصوبے کے بارے میں بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اسے ترکی کے تحفظات کی وجہ سے روک دیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق شام میں اس وقت امریکی فوج کے 300 اہلکار موجود ہیں۔امریکا نے گزشتہ دنوں عرب جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی کوششوں کو تیز کر دیا تھا کیونکہ وہ رقہ میں کسی بھی آپریشن کے بعد اس کے تحفظ کے لیے عرب جنگجؤوں کو ضروری سمجھتا تھا۔اطلاعات کے مطابق ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے شام کے شمالی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔موصل میں جاری آپریشن میں تمام حریف مذہبی فرقوں اور نسلی گروہوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرا کر اس پر عراقی حکومت کی رٹ بحال کر دی جائے تاکہ بعد میں مقامی فورسز ہی اس شہر کا کنٹرول سنبھا ل سکیں۔جبکہ شام میں اس وقت ایسی حکومت قائم ہے جسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں اور امریکی اتحاد کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی ہی صرف ایک ایسی جنگ ہے جس میں شام کی باغی فورسز، اسد حکومت، ایران، ترکی اور روس شامل ہیں۔آخرکار رقہ پر دوبارہ قبضہ دولتِ اسلامیہ اور اس کی خلافت کے خواب کے لیے ایک بڑی شکست ثابت ہو گی لیکن شام کے مستقبل پر یہ کس طرح سے اثرانداز ہو سکتی ہے؟ یہ سوال اب بھی غیر یقینی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

مضامین
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار وجود بدھ 18 فروری 2026
وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر