... loading ...
رقہ کا بیشتر حصہ کھنڈر بن چکا ہیروس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی فورسز نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے دوران رقہ شہر بمباری کی ہے اور اسے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا ہے۔سریئن ڈیمو کریٹک فورسز نے گذشتہ ہفتے رقہ کا کنٹرول سنبھالا اور اتوار کو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شام میں تیل کی پیداوار کے سب سے بڑے علاقے پر اختیار حاصل کر لیا ہے۔رقہ کی پیچیدہ جنگ اس وقت کیوں؟علاقے سے حاصل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رقہ میں زیادہ تر علاقے کھنڈر بن چکے ہیں۔ روس نے اس تباہی کا موازنہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن شہر ڈریزڈن کی تباہی سے کیا ہے۔امریکی اتحادی فوجوں کا کہنا ہے کہ اس نے کوشش کی ہے کہ کم سے کم شہریوں کو نقصان پہنچے۔خود روس پر بھی گذشتہ برس حلب میں بمباری کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم سے متعلق تفتیش کاروں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ رقہ میں شہریوں کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔شامی کارکنوں کا کہنا ہے ہے کہ کم از کم 1130 سے 1873 شہری مارے جا چکے ہیں اور ان میں بیشتر شہری ہلاکتیں امریکی اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے باعث ہوئی ہیں۔روسی وزرات دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رقہ شہر کے کھنڈرات ڈریزڈن کی تباہی کی یاد دلاتے ہیں۔میجر جنرل ایگور کونسشینوف کا کہنا تھا ’رقہ کثو ڈریزڈن کی 1945 والی قسمت ملی ہے جس امریکی بمباری سے صفایا ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مغرب کو اب رقہ میں مالی امداد پہنچانے کی بہت جلدی ہے کیونکہ وہ وہاں ہونے والے جرائم کی شہادتوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔امریکی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے کے لیے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے انتہائی سخت طریقہ کار اپنائے تھے۔سریئن ڈیمو کریٹک فورسز نے چار ماہ کی جنگ کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی دولتِ اسلامی کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا۔ دولتِ اسلامیہ تین سال سے اس علاقے پر قابض تھی۔
ن کا کہنا تھا کہ انھوں نے شدت پسندوں کے لیے مالی مدد کے بڑے ذریعے العمر آئل فیلڈ پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔اب شام میں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی ان کے آخری گڑھ مشرقی صوبے دیر الزور میں جاری ہے۔روسی فضائی فوج اور ایرانی ملیشیا کی حمایت یافتہ شامی فوج یہاں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔
عراق کے شہر موصل میں جاری فوجی کارروائی جب آگے بڑھ رہی تھی تو امریکی حکام نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خود ساختہ’ دارالحکومت’ رقہ کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس وقت سے یہ آپریشن جاری تھا اور امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہاتھا کہ رقہ کا گھیراؤ یا اسے تنہا کرنا اور بالآخر اسے مکمل آزادی دلانا ہمارے اتحاد کے منصوبے کا اگلا قدم ہے۔لیکن رقہ میں کارروائی کا انحصار اس وقت کرد فورسز پر تھا اور اس سے نہ صرف ترکی کی طرف سے بلکہ کم از کم آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سبب بننے کاخدشہ تھا ۔اس وقت آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کا صرف امتزاج ہی نہیں بلکہ اس کا حجم بھی ایک اہم پہلو تھا کیونکہ اس وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھاکہ رقہ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل ذکر فوجیوں کی تعداد میسر ہے کہ نہیں۔
رقہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے اس کا خود ساختہ دارالخلافہ تھا۔ موصل اور رقہ میں بیک وقت کارروائی گروہ کی آپریشنل منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتی تھی اور اس کے جنگجو خاص کر غیر ملکیوں کے فرار کو محدود کیاجاسکتاتھا۔امر یکہ نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کیاتھا کہ دوسرے ممالک میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی رقہ میں کی گئی تو رقہ کو تنہا کر کے وہاں سے فرار کے راستوں کو بند کرنا آپریشن کا ابتدائی ہدف ہو گا۔رقہ میں دولت اسلامیہ یا داعش کے خلاف کارروائی کے دوران امریکا کی کوشش تھی کہ وہ شام میں عرب جنگجوؤں کی تعداد بڑھائے عراق میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حاصل سہولت اس وقت شام میں میسر نہیں تھی۔
عراق میں حکومت ہی سب مسائل کی جواب دہ ہے اور عراق میں کم از کم اتحادیوں کی تسلیم شدہ حکومت ہے۔ اس کے علاوہ عراق میں امریکا کے پاس عراقی سیکورٹی فورسز کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے قابل ذکر وقت اور سرمایہ موجود ہے۔عراق میں مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں مصروف تھا اور امریکا کو عراق میں زمین پر ممکنہ طور پر رابط کاری اور براہ راست زمینی لڑائی میں حصہ لیے بغیر خاصی تعداد میں مشیروں اور ا سپیشل سکیورٹی فورسز کی تعداد میسر تھی۔رقہ میں اس وقت آپریشن شروع کرنے کے اعلان پر امریکا نے تسلیم کیا تھا کہ اسے اس وقت دستیاب سب سے باصلاحیت فورسز کے ساتھ کارروائی کرنی ہے اور یہ خود ساختہ سیرئین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف ہے۔یہ کرد اور عرب ملیشیا فورسز پر مشتمل اتحاد ہے اور اس نے رقہ کے شمال میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں لیکن اس اتحاد میں اکثریت کردوں کی پاپولر پروٹیکشن یونٹ یعنی ‘وائے پی جی’ کے جنگجوؤں کی ہے اور یہ تعداد بعض اندازوں کے مطابق 25 سے 30 ہزار کے قریب ہے۔
ترکی جس نے پہلے ہی اپنی فوج اور ٹینکوں کو شامی حدود میں دھکیل رکھا تھا،لیکن ترکی کو امریکا کی کرد تنظیم ایس ڈی ایف کے کردار پر بنیادی اختلافات تھے اور اس کے ساتھ رقہ میں آپریشن کے لیے تعین کردہ وقت پر بھی یہی صورتحال تھی۔ترکی پہلے ہی کرد جنگجوؤں کے ساتھ تنازع کا شکار ہے اور امریکا کو اتحاد کے انتظامی امور میں سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ امریکا کے اندر اس وقت یہ بحث جاری تھی کہ شام میں زمین پر کتنی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ کردوں کو بھاری ہتھیاروں سمیت امریکی اسلحے کی فراہمی پر بھی بات چیت جاری تھی لیکن اس منصوبے کے بارے میں بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اسے ترکی کے تحفظات کی وجہ سے روک دیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق شام میں اس وقت امریکی فوج کے 300 اہلکار موجود ہیں۔امریکا نے گزشتہ دنوں عرب جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی کوششوں کو تیز کر دیا تھا کیونکہ وہ رقہ میں کسی بھی آپریشن کے بعد اس کے تحفظ کے لیے عرب جنگجؤوں کو ضروری سمجھتا تھا۔اطلاعات کے مطابق ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے شام کے شمالی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔موصل میں جاری آپریشن میں تمام حریف مذہبی فرقوں اور نسلی گروہوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرا کر اس پر عراقی حکومت کی رٹ بحال کر دی جائے تاکہ بعد میں مقامی فورسز ہی اس شہر کا کنٹرول سنبھا ل سکیں۔جبکہ شام میں اس وقت ایسی حکومت قائم ہے جسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں اور امریکی اتحاد کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی ہی صرف ایک ایسی جنگ ہے جس میں شام کی باغی فورسز، اسد حکومت، ایران، ترکی اور روس شامل ہیں۔آخرکار رقہ پر دوبارہ قبضہ دولتِ اسلامیہ اور اس کی خلافت کے خواب کے لیے ایک بڑی شکست ثابت ہو گی لیکن شام کے مستقبل پر یہ کس طرح سے اثرانداز ہو سکتی ہے؟ یہ سوال اب بھی غیر یقینی ہے۔
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...
فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...
حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...
جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...
ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...
حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...
محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...
ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...
جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...
مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...