وجود

... loading ...

وجود

فرقہ پرست ہندومحبت کی نشانی تاج محل کے درپے

پیر 06 نومبر 2017 فرقہ پرست ہندومحبت کی نشانی تاج محل کے درپے

دہلی کالال قلعہ ہویاکوئی اورتاریخی مقام بھارت کے جنونی ہندوہروہ نشانی مٹانے پرتلے ہیں جووہاں مغل بادشاہوں نے تعمیر کرائی ۔ ہندوئوں کی خواہش ہے کہ یا تووہ مقام سرے ڈھادیاجائے تومسلمان حکمرانون کے دورمیں فنی تعمیرکانادرشاہکار ہے اگرایسا ممکن نہ ہوتو کم ازکم اس مقام پرمسلمانوں سے چھین کرہندوئوں کی دسترس میں دے دیاجائے ۔ با بری مسجد پر قبضے کے بعد ہندو فرقہ پرستوں کے حوصلے مزید بلندہوچکے ہیں ان کی خواہش کے کسی طرح تاج محل کوبھی کسی مندرکوگراکراس کی جگہ تعمیرکیے جانے کابتاکرملیہ میٹ کرکے کوئی مندرنما عمارت کادرجہ دلادیاجائے ۔اسی لیے تاج محل کو قدیم تیجو مہالیہ مندر کاحصہ قراردینے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔تاج محل کی تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششوں میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی سب سے آگے ہے۔اس حوالے سے بی جے پی صدر لکشمی کانت واجپائی کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مغل حکمران شاہ جہاں نے اس عمارت کی تعمیر کے لیے کچھ زمین ہند راجہ جے سنگھ سے خریدی تھی۔
واجپائی کا دعویٰ ہے کہ اس سے متعلق دستاویزات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف کی ملکیت پر قبضہ جمائے بیٹھے اتر پردیش کے سینئر وزیراعظم خان کی نظر اب تاج محل پر ہے اور مزید کہا کہ تاج محل میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا مسلمانوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔ تاج محل کو مندر قرار دینے کی کوششیں کئی عرصے سے جاری ہیں۔
اب تک کئی مرتبہ تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازشیں بنائی جاتی رہی ہیں۔ تاج محل کا نقشہ جس طرح سے بنایا گیا ہے ہندو اسے دید مندر کا حصہ قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کے مغرب کی سمت جو مسجد ہے وہ سمجھ میں آتی ہے لیکن مشرق کی جو مسجد نما عمارت ، جسے نقار خانہ کہا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مقبروں میں نقار خانے نہیں بنائے جاتے۔
نقار خانے پرانے زمانے میں ہندو مندروں میں ہی بنائے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کی عمارت جو عربی آیات کندہ ہیں۔وہ بھی مندر کے نقش ونگار کو چھپانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاج محل میں ایک کنواں بھی ہے جس کے بارے میں ہندو انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ پرانے دور میں مندروں میں ایسے کنویں بنائے جاتے تھے تاکہ خزانہ چھپایا جاسکے۔ اس طرح کے اوٹ پٹانگ دعوؤں کے ذریعے تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے۔
حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے نفیس سنگ مرمر سے تعمیر یہ روضہ اپنی محبت کی نشانی کے طور پر پانچویں مغل حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ فارسی زبان میں ایسی تاریخوں کی کمی نہیں جس میں اس عمارت کی تفصیلی کیفیات اور بنانے والوں کے نام تک درج ہیں۔ اس ضمن میں عدالت نے اس استدال کو مسترد کردیا۔ ہندو فرقہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی سو پچاس سال پہلے کی کہانی نہیں۔
یہاں ہندوؤں کا مندر ہوتا تھا لیکن مغل دور میں کچھ مسلمان حکمرانوں نے اپنے عزیزوں کو یہاں دفنایا تھا اس لیے وہ دعویدار ہوگئے ہمایوں اکبر اور صفدر جنگ کو بھی ایسی عمارتوں میں دفن کیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شیوا ا مندر تھا تو اس کے دعویٰ میں اربوں ہندوؤں میں سے صرف چند انتہا پسند ہی کیوں واویلا مچا رہے ہیں۔ ان کی وجہ صرف سستی شہرت کا حصول ہے یا پھر ہندو اکثریتی طبقے کو مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے۔
تاج محل شاہ جہاں کی محبت کی نشانی کے طور پر زندہ ہے اور تا قیامت رہے گا جس کے پر شکوہ مینار آج بھی اس محبت کی یاد دلاتے ہیں۔ ماہر تعمیرات کے مطابق اس محل کو جیومیٹری کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔ محل میں واقع مقبروں کے مینار کا سائز مختلف ہے۔ شاہ جہاں کے مقبرے کے مینار ممتاز محل کے مقبرے سے زیادہ بلند ہیں۔ستونوں کے راز تاج محل کے چار مینار ہیں۔
چاروں کے چاروں محل کی بنیاد سے اٹھائے گئے ہیں اور ایسا زلزلے کہ ممکنہ نقصانات سے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ اگر کبھی کوئی ہولناک زلزلہ آیابھی تو صرف مینار ہی گرے گا باقی عمارت محفوظ رہے گی۔ سیاح ہر طرف سے چاروں میناروں کو ایک ہی زاویے سے دیکھ سکتے ہیں، اس وقت کے ماہر تعمیرات نے اس تعمیر میں فیثا غورث کا فارمولا اپنایا اور توازن کے تمام ریاضیاتی فارمولوں سے استفادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق تاج محل کو عجوبہ بنانے کی ایک دلیل یہ ہے کہ سارادن اس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت اس محل کو گلابی شیڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شام کو دودھیا سفید اور چاندنی رات کوسنہری دکھائی دیتا ہے۔ 22 ہزار مزدوروں نے دن رات اس کی تعمیر پر حصہ لیا۔ سنگ مرمر اور مقبرہ میں خالصتاََ سفید پتھر یعنی سنگ مرمر استعمال ہوا ہے۔ اس ضمن میں عرب،چین،افغانستان اور سر ی لنکا سے مختلف رنگوں کے قیمتی پتھر منگوائے گئے تھے جن میں سے تقریباََ 30 طرح کے پتھروں کو استعمال میں لایا گیا تھا۔
تاہم تاج محل کی خوبصورتی کا منبع اس کا مقبرہ ہے جسے پیاز کی شکل کا بنایا گیا۔ خوبصورت خطاطی میں اللہ پاک کے 99 ناموں کو بھی گندہ کروایا گیا ہے۔ تاج محل کی مجموعی بلندی 171 میٹر ہے۔ یہ شاہکار 22 سال میں مکمل ہوا ہے۔ اس کی تعمیر1631ء میں شروع ہوئی اور 1654ء میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ عمارت کا چبوترا جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے سنگ مرمر کا ہے۔
اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف کرسی کے نیچے ایک حوض ہے جس میں فوارے باغ بھی ہیں۔ اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز اور شاہ جہاں کی قبریں ہیں۔ ہر سال 30 لاکھ سیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں یہ تعداد ہندوستان کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس عظیم یادگار کو ایک طرف تو ہندو فرقہ پرست مندر بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں تو دوسری جانب اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی۔
آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث محبت کی اس عظیم یادگار کی رنگت سفید سے پیلی ہوگئی ہے۔ یہ انکشاف 2007ء میں ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے سنگ مرمر پیلا ہوتا جارہا ہے اور اس تاریخی عمارت کی حقیقی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے۔ رپورٹ میں تاج محل کی خوبصورتی کو بچانے اور سنگ مرمر کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے اسے صاف کرنے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کی تحقیق میں یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ تاج محل کی جگہ پر کوئی مندر نہ تھا۔
اس حوالے سے بھارتی اخبار ’’ نیوانڈین ایکسپریس‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ بتایا ہے کہ عدالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو اس سے شدید صدمہ پہنچاہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں کیا گیا ہے۔ بی جے پی آگرہ یونٹ کا کہناہے کہ رواں سال مارچ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی مشترکہ قانونی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر ہری شنکر جین کی جانب سے آگرہ سول کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چونکہ سترہویں صدی میں یہ تاریخی عمارت ایک مندر تھا۔
اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ تاج محل کو قدیم شیو مندر قرار دیا جائے۔ اور اس عمارت کا محکمہ آثار قدیمہ سے لیکر آر ایس ایس کے حوالے کیا جائے تاکہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ بند کرکے اس پر تاریخی شیو مندر کا بورڈ لگادیا جائے اوراس مندر میں مقامی و عالمی سیاحوں کاداخلہ بند کرکے ہندوؤں کو پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔دراصل عدالتی حکم کے تحت حکومت ہند سے سرکاری موقف مانگا گیا تھا جس پر حکومت نے آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اور محققین کی ایک ٹیم کو ہندوؤں کے دعوے کی تحقیق کا کام سونپا تھا۔
اس ٹیم نے مسلسل چھ ماہ کی تحقیق کے بعد تحریری طور بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس دعوے کو لغو قرار دیکر مسترد کردیا۔ مجموعی اعتبار سے بھارتی حکومت کی تحقیق میں تاج محل کی جگہ کسی مندر یا ہندو مذہبی مقام کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کے بیان وموقف کے بعد یقین ہے کہ عدالت اس مقدمے کو خارج کردے گی جس میں تاج محل کو مندر قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
تاج محل، مندر کیس میں ایک دلچسپ امریہ بھی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی وکلا ٹیم کی جانب سے اس کیس کا مدعی ہندوؤں کے دیو مالائی بھگوان، اگر یشور مہادیو کو بنایا گیا جن کا اس دنیا میں وجود تک نہیں ہے۔ کیونکہ خود ہندو مورخین کے مطابق وہ ایک دیومالائی کردارہے اس کے باوجود سٹی سول کورٹ میں اس کیس کو سماعت کے لیے قبول کر لیا گیا تھا۔
اس پر مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی تھی۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس او بی جے پی کے وکلاء نے ہندو مورخین کی لکھی کتابوں سے مبینہ تاریخی حوالوں کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل بھگوان شیو کے مندر پر بنایا گیا تھا۔ حکومت کو ہر سال تاج محل سے 50 کروڑ سے زائد کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جس پر ہندو تنظیموں کی نظریں گڑھی ہوئی ہیں اس لیے ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح تاج محل پر قابض ہو جائیں اس طرح سیاحوں کی آمدنی کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے دولت مند ہندو،ہندوعقیدت مند، ذات پات، کے لیے اربوں روپے فراہم کریں گے۔
ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔ ہندوستانی آثار قدیمہ حکام نے عدالت میں اس بات کے ثبوت میں 1920ء میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکشن بھی پیش کیا جس میں تاج محل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے میں کہا گیا یہ دنیا کا ساتواں عجوبہ ہے اور 1904ء میں برطانوی دور سے اسے ایسی یادگار تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا جس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ہندوستان کی مرکزی وزارت ثقافت بھی وضاحت کرچکی ہے کہ تاج محل کے مندو ہونے کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔


متعلقہ خبریں


بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر