... loading ...
دہلی کالال قلعہ ہویاکوئی اورتاریخی مقام بھارت کے جنونی ہندوہروہ نشانی مٹانے پرتلے ہیں جووہاں مغل بادشاہوں نے تعمیر کرائی ۔ ہندوئوں کی خواہش ہے کہ یا تووہ مقام سرے ڈھادیاجائے تومسلمان حکمرانون کے دورمیں فنی تعمیرکانادرشاہکار ہے اگرایسا ممکن نہ ہوتو کم ازکم اس مقام پرمسلمانوں سے چھین کرہندوئوں کی دسترس میں دے دیاجائے ۔ با بری مسجد پر قبضے کے بعد ہندو فرقہ پرستوں کے حوصلے مزید بلندہوچکے ہیں ان کی خواہش کے کسی طرح تاج محل کوبھی کسی مندرکوگراکراس کی جگہ تعمیرکیے جانے کابتاکرملیہ میٹ کرکے کوئی مندرنما عمارت کادرجہ دلادیاجائے ۔اسی لیے تاج محل کو قدیم تیجو مہالیہ مندر کاحصہ قراردینے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔تاج محل کی تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششوں میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی سب سے آگے ہے۔اس حوالے سے بی جے پی صدر لکشمی کانت واجپائی کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مغل حکمران شاہ جہاں نے اس عمارت کی تعمیر کے لیے کچھ زمین ہند راجہ جے سنگھ سے خریدی تھی۔
واجپائی کا دعویٰ ہے کہ اس سے متعلق دستاویزات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف کی ملکیت پر قبضہ جمائے بیٹھے اتر پردیش کے سینئر وزیراعظم خان کی نظر اب تاج محل پر ہے اور مزید کہا کہ تاج محل میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا مسلمانوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔ تاج محل کو مندر قرار دینے کی کوششیں کئی عرصے سے جاری ہیں۔
اب تک کئی مرتبہ تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازشیں بنائی جاتی رہی ہیں۔ تاج محل کا نقشہ جس طرح سے بنایا گیا ہے ہندو اسے دید مندر کا حصہ قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کے مغرب کی سمت جو مسجد ہے وہ سمجھ میں آتی ہے لیکن مشرق کی جو مسجد نما عمارت ، جسے نقار خانہ کہا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مقبروں میں نقار خانے نہیں بنائے جاتے۔
نقار خانے پرانے زمانے میں ہندو مندروں میں ہی بنائے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کی عمارت جو عربی آیات کندہ ہیں۔وہ بھی مندر کے نقش ونگار کو چھپانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاج محل میں ایک کنواں بھی ہے جس کے بارے میں ہندو انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ پرانے دور میں مندروں میں ایسے کنویں بنائے جاتے تھے تاکہ خزانہ چھپایا جاسکے۔ اس طرح کے اوٹ پٹانگ دعوؤں کے ذریعے تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے۔
حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے نفیس سنگ مرمر سے تعمیر یہ روضہ اپنی محبت کی نشانی کے طور پر پانچویں مغل حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ فارسی زبان میں ایسی تاریخوں کی کمی نہیں جس میں اس عمارت کی تفصیلی کیفیات اور بنانے والوں کے نام تک درج ہیں۔ اس ضمن میں عدالت نے اس استدال کو مسترد کردیا۔ ہندو فرقہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی سو پچاس سال پہلے کی کہانی نہیں۔
یہاں ہندوؤں کا مندر ہوتا تھا لیکن مغل دور میں کچھ مسلمان حکمرانوں نے اپنے عزیزوں کو یہاں دفنایا تھا اس لیے وہ دعویدار ہوگئے ہمایوں اکبر اور صفدر جنگ کو بھی ایسی عمارتوں میں دفن کیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شیوا ا مندر تھا تو اس کے دعویٰ میں اربوں ہندوؤں میں سے صرف چند انتہا پسند ہی کیوں واویلا مچا رہے ہیں۔ ان کی وجہ صرف سستی شہرت کا حصول ہے یا پھر ہندو اکثریتی طبقے کو مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے۔
تاج محل شاہ جہاں کی محبت کی نشانی کے طور پر زندہ ہے اور تا قیامت رہے گا جس کے پر شکوہ مینار آج بھی اس محبت کی یاد دلاتے ہیں۔ ماہر تعمیرات کے مطابق اس محل کو جیومیٹری کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔ محل میں واقع مقبروں کے مینار کا سائز مختلف ہے۔ شاہ جہاں کے مقبرے کے مینار ممتاز محل کے مقبرے سے زیادہ بلند ہیں۔ستونوں کے راز تاج محل کے چار مینار ہیں۔
چاروں کے چاروں محل کی بنیاد سے اٹھائے گئے ہیں اور ایسا زلزلے کہ ممکنہ نقصانات سے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ اگر کبھی کوئی ہولناک زلزلہ آیابھی تو صرف مینار ہی گرے گا باقی عمارت محفوظ رہے گی۔ سیاح ہر طرف سے چاروں میناروں کو ایک ہی زاویے سے دیکھ سکتے ہیں، اس وقت کے ماہر تعمیرات نے اس تعمیر میں فیثا غورث کا فارمولا اپنایا اور توازن کے تمام ریاضیاتی فارمولوں سے استفادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق تاج محل کو عجوبہ بنانے کی ایک دلیل یہ ہے کہ سارادن اس کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت اس محل کو گلابی شیڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شام کو دودھیا سفید اور چاندنی رات کوسنہری دکھائی دیتا ہے۔ 22 ہزار مزدوروں نے دن رات اس کی تعمیر پر حصہ لیا۔ سنگ مرمر اور مقبرہ میں خالصتاََ سفید پتھر یعنی سنگ مرمر استعمال ہوا ہے۔ اس ضمن میں عرب،چین،افغانستان اور سر ی لنکا سے مختلف رنگوں کے قیمتی پتھر منگوائے گئے تھے جن میں سے تقریباََ 30 طرح کے پتھروں کو استعمال میں لایا گیا تھا۔
تاہم تاج محل کی خوبصورتی کا منبع اس کا مقبرہ ہے جسے پیاز کی شکل کا بنایا گیا۔ خوبصورت خطاطی میں اللہ پاک کے 99 ناموں کو بھی گندہ کروایا گیا ہے۔ تاج محل کی مجموعی بلندی 171 میٹر ہے۔ یہ شاہکار 22 سال میں مکمل ہوا ہے۔ اس کی تعمیر1631ء میں شروع ہوئی اور 1654ء میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ عمارت کا چبوترا جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے سنگ مرمر کا ہے۔
اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف کرسی کے نیچے ایک حوض ہے جس میں فوارے باغ بھی ہیں۔ اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز اور شاہ جہاں کی قبریں ہیں۔ ہر سال 30 لاکھ سیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں یہ تعداد ہندوستان کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس عظیم یادگار کو ایک طرف تو ہندو فرقہ پرست مندر بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں تو دوسری جانب اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی۔
آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث محبت کی اس عظیم یادگار کی رنگت سفید سے پیلی ہوگئی ہے۔ یہ انکشاف 2007ء میں ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے سنگ مرمر پیلا ہوتا جارہا ہے اور اس تاریخی عمارت کی حقیقی خوبصورتی متاثر ہورہی ہے۔ رپورٹ میں تاج محل کی خوبصورتی کو بچانے اور سنگ مرمر کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے اسے صاف کرنے کی سفارش کی گئی تھی جبکہ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے ماہرین کی تحقیق میں یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ تاج محل کی جگہ پر کوئی مندر نہ تھا۔
اس حوالے سے بھارتی اخبار ’’ نیوانڈین ایکسپریس‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ بتایا ہے کہ عدالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو اس سے شدید صدمہ پہنچاہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں کیا گیا ہے۔ بی جے پی آگرہ یونٹ کا کہناہے کہ رواں سال مارچ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی مشترکہ قانونی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر ہری شنکر جین کی جانب سے آگرہ سول کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چونکہ سترہویں صدی میں یہ تاریخی عمارت ایک مندر تھا۔
اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ تاج محل کو قدیم شیو مندر قرار دیا جائے۔ اور اس عمارت کا محکمہ آثار قدیمہ سے لیکر آر ایس ایس کے حوالے کیا جائے تاکہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ بند کرکے اس پر تاریخی شیو مندر کا بورڈ لگادیا جائے اوراس مندر میں مقامی و عالمی سیاحوں کاداخلہ بند کرکے ہندوؤں کو پوجا پاٹھ کی اجازت دی جائے۔دراصل عدالتی حکم کے تحت حکومت ہند سے سرکاری موقف مانگا گیا تھا جس پر حکومت نے آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اور محققین کی ایک ٹیم کو ہندوؤں کے دعوے کی تحقیق کا کام سونپا تھا۔
اس ٹیم نے مسلسل چھ ماہ کی تحقیق کے بعد تحریری طور بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس دعوے کو لغو قرار دیکر مسترد کردیا۔ مجموعی اعتبار سے بھارتی حکومت کی تحقیق میں تاج محل کی جگہ کسی مندر یا ہندو مذہبی مقام کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کے بیان وموقف کے بعد یقین ہے کہ عدالت اس مقدمے کو خارج کردے گی جس میں تاج محل کو مندر قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
تاج محل، مندر کیس میں ایک دلچسپ امریہ بھی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی چھ رکنی وکلا ٹیم کی جانب سے اس کیس کا مدعی ہندوؤں کے دیو مالائی بھگوان، اگر یشور مہادیو کو بنایا گیا جن کا اس دنیا میں وجود تک نہیں ہے۔ کیونکہ خود ہندو مورخین کے مطابق وہ ایک دیومالائی کردارہے اس کے باوجود سٹی سول کورٹ میں اس کیس کو سماعت کے لیے قبول کر لیا گیا تھا۔
اس پر مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی تھی۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس او بی جے پی کے وکلاء نے ہندو مورخین کی لکھی کتابوں سے مبینہ تاریخی حوالوں کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل بھگوان شیو کے مندر پر بنایا گیا تھا۔ حکومت کو ہر سال تاج محل سے 50 کروڑ سے زائد کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جس پر ہندو تنظیموں کی نظریں گڑھی ہوئی ہیں اس لیے ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح تاج محل پر قابض ہو جائیں اس طرح سیاحوں کی آمدنی کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے دولت مند ہندو،ہندوعقیدت مند، ذات پات، کے لیے اربوں روپے فراہم کریں گے۔
ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے۔ ہندوستانی آثار قدیمہ حکام نے عدالت میں اس بات کے ثبوت میں 1920ء میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکشن بھی پیش کیا جس میں تاج محل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے میں کہا گیا یہ دنیا کا ساتواں عجوبہ ہے اور 1904ء میں برطانوی دور سے اسے ایسی یادگار تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا جس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ہندوستان کی مرکزی وزارت ثقافت بھی وضاحت کرچکی ہے کہ تاج محل کے مندو ہونے کو کوئی ثبوت نہیں ملا۔
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...