وجود

... loading ...

وجود

نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے چیلنج

جمعه 03 نومبر 2017 نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے چیلنج

پاکستان کاشمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیاجاتاہے جہاں مغربی ممالک کے برعکس عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے،اور اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں اسکول جانے کی عمرکے بچوں کی تعداد کم وبیش 5 کروڑ تک پہنچ چکی ہے ،ملک میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی یہ تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے،ملک بھر میں قائم سرکاری پرائمری وسیکنڈری اسکول، کالجز اور جامعات اس ملک کے تمام بچوں اور جوانوں کو داخلے کی سہولت فراہم کرنے میں بہت پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں ،سرکاری اداروں کی اس کمی اور بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نجی شعبے نے اس قدم رکھاتھا اوراس حوالے سے ابتدا میں ان کی کارکردگی کی وجہ سے ان کو سراہا بھی گیاتھا لیکن جلد ہی نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے اپنے اداروں کو نوٹ چھاپنے کی فیکٹریوں میں تبدیل کرنا شروع کردیا اور اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معیاری نجی تعلیمی اداروں کی فیسیںغریب توکجا متوسط بلکہ اعلیٰ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر نکل چکی ہے جس کااندازہ فیسوں کے مسئلے پرنجی تعلیمی اداروں اور بچوں کے والدین کے درمیان جاری قانونی جنگ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک کے کم وبیش 2کروڑ کمسن بچے اسکول جانے سے محروم ہوچکے ہیں یہ بچے دن بھر سڑکوں اورگلیوں میں آوارہ گردی کرتے ہیں یاپھر ان کے والدین ان کو چھوٹے موٹے کاموں پر لگادیتے ہیں یا بعض خاص طورپر لڑکیوں کو متمول طبقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے ان کے بنگلوں پر خادمائوںکی حیثیت سے رکھوانے پر مجبور ہوتے ہیں اور قوم کے یہ نونہال جنھیں مستقبل کا معمار کہاجاتاہے جوان ہوکر ناخواندہ اوربے ہنر ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کمانے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے اور یاتو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنی قسمت پر شاکر ہوکر فاقہ کشی کرتے رہتے ہیں یاجرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہوکر معاشرے کے لیے ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔اگرچہ بعض فلاحی ادارے اس حوالے سے بچوں اورنوجوانوں کوتعلیم کی سہولت فراہم کرنے میں حکومت کی معاونت کررہے ہیں اور ان کے قائم کردہ مفت اسکولوں میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرکے معاشرے کے مفید شہری بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی کم اورحکومت کی جانب سے مناسب سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارے تعلیم کے شعبے میں اتنا موثر کردار ادا نہیں کرپارہے جسے قابل ذکر کہاجاسکے۔تعلیم کے شعبے میں حکومت کاہاتھ بٹانے اور اس ملک کے غریب اور کم وسیلہ لوگوں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں دینی مدارس بلاشبہ قابل ذکر کردار ادا کررہے ہیں،لیکن دینی جماعتوں کی جانب سے سیاست شروع کیے جانے اوران مدارس کے طلبہ کو اپنی طاقت کے اظہار بنائے جانے او ر بعض دینی مدارس میں فرقہ واریت کے پرچار کی بڑھتی ہوئی شکایات نے ان اہم تعلیمی مراکز کی اہمیت بھی مشکوک بنادی ہے اور اب طورپر لوگ برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے والے علما تیار کرنے والے ان مدارس میںاپنے بچوں کوداخل کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔
2016 میں جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں حکومت کے زیر انتظام کم وبیش 2لاکھ 20 اسکول موجود تھے۔لیکن حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ان اسکولوں کی اکثریت ضرورت کے مطابق اساتذہ اور دیگر سہولتوں سے محروم نظر آتے ہیں جس کا اندازہ وقتا فوقتاًاخبارات اور میڈیا میں آنے والی خبروں سے بخوبی لگایا جا سکتاہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے بعض سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اپنے طلبہ کو انتہائی معیاری تعلیم دے رہے ہیں اور ان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ ملک کے مہنگے ترین اعلیٰ نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ سے کہیں زیادہ بہتر نتائج لارہے ہیں لیکن ایسے اسکولوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جانے سے بھی کم ہے۔
وفاقی حکومت کے ڈائریکٹر تعلیمات کاکہناہے کہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور فنڈز کی کمی سرکاری اسکولوںکو درپیش سب سے بڑے چیلنج ہیں جن پر قابو پانا ممکن نظر نہیں آتا۔ہمارے ملک میں تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے اوراساتذہ کی مناسب تربیت کا انتظام کرنے کے بجائے ابتدا ہی سے چوں کو ذہین اور غبی کے زمروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جو بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں یاجن کے والدین اپنے بچوں پر زیادہ محنت کرکے ان کی ذہانت کوجلابخشنے کی کوشش کرتے ہیں ان بچوں کوذہین بچوں کی فہرست میں شامل کردیاجاتاہے جبکہ کم وسیلہ اور ناخواندہ والدین کے بچوں کو غبی بچوں کے زمرے میں شامل کردیا جاتاہے اور ان کے نتائج خراب آنے پر ان کے والدین کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے بچے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ اسے کوئی ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کریں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غبی قرار دے کر کنارے کھڑے کردئے جانے والے ان بچوں میں سے ہزاروں بچے بعد میں اپنے طورپر تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے اور خود اپنا کاروبار شروع کرکے ان پر غبی ہونے کالیبل لگانے والے اساتذہ کو ملازم رکھنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف حکومت ہی کی نہیں بلکہ ہمارے متمول طبقے کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے اور انھیں یہ سوچنا چاہئے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی صنعتی اور تجارتی ضروریات کے لیے مستقبل میں وہ افرادی قوت کہاں سے لائیں گے کیا وہ اپنے نوجوانوں کو فاقہ کشی کی دلدل میں دھکیل کر اپنے کام کے لیے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت درآمد کریں گے اور کیا یہ درآمد شدہ افرادی قوت ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کافی ثابت ہوسکے گی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ارباب حکومت اور خاص طورپر اس ملک کے متمول طبقے کو اس جانب توجہ دینی چاہئے اورملک کے کونے کونے میںسرسید احمد خان، سر آدم جی، پربھومل اور ڈنشا کی طرح ایسے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں اس ملک کے غریب اور کم وسیلہ بچوں کو مفت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کاموقع مل سکے ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوکر نکلنے والے نوجوان نہ صرف اس قوم وملک کاسرمایہ ثابت ہوں گے بلکہ اس طرح کے تعلیمی اور فنی ادارے اپنے قائم کرنے کے لیے صدقہ جاریہ اور رہتی دنیا تک ان کی شہرت کا ذریعہ بنیں گے، اس حوالے سے ہماری مسلح افواج بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور کم از کم اپنی چھائونیوں کے علاقوں میں ایسے تعلیمی اور فنی ادارے قائم کرسکتی ہے جہاں ملک کے غریب طلبہ وطالبات اعلیٰ تعلیم اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سیکھ کر مفید شہری بن سکیں یہ صحیح ہے کہ پاک فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ نے ملک کے مختلف علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی ادارے اور میڈیکل کالجز قائم کیے ہیں ،لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ پاک فوج جیسے قوم کی بے لوث خدمت کرنے والے ادارے کے زیر انتظام بیشتر معیاری تعلیمی اداروں کی فیسیں اس ملک کے عام لوگوں کی پہنچ سے باہرہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کے بچے ان اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کرنے کو سوچ بھی نہیں سکتے جبکہ پاک فوج کے ذیلی اداروں کے زیر انتظام ملک کے پسماندہ علاقوں میں مفت تعلیم کے جو ادارے کام کررہے ہیں ان کامعیار عام سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اس صورت حال پر توجہ دے کر اصلاح احوال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر