وجود

... loading ...

وجود

نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے چیلنج

جمعه 03 نومبر 2017 نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے چیلنج

پاکستان کاشمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیاجاتاہے جہاں مغربی ممالک کے برعکس عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے،اور اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں اسکول جانے کی عمرکے بچوں کی تعداد کم وبیش 5 کروڑ تک پہنچ چکی ہے ،ملک میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی یہ تعداد کو تعلیم کی فراہمی حکومت کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے،ملک بھر میں قائم سرکاری پرائمری وسیکنڈری اسکول، کالجز اور جامعات اس ملک کے تمام بچوں اور جوانوں کو داخلے کی سہولت فراہم کرنے میں بہت پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں ،سرکاری اداروں کی اس کمی اور بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نجی شعبے نے اس قدم رکھاتھا اوراس حوالے سے ابتدا میں ان کی کارکردگی کی وجہ سے ان کو سراہا بھی گیاتھا لیکن جلد ہی نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے اپنے اداروں کو نوٹ چھاپنے کی فیکٹریوں میں تبدیل کرنا شروع کردیا اور اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معیاری نجی تعلیمی اداروں کی فیسیںغریب توکجا متوسط بلکہ اعلیٰ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر نکل چکی ہے جس کااندازہ فیسوں کے مسئلے پرنجی تعلیمی اداروں اور بچوں کے والدین کے درمیان جاری قانونی جنگ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک کے کم وبیش 2کروڑ کمسن بچے اسکول جانے سے محروم ہوچکے ہیں یہ بچے دن بھر سڑکوں اورگلیوں میں آوارہ گردی کرتے ہیں یاپھر ان کے والدین ان کو چھوٹے موٹے کاموں پر لگادیتے ہیں یا بعض خاص طورپر لڑکیوں کو متمول طبقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے ان کے بنگلوں پر خادمائوںکی حیثیت سے رکھوانے پر مجبور ہوتے ہیں اور قوم کے یہ نونہال جنھیں مستقبل کا معمار کہاجاتاہے جوان ہوکر ناخواندہ اوربے ہنر ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کمانے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے اور یاتو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنی قسمت پر شاکر ہوکر فاقہ کشی کرتے رہتے ہیں یاجرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہوکر معاشرے کے لیے ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔اگرچہ بعض فلاحی ادارے اس حوالے سے بچوں اورنوجوانوں کوتعلیم کی سہولت فراہم کرنے میں حکومت کی معاونت کررہے ہیں اور ان کے قائم کردہ مفت اسکولوں میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرکے معاشرے کے مفید شہری بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی کم اورحکومت کی جانب سے مناسب سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارے تعلیم کے شعبے میں اتنا موثر کردار ادا نہیں کرپارہے جسے قابل ذکر کہاجاسکے۔تعلیم کے شعبے میں حکومت کاہاتھ بٹانے اور اس ملک کے غریب اور کم وسیلہ لوگوں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں دینی مدارس بلاشبہ قابل ذکر کردار ادا کررہے ہیں،لیکن دینی جماعتوں کی جانب سے سیاست شروع کیے جانے اوران مدارس کے طلبہ کو اپنی طاقت کے اظہار بنائے جانے او ر بعض دینی مدارس میں فرقہ واریت کے پرچار کی بڑھتی ہوئی شکایات نے ان اہم تعلیمی مراکز کی اہمیت بھی مشکوک بنادی ہے اور اب طورپر لوگ برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے والے علما تیار کرنے والے ان مدارس میںاپنے بچوں کوداخل کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں۔
2016 میں جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں حکومت کے زیر انتظام کم وبیش 2لاکھ 20 اسکول موجود تھے۔لیکن حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ان اسکولوں کی اکثریت ضرورت کے مطابق اساتذہ اور دیگر سہولتوں سے محروم نظر آتے ہیں جس کا اندازہ وقتا فوقتاًاخبارات اور میڈیا میں آنے والی خبروں سے بخوبی لگایا جا سکتاہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے بعض سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اپنے طلبہ کو انتہائی معیاری تعلیم دے رہے ہیں اور ان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ ملک کے مہنگے ترین اعلیٰ نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ سے کہیں زیادہ بہتر نتائج لارہے ہیں لیکن ایسے اسکولوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جانے سے بھی کم ہے۔
وفاقی حکومت کے ڈائریکٹر تعلیمات کاکہناہے کہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور فنڈز کی کمی سرکاری اسکولوںکو درپیش سب سے بڑے چیلنج ہیں جن پر قابو پانا ممکن نظر نہیں آتا۔ہمارے ملک میں تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے اوراساتذہ کی مناسب تربیت کا انتظام کرنے کے بجائے ابتدا ہی سے چوں کو ذہین اور غبی کے زمروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جو بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں یاجن کے والدین اپنے بچوں پر زیادہ محنت کرکے ان کی ذہانت کوجلابخشنے کی کوشش کرتے ہیں ان بچوں کوذہین بچوں کی فہرست میں شامل کردیاجاتاہے جبکہ کم وسیلہ اور ناخواندہ والدین کے بچوں کو غبی بچوں کے زمرے میں شامل کردیا جاتاہے اور ان کے نتائج خراب آنے پر ان کے والدین کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے بچے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ اسے کوئی ہنر سکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کریں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غبی قرار دے کر کنارے کھڑے کردئے جانے والے ان بچوں میں سے ہزاروں بچے بعد میں اپنے طورپر تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے اور خود اپنا کاروبار شروع کرکے ان پر غبی ہونے کالیبل لگانے والے اساتذہ کو ملازم رکھنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف حکومت ہی کی نہیں بلکہ ہمارے متمول طبقے کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے اور انھیں یہ سوچنا چاہئے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی صنعتی اور تجارتی ضروریات کے لیے مستقبل میں وہ افرادی قوت کہاں سے لائیں گے کیا وہ اپنے نوجوانوں کو فاقہ کشی کی دلدل میں دھکیل کر اپنے کام کے لیے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت درآمد کریں گے اور کیا یہ درآمد شدہ افرادی قوت ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کافی ثابت ہوسکے گی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ارباب حکومت اور خاص طورپر اس ملک کے متمول طبقے کو اس جانب توجہ دینی چاہئے اورملک کے کونے کونے میںسرسید احمد خان، سر آدم جی، پربھومل اور ڈنشا کی طرح ایسے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں اس ملک کے غریب اور کم وسیلہ بچوں کو مفت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کاموقع مل سکے ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوکر نکلنے والے نوجوان نہ صرف اس قوم وملک کاسرمایہ ثابت ہوں گے بلکہ اس طرح کے تعلیمی اور فنی ادارے اپنے قائم کرنے کے لیے صدقہ جاریہ اور رہتی دنیا تک ان کی شہرت کا ذریعہ بنیں گے، اس حوالے سے ہماری مسلح افواج بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور کم از کم اپنی چھائونیوں کے علاقوں میں ایسے تعلیمی اور فنی ادارے قائم کرسکتی ہے جہاں ملک کے غریب طلبہ وطالبات اعلیٰ تعلیم اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سیکھ کر مفید شہری بن سکیں یہ صحیح ہے کہ پاک فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ نے ملک کے مختلف علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی ادارے اور میڈیکل کالجز قائم کیے ہیں ،لیکن افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ پاک فوج جیسے قوم کی بے لوث خدمت کرنے والے ادارے کے زیر انتظام بیشتر معیاری تعلیمی اداروں کی فیسیں اس ملک کے عام لوگوں کی پہنچ سے باہرہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کے بچے ان اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کرنے کو سوچ بھی نہیں سکتے جبکہ پاک فوج کے ذیلی اداروں کے زیر انتظام ملک کے پسماندہ علاقوں میں مفت تعلیم کے جو ادارے کام کررہے ہیں ان کامعیار عام سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اس صورت حال پر توجہ دے کر اصلاح احوال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر