وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

روپے کی قدر میں کمی دولت مندوں نے ڈالر جمع کرنا شروع کردیے

هفته 28 اکتوبر 2017 روپے کی قدر میں کمی دولت مندوں نے ڈالر جمع کرنا شروع کردیے

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کاسلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں بھی غیر محسوس طریقے سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ،روپے کی قدر میں غیر سرکاری سطح پر غیر محسوس طریقے سے کمی نے مہنگائی میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کیاہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،دوسری جانب بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹ پر منافع کی شرح میں کوئی اضافہ نہ ہونے بلکہ ،ڈیپازٹس پر منافع کی شرح میں پہلے کے مقابلے میں کمی ہونے کی وجہ سے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال کمرشیل بینک ہر طرح کے ڈیپازٹس پر کم وبیش3.30 فیصد تک منافع ادا کررہے تھے لیکن گزشتہ سال اگست میں بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے منافع کی اس شرح کے مقابلے رواں سال اگست میں بینکوں کی جانب سے دئے جانے والے منافع کی شرح سکڑ کر صرف 3.2 فیصد رہ گئی،جبکہ رواں سال اگست میں افراط زر کی شرح 3.4 فیصد ریکارڈ کی گئی اس سے واضح ہوتاہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر دیاجانے والا منافع افراط زر کی شرح سے بھی کم ہے،اس صورت حال کے پیش نظر بینکوں میں رقم ڈیپازٹ کرانے والے اب اپنی رقم سے زیادہ بہتر شرح پر منافع حاصل کرنے کے لیے پراپرٹی کی خریداری کی جانب راغب ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں موجود غیریقینی حالات اور حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکسوں میں اضافے کے باوجود پراپرٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمتوں میں ،مسلسل اضافے کے رجحان اور پاکستانی کرنسی کی قیمت میں جلد یابدیر متوقع کمی کئے جانے کی قیاس آرائیوں سے متاثر ہوکر متمول طبقے نے ڈالر کی خریداری شروع کردی ہے اور اپنے مقامی اکاؤنٹس کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں تبدیل کرنے کے رجحان کو بھی فروغ مل رہاہے، بڑے پیمانے پر ڈالر کی خریداری کی وجہ سے ڈالر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کی شرح توقع سے زیادہ ہے۔
بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر منافع کی شرح میں کمی کا فائدہ بینکوں سے قرض حاصل کرنے والے بڑے سرمایہ داروں ، اور صنعت کاروں کو ہورہاہے کیونکہ بینکوں کے منافع کی شرح میں کمی کی وجہ سے انھیں اب بینک سے حاصل کیے گیے قرض پر نسبتاً کم شرح سے منافع ادا کرنا پڑتاہے اس طرح ان کے اپنے منافع کی شرح میں خود بخود اضافہ ہورہاہے۔سرمایہ کاروں کو کم شرح منافع پر قرض کی فراہمی معیشت کے لیے ایک نیک فال ہے لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہاہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈیپازٹس پر کم شرح سے منافع کی ادائیگی کی وجہ سے بچت کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی موجود ہے کہ بینکوں کی جانب سے کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کے رجحان میں کمی ہوئی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال کے دوران سرمایہ کاروں نے مختلف بینکوں سے مجموعی طورپر 296 ارب روپے کے قرض حاصل کیے تھے لیکن حکومت کے ان دعووں کے مطابق کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہورہاہے رواں سال کے دوران بینکوں سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 92 ارب روپے کم قرض حاصل کیاگیا۔اس حوالے سے ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال کے دوران بینکوں کے قرض چکانے کی شرح بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی سرمایہ کار دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر کاربند ہیں اور نہ صرف یہ کہ سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں بلکہ اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں ۔دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرض کے حصول کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے، اور اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں سال یکم جولائی سے 22 ستمبر کے دوران بینکوں سے مجموعی طورپر 215ارب روپے کے قرض حاصل کیے۔
ایک طرف ملک میں سرمایہ کاری کی یہ صورت حال ہے کہ سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی کی صورت حال نے اسٹاک مارکیٹ کونڈھال کردیاہے اوراسٹاک مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے ڈوب رہے ہیں اوربڑے بڑے اسٹاک بروکر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ اگرچہ گزشتہ چندماہ کے دوران پراپرٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن پراپرٹی ڈیلرز کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خریداری کے قواعد وضوابط میں تبدیلی اور مختلف ٹیکسوں میں اضافے کے بعد اب لوگ پراپرٹی میں سرمایہ کاری میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور پراپرٹی بیچنے والوں کے مقابلے میں خریداروں کی تعداد کم ہے۔اس صورت حال میں ڈالر ہی سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کومحفوظ رکھنے کا قابل اعتماد متبادل نظر آرہاہے۔اگرچہ رواں سال جون اور ستمبر کے دوران فارن کرنسی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی رقم میں بہت زیادہ فرق نظر نہیں آرہاہے لیکن روپے کی دن بدن گرتی ہوئی قدر نے سرمایہ کاروں کی نظر میں ڈالر کی وقعت بڑھادی ہے، اوروہ اپنے فاضل سرمائے کو ڈالر میں منتقل کراکے ہی اسے زیادہ محفوظ اورروپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سرمائے کی وقعت میں ہونے والی متوقع کمی سے محفوظ رکھنے کا زیادہ آسان راستہ تصور کرنے لگے ہیں ۔
اس وقت ہماری معیشت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جون میں ہمارے زرمبادلے کے ذخائر کی مالیت 21.402 بلین ڈالرکے مساوی بتائی گئی تھی لیکن 29 ستمبر کو یہ ذخائر کم ہوکر 19.763 بلین ڈالر رہ گئے تھے یعنی صرف 2 ماہ کے اندر زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.639 بلین ڈالر کی کمی ہوگئی رواں مالی سال کے ابتدائی دوماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود جولائی سے ستمبر کے دوران ادائیگیوں کاتوازن 1.385 بلین ڈالر کے مساوی سرپلس رہا،رواں مالی سال کے ابتدائی دوماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 1.287 بلین ڈالر سے بڑھ کر2.601 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔موجودہ صورت حال میں اگر جولائی اور ستمبر کے دوران یعنی رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ ہوااور ادائیگیوں کے توازن میں کمی واقع ہوئی توظاہر ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرپر دباؤ میں اضافہ ہوگاجس کے نتیجے میں ہوسکتاہے کہ حکومت بالآخر روپے کی قدر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائے، یہ وہ توقعات اور خدشات ہیں جن کی بنیادپر پاکستانی کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کرنے والوں کو اپنی رقم زیادہ محفوظ اور منافع بخش نظر آرہی ہے اور روپے کو ڈالر میں تبدیل کرانے کے رجحان میں اضافہ ہوتاجارہاہے ۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار وجود - بدھ 22 جنوری 2020

بھارتی بزنس مین مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ، 2019 میں ان کی دولت 58.4 ارب ڈالر رہی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کے 15 ارب پتی شخصیات کی مجموعی دولت 197.8 ارب ڈالر کے برابر ہے ۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں متعدد بھارتی ارب پتی شخصیات کی دولت میں کمی ہوئی لیکن مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ۔15عشاریہ 3ارب ڈالر کے ساتھ بھارتی صنعت کار شیونادر دوسرے نمبر پر رہے ، جبکہ بھارت کے تیسرے امیر ترین شخص بی...

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران وجود - بدھ 22 جنوری 2020

ایران کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو بزدلانہ حملے میں شہید کرنے والے امریکا پر مردانہ وار کارروائی کرکے جواب دیں گے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ امریکا نے بزدلوں کی طرح حملہ کرکے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا ہے جس کا ہم مردوں کی طرح بہادری سے جواب دیں گے ۔قدس فورس کے سربراہ نے کہا کہ ایران امریکا کی طرح پیچھے سے بزدلانہ وار نہیں کرتا بلکہ مردوں کی طرح سا...

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق وجود - بدھ 22 جنوری 2020

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا ، امریکی حکام کی جانب سے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہ...

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار وجود - منگل 21 جنوری 2020

  وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے بارے میں حتمی اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ا نہوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے صدرٹرمپ خود ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔اس فیصلے کے حوالے سے وقت ایک اہم عنصرہوگا کیونکہ اس معاملے میں تاخیرامریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس منصوبے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔وائٹ ہائوس نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امن سے خوشحالی کے نام...

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار

چین میں فی کس جی ڈی پی 10 ہزار ڈالرسے تجاوز کرگئی وجود - منگل 21 جنوری 2020

چین کی قومی ترقی و اصلاحات کی کمیٹی کے ترجمان مینگ وے نے کہا ہے کہ 2019 میں چین میں فی کس جی ڈی پی دس ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے ۔بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اس سے چین کی مجموعی طاقت میں اضافے ، سماجی پیداواری صلاحیت کے فروغ اور عوامی زندگی کی بہتری کی عکاسی ہوتی ہے ۔یہ چین کے ہمہ گیر خوشحال معاشرے کی تعمیر کے راستے میں حاصل کردہ ایک اہم کامیابی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں فی کس جی ڈی پی تیس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے ، ا...

چین میں فی کس جی ڈی پی 10 ہزار ڈالرسے تجاوز کرگئی

ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ وجود - اتوار 19 جنوری 2020

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو الفاظ کے چناومیں محتاط رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور یورپ کے بارے میں غلط باتوں سے پرہیز کریں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ،وہاں لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز 8 سال بعد پہلی مرتبہ نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر آیت الل...

ایرانی سپریم لیڈر الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں، ٹرمپ

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل وجود - اتوار 19 جنوری 2020

جاپان کے مغربی علاقے کوبے اور اِردگرد کے علاقوں کو ہلا کر رکھ دینے والے تباہ کن زلزلے کو آئے 25 سال مکمل ہو گئے ہیں، اس زلزلے کے باعث 6 ہزار 4 سو 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 17 جنوری 1995 کو آنے والا یہ زلزلہ گریٹ ہانشن اواجی زلزلہ کہلاتا ہے ، اس زلزلے سے کئی عمارتیں تباہ ہوئی تھیں اور کئی میں آگ لگ گئی تھی۔سب سے متاثرہ کوبے شہر کے ایک پارک میں ہلاک شدگان کی یاد میں بانس سے بنی لالٹینیں روشن کی گئیں۔

جاپان، کوبے میں آنے والے شدید زلزلے کو 25 سال مکمل

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اسرائیلی ریاست کے بانی کے بیٹے ''یعقوف شریٹ''نے صہیونی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف 1940 ء کی د ہائی میں جزیرہ نما النقب پر سمجھوتے پر افسوس ہے بلکہ وہ صہیونی ریاست کے پورے پروگرام پر شرمندہ ہیں۔ دیے گئے انٹرویو میں مسٹر یعقوف شریٹ نے کہا کہ اگرچہ ان کے آبائو اجداد نے ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست قائم کی۔ وہ اسرائیل کے بانی موشے شریٹ کا بیٹا ہونے کے باوجود صہیونی ریاست کے جرائم کی حمایت نہیں کرسکتے ۔ وہ اسرائیل...

بانی اسرائیل کے بیٹے کی ریاست کے مجرمانہ پروگرام پر اظہار شرمندگی

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم وجود - اتوار 19 جنوری 2020

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے بھارت پر دبائوبڑھے گا، بھارت کو اپنے جارحانہ اقدامات واپس لینے کا پیغام دیا گیا ہے ۔ سلامتی کونسل جب چاہے مسئلہ کشمیر کو اٹھا سکتی ہے ۔ سلامتی کونسل کی 50سال سے غیر فعال قراردادیں اب فعال ہو چکی ہیں۔ نہ صرف چین بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی واضح بیان دیا ہے ۔ حق خودارادیت کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارت کی کوششوں کو رد کیا گیا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں منیر اکرم کا ک...

سلامتی کونسل اجلاس سے بھارت پر دبائو بڑھے گا، منیر اکرم

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب وجود - جمعه 17 جنوری 2020

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ عرب امن فارمولے اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق جامع عرب حل کا مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا غیر متزلزل موقف ہے کہ فلسطینیوں کے حوالے سے قابض حکام کے یکطرفہ اقدامات غیر قانونی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، عرب ممالک کے اتحاد و سالمیت کو ضروری سمجھتا ہے اور عربوں کے استحکام کو خطرہ لاحق کرنے والی...

فلسطین ہمارا پہلا مسئلہ تھا ہے اور رہے گا، سعودی عرب

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو وجود - جمعه 17 جنوری 2020

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران حکومت اپنے عوام اور پوری دنیا سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے ۔پومپیو نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کررہی ہے ۔ ایرانی رجیم اپنے من پسند لوگوں کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے پارلیمنٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی بھی مرتکب ہے ۔انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ یہاں تک کہ ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ ی...

ایرانی حکومت ہر آنے والے دن اپنا قانونی جواز کھو رہی ہے ، مائیک پومپیو