وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں

جمعه 27 اکتوبر 2017 مریم صفدر اپنی سیاسی شناخت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ‘سینئر رہنما قبول کرنے کوتیار نہیں

مریم صفدر جنھیں کچھ عرصہ پیشتر تک اس ملک کے سیاہ وسفید کامالک تصورکیاجاتاتھااور جن کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کونواز شریف کے منہ سے نکلی ہوئی بات تصورکرکے حرف آخر تصور کیاجاتا تھا جو ملک کے ہر چھوٹے بڑے فیصلوں میں شریک ہوتی تھیں اور اپنے والد کی تشہیر اور حکومت کے کارناموں کو اجاگر کرنے اورخامیوں اور خرابیوں کی پردہ پوشی کرنے کے لیے منظم انداز میں میڈیا سیل چلاتی تھیں ،اپنے والد پر ان کا اتنا اثر ورسوخ تھا کہ نواز شریف بعض اوقات ان کی بات اور مشوروں کو دوسروں یہاں تک کہ چوہدری نثار جیسے اپنے قریبی ساتھیوں کی رائے پر ترجیح دیاکرتے تھے جس کی وجہ سے مسلم لیگی حلقے ہی نہیں بلکہ عام لوگوں میں بھی یہ تاثر گہرا ہوگیاتھا کہ مریم نواز ہی اپنے والد کی جانشین ثابت ہوں گی اور ہوسکتاہے کہ اگلے عام انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجادیا جائے ،لیکن آج وہ خود اپنی شناخت میں سرگرداں نظر آتی ہیں ، اورسینئرمسلم لیگی حلقے نواز دور حکومت میں ہونے والے بہت سی غلطیوں جن میں سینئر اور وفادار مسلم لیگی رہنماؤں کو پس پشت ڈالناان کی رائے کو نظر انداز کرنا یا ان کو اہمیت نہ دینا، ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست شامل ہے، کی ذمے داربھی مریم صفدرکو قرار دینے لگے ہیں ۔ اب مسلم لیگی حلقے کھلے عام یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ نواز شریف نے مریم صفدر کی اچھی طرح سیاسی تربیت کرکے انھیں سیات کے اتار چڑھاؤ سے آگاہ کرکے انھیں میدان سیاست میں اتارنے کے بجائے ان کو غیر ضروری اہمیت دے کر خود سر بنادیا اور ان کی غلطیوں کی سزا آج نواز شریف کو اس طرح بھگتنا پڑ رہی ہے کہ خود اپنے خاندان کے افراد دلی طور پر ان کے ساتھ نہیں ہیں ،سینئر مسلم لیگی حلقوں کی متفقہ رائے یہی ہے کہ نواز شریف نے جتنی زیادہ سنگین غلطی کی اس کی اتنی ہی سنگین سزا انھیں بھگتنا پڑ رہی ہے ۔جبکہ خاندانی حلقے میں انھیں وعدہ خلاف اور خود غرض قرار دیاجارہاہے۔
نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد اگرچہ انھوں نے اپنے والد کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست پرہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی والدہ کی انتخابی مہم کامیابی کے ساتھ چلائی اور بہت ہی کم مارجن سے سہی پی ٹی آئی کی نامزد طاقتور حریف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں لیکن اس انتخابی مہم کے دوران ہی یہ بات کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئی تھی کہ سرکاری مشینری تو کجا اب خود وزرا کی اکثریت بھی مریم صفدر کو وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے جو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں انھیں حاصل تھی،مریم صفدر نے اس صورت حال کو نہ صرف اچھی طرح محسوس کیا بلکہ اس کاان پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ اپنی والدہ کی انتخابی مہم کے دوران ہی برملا یہ کہنے پر مجبور ہوگئیں کہ انھیں اس مہم کے دوران بعض ابن الوقت ساتھیوں کوپہچاننے کا موقع مل گیا۔
آج مریم صفدر عملاً پارٹی کے معاملات پر اپنے کنٹرول سے محروم ہوچکی ہیں یہی نہیں بلکہ اب پارٹی میں اپنے وجود کااحساس دلانے کے لیے انھیں جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔اس صورت حال کی وجہ سے اب یہ سوال سر اٹھارہاہے کہ کیا مریم صفدر مسلم لیگ ن میں اپنی پہلی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی؟۔ مسلم لیگ ن کے سینئر ارکان اس کاجواب نفی میں دیتے ہیں ، ان کاکہناہے کہ مریم صفدر نے اپنے والد کے دور حکومت میں اپنے مزاج کو جس طرح ڈھالا ہے اور اپنے والد کی طاقت کے بل پر مسلم لیگی کارکنوں یہاں تک کہ نواز شریف کے گرم وسرد کے ساتھی اور وفادار سینئر رہنماؤں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیے رکھا تھا اس کی وجہ سے یہ بات اب قطعی ناممکن نظر آتی ہے کہ وہ پارٹی میں اپنی پہلی سی پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب ہوسکیں ۔
مسلم لیگی رہنماؤں اور سیاسی حلقوں کاکہناہے کہ اول تو مریم صفدر پر بھی نواز شریف اوران کے بیٹوں ، حسن اور حسین نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عاید کی جاچکی ہے جس سے بری ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتاہے،دوسری جانب شہباز شریف اور ان کے بیٹوں یااہل خانہ پر پانامہ پیپرز کے حوالے سے کوئی مقدمہ نہیں ہے ،جس کی وجہ سے ان کو خاص طورپر حمزہ شریف کو مریم نواز پر سبقت حاصل ہوگئی ہے اور اگر شہباز شریف حدیبیہ پیپر ملز اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پارٹی کا قتل عام کرانے کے مقدمے میں پھنس بھی گئے تو بھی حمزہ شریف صاف ہاتھوں کے ساتھ میدان میں آکر سیاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں ،جبکہ پانامہ پیپرز میں سزاہوجانے کی صورت میں نواز شریف کے ساتھ ہی مریم نواز کاسیاسی مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا۔ کیونکہ نواز شریف ، کیپٹن صفدر اور مریم نواز کو سزا ہونے کی صورت میں میڈیا کے ذریعے انھیں سیاسی طورپر زندہ رکھنے کاکوئی قابل اعتماد ذریعہ باقی نہیں بچے گا جبکہ سزاؤں کااعلان ہوتے ہی نواز شریف دور میں مریم صفدر کی مہربانیوں سے بھاری فوائد حاصل کرنے والوں کی اکثریت بھی اپنی کرپشن چھپانے اورخود کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے ان کی اچھائیوں اورنیکیوں کونظر انداز کرکے ان کی خامیاں گنوانا شروع کردیں گے۔
جہاں تک شہباز شریف یا حمزہ شریف سے یہ توقع رکھنے کی بات ہے کہ وہ نواز شریف ،ان کے داماد اور بیٹی کو سزائیں ہوجانے کے بعد بھی انھیں سیاسی طورپر زندہ رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں تو یہ توقع اس لیے عبث معلوم ہوتی ہے کہ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمے داری اپنے انتہائی وفادار بھائی شہباز شریف کو سونپنے کے بجائے پارٹی کے ایک دوسرے فرد کو ان پر ترجیح دی اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں نہ دینے کایہ فیصلہ مریم نواز کے مشورے اور دباؤ کی بنیاد پر کیاتھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ شہباز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلی کی حیثیت پنجاب کے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے اور طاقت اور اقتدار کے سرچشمہ پنجاب میں انھیں نواز شریف سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے یہ وجہ ہے کہ پنجاب مسلم لیگ کے کارکنوں کی اکثریت بھی نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف کے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ نواز شریف کے برعکس جو پارٹی کارکنوں یہاں تک کہ پارٹی رہنماؤں سے دوری قائم رکھنے کے قائل ہیں ،شہباز شریف ہر اچھے اور برے مرحلے میں پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤ ں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں شہباز شریف اور نواز شریف کے رویوں کا یہ فرق پارٹی کارکنوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگی کارکن شہباز شریف ہی کو اپنا لیڈر اور قائد تسلیم کرتے ہیں ۔
مریم صفدر اس صورت حال سے بے خبر نہیں ہیں اور غالبا ً یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز وہ اچانک اپنے چچا شہباز شریف کے پاس پہنچ گئی تھیں اوراطلاعات کے مطابق اس ملاقات کے دوران انھوں نے شہباز شریف اور اپنے کزن حمزہ شہباز کی ناراضگی دور کرنے اور انھیں منانے کی بھی کوشش کی،انھوں نے شہباز شریف اور حمزہ سے اپنی ملاقات کی بھرپور تشہیر بھی کرائی لیکن خاندانی حلقوں کاکہناہے کہ مریم کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں اور شہباز شریف اور حمزہ کی جانب سے انھیں سرد مہری کے رویئے کاسامنا کرنا پڑا۔یہاں تک کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اس ملاقات کے بارے میں کھلے عام کسی مثبت تبصرے سے بھی گریز کیا اور اس حوالے سے میڈیا کی جانب سے کیے گئے سوالوں کے گول مول جواب دے کر ٹالتے رہے۔
سیاسی میدان میں دوبارہ پہلی سی اہمیت حاصل کرنے کی مریم صفدر کی کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کا ایک او ربڑا سبب یہ بھی ہے کہ مریم صفدر نے پارٹی میں اپنی پہلی والی پوزیشن محض نواز شریف کی بیٹی ہونے کے ناتے حاصل کی تھی اور سیاست یا پارٹی کے لیے نہ تو ان کی کوئی قربانیاں ہیں اور نہ ہی انھیں سیاست کاکوئی تجربہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی میں سندھ کے گورنر محمد زبیر، طلال چوہدری اور دانیال عزیز جیسے دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے رہنماؤں کے علاوہ پارٹی کے سینئر ارکان انھیں کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں بلکہ بعض رہنماؤں نے کھل کر ٹی وی تبصروں کے دوران یہ واضح کردیا ہے کہ مریم سیاست میں نووارد ہیں ابھی ان کو تربیت کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے سابق سربراہ کنور دلشاد کایہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتاہے کہ 30 سال قبل مسلم لیگ ن کے موجودہ سینئر رہنماؤں نے نواز شریف سے ہاتھ ملایاتھا ،اس وقت مریم کو سیاست کی ابجد کا بھی علم نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ چوہدری نثار ، راجہ ظفر الحق ، موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال اور ان کے دیگر ساتھی رہنما مریم صفدر کو کوئی اہمیت دینے کوتیار نہیں ہیں ۔پارٹی کے یہ تمام سینئر رہنما ہر بات پر ایک دوسرے متفق نہیں ہیں لیکن جب بات مریم کی قیادت کی آتی ہے تو اس کی مخالفت میں سب یکجا اور یک زبان نظر آتے ہیں ۔تاہم یہ بات واضح ہے اور شہباز شریف نے انتہائی مشکل دنوں میں بھی یہ ثابت کیاہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے خلاف کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے اور شہباز شریف اب اسی وقت پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے پر تیار ہوں گے جب نواز شریف کو عدالت سے سزا ہوجائے اور انھیں جیل جانے یا جلاوطن ہونے پر مجبور ہونا پڑے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کہ پانامہ پیپرز پر احتساب عدالت کا فیصلہ آنے اور اس فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیلوں اور نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلوں تک مریم صفدر پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں کرتی رہیں گی۔
اس کے ساتھ ہی سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر نواز شریف احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد بھی شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سونپنے پرتیار نہیں ہوئے تو یہ شہباز شریف از خود یا پارٹی رہنماؤں کے اصرار پر یہ عہدہ قبول کرنے کوشاید تیار نہ ہوں اور ایسی صورت میں اس پارٹی کاشیرازہ بکھرجانا یقینی ہوگا۔


متعلقہ خبریں


ایران بتائے،غیراعلانیہ جگہ پر یورینئم کے ذرات کہاں سے آئے؟آئی اے ای اے وجود - جمعه 22 نومبر 2019

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے)نے ایران سے اس کی ایک غیرعلانیہ جگہ پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرات کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ اس سے متعلق ایشوز کو حل کرے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایجنسی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کورنیل فیروٹا نے ویانا میں بورڈ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ایران کی غیرعلانیہ جگہ میں قدرتی یورینیم کے ذرات کا پتا چلایا ہے۔ایران نے اس جگہ کے بارے میں پہلے ایجنسی کو مطلع نہیں کیا تھا۔انھوں نے کہ...

ایران بتائے،غیراعلانیہ جگہ پر یورینئم کے ذرات کہاں سے آئے؟آئی اے ای اے

فیس بک اور گوگل انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انتباہ وجود - جمعه 22 نومبر 2019

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیس بک اور گوگل کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دے دیاہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ادارے نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا کہ فیس بک اور گوگل انسانی حقوق کے لیے ایسا خطرہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کمپنیوں کی جانب سے صارفین کی نگرانی پر تشویش ظاہر کی ۔رپورٹ میں اسے ہر وقت ہر جگہ اربوں افراد کی نگرانی قرار دیتے ہوئے ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بزنس ماڈل میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیاگیا۔ایمنس...

فیس بک اور گوگل انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انتباہ

ترک صدرکا انتقامی فیصلہ،احمد داود اوگلو کی استنبول یونیورسٹی بند کر دی وجود - جمعه 22 نومبر 2019

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلوکی شہیر استنبول یونیورسٹی کو بند کردیا جس کے بعد ہزاروں طلبا کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک صدر نے احمد دائود اوگلو کوپارٹی چھوڑنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے یہ سزا دی ہے جبکہ یونیورسٹی کوملنے والی رقم بھی بند کردی اور یونیورسٹی کے اثاثے بھی منجمد کردئیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق استنبول کی ایک عدالت نے خلق بنک کو شہیر استنبول یونیورسٹی کوفنڈز کی فراہمی پرپابندی لگا ئی ہے۔ اوگلو نے یہ درس گاہ 2008 م...

ترک صدرکا انتقامی فیصلہ،احمد داود اوگلو کی استنبول یونیورسٹی بند کر دی

جرمنی میں مسلمان ائمہ کی تربیت کا حکومتی پروگرام شروع وجود - جمعه 22 نومبر 2019

جرمن وزارت داخلہ نے اکیس نومبر سے مساجد میں نماز پڑھانے والے آئمہ کی خصوصی تربیت کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس کا ایک مقصد غیرملکی آئمہ کو جرمن زبان کی تعلیم دینا بھی ہے۔ اس پروگرام کو ایک مذہبی تعلیم کی تنظیم نے مرتب کیا تھا لیکن اب اسے حکومتی سر پرستی حاصل ہو گئی ہے۔ جرمنی میں بیشتر مسلمان آئمہ کا تعلق ترکی سے ہے۔ جرمنی میں پینتالیس لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان میں تیس لاکھ ترک نژاد ہیں۔

جرمنی میں مسلمان ائمہ کی تربیت کا حکومتی پروگرام شروع

اسرائیل میں ایک سال کے دوران تیسری مرتبہ انتخابات کی راہ ہموار وجود - جمعه 22 نومبر 2019

اسرائیل میں اپوزیشن رہنما ء اور سابق آرمی چیف بینی گینٹس نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے حکومت بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں، جس کے بعد اسرائیل میں نئے انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے م طابق ئاسرائیلی صدر رووین ریولین نے بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے حکومت بنانے میں ناکامی کے بعد ان کے سب سے بڑے حریف بینی گینٹس کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی۔ اسرائیلی پارلیمان کے پاس اب اکیس دن ہیں، جس میں اسے نئے قائد ایوان کا فیصلہ کرنا ہے، بصورت دیگر ملک میں نئے انتخاب...

اسرائیل میں ایک سال کے دوران تیسری مرتبہ انتخابات کی راہ ہموار

امریکی کانگریس سے ہانگ کانگ کے شہریوں کی حمایت میں بل منظور وجود - جمعه 22 نومبر 2019

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ہانگ کانگ کے شہریوں کے حقوق کی حمایت میں بل منظور کر لیا جس کے بعد امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق دونوں ایوانوں نے ہانگ کانگ کی سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور دیگر ساز و سامان کی فروخت پر پابندی کا قانون بھی منظور کیا۔ہانگ کانگ کی سیکیورٹی فورسز چھ ماہ سے جاری مظاہروں کے دوران آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کر رہی ہے ۔کانگریس سے منظوری کے بعد بل ...

امریکی کانگریس سے ہانگ کانگ کے شہریوں کی حمایت میں بل منظور

بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

جنت نظیر وادی کو بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ 109روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈائون کے دوران بھارتی درندے کشمیری بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد کی گرفتاری کا بھارت نے خود اعتراف کر لیا۔ عالمی تنظیموں کی رپورٹس نے بھی مودی سرکار کی فسطائیت کا پردہ چاک کر دیا۔مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے ، مسلسل لاک ڈائون کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں، 109 روز سے جاری بربریت بھی حوصلے پست نہ کر سکی، مظالم کے باوجود کشمیریوں کا عزم جوان ہے ۔بھارت کے وزیر مملکت برائے دا...

بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ناروے میں اسلام مخالف ریلی میں توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون شخص پر مسلم نوجوانوں نے حملہ کردیا۔ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں قرآن کی توہین کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ۔ اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن کی شدید بے حرمتی کی گئی۔ لیکن ناروے کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور تنظیم کے سربراہ لارس تھورسن کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی۔قرآن کی توہین کو وہاں موجود مسلمان نوجوان برداشت نہ کرسکے اور سبق سکھانے کے لیے اس پر حملہ کردیا۔ پہلے ایک نوجوان ر...

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے کہاہے کہ ریاض تہران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر اپنے دفاع کرنے کے لئے ہر پل تیار ہے ۔شوریٰ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برداری ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو روکنے میں کردار ادا کرے ، اپنا دفاع کے لئے انتہائی اقدام اٹھانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایرانی اسلحہ استعمال ہوا، عالمی برادری ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کوروکنے میں کردار ادا کرے ۔سعودی ...

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے اپنی شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق برطانوی ملکہ نے ڈیوک آف یارک کو ان کی سرکاری خدمات سے سبکدوش ہونے کی اجازت دے دی، اس بات کی تصدیق شہزادہ اینڈریو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی ہوئی جس میں انہوں نے بچوں سے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کا معاملہ منظر عام پر آنے سے متعلق بتایا۔شہزادہ اینڈریو برطانوی ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے اور برطانیہ کے تخت و تاج کے امیدواروں ...

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

اقوام متحدہ کی رپورٹ آزادی سے محروم کر دئیے گئے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا عالمی جائزہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکی جیلوں میں قید ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں امریکی جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن بچوں کے قید ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے جبکہ ان بچوں کے والدین بھی کسی نہ کسی جیل میں قید ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے ۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے عال...

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان وجود - منگل 19 نومبر 2019

بھارت میں ایک مسلم گروپ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین ہندوں کو دیے جانے سے متعلق حالیہ فیصلے کے خلاف ملکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق دانشوروں اور مختلف تنظیموں کے گروپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن سید قاسم الیاس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں واضح خامیاں ہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی مسلم فریق سنی وقف بورڈ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان