... loading ...
کمرشل بینکوں نے ایف بی آر کو کھا تے داروں کا ڈیٹا دینے سے انکار کردیاہے جس کے بعد اب حکومت نے بینکوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کافیصلہ کرلیاہے اور اس مقصد کے لیے جلد ہی وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی نوٹی فیکشن جاری کئے جانے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔
وزارت خزانے کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے بینکوں میں رقوم جمع کرانے والے کھاتے داروں کی تفصیلات طلب کی تھیں تاکہ ان کی بنیادپر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لاکر ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ کیاجاسکے لیکن بینک اس حوالے سے ایف بی آر کے سامنے ڈٹ گئے ہیں اور انھوں نے تمام کھاتے داروں کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کرنے اور اس حوالے سے کسی طرح کے بھی تعاون سے انکار کردیاہے۔جس کے بعد حکومت نے کمرشیل بینکوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کافیصلہ کر لیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ریونیو سے متعلق وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان کی زیر صدارت ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کمرشیل بینکوں کی جانب سے ایف بی آر کو کھاتے داروں کی تفصیلات تک آن لائن رسائی دینے سے انکار سے پیدا ہونے والی صورت حال اور بینکوں کا فارنزک آڈٹ کرانے کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ تبادلہ خیالات کیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق بینکوں نے ایف بی آر کو ان کھاتے داروں کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کردیاہے جو بینکوں کو بینکاری کے حوالے سے لین دین پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے ایف بی آر ان کھاتے داروں کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرنے سے قاصر ہے اطلاعات کے مطابق ایف بی آر اور کمرشیل بینکوں کے درمیان یہ تنازعہ گزشت 2013 سے چل رہاہے اور بینک ایف بی آر کو کھاتے داروں کی کسی بھی طرح کی تفصیلات دینے سے مسلسل انکاری ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق ریونیو سے متعلق وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان کی زیر صدارت ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی کمیٹی کے ارکان بینکوں کی جانب سے عدم تعاون پر کمرشیل بینکوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے اور یہ فیصلہ نہیں کیاجاسکا کہ بینکوں کے خلاف ایف بی آر سے عدم تعاون اور بینکوں کو کھاتے داروں کی تفصیلات دینے پر مجبور کرنے کے لیے کیاکارروائی کی جاسکتی ہے، اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین اب اس حوالے سے اسٹیٹ بینک پاکستان اور پاکستان بینکنگ کونسل کے ارباب اختیار سے ملاقات کریں گے جس کے بعد بینکوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کافیصلہ کیاجائے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انکم ٹیکس آرڈی ننس کی دفعہ 165 کے تحت بینک کسی بھی شخص سے وصول کردہ ٹیکس کی تفصیلات ،وصول کئے جانے والے ٹیکس کی مالیت اور متعلقہ شخص کے قومی شناختی کارڈ کے نمبر سے ایف بی آر کو آگاہ کرنے کے پابند ہیں ۔ انکم ٹیکس آرڈی ننس کی دفعہ 165 اے کے تحت بینک ایف بی آر کو اپنے مرکزی ڈیٹا بیس تک آن لائن رسائی دینے کے بھی پابند ہیں لیکن 2013 میں قانون میں اس طرح کی ترمیم کئے جانے کے بعد ہی سے بینک ایف بی آر کو اس طرح کی تفصیلات فراہم کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے ہیں ۔
وفاقی حکومت نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے لیے 50 ہزار روپے سے زیادہ رقم کی لین دین کرنے والے انکم ٹیکس ادا نہ کرنے والے کھاتے داروں پر 0.4 فیصد ٹیکس عاید کرنے کااعلان کیاتھالیکن اس کے باوجود لوگ ٹیکس کے دائرے میں شامل ہونے کو تیار نظر نہیں آتے۔
شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعد ایف بی آر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ٹیکسوں کادائرہ بڑھانے کے لیے بینکوں سے لین دین کے ڈیٹا سے مدد لے ،واضح رہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ملک میں ٹیکس بیس محدود ہونے پر تشویش کااظہار کرچکے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ریونیو سے متعلق امور کے معاون ہارون اختر کو ہدایت کی تھی کہ چونکہ ایف بی آر کے حکام ٹیکسوں کادائرہ بڑھانے کے حوالے سے کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے اب خود وہ ٹیکسوں کادائرہ بڑھانے کے لیے ذاتی طورپر کوششیں کریں ۔
ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق اب جبکہ ٹیکسوں کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب تر آگئی ہے 20 اکتوبر تک صرف 4لاکھ15 ہزار افراد نے ٹیکسوں کے گوشوارے جمع کرائے تھے ،جس کے بعد اب ایف بی آر کے پاس ٹیکسوں کادائرہ کار بڑھاکر ٹیکس وصولی کے ہدف کی تکمیل کے لیے بینکوں اورٹیلی مواصلات سے متعلق کمپنیوں جیسے بڑے اداروں پر دھاوا بولنے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں رہاہے۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ اگرچہ پاکستان کے کمرشیل بینک ایف بی آر کو پاکستانی کھاتے داروں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بتانے کوتیار نہیں ہیں لیکن وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے کھاتوں کی تفصیلات امریکی ٹیکس وصول کرنے والے حکام کو فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو فراہم کرنے کوتیار ہیں اور اس حوالے سے تمام تفصیلات اسٹیٹ بینک کو فراہم کررہے ہیں ۔بینکنگ ذرائع کے مطابق فارن اکاؤنٹ ٹیکس عملدرآمد ایکٹ (فاٹکا) کے تحت امریکی ادارے دیگر ممالک سے سالانہ بنیاد پر امریکی ٹیکس دہندگان کی تفصیلات حاصل کرنے کے مجاذ ہیں تاکہ وہ اس کی بنیاد پر اپنی کارروائی مکمل کرسکیں ۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی گزشتہ دنوں ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی تھی اور ٹیکسوں کے نظام کو مزید اپ گریڈ اور موثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اشفاق تولہ اور ٹیکسوں سے متعلق امور کے معروف وکیل عابد شاہان بھی شریک ہوئے تھے۔اس اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ واضح کیاتھا کہ حکومت نے ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کی پیش کردہ اصلاحات پر عملدرآمد کافیصلہ کرلیاہے۔اس ملاقات کے دوران کمیٹی کے ارکان نے فوری ،مختصرالمیعاد اور طویل المیعاد بنیاد پر کئے جانے والے مختلف اقدامات تجویز کئے تھے۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس اجلاس میں ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے ارکان نے سگریٹ تیار کرنے ،اور اس کی سپلائی کے نظام کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کی بھی تجویز دی تھی تاکہ سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس چوری کے مبینہ واقعات کاپتہ چلاکر ان سے پورا پورا ٹیکس وصول کیاجاسکے اور اس شعبے میں مبینہ طورپر بڑے پیمانے پر ٹیکسوں کی چوری کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے ۔اطلاعات کے مطابق سگریٹ ساز کمپنیوں کی الیکٹرانک مانیٹرنگ کافیصلہ مارچ 2017 میں کرلیاگیاتھا لیکن بااثرافراد نے اس پر عملدرآمد اب تک نہیں ہونے دیاہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین طارق پاشا نے گزشتہ روز اطلاعات کے مطابق ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے ارکان کو یقین دلایاہے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کرکے اس مسئلے کوحل کرلیں گے۔اس حوالے سے ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کاایک اجلاس جلدہی ہوگا جس میں سگریٹ ساز کمپنیوں کی الیکٹرانک مانیٹرنگ شروع کرنے کی حتمی تاریخ کافیصلہ کردیا جائے گا۔الیکٹرانک مانیٹرنگ کافیصلہ سگریٹ کی تیاری اورفروخت کے حوالے سے کی جانے والی مبینہ غلط بیانی کی روک تھام کرکے متعلقہ اداروں سے پوراپورا ٹیکس وصول کرنے کے لیے کیاگیاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیکسوں میں اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق کمیٹی اس حوالے سے کب فیصلہ کرتی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے کیاٹیکنک استعمال کی جاتی ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...