... loading ...
بھارت میں حکمراں جماعت نے گجرات کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردئے ہیں اور اطلاعات یہ ہے کہ وزیرا عظم نریندر مودی جو خود بھی اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے اور ان کے دبائو کی وجہ سے الیکشن کمیشن گجرات میں الیکشن کے شیڈول کااعلان کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر مجبور ہوگیاہے، بھارت کے معروف صحافیوں کاکہناہے کہ بھارت کے الیکشن کمیشن نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا ،بھارتی صحافیوں کاکہناہے کہ چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشان کے بعد سے کمیشن نے آزاد و خود مختار حیثیت اختیار کر لی تھی اور کمیشن کو ایک ایسا درجہ دیدیا گیا تجا جسے رائے دہندگان نے بہت سراہا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے جس انداز سے گجرات کے الیکشن کی تاریخوں میں رد و بدل کیا ہے اس پر بہت سے اعتراضات اٹھنا شروع ہوگے ہیں۔ بعض لوگ تو اس میں وزیراعظم نریندر مودی کا ہاتھ دیکھ رہے ہیں جن کا اپنا تعلق بھی ریاست گجرات سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو کمیشن کی آزادی اور خود مختار حیثیت پر شبہ پیدا ہو گیا ہے۔
گجرات اسمبلی کی مدت 22 جنوری 2018کو ختم ہو رہی ہے، جب کہ ہماچل پردیش کی یہ مدت 7 جنوری کو مکمل ہو گی۔ گزشتہ ہفتے چیف الیکشن کمشنر اے کے جیوتی نے صرف ہماچل پردیش کے انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کیا لیکن کسی کو علم نہیں کہ گجرات کے انتخابات کے لیے کن تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس بات سے متنازعہ گفتگو نے جنم لیا ہے جس کو بہتر انتظامی صلاحیت کے ذریعے ٹالا جا سکتا تھا۔ سابقہ چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پہلے تمام ریاستی انتخابات کی تاریخوںکا اعلان مشترکہ طور پر کیا جاتا تھا لیکن اب ان تاریخوں کے لیے 6 ماہ کی مدت مقرر کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور غیر جانبداری کے حوالے سے ’’سنجیدہ سوالات‘‘ اٹھ رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر جیوتی نے کہا ہے کہ گجرات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے انتخابی تاریخ کو موخر کیا گیا ہے، لیکن ان کی اس وضاحت کو کوئی بھی قبول نہیں کر رہا بلکہ سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے بحالی کا کام سرکاری افسروں کا ہے نہ کہ سیاست دانوں کا لہٰذا ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اور بحالی کا کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ سے موجودہ منصوبوں پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بس نئے منصوبوں کا اس دوران اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہنگامی صورت حال کے دوران ہر ایک کو برابر کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اور سرکاری اہلکاروں کو ان کے اپنے فرائض کے بارے میں ہدایات جاری کرنے کا کام بھی الیکشن کمیشن کے ذمے ہوتا ہے۔ کرشنا مورتی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں الیکشن کمیشن کو گجرات اور ہماچل پردیش کے لیے انتخابات کا اعلان اکٹھا ہی کرنا چاہیے تھا یا زیادہ سے زیادہ دونوں میں ایک ہفتے کا فرق ڈالا جا سکتا تھا۔ میں اس بات کا جائزہ نہیں لے رہا کہ اس فیصلے کے پیچھے کونسی قوت کا ہاتھ ہے بلکہ مجھے جس بات کا زیادہ خیال ہے وہ اس فیصلے کی انتظامی اہمیت ہے جسے مقدم رکھا جانا چاہیے۔
سابقہ چیف الیکشن کمشنر کے تبصرے سے انتخابات کے بارے میں ایک سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے حالانکہ الیکشن کمیشن کو چلانے والے سرکاری اہل کار مرکزی حکومت سے ہدایات لیتے ہیں مگر غلط اور امتیازی فیصلوں سے کمیشن کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ بھارت کے معروف صحافی کلدیپ نیئر نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایاہے کہ گجرات کی حکومت نے انتخابی تاریخوں کے بارے میں اندازہ لگا کر کیا اقدامات کیے۔ان کاکہناہے کہ مقامی میونسپل کمیٹی ڈیڑھ گھنٹے تک مختلف اعلانات کرتی رہی جب کہ وزیراعلیٰ وجے روپانی نے 780 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میںشری روی شنکر کی لاجسٹک سروسز کے تحت دیوالی کی تقریبات منائی گئیں اس کے لیے علیحدہ فنڈز مختص کیے گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ احمد آباد میونسپل کونسل نے شہری غریب کلیان میلہ میں 3262 کٹس، چیک اور فنڈز اور بانڈاز کے علاوہ مختلف تحائف اور انعام و اکرام تقسیم کئے۔عوام کو دیے جانے والے عمومی تحائف میں سلائی مشینیں‘ گھریلو استعمال کے برتن‘ تین پہیوں والی سائیکلیں‘ ڈیری کی مصنوعات‘ گلیوں بازاروں میں سودا سلف فروخت کرنے کے لیے ریڑھیاں اور دوسری گھریلو استعمال کی اشیا شامل تھیں۔ مجموعی طور پر 165کروڑ روپے کی اشیاتقسیم کی گئیں۔ جو چیک دیے گئے ان میں اسکول کی لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے فی کس رکھے گئے جنھیں وجے لکشمی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرنا تھا جب کہ ایسے والدین کے لیے جن کی دو بچیاں اسکول جاتی تھیں لیکن بعدازاں انھوں نے نس بندی کرا لی ان کو 5 ہزار روپے دیے گئے جب کہ اردو بولنے والے معاشرے کی ترقی کے لیے 50, ہزار روپے کا فنڈ مختص کیے گئے۔
کلدیپ نیئر کے مطابق دوسری ذاتوں میں شادیاں کرنے والوں کے لیے بھی اس فنڈ میں حصہ رکھا گیا۔ مزید براں 165 ارب اور 75 کروڑ روپے کی رقم شہر میں پینے کے پانی کے منصوبے لگانے کے لیے رکھے گئے۔ یہ پانی دریائے ماہی سے ڈیڑھ کروڑ لیٹر روزانہ کے حساب سے فراہم کیا جائے گا۔ سْرساگر کی جھیل کی تزئین و آرائش کے لیے 38کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس مثالی جھیل کی تزئین و آرائش 2012 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کے مرکزی اور صوبائی وزرا جن ریاستوں پر حکومت کر رہے ہیں انھوں نے گجرات کی تعمیر و ترقی کو اپنا ماڈل قرار دیتے ہوئے اپنی ریاستوں میں بے شمار ترقیاتی اسکیمیں جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم نریندرا مودی نے آیندہ انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز نہرو گاندھی خاندان پر شدید تنقید اور نکتہ چینی سے کیا۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ متذکرہ حکمران خاندان گجرات کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا کیونکہ وہ گجرات اور گجراتیوں سے نفرت کرتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کے لیے اپنے انتخاب کو ’’تعمیر و ترقی اور خاندان‘‘ کے درمیان جنگ کا نام دیا ہے۔ ایک پرانا سوال اس موقع پر بھی کھڑا ہو رہا ہے کہ کیا انتخابی کمیشن کا رکن سرکاری ملازمین کو بھی بنایا جانا چاہیے یا نہیں؟ اس سلسلے میں رکاوٹ یہ ہے کہ چونکہ الیکشن کے تمام ارکان تمام مرکزی حکومت کے ملازم ہیں لہٰذاوہ اپنے افسروں کے اثرورسوخ سے باہر نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ سیشان خود ایک بیوروکریٹ تھے لیکن وہ خود ہی اس نظریے کا کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ ہر کوئی سیشان نہیں ہو سکتا۔
کلدیپ نیئر کہتے ہیں کہ ہم سب کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ سابقہ چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی نے سؤ موٹو نوٹس لے کے صدر مملکت کو ایک سفارش بھیجی کہ الیکشن کمشنر نوین چاؤلہ کو ان کے منصب سے برطرف کر دیا جائے جس سے زبردست سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ گوپال سوامی کے اس اقدام سے حکومتی حلقوں میں بھی بہت سے بھویں تن گئیں اور حکومت کو عوام کے موڈ کے مطابق اقدام کرنا پڑا جسکی آئینی شقوں میں اجازت ہے۔ بعدازاں چاؤلہ کو چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر ترقی دیدی گئی جب کہ گوپال سوامی نے اس کو عہدے سے ہٹانے کی صدر مملکت کو سفارش کی تھی مگر حکومت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشنر کے خلاف کسی الزام کا ثبوت نہیں ملا لہٰذا انھیں معزول نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو کسی الیکشن کمشنر کو منصب سے ہٹانا کسی شور و غوغا کا متقاضی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک آئینی عہدہ ہے لہٰذا حکومت کو خود ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی یک جہتی اور آزادی پر کوئی حرف آتا ہو۔ اور کمیشن کو بھی اس انداز سے کام کرنا چاہیے کہ کسی اختلافی بحث کو ہوا نہ مل سکے۔ لیکن جب خود وزیر اعظم گجرات میں انتخابی شیڈول میں تاخیر کے خواہاں ہوں تاکہ وہ انتخابات جیتنے کے لیے صوبے کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے رکے ہوئے اور عوام کی برہمی کاسبب بننے والے منصوبوں پرکام شروع کراکے یا کم از کم کام شروع کرنے کااعلان کرکے عوام کے غصے کوٹھنڈا کرسکیں اوران منصوبوں کی بنیاد پر ایک دفعہ پھر بی جے پی کے امیدواروں کی کامیابی کویقینی بناسکیں۔ ا ب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندرا مودی اس معاملے میں اپنی مداخلت کے الزامات غلط ثابت کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...