وجود

... loading ...

وجود

امریکا کے خلاف ایران اور شمالی کوریا کی جارحانہ حکمت عملی

اتوار 22 اکتوبر 2017 امریکا کے خلاف ایران اور شمالی کوریا کی جارحانہ حکمت عملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر حملے کے دھمکیوں کے بعد اب شمالی کوریا نے بھی امریکا کے خلاف انتہائی سخت بلکہ جارحانہ حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کا اندازہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شمالی کوریا کے نائب سفیر کم ان ریانگ کے بیان سے لگایاجاسکتاہے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم ان ریانگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو ممالک شمالی کوریا کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی سے خود کو دور اور الگ تھلگ رکھیں گے وہ شمالی کوریا کے غیض وغضب اور رد عمل سے محفوظ رہیں گے۔بیان کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی ملک شمالی کوریا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیتا، ہمارا س ملک کو دھمکانے یا اس کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پورا امریکا ہمارے جنگی ہتھیاروں کے نشانے پر ہے، اگر امریکا نے ہماری ایک انچ مقدس زمین پر بھی جارحیت کی تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری سخت سزا سے خود کو بچا نہیں سکے گا۔اقوام متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم نے جنرل اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی واضح کردیاہے کہ جب تک امریکا کی جارحانہ پالیسی اور جوہری خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم کسی بھی صورت میں مذاکرات کی میز پر اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
پیانگ یانگ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے مسلسل تجربوں کے بعد امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ ان کے درمیان تندو تیز جملوں میں نمایاں طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی توثیق نہ کئے جانے اور اس معاہدے کو یکسر ختم کرنے کی دھمکیوں پر امریکا کے خلاف اپنے تندوتیز بیانات میں اضافہ کردیاہے، اگرچہ شمالی کوریاکے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہی اب چین اور روس کی اخلاقی حمایت بھی حاصل ہے لیکن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا میں تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،اور ان کے قریبی اتحادی برطانیا، فرانس اور جرمنی بھی اس مسئلے پر ایران کے خلاف ان کاساتھ دینے کوتیار نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس اس معاہدے کے ان تینوں فریقوں نے واضح الفاظ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جتلادیاہے کہ ایران معاہدے پر عمل پیرا ہے اس لیے نہ صرف یہ کہ وہ اس معاہدے کو ختم کرنے کوتیار نہیں ہیں بلکہ امریکا بھی یکطرفہ طورپر ایسا نہیں کرسکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکار کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا ہے کہ ایران، اس علاقے میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اس بارے میں ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ٹرمپ نے نہایت احتیا ط سے کام لیا ہے اور پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا کیونکہ انہیں علم ہے کہ ایران واضح طور پر خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تو یہ کھلم کھل اعلان جنگ ہوگا۔
ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکار سے متعلق بیانات کا گہری نظر سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی گہری شاطرانہ چال ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ یہ معاہدہ منسوخ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ وہ اکیلے معاہدہ منسوخ نہیں کر سکتے کیونکہ اس معاہدہ میں اقوام متحدہ اور دوسرے ممالک شامل ہیں جن میں امریکا کے اتحادی برطانیا، فرانس اور جرمنی بھی شریک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے معاہدہ منسوخ کرنے کے بجائے اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ اگلے60 دن کے لیے امریکی کانگریس کے سپرد کر دیا ہے۔ در اصل اس اقدام کے تحت ٹرمپ کچھ اور حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے یہ بات بھی بے نقاب ہوگئی ہے کہ وہ اسرائیل اور سعودی عرب کس حد تک ہم نوا ہیں اور پاکستان میں عام مستعمل اصطلاح میں ایک پیچ پر ہیں ۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے ٹرمپ کے اس اقدام پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور جیسے کہ جرمنی کے وزیر خارجہ سگمار گیبریل نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے جنگ کا خطرہ یورپ کے قریب پہنچ جائے گا لیکن اسرایل اور سعودی عرب صرف د و ممالک ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف تادیبی پابندیاں دوبارہ عائد کیں تو اس صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ ٹھپ پڑ جائے گا اور اگر ٹرمپ نے جوہری معاہدہ معطل کردیا تو دونوں صورتوں میں ایران کے لیے جوہری اسلحہ تیار کرنے کی راہ کھل جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو سابق صدر اوباما سے ایسی نسلی جانی دشمنی ہے کہ وہ اوباما کے ہر اقدام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کو جو اوباما کا اہم کارنامہ قرار دیا جاتا ہے ،یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بد ترین اور کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا ،ٹرمپ کا دعوی ہے کہ اس معاہدہ سے ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہیں روکا جا سکتاہے ، جب کہ خود امریکا کے اتحادی جو اس معاہدہ میں شامل ہیں ان کی یہ رائے ہے کہ ایران اس معاہدہ پر پوری طرح سے عمل کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی جو اس معاہدہ کی نگرانی کر رہی ہے اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے اس معاہدہ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ ٹرمپ کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ امریکی کانگریس کو بھی ایران کے ساتھ معاہدہ کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں اور پھر وہی حقیقت رکاوٹ بنتی ہے کہ اکیلے امریکی صدر اور امریکی کانگریس یہ بین الاقوامی معاہدہ منسوخ نہیں کرسکتے ہیں ۔ اس صورت حال میں ٹرمپ کی طرف سے اس معاہدہ میں شامل یورپی اور دوسرے ممالک پر زور دیا جارہا ہے کہ یا تو موجودہ معاہدہ میں ردو بدل کیا جائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو نئے سرے سے ایک دوسرا معاہدہ کیا جائے۔ اس اقدام کے پیچھے در اصل ٹرمپ کی یہ کوشش ہے کہ ایران کے بیلسٹک مزائیل کی تیاری کے پروگرام کو بھی نئے معاہدہ کے حصار میں لایا جائے کیونکہ ایران کے ساتھ موجودہ معاہدہ صرف جوہری اسلحہ پر پابندی کے بارے میں ہے۔
جولائی 2015میں جوہری اسلحہ کے بارے میں معاہدہ کے بعد ایران نے بیلسٹک میزائل کی تیاری کا منصوبہ شروع کیا تھا اور3 ماہ بعد میزائل کے تجربوں کا آغاز ہوا تھاجن میں سب سے پہلا تجربہ1700 کل میٹر دور تک مار کرنے والا عماد میزائل کا تجربہ شامل تھا۔ نومبر 2015میں ایران نے 2ہزار کلومیٹر کے فاصلہ پر مار کرنے والے میزائل غدر کا تجربہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ایران کے پاس 300 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا ایک شہاب میزائل ، ایک سے دس تک فاتح میزائل ، 700کلو میٹر دور تک مار کرنے والا، ذوالفقار میزائل ، 2ہزار کلومیٹر تک مارکرنے والے 3 عماد اور غدر میزائل ایک سجیل میزائل اور ڈھائی ہزار کلو میٹر دور تک مارکرنے والا خرم شہر میزائل ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے پاسداران انقلاب پر دہشت گردوں کی مدد واعانت کے الزام کے فورا بعد امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کے خلاف قانون کے دائرہ عمل میں لانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے بیشتر اتحادیو ں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ کے اقدام کے نتیجے میں یورپ کے قریب جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ تہران سے لے کر بیروت تک اس پورے علاقہ میں پاسداران انقلاب کا بڑا وسیع اثر رسوخ ہے، خاص طور پر عراق میں جہاں موصل میں داعش کے خلاف جنگ میں پاسداران نے عراقی فوج کے ساتھ مل کر کاروائی کی ہے۔
ایران کی فوج ”ارتش“ ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے جب کہ آئین کے تحت پاسداران انقلاب، اسلامی جمہوریہ کے نظام کے محافظ ہیں ۔ میجر جنرل محمد علی جعفری کی سربراہی میں پاسداران میں ایک لاکھ 25 ہزار سپاہی ہیں جن میں بری، فضائی اور بحری دستے شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکا کا سب سے بڑا نشانہ ایران کی پاسداران انقلاب ہیں اور ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکاراور موجودہ معاہدہ میں ترمیم یا نئے معاہدہ پر اصرار کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کی راہیں مسدود کرنا ہے اور اسی لیے نشانہ پاسداران انقلاب کو بنایا جا رہاہے۔
ایران کے صدر روحانی نے ٹرمپ کے اقدام پر اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی صدر سراسر جاہل ہیں ۔ اور یہ بات واقعی صحیح ہے کیونکہ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو ایران کے رہبر اعلی کی نجی دہشت گرد فورس قرار دیا ہے جب کہ پاسداران انقلاب جو 1979کے انقلاب ایران کے فورا بعد منظم ہوئے تھے ایک آزاد فوجی کمان کے تحت ہیں ۔ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران ، پاسداران انقلاب نے اہم، فتوحات حاصل کی تھیں جس کی بنا پر اسے طاقت ور فوج تسلیم کیا جاتا ہے، یوں ایران دنیا کاواحد ملک ہے جہاں آزاد کمان کے تحت دو فوجیں ہیں ۔ پاسداران انقلاب فوجی تنظیم سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ نظریاتی محافظ کے علاوہ پاسداران کا با اثر میڈیا گروپس پر کنٹرول ہے ، خاص طور پر فارس نیوز ایجنسی اس کی تحویل میں ہے۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب کی اس بناپر سب سے زیادہ اہمیت ہے کہ ایران کا اہم انجینئرنگ ادارہ پاسداران کے کنٹرول میں ہے۔ یہ وسیع صنعتی ادارہ جس میں ایک لاکھ 35 ہزار کارکن کام کرتے ہیں ایران اور عراق کی جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے نے کچھ عرصہ قبل تیل کے چار منصوبوں کے لیے 25ارب ڈالر منظور کئے تھے ان میں سے ایک منصوبہ تیل صاف کرنے کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد ایران پیٹرول کے معاملہ میں خود کفیل ہو جائے گا۔ امریکا اس ادارے کو نشانہ بنانے اور اسے تباہ کرنے کے درپے ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کاخیال ہے کہ یہی ادارہ ایران میں بیلسٹک میزائل کی تیاری کے پروگرام میں مصروف ہے اور چونکہ یہ ادارہ پاسداران انقلاب کے کنٹرول میں ہے لہٰذا ساری کوشش پاسداران کو دہشت گرد ی میں ملوث کر کے اس کے خلاف بین الاقوامی محاذ قائم کرنے کی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں بھی کھل کر سامنے آنے کوتیار نہیں ہیں کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے فوجی مشیر اورانٹیلی جنس ایجنسیاں انھیں اچھی طرح باور کراچکی ہیں کہ یہ وقت ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی شروع کرنے کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف شام کے صدر بشارالاسد کی کھل کر مدد کرکے ایران روس اور چین کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیا ب ہوگیاہے اور اگر امریکا نے ایران کے خلاف محاذ آرائی کی کوئی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ روس اور چین کھل کر ایران کاساتھ دے سکتے ہیں بلکہ ایران کے اپنے اتحادی برطانیا، فرانس اورجرمنی بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیں گے۔جس کی وجہ سے ایران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سخت پابندیوں کانفاذ بھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر