وجود

... loading ...

وجود

امریکا کے خلاف ایران اور شمالی کوریا کی جارحانہ حکمت عملی

اتوار 22 اکتوبر 2017 امریکا کے خلاف ایران اور شمالی کوریا کی جارحانہ حکمت عملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا پر حملے کے دھمکیوں کے بعد اب شمالی کوریا نے بھی امریکا کے خلاف انتہائی سخت بلکہ جارحانہ حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کا اندازہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شمالی کوریا کے نائب سفیر کم ان ریانگ کے بیان سے لگایاجاسکتاہے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم ان ریانگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو ممالک شمالی کوریا کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی سے خود کو دور اور الگ تھلگ رکھیں گے وہ شمالی کوریا کے غیض وغضب اور رد عمل سے محفوظ رہیں گے۔بیان کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی ملک شمالی کوریا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیتا، ہمارا س ملک کو دھمکانے یا اس کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پورا امریکا ہمارے جنگی ہتھیاروں کے نشانے پر ہے، اگر امریکا نے ہماری ایک انچ مقدس زمین پر بھی جارحیت کی تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری سخت سزا سے خود کو بچا نہیں سکے گا۔اقوام متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم نے جنرل اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی واضح کردیاہے کہ جب تک امریکا کی جارحانہ پالیسی اور جوہری خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم کسی بھی صورت میں مذاکرات کی میز پر اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
پیانگ یانگ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے مسلسل تجربوں کے بعد امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ ان کے درمیان تندو تیز جملوں میں نمایاں طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی توثیق نہ کئے جانے اور اس معاہدے کو یکسر ختم کرنے کی دھمکیوں پر امریکا کے خلاف اپنے تندوتیز بیانات میں اضافہ کردیاہے، اگرچہ شمالی کوریاکے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہی اب چین اور روس کی اخلاقی حمایت بھی حاصل ہے لیکن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا میں تنہا کھڑے نظر آرہے ہیں ،اور ان کے قریبی اتحادی برطانیا، فرانس اور جرمنی بھی اس مسئلے پر ایران کے خلاف ان کاساتھ دینے کوتیار نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس اس معاہدے کے ان تینوں فریقوں نے واضح الفاظ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جتلادیاہے کہ ایران معاہدے پر عمل پیرا ہے اس لیے نہ صرف یہ کہ وہ اس معاہدے کو ختم کرنے کوتیار نہیں ہیں بلکہ امریکا بھی یکطرفہ طورپر ایسا نہیں کرسکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکار کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا ہے کہ ایران، اس علاقے میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے اور انہیں اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اس بارے میں ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ٹرمپ نے نہایت احتیا ط سے کام لیا ہے اور پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا کیونکہ انہیں علم ہے کہ ایران واضح طور پر خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تو یہ کھلم کھل اعلان جنگ ہوگا۔
ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکار سے متعلق بیانات کا گہری نظر سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی گہری شاطرانہ چال ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ یہ معاہدہ منسوخ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ وہ اکیلے معاہدہ منسوخ نہیں کر سکتے کیونکہ اس معاہدہ میں اقوام متحدہ اور دوسرے ممالک شامل ہیں جن میں امریکا کے اتحادی برطانیا، فرانس اور جرمنی بھی شریک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے معاہدہ منسوخ کرنے کے بجائے اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ اگلے60 دن کے لیے امریکی کانگریس کے سپرد کر دیا ہے۔ در اصل اس اقدام کے تحت ٹرمپ کچھ اور حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے یہ بات بھی بے نقاب ہوگئی ہے کہ وہ اسرائیل اور سعودی عرب کس حد تک ہم نوا ہیں اور پاکستان میں عام مستعمل اصطلاح میں ایک پیچ پر ہیں ۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے ٹرمپ کے اس اقدام پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور جیسے کہ جرمنی کے وزیر خارجہ سگمار گیبریل نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے جنگ کا خطرہ یورپ کے قریب پہنچ جائے گا لیکن اسرایل اور سعودی عرب صرف د و ممالک ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف تادیبی پابندیاں دوبارہ عائد کیں تو اس صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ ٹھپ پڑ جائے گا اور اگر ٹرمپ نے جوہری معاہدہ معطل کردیا تو دونوں صورتوں میں ایران کے لیے جوہری اسلحہ تیار کرنے کی راہ کھل جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو سابق صدر اوباما سے ایسی نسلی جانی دشمنی ہے کہ وہ اوباما کے ہر اقدام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کو جو اوباما کا اہم کارنامہ قرار دیا جاتا ہے ،یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بد ترین اور کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا ،ٹرمپ کا دعوی ہے کہ اس معاہدہ سے ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہیں روکا جا سکتاہے ، جب کہ خود امریکا کے اتحادی جو اس معاہدہ میں شامل ہیں ان کی یہ رائے ہے کہ ایران اس معاہدہ پر پوری طرح سے عمل کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی ایجنسی جو اس معاہدہ کی نگرانی کر رہی ہے اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے اس معاہدہ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ ٹرمپ کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ امریکی کانگریس کو بھی ایران کے ساتھ معاہدہ کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں اور پھر وہی حقیقت رکاوٹ بنتی ہے کہ اکیلے امریکی صدر اور امریکی کانگریس یہ بین الاقوامی معاہدہ منسوخ نہیں کرسکتے ہیں ۔ اس صورت حال میں ٹرمپ کی طرف سے اس معاہدہ میں شامل یورپی اور دوسرے ممالک پر زور دیا جارہا ہے کہ یا تو موجودہ معاہدہ میں ردو بدل کیا جائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو نئے سرے سے ایک دوسرا معاہدہ کیا جائے۔ اس اقدام کے پیچھے در اصل ٹرمپ کی یہ کوشش ہے کہ ایران کے بیلسٹک مزائیل کی تیاری کے پروگرام کو بھی نئے معاہدہ کے حصار میں لایا جائے کیونکہ ایران کے ساتھ موجودہ معاہدہ صرف جوہری اسلحہ پر پابندی کے بارے میں ہے۔
جولائی 2015میں جوہری اسلحہ کے بارے میں معاہدہ کے بعد ایران نے بیلسٹک میزائل کی تیاری کا منصوبہ شروع کیا تھا اور3 ماہ بعد میزائل کے تجربوں کا آغاز ہوا تھاجن میں سب سے پہلا تجربہ1700 کل میٹر دور تک مار کرنے والا عماد میزائل کا تجربہ شامل تھا۔ نومبر 2015میں ایران نے 2ہزار کلومیٹر کے فاصلہ پر مار کرنے والے میزائل غدر کا تجربہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ایران کے پاس 300 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا ایک شہاب میزائل ، ایک سے دس تک فاتح میزائل ، 700کلو میٹر دور تک مار کرنے والا، ذوالفقار میزائل ، 2ہزار کلومیٹر تک مارکرنے والے 3 عماد اور غدر میزائل ایک سجیل میزائل اور ڈھائی ہزار کلو میٹر دور تک مارکرنے والا خرم شہر میزائل ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے پاسداران انقلاب پر دہشت گردوں کی مدد واعانت کے الزام کے فورا بعد امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کے خلاف قانون کے دائرہ عمل میں لانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے بیشتر اتحادیو ں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ کے اقدام کے نتیجے میں یورپ کے قریب جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔ تہران سے لے کر بیروت تک اس پورے علاقہ میں پاسداران انقلاب کا بڑا وسیع اثر رسوخ ہے، خاص طور پر عراق میں جہاں موصل میں داعش کے خلاف جنگ میں پاسداران نے عراقی فوج کے ساتھ مل کر کاروائی کی ہے۔
ایران کی فوج ”ارتش“ ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے جب کہ آئین کے تحت پاسداران انقلاب، اسلامی جمہوریہ کے نظام کے محافظ ہیں ۔ میجر جنرل محمد علی جعفری کی سربراہی میں پاسداران میں ایک لاکھ 25 ہزار سپاہی ہیں جن میں بری، فضائی اور بحری دستے شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکا کا سب سے بڑا نشانہ ایران کی پاسداران انقلاب ہیں اور ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدہ کی توثیق سے انکاراور موجودہ معاہدہ میں ترمیم یا نئے معاہدہ پر اصرار کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کی راہیں مسدود کرنا ہے اور اسی لیے نشانہ پاسداران انقلاب کو بنایا جا رہاہے۔
ایران کے صدر روحانی نے ٹرمپ کے اقدام پر اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی صدر سراسر جاہل ہیں ۔ اور یہ بات واقعی صحیح ہے کیونکہ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو ایران کے رہبر اعلی کی نجی دہشت گرد فورس قرار دیا ہے جب کہ پاسداران انقلاب جو 1979کے انقلاب ایران کے فورا بعد منظم ہوئے تھے ایک آزاد فوجی کمان کے تحت ہیں ۔ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران ، پاسداران انقلاب نے اہم، فتوحات حاصل کی تھیں جس کی بنا پر اسے طاقت ور فوج تسلیم کیا جاتا ہے، یوں ایران دنیا کاواحد ملک ہے جہاں آزاد کمان کے تحت دو فوجیں ہیں ۔ پاسداران انقلاب فوجی تنظیم سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ نظریاتی محافظ کے علاوہ پاسداران کا با اثر میڈیا گروپس پر کنٹرول ہے ، خاص طور پر فارس نیوز ایجنسی اس کی تحویل میں ہے۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب کی اس بناپر سب سے زیادہ اہمیت ہے کہ ایران کا اہم انجینئرنگ ادارہ پاسداران کے کنٹرول میں ہے۔ یہ وسیع صنعتی ادارہ جس میں ایک لاکھ 35 ہزار کارکن کام کرتے ہیں ایران اور عراق کی جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے نے کچھ عرصہ قبل تیل کے چار منصوبوں کے لیے 25ارب ڈالر منظور کئے تھے ان میں سے ایک منصوبہ تیل صاف کرنے کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد ایران پیٹرول کے معاملہ میں خود کفیل ہو جائے گا۔ امریکا اس ادارے کو نشانہ بنانے اور اسے تباہ کرنے کے درپے ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کاخیال ہے کہ یہی ادارہ ایران میں بیلسٹک میزائل کی تیاری کے پروگرام میں مصروف ہے اور چونکہ یہ ادارہ پاسداران انقلاب کے کنٹرول میں ہے لہٰذا ساری کوشش پاسداران کو دہشت گرد ی میں ملوث کر کے اس کے خلاف بین الاقوامی محاذ قائم کرنے کی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں بھی کھل کر سامنے آنے کوتیار نہیں ہیں کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے فوجی مشیر اورانٹیلی جنس ایجنسیاں انھیں اچھی طرح باور کراچکی ہیں کہ یہ وقت ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی شروع کرنے کے لیے مناسب نہیں ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں داعش کے خلاف شام کے صدر بشارالاسد کی کھل کر مدد کرکے ایران روس اور چین کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیا ب ہوگیاہے اور اگر امریکا نے ایران کے خلاف محاذ آرائی کی کوئی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ روس اور چین کھل کر ایران کاساتھ دے سکتے ہیں بلکہ ایران کے اپنے اتحادی برطانیا، فرانس اورجرمنی بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیں گے۔جس کی وجہ سے ایران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سخت پابندیوں کانفاذ بھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

مضامین
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے! وجود پیر 02 مارچ 2026
طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے!

ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ وجود پیر 02 مارچ 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر