... loading ...
پاکستان کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں میں وافر مقدار میں تیار ہونے والی گھریلو اور صنعتی استعمال کی اشیا کی چین سے بے تحاشہ درآمد نے ملک کی صنعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے،چین سے درآمد کی جانے والی ان اشیا کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ ملک کے چھوٹے اور درمیانہ درجے کے صنعت کار اس کامقابلہ کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ایسی بہت سی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے ہیں اور جو ابھی بھی کسی نہ طرح اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں وہ بھی آخری سانس لیتے نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں بڑے پیمانے پربیروزگاری پھیلنے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں جو اسٹیٹ بینک پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود ہے اس بات کااعتراف کیاہے ،کہ پاکستان کے چھوٹے اوردرمیانے درجے کے صنعت کار دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک چین کی تیار کردہ مصنوعات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ہمت ہار چکے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے 2 اعلیٰ افسران کی تیار کردہ اس رپورٹ میں جس کا عنوان’’ڈائنامکس آف پاکستانز ٹریڈ بیلنس ودھ چائنا‘‘ رکھاگیاہے، واضح طورپر لکھاگیاہے کہ چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت کاپلڑا اب بھی چین کی جانب بری طرح جھکاہواہے۔رپورٹ کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ ہوا ہے اور2015-16 کے درمیان پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کی مالیت 2.2 بلین ڈالر سے بڑھ کر 13.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی لیکن اس دوران پاکستان سے چین کو برآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت جو 2004-05 کے دوران 0.4 بلین ڈالر کے مساوی تھی 2015-16 کے دوران بڑھ کر 1.7بلین ڈالر تک پہنچ گئی ،یعنی چین سے درآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت پاکستان سے چین کو برآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت سے 10گنا سے بھی زیادہ رہیں ۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2004-05 کے دوران چین سے پاکستان کی درآمدات کی مالیت 1.8 بلین ڈالر کے مساوی تھیں جو کہ 2015-16 کے دوران بڑھ کر13.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور جولائی سے مئی 2016-17 کے دوران چین سے درآمدات کی مالیت 13.9 بلین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔
پاکستان جو اشیا چین کو برآمد کرتاہے ان میں خشک میوہ جات، ثابت اورٹوٹا چاول،لکڑی اورمیٹل کی ایڑیوں والے جوتے اورمردوں کے ملبوسات شامل ہیں ،جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں چین سے ٹیلی فون سیٹ، ڈیجٹل کیمرے، الیکٹریکل مشینیں اور کھلونے ایسی اشیا ہیں جو ٹیرف سے مستثنیٰ اشیا میں شامل ہیں ۔چین سے ٹیرف سے مستثنیٰ ان اشیا کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ چین سے ٹیرف کے بغیر کھلونوں کی درآمد کی وجہ سے ملک کی کھلونوں کی صنعت بیٹھ چکی ہے کیونکہ پاکستان میں کھلونے بنانے والے صنعت کاروں کو مختلف طرح کے ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں اور طرح طرح کے ٹیکسوں کی ادائیگی کی وجہ سے وہ مارکیٹ میں چین سے بلاٹیرف درآمد شدہ کھلونوں کامقابلہ نہیں کرپاتے، اسی طرح چین سے ٹیلی فون سیٹس کی درآمد کی وجہ سے ملک میں ٹیلی فون سیٹ بنانے والی خود سرکاری ٹیلی فون انڈسٹری نے ٹیلی فون سیٹ بنانا یاتو بالکل بند کردیاہے یا اس کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی آزاد تجارت کے معاہدے کی وجہ سے پاکستان کادوسرے ملکوں خاص طورپر جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ ترجیحی مارجن بری طرح متاثرہواہے۔
رپورٹ میں تجویز کیاگیاہے کہ پاکستان کو چین سے ٹیرف میں اسی رعایت کامطالبہ کرنا چاہئے جو چین جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کودے رہاہے تاکہ پاکستانی اشیا چین میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی درآمدات کامقابلہ آسانی سے کرسکیں اورچین کے لیے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے اسی طرح ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک میں تیار کی جانے والی ان اشیا پرجو چین سے درآمد کی جارہی ہیں ٹیکسوں میں اسی طرح چھوٹ اور رعایت فراہم کرے اور مقامی صنعتوں کو اس طرح تحفظ فراہم کیاجائے ،جس طرح چین سے درآمدات پر دی جارہی ہے تاکہ پاکستانی صنعتوں میں تیار ہونے والی اشیاچین کی تیار کردہ اشیا کامقابلہ کرسکیں اورمقامی صنعتوں کی بندش اور مقامی لوگوں کی بیروزگاری کاخطرہ ٹل سکے۔
چین سے درآمد شدہ اشیا پاکستان کی تیار کردہ اشیا کے مقابلے میں سستی ہونے کے سبب پاکستان میں سیرامکس، الیکٹرک مشینری، اور اکیوئپمنٹس، چپ بورڈ، پلائی ووڈ، سائیکلیں اور دیگر بہت سی ایسی صنعتیں جو اس طرح کی اشیا وافر مقدار میں تیار کرکے ملک کی ضروریات احسن طورپر پوری کررہی تھیں اب آخری سانس لے رہی ہیں ، ان صنعتوں کو ڈوبنے اور ان میں کام کرنے والی افرادی قوت کو بیروزگاری سے بچانے کے لیے حکومت کو فوری کارروائی کرنے اور ملکی صنعتوں کوتحفظ دینے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا چاہئے، محض چین سے دوستی کے نام پر بے تحاشہ غیر ضروری اشیا درآمد کرکے ملک کی افرادی قوت کو بیروزگاری کے عمیق غار میں دھکیل دینا اور ملکی صنعتوں کوتباہ کرکے چھوٹی چھوٹی اشیا کیلیے دوسروں کادست نگر بن جانا کسی طور بھی دانشمندی نہیں ہے۔
اگرچہ چین سے درآمد کی جانے والی ایسی اشیا جو پاکستان میں تیار ہوتی ہیں اور ملک کی صنعتیں مقامی ضروریات پوری کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں کی مالیت اور مقدار کے حوالے سے مکمل اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چین سے سستی اشیا کی درآمد کی دوڑ میں ہم نے خود اپنی صنعتوں کو تباہی کے غار میں دھکیلنا شروع کردیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان سے چین کو برآمدکی جانے والی اشیا کی فہرست بہت چھوٹی ہے کیونکہ چین بیشتر شعبوں میں پاکستان ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک سے بھی بہت آگے نکل گیاہے اورخودکفالت کی منزل عبور کرنے کے بعد اب اپنی فاضل اشیا پوری دنیا کو برآمد کررہاہے ، اس لیے اب پاکستان کو اپنے تاجروں کو چین سے صرف وہی اشیا درآمد کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے ،اور پاکستان کی مقامی چھوٹی اوردرمیانے درجے کی صنعتیں جن اشیا کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کو ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر سہولتیں دے کر ان کو اپنی پیداوار میں اضافے کی ترغیب دینی چاہئے تاکہ مستقبل میں بھی ان کی ضرورت پوری ہوتی رہے اورپاکستان کو ان کی درآمد کی ضرورت نہ رہے، یہ کام درآمدکنندگا اور کسٹمز حکام کے قریبی تعاون سے ہی ہوسکتاہے، ہمارے درآمد کنندگان کو بھی وقت فائدہ دیکھ کر چین کے ساتھ آزاد تجارت کا غیر ضروری فائدہ اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے اورہر غیر ضروری چیز درآمد کرکے مارکیٹ میں اس کاانبار لگاکر مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہئے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...