وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

هفته 21 اکتوبر 2017 17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

سندھ کے مختلف محکموں میں کرپشن کی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے،اور یہ ظاہرہوگیاہے کہ سندھ کے مختلف محکموں میں اب بھی کم وبیش ایسے1300 سے زیادہ ایسے افسران اعلیٰ عہدوں پر کام کررہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں بلکہ کرپشن ثابت ہونے کے بعد نیب کے ساتھ پلی بارگین ڈیل کے بعد رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ قومی خزانے میں واپس جمع کرانے پر مجبور ہوئے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے اس صورت حال کا سختی سے نوٹس لیاہے اور صوبائی حکومت کو ان تمام مستند کرپٹ افسران کو 3 دن کے اندر ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کانوٹس دیاہے۔سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی زیر قیادت سندھ ہائیکورٹ کی ایک 2رکنی بینچ نے گزشتہ روز صوبائی حکومت کو ان کرپٹ افسران کو تین دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم دینے کے ساتھ ہی سندھ کے چیف سیکریٹری کو بھی حکم دیاہے کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بعد ذاتی حلف نامے کے ساتھ اس حکم پر حرف بحرف عملدرآمد کرائے جانے کی رپورٹ بھی سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔
یہ صورت حال مالیاتی اسکینڈل میں ملوث اورنیب سے پلی بارگین کے ذریعے رہائی پاکر دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہوجانے والے سندھ حکومت کے ایک افسر غلام محمد لوند کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کھل کر سامنے آئی ،غلام محمد لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں شکایت کی تھی کہ وہ نیب سے پلی بارگین کے ذرریعے کلیئر ہوچکاہے لیکن نیب کے حکام اس کو مسلسل تنگ کررہے ہیں ، اس لیے نیب کے حکام کو اسے ہراساں کرنے سے روکا جائے ۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے ایک عدالت عالیہ کے سامنے سندھ کے ان اعلیٰ افسران کی ایک فہرست پیش کی جو کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد پلی بارگین کے ذریعے رشوت گھپلوں اور سرکاری خزانے کی خورد بردکے ذریعہ جمع کردہ رقم میں سے کچھ رقم واپس ادا کرنے کے بعد رہاہوئے تھے اور اب دوبارہ اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اس موقع پر عدالت عالیہ کو بتایا کہ 500 سے زیادہ نیب زدہ ایسے کرپٹ اعلیٰ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیںنیب میں جن کے خلاف انکوائریاں ہوچکی ہیں اور ان کی کرپشن ثابت ہونے پر وہ پلی بارگین کے ذریعے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔نیب نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ نیب نے ان کرپٹ افسران سے سرکاری خزانے سے لوٹے ہوئے 16 ارب 60 کروڑ روپے واپس وصول کئے ہیں۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ سندھ حکومت کے 1309 افسران کے خلاف کرپشن اور خورد برد کے الزامات کے تحت انکوائریاں ہوئی تھیں جس کے بعد یہ افسران پلی بارگین کے تحت خورد برد کی گئی رقوم واپس خزانے میں جمع کرانے کے بعد اپنے عہدوں پر بحال کئے گئے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ان میں سے 27 افسران کو انکوائری کے دوران ہی برطرف کردیاگیاتھا جبکہ 100 دیگر افسران کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ضمیر گھمرو نے ان افسران کے بارے میں تفصیلی فیصلے کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزیدوقت دینے کی درخواست کی ۔اس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے مقدمے کی سماعت روک کر چیف سیکریٹری سندھ کوطلب کیا اور سوال کیاکہ جن سرکاری افسران کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوگئے تھے اور جن افسران نے کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ رقم واپس جمع کرائی ہے ان کے خلاف کیاکارروائی کی گئی؟۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے عدالت کو بتایا کہ چیف سیکریٹری سینیٹ کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔اس پرسندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چیف سیکریٹری کو حکم جاری کیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے کرپشن کااعتراف کرنے کے بعد رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے والے تمام افسران کو ان کے عہدوںسے فوری طورپر فارغ کریں۔عدالت عالیہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو عدالتی احکامات پر 3 دن کے اندر عمل کرنے اور عملدرآمد کی رپورٹ ذاتی حلف نامے کے ساتھ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کرپٹ افسران کے خلاف حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کرنے کاحکم دیا ہے، اورمقدمے کی اگلی سماعت اب 24 اکتوبر کو ہوگی۔
اگر سندھ حکومت کے محکمہ مالیات کاافسر غلام مصطفی لوند سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر نہ کرتا تو شاید یہ معاملہ اسی طرح دبارہتااور کرپٹ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کرتے اور کرپشن کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں مصروف رہتے، غلام مصطفی لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ 2016 میں ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ مالیات میں اکائونٹس افسر کے طورپر خدمات انجام دے رہاتھا جب نیب نے اس کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں تحقیقات شروع کی ،درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کرپشن میں ملوث ہونے کااعتراف کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ اس نے قومی احتساب آرڈی ننس1999 کی دفعہ 25 کے تحت ناجائز طورپر جمع کردہ 37کروڑ روپے سرکاری خزانے مین واپس جمع کرادیے تھے ۔جس کے بعد اسے الزامات سے بری کردیاگیاتھا اور وہ اپنے عہدے پر بحال کردیاگیاتھا۔
غلام مصطفی لوند کی جانب سے نیب کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں یہ بتایاگیاتھا کہ پلی بارگین کے تحت رقم جمع کرائے جانے کے بعد نیب سے کلیئرنس مل جانے اور دوبارہ ملازمت پر بحالی کے بعد ایف آئی اے نے ضلع دادومیں اس کی تعیناتی کے دوران جہاں وہ ڈسٹرکٹ اکائونٹس افسر کے طورپر تعینات تھا مالیاتی بے قاعدگیوں اور گھپلوںکی تحقیقات شروع کردی جس کے بعد نیب دوبارہ اس معاملے میں کود پڑی حالانکہ وہ نیب سے پلی بارگین کے تحت رقم جمع کراکے اپنے عہدے پر بحال ہواتھا اورنیب نے اسے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردئے ہیں۔لہٰذا عدالت عالیہ نیب کے طلبی کے نوٹس غیر قانونی قرار دے ، اس درخواست نے سندھ کے مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدوں پر کرپٹ افسران کی موجودگی کابھانڈا پھوڑ دیا اور اس طرح سندھ ہائیکورٹ نے تمام کرپٹ افسران کو 3دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم جاری کردیا۔
اب دیکھنایہ ہے کہ سندھ حکومت عدالت عالیہ کے اس حکم پر کس طرح عمل کرتی ہے اور مختلف وزرا اور با اثر وڈیرے اپنے چہیتے افسران کوبچانے کیلیے کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں اور حکم پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے کے لیے کیا کارروائی کی جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ وجود - پیر 12 اپریل 2021

وزیر اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان فواد چوہدری کو دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ذرائع کے مطابق اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری خصوصی طورپر جہلم سے اسلام آباد پہنچنے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو اضافی ذمہ داریاں ملنے کا نوٹیفکیشن (آج) پیر تک جاری ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ...

وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی وجود - پیر 12 اپریل 2021

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی ہے ۔فافن نے گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اپنی رپورٹ جاری کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ انتخاب شفاف رہے ، الیکشن عملے نے توجہ سے انتخابی عمل سرانجام دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں انتخابی خلاف ورزیوں کے واقعات کم رونما ہوئے ، فافن عملے نے الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔فافن رپورٹ کے مطابق 193 میں...

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا وجود - پیر 12 اپریل 2021

کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ اطلاع ہے کہ آپ حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار کے جلسے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ حلقے میں آپ کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کی یہ نشست فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی ہے ، جنھوں نے 2018 کے عام...

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد وجود - پیر 12 اپریل 2021

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقا پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقی کپتان ہینرچ کلاسن نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل وجود - هفته 10 اپریل 2021

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز باقاعدہ شامل ہوگئے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے 6 آزاد اراکین پر مشتمل سینیٹرز کے نئے آزاد گروپ کا سرکولر جاری کردیا۔سینیٹر دلاور خان آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔فاٹا کے دو آزاد اراکین سینیٹر ہلال الرحمن، سینیٹر ہدایت اللّٰہ آزاد گروپ میں شامل ہوگئے ۔

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد وجود - هفته 10 اپریل 2021

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ جوا کی کے پہاڑی علاقے میں مارچ 2012 میں اجتماعی قبروں سے 50 سے زائد لاشیں ملی تھیں۔

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وجود - هفته 10 اپریل 2021

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ، کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس ...

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت وجود - هفته 10 اپریل 2021

ترکی نے اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریغی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان پر یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی توہین کرنے اور انہیں آمر کہنے کے الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کے روز انقرہ میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کے سربراہ کو ملاقات میں کرسی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس ملاقات کے دوران صرف دو کرسیاں تیار کی گئی تھیں جس پر یورپی کونسل کے صدر اور ترک صدر بیٹھ گئے تھے ۔طیب اردوان ا...

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر، برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک رائل کونسورٹ کے عہدے پر رہنے والے شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے ۔رائل فیملی کی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ شہزادہ فلپ کی اچانک موت آج (9اپریل کی) صبح کو ونڈسر محل میں ہوئی۔بیان میں کہا گ...

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان وجود - هفته 10 اپریل 2021

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک میں 30 روزے اور چار جمعے ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق رواں برس سعودی عرب میں عید الفطر 13 مئی کو ہونے کی توقع ہے ۔

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق وجود - هفته 10 اپریل 2021

نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والی مائیں کووڈ 19 ویکسین سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز اپنے دودھ کے ذریعے کئی ماہ تک بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 5 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کو فائزر/بائیو این ٹیک کورونا وائرس استعمال کرائی گئی تھی۔تحقیق میں ان ماؤں کے دودھ کے نمونوں میں ویکسین کی پہلی خوراک سے قبل اینٹی باڈیز کی سطح کو دیکھا گیا اور پھر ویکسین کے بعد 80 دن تک روانہ کی بنیاد پر ...

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا آئین کے تحت سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزراء اور حکام شریک ہوئے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں...

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار