وجود

... loading ...

وجود

17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

هفته 21 اکتوبر 2017 17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

سندھ کے مختلف محکموں میں کرپشن کی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے،اور یہ ظاہرہوگیاہے کہ سندھ کے مختلف محکموں میں اب بھی کم وبیش ایسے1300 سے زیادہ ایسے افسران اعلیٰ عہدوں پر کام کررہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں بلکہ کرپشن ثابت ہونے کے بعد نیب کے ساتھ پلی بارگین ڈیل کے بعد رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ قومی خزانے میں واپس جمع کرانے پر مجبور ہوئے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے اس صورت حال کا سختی سے نوٹس لیاہے اور صوبائی حکومت کو ان تمام مستند کرپٹ افسران کو 3 دن کے اندر ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کانوٹس دیاہے۔سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی زیر قیادت سندھ ہائیکورٹ کی ایک 2رکنی بینچ نے گزشتہ روز صوبائی حکومت کو ان کرپٹ افسران کو تین دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم دینے کے ساتھ ہی سندھ کے چیف سیکریٹری کو بھی حکم دیاہے کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بعد ذاتی حلف نامے کے ساتھ اس حکم پر حرف بحرف عملدرآمد کرائے جانے کی رپورٹ بھی سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔
یہ صورت حال مالیاتی اسکینڈل میں ملوث اورنیب سے پلی بارگین کے ذریعے رہائی پاکر دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہوجانے والے سندھ حکومت کے ایک افسر غلام محمد لوند کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کھل کر سامنے آئی ،غلام محمد لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں شکایت کی تھی کہ وہ نیب سے پلی بارگین کے ذرریعے کلیئر ہوچکاہے لیکن نیب کے حکام اس کو مسلسل تنگ کررہے ہیں ، اس لیے نیب کے حکام کو اسے ہراساں کرنے سے روکا جائے ۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے ایک عدالت عالیہ کے سامنے سندھ کے ان اعلیٰ افسران کی ایک فہرست پیش کی جو کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد پلی بارگین کے ذریعے رشوت گھپلوں اور سرکاری خزانے کی خورد بردکے ذریعہ جمع کردہ رقم میں سے کچھ رقم واپس ادا کرنے کے بعد رہاہوئے تھے اور اب دوبارہ اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اس موقع پر عدالت عالیہ کو بتایا کہ 500 سے زیادہ نیب زدہ ایسے کرپٹ اعلیٰ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیںنیب میں جن کے خلاف انکوائریاں ہوچکی ہیں اور ان کی کرپشن ثابت ہونے پر وہ پلی بارگین کے ذریعے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔نیب نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ نیب نے ان کرپٹ افسران سے سرکاری خزانے سے لوٹے ہوئے 16 ارب 60 کروڑ روپے واپس وصول کئے ہیں۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ سندھ حکومت کے 1309 افسران کے خلاف کرپشن اور خورد برد کے الزامات کے تحت انکوائریاں ہوئی تھیں جس کے بعد یہ افسران پلی بارگین کے تحت خورد برد کی گئی رقوم واپس خزانے میں جمع کرانے کے بعد اپنے عہدوں پر بحال کئے گئے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ان میں سے 27 افسران کو انکوائری کے دوران ہی برطرف کردیاگیاتھا جبکہ 100 دیگر افسران کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ضمیر گھمرو نے ان افسران کے بارے میں تفصیلی فیصلے کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزیدوقت دینے کی درخواست کی ۔اس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے مقدمے کی سماعت روک کر چیف سیکریٹری سندھ کوطلب کیا اور سوال کیاکہ جن سرکاری افسران کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوگئے تھے اور جن افسران نے کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ رقم واپس جمع کرائی ہے ان کے خلاف کیاکارروائی کی گئی؟۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے عدالت کو بتایا کہ چیف سیکریٹری سینیٹ کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔اس پرسندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چیف سیکریٹری کو حکم جاری کیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے کرپشن کااعتراف کرنے کے بعد رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے والے تمام افسران کو ان کے عہدوںسے فوری طورپر فارغ کریں۔عدالت عالیہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو عدالتی احکامات پر 3 دن کے اندر عمل کرنے اور عملدرآمد کی رپورٹ ذاتی حلف نامے کے ساتھ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کرپٹ افسران کے خلاف حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کرنے کاحکم دیا ہے، اورمقدمے کی اگلی سماعت اب 24 اکتوبر کو ہوگی۔
اگر سندھ حکومت کے محکمہ مالیات کاافسر غلام مصطفی لوند سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر نہ کرتا تو شاید یہ معاملہ اسی طرح دبارہتااور کرپٹ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کرتے اور کرپشن کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں مصروف رہتے، غلام مصطفی لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ 2016 میں ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ مالیات میں اکائونٹس افسر کے طورپر خدمات انجام دے رہاتھا جب نیب نے اس کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں تحقیقات شروع کی ،درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کرپشن میں ملوث ہونے کااعتراف کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ اس نے قومی احتساب آرڈی ننس1999 کی دفعہ 25 کے تحت ناجائز طورپر جمع کردہ 37کروڑ روپے سرکاری خزانے مین واپس جمع کرادیے تھے ۔جس کے بعد اسے الزامات سے بری کردیاگیاتھا اور وہ اپنے عہدے پر بحال کردیاگیاتھا۔
غلام مصطفی لوند کی جانب سے نیب کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں یہ بتایاگیاتھا کہ پلی بارگین کے تحت رقم جمع کرائے جانے کے بعد نیب سے کلیئرنس مل جانے اور دوبارہ ملازمت پر بحالی کے بعد ایف آئی اے نے ضلع دادومیں اس کی تعیناتی کے دوران جہاں وہ ڈسٹرکٹ اکائونٹس افسر کے طورپر تعینات تھا مالیاتی بے قاعدگیوں اور گھپلوںکی تحقیقات شروع کردی جس کے بعد نیب دوبارہ اس معاملے میں کود پڑی حالانکہ وہ نیب سے پلی بارگین کے تحت رقم جمع کراکے اپنے عہدے پر بحال ہواتھا اورنیب نے اسے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردئے ہیں۔لہٰذا عدالت عالیہ نیب کے طلبی کے نوٹس غیر قانونی قرار دے ، اس درخواست نے سندھ کے مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدوں پر کرپٹ افسران کی موجودگی کابھانڈا پھوڑ دیا اور اس طرح سندھ ہائیکورٹ نے تمام کرپٹ افسران کو 3دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم جاری کردیا۔
اب دیکھنایہ ہے کہ سندھ حکومت عدالت عالیہ کے اس حکم پر کس طرح عمل کرتی ہے اور مختلف وزرا اور با اثر وڈیرے اپنے چہیتے افسران کوبچانے کیلیے کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں اور حکم پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے کے لیے کیا کارروائی کی جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر