وجود

... loading ...

وجود

17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

هفته 21 اکتوبر 2017 17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

سندھ کے مختلف محکموں میں کرپشن کی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے،اور یہ ظاہرہوگیاہے کہ سندھ کے مختلف محکموں میں اب بھی کم وبیش ایسے1300 سے زیادہ ایسے افسران اعلیٰ عہدوں پر کام کررہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں بلکہ کرپشن ثابت ہونے کے بعد نیب کے ساتھ پلی بارگین ڈیل کے بعد رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ قومی خزانے میں واپس جمع کرانے پر مجبور ہوئے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے اس صورت حال کا سختی سے نوٹس لیاہے اور صوبائی حکومت کو ان تمام مستند کرپٹ افسران کو 3 دن کے اندر ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کانوٹس دیاہے۔سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی زیر قیادت سندھ ہائیکورٹ کی ایک 2رکنی بینچ نے گزشتہ روز صوبائی حکومت کو ان کرپٹ افسران کو تین دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم دینے کے ساتھ ہی سندھ کے چیف سیکریٹری کو بھی حکم دیاہے کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بعد ذاتی حلف نامے کے ساتھ اس حکم پر حرف بحرف عملدرآمد کرائے جانے کی رپورٹ بھی سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔
یہ صورت حال مالیاتی اسکینڈل میں ملوث اورنیب سے پلی بارگین کے ذریعے رہائی پاکر دوبارہ اپنے عہدے پر فائز ہوجانے والے سندھ حکومت کے ایک افسر غلام محمد لوند کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کھل کر سامنے آئی ،غلام محمد لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں شکایت کی تھی کہ وہ نیب سے پلی بارگین کے ذرریعے کلیئر ہوچکاہے لیکن نیب کے حکام اس کو مسلسل تنگ کررہے ہیں ، اس لیے نیب کے حکام کو اسے ہراساں کرنے سے روکا جائے ۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے ایک عدالت عالیہ کے سامنے سندھ کے ان اعلیٰ افسران کی ایک فہرست پیش کی جو کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد پلی بارگین کے ذریعے رشوت گھپلوں اور سرکاری خزانے کی خورد بردکے ذریعہ جمع کردہ رقم میں سے کچھ رقم واپس ادا کرنے کے بعد رہاہوئے تھے اور اب دوبارہ اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اس موقع پر عدالت عالیہ کو بتایا کہ 500 سے زیادہ نیب زدہ ایسے کرپٹ اعلیٰ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیںنیب میں جن کے خلاف انکوائریاں ہوچکی ہیں اور ان کی کرپشن ثابت ہونے پر وہ پلی بارگین کے ذریعے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔نیب نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ نیب نے ان کرپٹ افسران سے سرکاری خزانے سے لوٹے ہوئے 16 ارب 60 کروڑ روپے واپس وصول کئے ہیں۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ سندھ حکومت کے 1309 افسران کے خلاف کرپشن اور خورد برد کے الزامات کے تحت انکوائریاں ہوئی تھیں جس کے بعد یہ افسران پلی بارگین کے تحت خورد برد کی گئی رقوم واپس خزانے میں جمع کرانے کے بعد اپنے عہدوں پر بحال کئے گئے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ان میں سے 27 افسران کو انکوائری کے دوران ہی برطرف کردیاگیاتھا جبکہ 100 دیگر افسران کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ضمیر گھمرو نے ان افسران کے بارے میں تفصیلی فیصلے کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزیدوقت دینے کی درخواست کی ۔اس پر سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے مقدمے کی سماعت روک کر چیف سیکریٹری سندھ کوطلب کیا اور سوال کیاکہ جن سرکاری افسران کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوگئے تھے اور جن افسران نے کرپشن کے ذریعے حاصل کردہ رقم واپس جمع کرائی ہے ان کے خلاف کیاکارروائی کی گئی؟۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے عدالت کو بتایا کہ چیف سیکریٹری سینیٹ کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔اس پرسندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے چیف سیکریٹری کو حکم جاری کیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے کرپشن کااعتراف کرنے کے بعد رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے والے تمام افسران کو ان کے عہدوںسے فوری طورپر فارغ کریں۔عدالت عالیہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو عدالتی احکامات پر 3 دن کے اندر عمل کرنے اور عملدرآمد کی رپورٹ ذاتی حلف نامے کے ساتھ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کرپٹ افسران کے خلاف حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلی رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کرنے کاحکم دیا ہے، اورمقدمے کی اگلی سماعت اب 24 اکتوبر کو ہوگی۔
اگر سندھ حکومت کے محکمہ مالیات کاافسر غلام مصطفی لوند سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر نہ کرتا تو شاید یہ معاملہ اسی طرح دبارہتااور کرپٹ افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کرتے اور کرپشن کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں مصروف رہتے، غلام مصطفی لوند نے سندھ ہائیکورٹ میں نیب کے خلاف دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ 2016 میں ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ مالیات میں اکائونٹس افسر کے طورپر خدمات انجام دے رہاتھا جب نیب نے اس کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں تحقیقات شروع کی ،درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کرپشن میں ملوث ہونے کااعتراف کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ اس نے قومی احتساب آرڈی ننس1999 کی دفعہ 25 کے تحت ناجائز طورپر جمع کردہ 37کروڑ روپے سرکاری خزانے مین واپس جمع کرادیے تھے ۔جس کے بعد اسے الزامات سے بری کردیاگیاتھا اور وہ اپنے عہدے پر بحال کردیاگیاتھا۔
غلام مصطفی لوند کی جانب سے نیب کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں یہ بتایاگیاتھا کہ پلی بارگین کے تحت رقم جمع کرائے جانے کے بعد نیب سے کلیئرنس مل جانے اور دوبارہ ملازمت پر بحالی کے بعد ایف آئی اے نے ضلع دادومیں اس کی تعیناتی کے دوران جہاں وہ ڈسٹرکٹ اکائونٹس افسر کے طورپر تعینات تھا مالیاتی بے قاعدگیوں اور گھپلوںکی تحقیقات شروع کردی جس کے بعد نیب دوبارہ اس معاملے میں کود پڑی حالانکہ وہ نیب سے پلی بارگین کے تحت رقم جمع کراکے اپنے عہدے پر بحال ہواتھا اورنیب نے اسے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردئے ہیں۔لہٰذا عدالت عالیہ نیب کے طلبی کے نوٹس غیر قانونی قرار دے ، اس درخواست نے سندھ کے مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدوں پر کرپٹ افسران کی موجودگی کابھانڈا پھوڑ دیا اور اس طرح سندھ ہائیکورٹ نے تمام کرپٹ افسران کو 3دن کے اندر فارغ کرنے کاحکم جاری کردیا۔
اب دیکھنایہ ہے کہ سندھ حکومت عدالت عالیہ کے اس حکم پر کس طرح عمل کرتی ہے اور مختلف وزرا اور با اثر وڈیرے اپنے چہیتے افسران کوبچانے کیلیے کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں اور حکم پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے کے لیے کیا کارروائی کی جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر