وجود

... loading ...

وجود

سندھ کے خزانے کی بے رحمی سے لوٹ مار

هفته 21 اکتوبر 2017 سندھ کے خزانے کی بے رحمی سے لوٹ مار

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ اپنی جگہ درست ہوتی کہ وہ نوجوان ہیں متحرک ہیں ۔ خود جا کر معاملات کا جائزہ لیتے ہیں اور تمام امور کی خود نگرانی کرتے ہیں وغیرہ ۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ جس طرح سندھ کو مالی طور پر سید مراد علی شاہ نے نقصان دیا ہے یوں کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ مراد علی شاہ نے سندھ کے خزانے کی جس طرح دل کھول کر لوٹ مار کی ہے اس کی پچھلے پچاس سال میں تو کوئی مثال نہیں ملتی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تنخواہیں اور الائونس بڑھا دیتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ جمہوری نہیں بلکہ بادشاہت یا آمریت کے دور کے وزیر اعلیٰ ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سند ھ جس وقت چاہتے ہیں سندھ کے خزانے کو کروڑوں روپ کاٹیکہ لگادیتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس سندھ سیکریٹریٹ ، گورنر ہائوس ، وزیر اعلیٰ ہائوس ، سندھ پبلک مریکیورمینٹ ، ریگولیٹری اتھارٹی ، سندھ ریونیو ، اکیڈمی ، سندھ ریونیو بورڈ سمیت ایک درجن سے زائد اداروں میں تنخواہیں اور الائونس ڈبل ٹرپل بڑھا یئے ہیں جس کا کوئی سبب بھی نہیں بتا گیا ۔ یوں ترقی کی سطح تو پیچھے جا رہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الائونسز میں روزانہ اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ اب وزراء ، مشیروں ، معاونین خصوصی ، اراکین سندھ اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہوں میں بھی ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ جب سب کی تنخواہ بڑھ رہی ہو تو پھر وزراء اور ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہ کیوں نہ بڑھائی جائے ۔ پھر وزیر اعلیٰ نے حاتم طائی سے بھی دو ہاتھ آگے جاتے ہوئے 300 فیصد تک تنخواہیں اور الائونس بڑھا دیئے ۔ جس کام طلاف یکم جولائی 2016 سے ہوگا ۔ ارکان سندھ اسمبلی کی 126 فیصد اور وزراء ، معاونین خصوصی ، شہروں کی تنخواہ میں 150 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے وزیر اعلیٰ ، اسپیکر سندھ اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ میں 300 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی تنخواہ 35 ہزار روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہائوس کے ہوتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے لیے ہائوس رینٹ کی مد میں ایک لاکھ 40 ہزار روپے دے دیئے گئے ہیں اگر وزیر اعلیٰ ، صوبائی وزیر ، صوبائی مشیر اور رکن سندھ اسمبلی انتقال کر جائیں یا ان کی طبعی یا غیر طبعی موت ہوجائے تو اس صورت میں ان کے ورثاء کو 50 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی ۔
اس طرح اسپیکر کی تنخواہ 80 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار روپے کر دی گئی ہے ۔ ان کو مالی مراعات میں 80 ہزار روپے ہائوس رینٹ اور 40 ہزار روپے یوٹیلٹی الائونس ملیں گے ۔ اسی طرح ڈپٹی اسپیکر کی ماہانہ تنخواہ 70 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار روپے کر دی گئی ہے ان کو ماہانہ ہائوس رینٹ 55 ہزار اور یوٹیلٹی الائونس کی مد میں 30 ہزار روپے ملیں گے ۔ وزراء اور مشیروں کی تنخواہ 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ ان کو ہائوس رینٹ کی مد میں 55 ہزار روپے ، ہائوس مینٹیننس الائونس کی مد میں 50 ہزار روپے اور 500 لیٹر تیل ماہانہ ملے گا اس طرح ارکان سندھ اسمبل کی تنخواہ بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہ 24 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے ارکان سندھ اسمبلی کے ہائوس رینٹ کی مد میں ایک لاکھ روپے ماہانہ لیں گے ۔پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دی گئی ہے ۔ انہیں 45 ہزار روپے ہائوس ہائوس رینٹ ، 30 ہزار روپے ہائوس مینٹیننس الائونس ، 20 ہزار روپے یوٹیلٹی الائونس اور 400 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا ۔
اسی طرح مشیروں کی بھی تنخواہ اور الائونس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ مشیروں کو 45 ہزار روپے ماہانہ الائونس 30 ہزار روپے ہائوس مینٹیننس الائونس اور 20 ہزار روپے یوٹیلٹی الائونس کی مد میں دیئے جائیں گے ۔ اس طرح صوبہ کے خزانہ کو ہر ماہ ڈھائی کروڑ روپے اور سالانہ 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا ۔ لیکن جب سارا دن میڈیا میں خبریں آتی رہیں تو اس وقت تک پی پی پی کی قیادت خاموش رہی لیکن رات کو پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک بیان جاری کیا کہ حکومت سندھ تنخواہوں اور الائونسز میں اضافہ نہ کرے انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو لاہور طلب کرلیا مگر عملی طور پر حکومت سندھ نے اب تک تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے کانوٹیفکیشن واپس نہیں لیاہے ‘صرف عوام کوطفل تسلی دی جارہی ہے ۔ دس سال تک پی پی نے سندھ پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی ہے لیکن ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس کو رول ماڈل بنایا گیا ہو ایک بھی کالج ، یونیورسٹی اور اسکول تعمیر نہیں کیا گیا صرف خزانہ کی لوٹ مار کر کے ریکارڈ توڑے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود پیر 29 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

خوابوں کا مقدمہ وجود پیر 29 جون 2026
خوابوں کا مقدمہ

بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر