وجود

... loading ...

وجود

امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

هفته 21 اکتوبر 2017 امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے۔واشنگٹن میں ‘امریکا بھارت فرینڈشپ کونسل’ سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی نے بھارت کو تجویز دی کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ سیکورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے۔
نئی دہلی میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ امریکا، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر نو کے لیے دی جانے والی امداد کے تناظر میں امریکا کی مدد کر سکتا ہے بلکہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھی امریکا کی مدد کر سکتا ہے۔
نکی ہیلی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنی جانب سے بنیادی کام کر لیے ہیں تاہم ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم پاکستان کوجوابدہ بنائیں جس کے لیے بھارت ہماری مدد کرنے جارہا ہے۔امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے جنوبی ایشیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا اپنے تمام معاشی، سفارتی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لائے گا۔
پاک-امریکا تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی سطح پر شراکت دار ہیں لیکن امریکا، پاکستان میں یہ حکومت یا پھر ایسی کوئی حکومت برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جو امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے نئے نقطہ نظر میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے افہام و تفہیم اور تحمل کی ضرورت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھارتی کردار کو سراہتا ہے جبکہ واشنگٹن کی یہ خواہش ہے کہ بھارت افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنا کردار جاری رکھے۔اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے 2 ارکان (چین اور روس) سیکورٹی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت سیکورٹی کونسل کے ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ ویٹو پاور کا استعمال ہے۔
دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی گزشتہ روز ایک بیان میں یہ واضح کیاتھا کہ امریکا چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے نمٹنے کے لیے بھارت سے تعلقات کو وسعت دے گا،امریکی وزیر خارجہ کا خیال تھا کہ بھارت ‘ اسٹریٹیجک تعلقات’ میں اتحادی ہے اور غیر جمہوری چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کو امریکا کابااعتماد اتحادی قرار دیاتھا ، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہاتھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ پارٹنرشپ جنوبی ایشیا کے طویل مدتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔وائس آف امریکا کے نمائندے کے سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے ساتھ امریکی شراکت داری پر اعتماد ہے اور یہ کہ یہ شراکت داری محض افغانستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے طویل مدتی استحکام سے ہے۔ریکس ٹلرسن نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا پاکستان کے حکومتی معاملات میں استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن مسائل سے پاکستان اندرونی طور پر نمٹ رہا ہے وہ امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مسائل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے لیے ہر سطح پر کام کرے گا چاہے وہ وزارت خارجہ ہو یا وزارت دفاع یا پھر انٹیلی جنس کے معاملات۔ ساتھ ہی ساتھ سیکرٹری ٹلرسن نے پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ان کاکہناتھا کہ پاک امریکا تعلقات کو جنوبی ایشیا میں علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔یاد رہے صدر ٹرمپ نے افغان پالیسی کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر سخت تنقید کی تھی اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو تنبیہ کی تھی۔
واشنگٹن میں تھنک ٹینک سینٹر فارا سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘امریکا چین کے ساتھ بامقصد تعلقات چاہتا ہے لیکن چین کے ان چیلنجز کے سامنے خود کو محدود نہ کرے جہاں وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری میں خلل ڈالتا ہے۔انھوں نے بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ بعض اوقات بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر زیادہ سرگرم کردار ادا کرے۔امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیے ہیں جب وہ آئندہ ہفتے بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں۔ انھوں نے جنوبی بحیرہ چین میں چین کی ‘اشتعال انگیز’ سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین براہ راست ان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے جن کے ساتھ امریکا اور بھارت ساتھ کھڑے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے بھارت سے کہا کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرے، جس میںبھارت اور امریکا کو اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے والے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایک اطلاع یہ بھی کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھارت جانے سے قبل پاکستان کادورہ کریں گے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔اس سے قبل ٹلرسن کے دورہ بھارت کا اعلان سامنے آیا تھا اور یہ بتایاگیاتھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن 24 اکتوبر کو نئی دہلی کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے ملاقاتیں کریں گے لیکن گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ٹلرسن کا دورہ پاکستان بھی طے پاگیا ہے اور وہ بھارت کے دورے سے قبل اسلام آباد جائیں گے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سیکریٹری ٹلرسن کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ٹرمپ حکومت کی خطے سے متعلق نئی پالیسی میں افغان جنگ میں تعاون نہ کرنے پر پاکستان کی امداد میں کٹوتی اور افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے کی تجاویز شامل ہیں جن پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کی ایک کارروائی میں گزشتہ پانچ سال سے افغان طالبان کی قید میں موجود ایک امریکی خاندان کی بازیابی کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بظاہر سرد مہری کی برف پگھلی ہے۔لیکن بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک تھنک ٹینک’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر اس امریکی موقف کو دہرایا کہ پاکستان کو اپنی حدود میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔پاکستان کا موقف رہا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب اس کی حدود میں کسی دہشت گرد گروہ کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں۔اپنے خطاب میں ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں “ڈرامائی اضافے” کی خواہش مند ہے اور واشنگٹن ڈی سی ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے پر نئی دہلی کو اپنا قریبی ساتھی سمجھتا ہے۔جبکہپاکستان کو امریکا کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات اور افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار اور اثر و رسوخ پر نہ صرف یہ کہ تحفظات رہے ہیں بلکہ پاکستان نے برملا اس کااظہار بھی کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے کن خیالات کااظہار کرتے ہیں اور نکی ہیلی کی جانب سے پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے مدد لینے کے حوالے سے جو بیان سامنے آیاہے اس حوالے سے کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔
پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے جہاںتک پاکستان کاتعلق ہے تو اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی بہت واضح رہی ہے اور پاکستان کی امداد بند کرنے اور فوجی امداد روک لینے کے حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ دنوں سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ واضح کرچکے ہیں کہ عسکری اور دیگر ضروریات کے لیے پاکستان کے امریکا پر انحصار کے دن گزر گئے اور پاکستان پر کسی بھی طرح کی پابندی سے پورے خطے کا استحکام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی کوششیں بھی کمزور ہو سکتی ہیں۔’وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اگر اس میں کوئی ایک ذریعے ختم ہو جائے تو لامحالہ دوسرے ذرائع کی طرف بڑھنا پڑتا ہے۔انھوں نے کہاتھا کہ یہ درست ہے کہ پاکستانی افواج امریکی آلات و سامان حرب استعمال کرتی آ رہی ہیںلیکن اب پاک فوج کے لیے چینی اور یورپی ذرائع سے بھی سامان حاصل کیا گیا ہے اور روس سے حاصل کردہ لڑاکا ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات دونوں ملکوں کے علاوہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں اور اگر ان میں خلیج بڑھتی ہے تو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔وائس آف امریکا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ امریکی پالیسی یا سوچ میں تبدیلی اور دباؤ کی وجہ سے پاکستان کی پالیسی کی سمت بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور باہمی تناؤ دونوںکے لیے نقصان دہ ہے۔پاکستان شروع ہی سے یہ کہتا آیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان میں مزید فروغ کا خواہاں ہے۔اب اس بات کاانحصار امریکی انتظامیہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کو کہاں کھڑا کرنے کاخواہاں ہے اورپاکستان نے اب تک امریکا کے لیے جو قربانیاں دی ہیں اور دیتارہاہے پاکستان کو اس کاکیاصلہ دیتاہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر