وجود

... loading ...

وجود

امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

هفته 21 اکتوبر 2017 امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے۔واشنگٹن میں ‘امریکا بھارت فرینڈشپ کونسل’ سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی نے بھارت کو تجویز دی کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ سیکورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے۔
نئی دہلی میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ امریکا، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر نو کے لیے دی جانے والی امداد کے تناظر میں امریکا کی مدد کر سکتا ہے بلکہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھی امریکا کی مدد کر سکتا ہے۔
نکی ہیلی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنی جانب سے بنیادی کام کر لیے ہیں تاہم ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم پاکستان کوجوابدہ بنائیں جس کے لیے بھارت ہماری مدد کرنے جارہا ہے۔امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے جنوبی ایشیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا اپنے تمام معاشی، سفارتی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لائے گا۔
پاک-امریکا تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی سطح پر شراکت دار ہیں لیکن امریکا، پاکستان میں یہ حکومت یا پھر ایسی کوئی حکومت برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جو امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے نئے نقطہ نظر میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے افہام و تفہیم اور تحمل کی ضرورت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھارتی کردار کو سراہتا ہے جبکہ واشنگٹن کی یہ خواہش ہے کہ بھارت افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنا کردار جاری رکھے۔اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے 2 ارکان (چین اور روس) سیکورٹی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت سیکورٹی کونسل کے ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ ویٹو پاور کا استعمال ہے۔
دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی گزشتہ روز ایک بیان میں یہ واضح کیاتھا کہ امریکا چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے نمٹنے کے لیے بھارت سے تعلقات کو وسعت دے گا،امریکی وزیر خارجہ کا خیال تھا کہ بھارت ‘ اسٹریٹیجک تعلقات’ میں اتحادی ہے اور غیر جمہوری چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کو امریکا کابااعتماد اتحادی قرار دیاتھا ، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہاتھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ پارٹنرشپ جنوبی ایشیا کے طویل مدتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔وائس آف امریکا کے نمائندے کے سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے ساتھ امریکی شراکت داری پر اعتماد ہے اور یہ کہ یہ شراکت داری محض افغانستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے طویل مدتی استحکام سے ہے۔ریکس ٹلرسن نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا پاکستان کے حکومتی معاملات میں استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن مسائل سے پاکستان اندرونی طور پر نمٹ رہا ہے وہ امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مسائل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے لیے ہر سطح پر کام کرے گا چاہے وہ وزارت خارجہ ہو یا وزارت دفاع یا پھر انٹیلی جنس کے معاملات۔ ساتھ ہی ساتھ سیکرٹری ٹلرسن نے پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ان کاکہناتھا کہ پاک امریکا تعلقات کو جنوبی ایشیا میں علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔یاد رہے صدر ٹرمپ نے افغان پالیسی کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر سخت تنقید کی تھی اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو تنبیہ کی تھی۔
واشنگٹن میں تھنک ٹینک سینٹر فارا سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘امریکا چین کے ساتھ بامقصد تعلقات چاہتا ہے لیکن چین کے ان چیلنجز کے سامنے خود کو محدود نہ کرے جہاں وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری میں خلل ڈالتا ہے۔انھوں نے بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ بعض اوقات بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر زیادہ سرگرم کردار ادا کرے۔امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیے ہیں جب وہ آئندہ ہفتے بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں۔ انھوں نے جنوبی بحیرہ چین میں چین کی ‘اشتعال انگیز’ سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین براہ راست ان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے جن کے ساتھ امریکا اور بھارت ساتھ کھڑے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے بھارت سے کہا کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرے، جس میںبھارت اور امریکا کو اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے والے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایک اطلاع یہ بھی کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھارت جانے سے قبل پاکستان کادورہ کریں گے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔اس سے قبل ٹلرسن کے دورہ بھارت کا اعلان سامنے آیا تھا اور یہ بتایاگیاتھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن 24 اکتوبر کو نئی دہلی کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے ملاقاتیں کریں گے لیکن گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ٹلرسن کا دورہ پاکستان بھی طے پاگیا ہے اور وہ بھارت کے دورے سے قبل اسلام آباد جائیں گے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سیکریٹری ٹلرسن کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ٹرمپ حکومت کی خطے سے متعلق نئی پالیسی میں افغان جنگ میں تعاون نہ کرنے پر پاکستان کی امداد میں کٹوتی اور افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے کی تجاویز شامل ہیں جن پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کی ایک کارروائی میں گزشتہ پانچ سال سے افغان طالبان کی قید میں موجود ایک امریکی خاندان کی بازیابی کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بظاہر سرد مہری کی برف پگھلی ہے۔لیکن بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک تھنک ٹینک’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر اس امریکی موقف کو دہرایا کہ پاکستان کو اپنی حدود میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔پاکستان کا موقف رہا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب اس کی حدود میں کسی دہشت گرد گروہ کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں۔اپنے خطاب میں ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں “ڈرامائی اضافے” کی خواہش مند ہے اور واشنگٹن ڈی سی ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے پر نئی دہلی کو اپنا قریبی ساتھی سمجھتا ہے۔جبکہپاکستان کو امریکا کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات اور افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار اور اثر و رسوخ پر نہ صرف یہ کہ تحفظات رہے ہیں بلکہ پاکستان نے برملا اس کااظہار بھی کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے کن خیالات کااظہار کرتے ہیں اور نکی ہیلی کی جانب سے پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے مدد لینے کے حوالے سے جو بیان سامنے آیاہے اس حوالے سے کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔
پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے جہاںتک پاکستان کاتعلق ہے تو اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی بہت واضح رہی ہے اور پاکستان کی امداد بند کرنے اور فوجی امداد روک لینے کے حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ دنوں سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ واضح کرچکے ہیں کہ عسکری اور دیگر ضروریات کے لیے پاکستان کے امریکا پر انحصار کے دن گزر گئے اور پاکستان پر کسی بھی طرح کی پابندی سے پورے خطے کا استحکام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی کوششیں بھی کمزور ہو سکتی ہیں۔’وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اگر اس میں کوئی ایک ذریعے ختم ہو جائے تو لامحالہ دوسرے ذرائع کی طرف بڑھنا پڑتا ہے۔انھوں نے کہاتھا کہ یہ درست ہے کہ پاکستانی افواج امریکی آلات و سامان حرب استعمال کرتی آ رہی ہیںلیکن اب پاک فوج کے لیے چینی اور یورپی ذرائع سے بھی سامان حاصل کیا گیا ہے اور روس سے حاصل کردہ لڑاکا ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات دونوں ملکوں کے علاوہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں اور اگر ان میں خلیج بڑھتی ہے تو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔وائس آف امریکا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ امریکی پالیسی یا سوچ میں تبدیلی اور دباؤ کی وجہ سے پاکستان کی پالیسی کی سمت بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور باہمی تناؤ دونوںکے لیے نقصان دہ ہے۔پاکستان شروع ہی سے یہ کہتا آیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان میں مزید فروغ کا خواہاں ہے۔اب اس بات کاانحصار امریکی انتظامیہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کو کہاں کھڑا کرنے کاخواہاں ہے اورپاکستان نے اب تک امریکا کے لیے جو قربانیاں دی ہیں اور دیتارہاہے پاکستان کو اس کاکیاصلہ دیتاہے۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر