وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

هفته 21 اکتوبر 2017 امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت کو استعمال کرے گا

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے بھی مدد لے سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے۔واشنگٹن میں ‘امریکا بھارت فرینڈشپ کونسل’ سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی نے بھارت کو تجویز دی کہ اگر وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ سیکورٹی کونسل کے موجودہ ویٹو ڈھانچے میں دخل اندازی نہ کرے۔
نئی دہلی میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وضاحت کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے بھارت کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ امریکا، افغان جنگ کے جلد خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کی اس طاقت ور ریاست کی جانب مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر نو کے لیے دی جانے والی امداد کے تناظر میں امریکا کی مدد کر سکتا ہے بلکہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھی امریکا کی مدد کر سکتا ہے۔
نکی ہیلی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے اپنی جانب سے بنیادی کام کر لیے ہیں تاہم ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم پاکستان کوجوابدہ بنائیں جس کے لیے بھارت ہماری مدد کرنے جارہا ہے۔امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے واضح کیا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے جنوبی ایشیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا اپنے تمام معاشی، سفارتی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لائے گا۔
پاک-امریکا تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن طویل عرصے سے عالمی سطح پر شراکت دار ہیں لیکن امریکا، پاکستان میں یہ حکومت یا پھر ایسی کوئی حکومت برداشت نہیں کرے گا جو دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جو امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے نئے نقطہ نظر میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے افہام و تفہیم اور تحمل کی ضرورت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھارتی کردار کو سراہتا ہے جبکہ واشنگٹن کی یہ خواہش ہے کہ بھارت افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے اپنا کردار جاری رکھے۔اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے 2 ارکان (چین اور روس) سیکورٹی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت سیکورٹی کونسل کے ڈھانچے کی تبدیلی نہیں بلکہ ویٹو پاور کا استعمال ہے۔
دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی گزشتہ روز ایک بیان میں یہ واضح کیاتھا کہ امریکا چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے نمٹنے کے لیے بھارت سے تعلقات کو وسعت دے گا،امریکی وزیر خارجہ کا خیال تھا کہ بھارت ‘ اسٹریٹیجک تعلقات’ میں اتحادی ہے اور غیر جمہوری چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس نوعیت کے نہیں ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کو امریکا کابااعتماد اتحادی قرار دیاتھا ، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہاتھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ پارٹنرشپ جنوبی ایشیا کے طویل مدتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔وائس آف امریکا کے نمائندے کے سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد کے ساتھ امریکی شراکت داری پر اعتماد ہے اور یہ کہ یہ شراکت داری محض افغانستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے طویل مدتی استحکام سے ہے۔ریکس ٹلرسن نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا پاکستان کے حکومتی معاملات میں استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن مسائل سے پاکستان اندرونی طور پر نمٹ رہا ہے وہ امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مسائل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے لیے ہر سطح پر کام کرے گا چاہے وہ وزارت خارجہ ہو یا وزارت دفاع یا پھر انٹیلی جنس کے معاملات۔ ساتھ ہی ساتھ سیکرٹری ٹلرسن نے پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ان کاکہناتھا کہ پاک امریکا تعلقات کو جنوبی ایشیا میں علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔یاد رہے صدر ٹرمپ نے افغان پالیسی کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر سخت تنقید کی تھی اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو تنبیہ کی تھی۔
واشنگٹن میں تھنک ٹینک سینٹر فارا سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘امریکا چین کے ساتھ بامقصد تعلقات چاہتا ہے لیکن چین کے ان چیلنجز کے سامنے خود کو محدود نہ کرے جہاں وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری میں خلل ڈالتا ہے۔انھوں نے بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ بعض اوقات بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ مستقبل میں وہ عالمی سطح پر زیادہ سرگرم کردار ادا کرے۔امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیے ہیں جب وہ آئندہ ہفتے بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں۔ انھوں نے جنوبی بحیرہ چین میں چین کی ‘اشتعال انگیز’ سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین براہ راست ان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے جن کے ساتھ امریکا اور بھارت ساتھ کھڑے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے بھارت سے کہا کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرے، جس میںبھارت اور امریکا کو اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے والے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایک اطلاع یہ بھی کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھارت جانے سے قبل پاکستان کادورہ کریں گے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔اس سے قبل ٹلرسن کے دورہ بھارت کا اعلان سامنے آیا تھا اور یہ بتایاگیاتھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن 24 اکتوبر کو نئی دہلی کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے ملاقاتیں کریں گے لیکن گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ٹلرسن کا دورہ پاکستان بھی طے پاگیا ہے اور وہ بھارت کے دورے سے قبل اسلام آباد جائیں گے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سیکریٹری ٹلرسن کا خطے کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ٹرمپ حکومت کی خطے سے متعلق نئی پالیسی میں افغان جنگ میں تعاون نہ کرنے پر پاکستان کی امداد میں کٹوتی اور افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے کی تجاویز شامل ہیں جن پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کی ایک کارروائی میں گزشتہ پانچ سال سے افغان طالبان کی قید میں موجود ایک امریکی خاندان کی بازیابی کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بظاہر سرد مہری کی برف پگھلی ہے۔لیکن بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک تھنک ٹینک’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر اس امریکی موقف کو دہرایا کہ پاکستان کو اپنی حدود میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔پاکستان کا موقف رہا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب اس کی حدود میں کسی دہشت گرد گروہ کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں۔اپنے خطاب میں ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں “ڈرامائی اضافے” کی خواہش مند ہے اور واشنگٹن ڈی سی ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے پر نئی دہلی کو اپنا قریبی ساتھی سمجھتا ہے۔جبکہپاکستان کو امریکا کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات اور افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار اور اثر و رسوخ پر نہ صرف یہ کہ تحفظات رہے ہیں بلکہ پاکستان نے برملا اس کااظہار بھی کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے کن خیالات کااظہار کرتے ہیں اور نکی ہیلی کی جانب سے پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے بھارت سے مدد لینے کے حوالے سے جو بیان سامنے آیاہے اس حوالے سے کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔
پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے جہاںتک پاکستان کاتعلق ہے تو اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی بہت واضح رہی ہے اور پاکستان کی امداد بند کرنے اور فوجی امداد روک لینے کے حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ دنوں سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ واضح کرچکے ہیں کہ عسکری اور دیگر ضروریات کے لیے پاکستان کے امریکا پر انحصار کے دن گزر گئے اور پاکستان پر کسی بھی طرح کی پابندی سے پورے خطے کا استحکام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی کوششیں بھی کمزور ہو سکتی ہیں۔’وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اگر اس میں کوئی ایک ذریعے ختم ہو جائے تو لامحالہ دوسرے ذرائع کی طرف بڑھنا پڑتا ہے۔انھوں نے کہاتھا کہ یہ درست ہے کہ پاکستانی افواج امریکی آلات و سامان حرب استعمال کرتی آ رہی ہیںلیکن اب پاک فوج کے لیے چینی اور یورپی ذرائع سے بھی سامان حاصل کیا گیا ہے اور روس سے حاصل کردہ لڑاکا ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات دونوں ملکوں کے علاوہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں اور اگر ان میں خلیج بڑھتی ہے تو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔وائس آف امریکا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ امریکی پالیسی یا سوچ میں تبدیلی اور دباؤ کی وجہ سے پاکستان کی پالیسی کی سمت بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور باہمی تناؤ دونوںکے لیے نقصان دہ ہے۔پاکستان شروع ہی سے یہ کہتا آیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان میں مزید فروغ کا خواہاں ہے۔اب اس بات کاانحصار امریکی انتظامیہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کو کہاں کھڑا کرنے کاخواہاں ہے اورپاکستان نے اب تک امریکا کے لیے جو قربانیاں دی ہیں اور دیتارہاہے پاکستان کو اس کاکیاصلہ دیتاہے۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر