... loading ...
تہمینہ حیات
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی نابینائوں کاعالمی دن منایا گیا ،اس موقع پر پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کااہتمام کیاگیا جس میں ارباب حکومت نے بینائی سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال رکن اور کارآمد شہری بنانے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جبکہ چند ہفتے قبل ہی سرکاری اداروں میں نابینائوں کے کوٹے پر ملازمتوں کامطالبہ کرنے والوں کو پنجاب پولیس نے دھو کر رکھ دیاتھا اور آج تک خادم اعلیٰ نے پنجاب پولیس کی اس بہیمیت پر کسی پولیس اہلکار اور نابینائوں کو کوٹے کے مطابق ملازمتیں فراہم کرنے سے گریز کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا تو کجا اس واقعے کی تفتیش کرانے کااعلان بھی نہیں کیا۔
جہاں تک پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کاتعلق ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد جوش وجذبے کے اعتبار سے کسی بھی ملک کے نابینا افراد سے کم نہیں ہیں ،اور انھوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا ہے، جس کی واضح مثال پاکستان کی نابینائوں کی کرکٹ ٹیم ہے جس نے پوری دنیا میں دھوم مچائی ہے اورپاکستان کے لیے کئی ایوارڈ حاصل کئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری حکومت نے بصارت سے محروم افراد کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے اور ان کومعاشرے کا فعال رکن بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میںبصارت سے محروم افراد کی اکثریت مایوسی کاشکار نظر آتی ہے۔
بصارت سے محرومی دو طرح کی ہوتی ہے ایک پیدائشی اور دوسرے مختلف امراض یا جسم میں کسی مادے کی کمی کے سبب بصارت کمزور ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجانے کی صورت حال شامل ہے ، بصارت سے محرومی صرف پاکستان یا تیسری دنیا کے ممالک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے امیرترین ممالک بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین نہ صرف یہ کہ اس کاکوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں بلکہ بصارت سے محرومی کی شرح پر کنٹرول بھی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بصارت سے محروم افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے اور ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔
لانسٹ گلوبل ہیلتھ میں چھپی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بہتر امداد کے ذریعے دنیا کے لوگوں کے بینائی کے مسائل کا علاج نہ ہو سکا تو 2050 تک دنیا میں اندھے پن کے شکار افراد کی تعداد 30 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب پندرہ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔لمبی عمر بھی نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب ہے۔جنوبی ایشیا اور نیم صحارائی افریقہ میں اندھے پن اور نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہے۔اس تحقیق کے مطابق نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔لیکن چونکہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔دنیا کے 188 ممالک سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق2ارب سے زیادہ آبادی کم سے شدید نوعیت کے امراض چشم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یہ تعداد 2050 تک5 ارب پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
پروفیسر رپرٹ بورنی جن کا تعلق انگلیا رسکن یونیورسٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ تھوڑی سے بھی نظر کی کمزوری کبھی کبھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے جیسے کچھ لوگ اس مسئلے کی وجہ سے ڈرائیونگ نہیں کر پاتے اور اپنی کہیں آنے جانے کی آزادی کھو بیٹھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں تھوڑے انفراسٹرکچر کی مدد سے لوگوں کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔سائٹ سیورز نامی امدادی ادارہ جو دنیا کے 30 ممالک میں کام کرتا ہے کے مطابق آنکھ کے عدسے کے متاثر ہونے یعنی آنکھ میں موتیا آجانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ادارے سے منسلک عمران خان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے دائمی امراض چشم بڑھے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہ غریب ممالک میں بڑھے گا۔ان کے خیال میں ترقی پذیر ممالک میں صحت کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان ممالک میں زیادہ نرسوں اور ڈاکٹرز کی ضرورت ہے جنھیں آنکھوں کی صحت کے طریقہ کار سے متعلق تربیت دی جائے۔جنوبی ایشیا میں ایک کروڑ 17 لاکھ افراد آنکھوں کے مرض کا شکار ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 60 لاکھ 20 ہزار ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی تیس لاکھ 50 ہزار آبادی متاثر ہے۔اسی طرح مغربی یورپ کی کل آبادی کا اعشاریہ پانچ فیصد حصہ متاثر ہے۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کے لیے جہاں کچھ سرکاری ادارے کام کررہے ہیں وہیں نجی سطح پر بھی بعض ادارے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حکومت اور نجی اداروں کے تعاون سے بھی اس حوالے سے کافی کام ہورہاہے جس کامنہ بولتا ثبوت کراچی میں قائدہ اعظم کے مزار کے قریب واقع ایداریو سینٹر اور راولپنڈی کے کلیان داس مندر میں قائم ااسکول اور تربیتی ادارے ہیں ۔اگر آپ راولپنڈی میں کوہاٹی بازار گئے ہیں تو آپ کلیان داس مندر کے قریب سے ضرور گزرے ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اس مندر کے قریب سے گزرتے ہوئے آپ کو یہ گمان بھی نہ گزرا ہو کہ آپ ایک قدیم مندر کے قریب سے گزر رہے ہیں یا جہاں آپ کھڑے ہیں۔ وہاں آپ کے قریب ہی ایک قدیم مندر سر اٹھائے کھڑا ہے ،تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا۔راولپنڈی کے علاقے کوہاٹی بازار میں واقع گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کی عمارت باہر سے بظاہر عام اسکولوں جیسی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جیسے ہی آپ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ایک قدیم مندر کی عمارت جس کے گنبدوں پر وقت نے سیاہی مل دی ہے لیکن دیواروں پر دیوی دیوتاؤں کے نقش و نگار اب بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے یہاں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم دی جا رہی ہے۔اس مندر کی تعمیرکا سنگ بنیاد راولپنڈی ہی کے ایک رہائشی لالہ کلیان داس نے 1850 کی دہائی میں رکھا تھا اور اس کی تعمیر پر 30 برس لگ گئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ مندر کئی برس تک اجاڑ پڑا رہا۔ 1956 میں اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا گیا اور 1958 میں یہاں بیگم فاروقی نامی ایک خاتون نے بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ 1973 میں اسے سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔
گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں۔گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں تاہم وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر صحیح رہنمائی، والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی میسر ہو تو نابینا افراد بھی معاشرے میں عام افراد کی طرح تخلیقی و تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سفید چھڑی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نور حسین اعوان نے بتایا کہ ’عوام میں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ بصارت سے محروم بچے بھی اعلیٰ تعلیم کا حاصل کر سکتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ 20، 22 سال کی عمر کے افراد کے والدین ہمارے پاس آئے ہیں کہ انھیں لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے۔‘نور حسین اعوان بتاتے ہیں کہ انھوں نے بھی ابتدائی تعلیمی دور میں سخت مشکلات کا سامنا کیا لیکن والدین نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول ’اولڈ مین اینڈ دی سی‘ کے اس جملے سے بے حد متاثر ہیں کہ ‘انسان کو تباہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔’ اور ان کے بقول اسی جملے نے انھیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کیا۔وہ بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں وہ اسلام آباد میں بصارت سے محروم بچوں کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم تھے جو انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی تھی تاہم کسی وجہ سے یہ سہولت بند ہو گئی۔ اس وقت وہ تیسری جماعت میں تھے۔ ان کی والدہ انھیں روزانہ تقریباً 20 کلومیٹر کا سفر کر کے اسکول لے کر جاتیں اور چھٹی کے وقت تک اسکول کے دروازے کے باہر بیٹھی ان کا انتظار کرتی رہتی تھیں۔نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ ’میری والدہ نے تقریبا ایک سال ایسا ہی کیا، اگروہ یہ ایک سال تک یہ مشقت نہ کرتیں تو آج میں جس مقام پر ہوں یہاں تک کبھی نہ پہنچ پاتا۔وہ کہتے ہیں کہ نابینا بچوں کو اکثر والدین بوجھ سمجھتے ہیں اور ان میں اس بچوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔اسی اسکول میں زیرتعلیم دسویں جماعت کے ایک طالب شہاب الدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اساتذہ سے بے حد متاثر ہیں اور تعلیم کے بعد تدریس کے شعبے سے منسلک ہونا چاہتے ہیں۔ایک اور طالب علم غلام عباس کا کہنا تھا کہ ‘میری خواہش ہے کہ میں بھی عام بچوں کی طرح کھیلوں کودوں۔ مجھے کرکٹ پسند ہے اور میں کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔
‘ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور معاشرے میں کسی بھی جگہ خود کو ثابت کر سکتے ہیں۔
نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ بصارت سے محروم طالب علموں کے لیے پاکستان میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گریجویشن کے بعد انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن، بزنس ایڈمنسٹریشن یا وکالت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی مشکلات حائل تھیں یہاں تک کہ ایک مقامی یونیورسٹی میں انھیں ایم اے انگریزی کا داخلہ بھی نہ دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان پاس کیا۔وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اگر بصارت سے محروم طالب علم انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟۔نور حسین اعوان کایہ کہنا درست ہے پاکستان میں بصارت سے محروم افراد بھی بھارت اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے بصارت سے محروم افراد کی طرح مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے حکومت کی سرپرستی شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے، جس کااس ملک میں فقدان ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار بصارت سے محرومی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مختلف سیمینارز اور تقریبات میںبصارت سے محروم افراد کو مایوسی کے غار سے نکالنے اور انھیں معاشرے کامفید شہری بنانے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے پر توجہ دیں گے۔
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...
بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...