وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

بدھ 18 اکتوبر 2017 نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

تہمینہ حیات
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی نابینائوں کاعالمی دن منایا گیا ،اس موقع پر پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کااہتمام کیاگیا جس میں ارباب حکومت نے بینائی سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال رکن اور کارآمد شہری بنانے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جبکہ چند ہفتے قبل ہی سرکاری اداروں میں نابینائوں کے کوٹے پر ملازمتوں کامطالبہ کرنے والوں کو پنجاب پولیس نے دھو کر رکھ دیاتھا اور آج تک خادم اعلیٰ نے پنجاب پولیس کی اس بہیمیت پر کسی پولیس اہلکار اور نابینائوں کو کوٹے کے مطابق ملازمتیں فراہم کرنے سے گریز کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا تو کجا اس واقعے کی تفتیش کرانے کااعلان بھی نہیں کیا۔
جہاں تک پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کاتعلق ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد جوش وجذبے کے اعتبار سے کسی بھی ملک کے نابینا افراد سے کم نہیں ہیں ،اور انھوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا ہے، جس کی واضح مثال پاکستان کی نابینائوں کی کرکٹ ٹیم ہے جس نے پوری دنیا میں دھوم مچائی ہے اورپاکستان کے لیے کئی ایوارڈ حاصل کئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری حکومت نے بصارت سے محروم افراد کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے اور ان کومعاشرے کا فعال رکن بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میںبصارت سے محروم افراد کی اکثریت مایوسی کاشکار نظر آتی ہے۔
بصارت سے محرومی دو طرح کی ہوتی ہے ایک پیدائشی اور دوسرے مختلف امراض یا جسم میں کسی مادے کی کمی کے سبب بصارت کمزور ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجانے کی صورت حال شامل ہے ، بصارت سے محرومی صرف پاکستان یا تیسری دنیا کے ممالک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے امیرترین ممالک بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین نہ صرف یہ کہ اس کاکوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں بلکہ بصارت سے محرومی کی شرح پر کنٹرول بھی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بصارت سے محروم افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے اور ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔
لانسٹ گلوبل ہیلتھ میں چھپی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بہتر امداد کے ذریعے دنیا کے لوگوں کے بینائی کے مسائل کا علاج نہ ہو سکا تو 2050 تک دنیا میں اندھے پن کے شکار افراد کی تعداد 30 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب پندرہ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔لمبی عمر بھی نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب ہے۔جنوبی ایشیا اور نیم صحارائی افریقہ میں اندھے پن اور نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہے۔اس تحقیق کے مطابق نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔لیکن چونکہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔دنیا کے 188 ممالک سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق2ارب سے زیادہ آبادی کم سے شدید نوعیت کے امراض چشم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یہ تعداد 2050 تک5 ارب پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
پروفیسر رپرٹ بورنی جن کا تعلق انگلیا رسکن یونیورسٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ تھوڑی سے بھی نظر کی کمزوری کبھی کبھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے جیسے کچھ لوگ اس مسئلے کی وجہ سے ڈرائیونگ نہیں کر پاتے اور اپنی کہیں آنے جانے کی آزادی کھو بیٹھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں تھوڑے انفراسٹرکچر کی مدد سے لوگوں کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔سائٹ سیورز نامی امدادی ادارہ جو دنیا کے 30 ممالک میں کام کرتا ہے کے مطابق آنکھ کے عدسے کے متاثر ہونے یعنی آنکھ میں موتیا آجانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ادارے سے منسلک عمران خان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے دائمی امراض چشم بڑھے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہ غریب ممالک میں بڑھے گا۔ان کے خیال میں ترقی پذیر ممالک میں صحت کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان ممالک میں زیادہ نرسوں اور ڈاکٹرز کی ضرورت ہے جنھیں آنکھوں کی صحت کے طریقہ کار سے متعلق تربیت دی جائے۔جنوبی ایشیا میں ایک کروڑ 17 لاکھ افراد آنکھوں کے مرض کا شکار ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 60 لاکھ 20 ہزار ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی تیس لاکھ 50 ہزار آبادی متاثر ہے۔اسی طرح مغربی یورپ کی کل آبادی کا اعشاریہ پانچ فیصد حصہ متاثر ہے۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کے لیے جہاں کچھ سرکاری ادارے کام کررہے ہیں وہیں نجی سطح پر بھی بعض ادارے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حکومت اور نجی اداروں کے تعاون سے بھی اس حوالے سے کافی کام ہورہاہے جس کامنہ بولتا ثبوت کراچی میں قائدہ اعظم کے مزار کے قریب واقع ایداریو سینٹر اور راولپنڈی کے کلیان داس مندر میں قائم ااسکول اور تربیتی ادارے ہیں ۔اگر آپ راولپنڈی میں کوہاٹی بازار گئے ہیں تو آپ کلیان داس مندر کے قریب سے ضرور گزرے ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اس مندر کے قریب سے گزرتے ہوئے آپ کو یہ گمان بھی نہ گزرا ہو کہ آپ ایک قدیم مندر کے قریب سے گزر رہے ہیں یا جہاں آپ کھڑے ہیں۔ وہاں آپ کے قریب ہی ایک قدیم مندر سر اٹھائے کھڑا ہے ،تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا۔راولپنڈی کے علاقے کوہاٹی بازار میں واقع گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کی عمارت باہر سے بظاہر عام اسکولوں جیسی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جیسے ہی آپ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ایک قدیم مندر کی عمارت جس کے گنبدوں پر وقت نے سیاہی مل دی ہے لیکن دیواروں پر دیوی دیوتاؤں کے نقش و نگار اب بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے یہاں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم دی جا رہی ہے۔اس مندر کی تعمیرکا سنگ بنیاد راولپنڈی ہی کے ایک رہائشی لالہ کلیان داس نے 1850 کی دہائی میں رکھا تھا اور اس کی تعمیر پر 30 برس لگ گئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ مندر کئی برس تک اجاڑ پڑا رہا۔ 1956 میں اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا گیا اور 1958 میں یہاں بیگم فاروقی نامی ایک خاتون نے بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ 1973 میں اسے سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔
گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں۔گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں تاہم وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر صحیح رہنمائی، والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی میسر ہو تو نابینا افراد بھی معاشرے میں عام افراد کی طرح تخلیقی و تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سفید چھڑی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نور حسین اعوان نے بتایا کہ ’عوام میں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ بصارت سے محروم بچے بھی اعلیٰ تعلیم کا حاصل کر سکتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ 20، 22 سال کی عمر کے افراد کے والدین ہمارے پاس آئے ہیں کہ انھیں لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے۔‘نور حسین اعوان بتاتے ہیں کہ انھوں نے بھی ابتدائی تعلیمی دور میں سخت مشکلات کا سامنا کیا لیکن والدین نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول ’اولڈ مین اینڈ دی سی‘ کے اس جملے سے بے حد متاثر ہیں کہ ‘انسان کو تباہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔’ اور ان کے بقول اسی جملے نے انھیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کیا۔وہ بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں وہ اسلام آباد میں بصارت سے محروم بچوں کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم تھے جو انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی تھی تاہم کسی وجہ سے یہ سہولت بند ہو گئی۔ اس وقت وہ تیسری جماعت میں تھے۔ ان کی والدہ انھیں روزانہ تقریباً 20 کلومیٹر کا سفر کر کے اسکول لے کر جاتیں اور چھٹی کے وقت تک اسکول کے دروازے کے باہر بیٹھی ان کا انتظار کرتی رہتی تھیں۔نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ ’میری والدہ نے تقریبا ایک سال ایسا ہی کیا، اگروہ یہ ایک سال تک یہ مشقت نہ کرتیں تو آج میں جس مقام پر ہوں یہاں تک کبھی نہ پہنچ پاتا۔وہ کہتے ہیں کہ نابینا بچوں کو اکثر والدین بوجھ سمجھتے ہیں اور ان میں اس بچوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔اسی اسکول میں زیرتعلیم دسویں جماعت کے ایک طالب شہاب الدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اساتذہ سے بے حد متاثر ہیں اور تعلیم کے بعد تدریس کے شعبے سے منسلک ہونا چاہتے ہیں۔ایک اور طالب علم غلام عباس کا کہنا تھا کہ ‘میری خواہش ہے کہ میں بھی عام بچوں کی طرح کھیلوں کودوں۔ مجھے کرکٹ پسند ہے اور میں کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔
‘ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور معاشرے میں کسی بھی جگہ خود کو ثابت کر سکتے ہیں۔
نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ بصارت سے محروم طالب علموں کے لیے پاکستان میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گریجویشن کے بعد انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن، بزنس ایڈمنسٹریشن یا وکالت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی مشکلات حائل تھیں یہاں تک کہ ایک مقامی یونیورسٹی میں انھیں ایم اے انگریزی کا داخلہ بھی نہ دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان پاس کیا۔وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اگر بصارت سے محروم طالب علم انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟۔نور حسین اعوان کایہ کہنا درست ہے پاکستان میں بصارت سے محروم افراد بھی بھارت اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے بصارت سے محروم افراد کی طرح مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے حکومت کی سرپرستی شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے، جس کااس ملک میں فقدان ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار بصارت سے محرومی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مختلف سیمینارز اور تقریبات میںبصارت سے محروم افراد کو مایوسی کے غار سے نکالنے اور انھیں معاشرے کامفید شہری بنانے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں وجود - جمعرات 13 مئی 2021

پاکستان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہل اسلام آج انتہائی عقیدت سے عید الفطر منارہے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین عبد الخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ یکم شوال کا چاند نظر آگیا ہاور عید الفطر جمعرات کو ہوگی ۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اکیس سال کے بعد ایک ہی روز عید منانے کا موقع آیا ہے جب تمام صوبوں میں ایک ہی روز سب مل کر عید منارہے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر کی رویت کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد ک...

پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 13 مئی 2021

وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا ۔بدھ کو ہونے والے رابطے میں وزیر اعظم نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی بہیمانہ حملے کی مذمت کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیلی حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے انحراف ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خود مختاری سکیورٹی کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا بھی اظ...

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب وجود - جمعرات 13 مئی 2021

فلسطین کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس (آج) پھر طلب کرلیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسرائیل سے فلسطینیوں پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو بیدخل کرکے یہودی آباد کار بسانا چاہتی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل ہم منصب کوٹیلی فون کرکے کشیدگی ختم کرنیکا پیغام دیا ہے ۔عرب لیگ نے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذم...

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق وجود - جمعرات 13 مئی 2021

ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت و بربریت پر گفتگو کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ترک صدررجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا جس میں اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر دونوں رہنماں نے تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماوں نے اسرائیلی جارحیت و بربریت کی مذمت کی اور اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کو مل کر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔رہنماوں نے اس نکتے پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ فلس...

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج جمعرات کو منائی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قطر ، فلسطین ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی عید الفطر جمعرات کو ہو گی ۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی عیدالفطر 13مئی کو منائی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ روز عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ عید الفطر بروز جمعرات منائی جائے گی۔افغانستا ن میں بھی شوال کا چاند نظر آیاجس کے ...

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

بھارت اور بنگادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا جس کے بعدان ممالک میں عیدالفطر 14 مئی بروز جمعہ منائی جائے گی۔بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق بھارت میں عیدالفطرجمعہ 14مئی کو ہوگی۔ بھارت میں شاہی امام مسجد احمد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا ہے لہذا عیدالفطر جمعہ کے دن منائی جائے گی۔قواعد و ضوابط کے مطابق بھارت میں شاہی امام مسجد چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرتے ہیں...

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین وجود - جمعرات 13 مئی 2021

چین نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا پر زور دیا ہے تاکہ عجلت میں ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے امن اور سلامتی عمل متاثر اور اس میں مداخلت ہو۔وزارت خارجہ کی ترجمانHua Chunyingنے بیجنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں وسیع اور تمام فریقوں پر مشتمل سیاسی نظام کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ تمام نسلی گروپ اور دھڑے سیاسی نظام میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں امداد دینے کیلئے تیار ہے ۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ وجود - جمعرات 13 مئی 2021

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نمانئدہ خصوصی ٹور وینیس لینڈ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں لگی آگ کو فوری روکا جائے ، ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہوگی، غزہ میں کشیدگی کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں، اقوام متحدہ صورتحال بہتر کرنے کے لیے تمام فریقین سے رابطے میں ہے ، تشدد کو اب روکا جائے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج...

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا وجود - جمعرات 13 مئی 2021

افغانستان کے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافات میں ایک ضلع پرقبضہ کرلیا۔افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نرکھ ضلع کے پولیس ہیڈ کوارٹر سے پسپائی اختیار کی۔اْدھر طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع نرکھ پر گزشتہ روز قبضہ کیا۔ترجمان کے مطابق طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹراور ایک فوجی بیس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دوسری جانب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پر قبضہ چھڑانے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا ۔

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 12 مئی 2021

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیاہے ۔ٹیلی فونک بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کے لیے مولانا فضل الرحمان عید کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔گفتگو کے دوران حکومت کی جانب سے شہباز...

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر وجود - بدھ 12 مئی 2021

مسلم لیگ (ن )کے رہنما و سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمدزبیر نے کہا کہ سیزفائر یاصلح کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ہمارے تعلقات اچھے ہیں ہم جب مطمئن ہوں گے تواس کاباقاعدہ بتائیں گے بھی۔محمدزبیر نے کہا کہ میری ملاقاتیں ہوتی تھیں توکبھی ڈیل یاکوئی ریلیف نہیں مانگا، کسی کوبھی حب الوطنی کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جذباتی شخص ہیں استعفے دینے پڑے تووہ اسمبلی توڑدیں گے ملک میں انارکی نہیں...

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت وجود - بدھ 12 مئی 2021

پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہاکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر حملے قابل مذمت اقدام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال سے کئی اموات اور افراد زخمی ہوئے ہیں ۔...

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت