وجود

... loading ...

وجود

نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

بدھ 18 اکتوبر 2017 نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

تہمینہ حیات
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی نابینائوں کاعالمی دن منایا گیا ،اس موقع پر پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کااہتمام کیاگیا جس میں ارباب حکومت نے بینائی سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال رکن اور کارآمد شہری بنانے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جبکہ چند ہفتے قبل ہی سرکاری اداروں میں نابینائوں کے کوٹے پر ملازمتوں کامطالبہ کرنے والوں کو پنجاب پولیس نے دھو کر رکھ دیاتھا اور آج تک خادم اعلیٰ نے پنجاب پولیس کی اس بہیمیت پر کسی پولیس اہلکار اور نابینائوں کو کوٹے کے مطابق ملازمتیں فراہم کرنے سے گریز کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا تو کجا اس واقعے کی تفتیش کرانے کااعلان بھی نہیں کیا۔
جہاں تک پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کاتعلق ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد جوش وجذبے کے اعتبار سے کسی بھی ملک کے نابینا افراد سے کم نہیں ہیں ،اور انھوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا ہے، جس کی واضح مثال پاکستان کی نابینائوں کی کرکٹ ٹیم ہے جس نے پوری دنیا میں دھوم مچائی ہے اورپاکستان کے لیے کئی ایوارڈ حاصل کئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری حکومت نے بصارت سے محروم افراد کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے اور ان کومعاشرے کا فعال رکن بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میںبصارت سے محروم افراد کی اکثریت مایوسی کاشکار نظر آتی ہے۔
بصارت سے محرومی دو طرح کی ہوتی ہے ایک پیدائشی اور دوسرے مختلف امراض یا جسم میں کسی مادے کی کمی کے سبب بصارت کمزور ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجانے کی صورت حال شامل ہے ، بصارت سے محرومی صرف پاکستان یا تیسری دنیا کے ممالک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے امیرترین ممالک بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین نہ صرف یہ کہ اس کاکوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں بلکہ بصارت سے محرومی کی شرح پر کنٹرول بھی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بصارت سے محروم افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے اور ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔
لانسٹ گلوبل ہیلتھ میں چھپی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بہتر امداد کے ذریعے دنیا کے لوگوں کے بینائی کے مسائل کا علاج نہ ہو سکا تو 2050 تک دنیا میں اندھے پن کے شکار افراد کی تعداد 30 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب پندرہ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔لمبی عمر بھی نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب ہے۔جنوبی ایشیا اور نیم صحارائی افریقہ میں اندھے پن اور نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہے۔اس تحقیق کے مطابق نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔لیکن چونکہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔دنیا کے 188 ممالک سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق2ارب سے زیادہ آبادی کم سے شدید نوعیت کے امراض چشم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یہ تعداد 2050 تک5 ارب پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
پروفیسر رپرٹ بورنی جن کا تعلق انگلیا رسکن یونیورسٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ تھوڑی سے بھی نظر کی کمزوری کبھی کبھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے جیسے کچھ لوگ اس مسئلے کی وجہ سے ڈرائیونگ نہیں کر پاتے اور اپنی کہیں آنے جانے کی آزادی کھو بیٹھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں تھوڑے انفراسٹرکچر کی مدد سے لوگوں کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔سائٹ سیورز نامی امدادی ادارہ جو دنیا کے 30 ممالک میں کام کرتا ہے کے مطابق آنکھ کے عدسے کے متاثر ہونے یعنی آنکھ میں موتیا آجانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ادارے سے منسلک عمران خان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے دائمی امراض چشم بڑھے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہ غریب ممالک میں بڑھے گا۔ان کے خیال میں ترقی پذیر ممالک میں صحت کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان ممالک میں زیادہ نرسوں اور ڈاکٹرز کی ضرورت ہے جنھیں آنکھوں کی صحت کے طریقہ کار سے متعلق تربیت دی جائے۔جنوبی ایشیا میں ایک کروڑ 17 لاکھ افراد آنکھوں کے مرض کا شکار ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 60 لاکھ 20 ہزار ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی تیس لاکھ 50 ہزار آبادی متاثر ہے۔اسی طرح مغربی یورپ کی کل آبادی کا اعشاریہ پانچ فیصد حصہ متاثر ہے۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کے لیے جہاں کچھ سرکاری ادارے کام کررہے ہیں وہیں نجی سطح پر بھی بعض ادارے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حکومت اور نجی اداروں کے تعاون سے بھی اس حوالے سے کافی کام ہورہاہے جس کامنہ بولتا ثبوت کراچی میں قائدہ اعظم کے مزار کے قریب واقع ایداریو سینٹر اور راولپنڈی کے کلیان داس مندر میں قائم ااسکول اور تربیتی ادارے ہیں ۔اگر آپ راولپنڈی میں کوہاٹی بازار گئے ہیں تو آپ کلیان داس مندر کے قریب سے ضرور گزرے ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اس مندر کے قریب سے گزرتے ہوئے آپ کو یہ گمان بھی نہ گزرا ہو کہ آپ ایک قدیم مندر کے قریب سے گزر رہے ہیں یا جہاں آپ کھڑے ہیں۔ وہاں آپ کے قریب ہی ایک قدیم مندر سر اٹھائے کھڑا ہے ،تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا۔راولپنڈی کے علاقے کوہاٹی بازار میں واقع گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کی عمارت باہر سے بظاہر عام اسکولوں جیسی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جیسے ہی آپ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ایک قدیم مندر کی عمارت جس کے گنبدوں پر وقت نے سیاہی مل دی ہے لیکن دیواروں پر دیوی دیوتاؤں کے نقش و نگار اب بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے یہاں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم دی جا رہی ہے۔اس مندر کی تعمیرکا سنگ بنیاد راولپنڈی ہی کے ایک رہائشی لالہ کلیان داس نے 1850 کی دہائی میں رکھا تھا اور اس کی تعمیر پر 30 برس لگ گئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ مندر کئی برس تک اجاڑ پڑا رہا۔ 1956 میں اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا گیا اور 1958 میں یہاں بیگم فاروقی نامی ایک خاتون نے بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ 1973 میں اسے سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔
گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں۔گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں تاہم وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر صحیح رہنمائی، والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی میسر ہو تو نابینا افراد بھی معاشرے میں عام افراد کی طرح تخلیقی و تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سفید چھڑی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نور حسین اعوان نے بتایا کہ ’عوام میں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ بصارت سے محروم بچے بھی اعلیٰ تعلیم کا حاصل کر سکتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ 20، 22 سال کی عمر کے افراد کے والدین ہمارے پاس آئے ہیں کہ انھیں لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے۔‘نور حسین اعوان بتاتے ہیں کہ انھوں نے بھی ابتدائی تعلیمی دور میں سخت مشکلات کا سامنا کیا لیکن والدین نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول ’اولڈ مین اینڈ دی سی‘ کے اس جملے سے بے حد متاثر ہیں کہ ‘انسان کو تباہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔’ اور ان کے بقول اسی جملے نے انھیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کیا۔وہ بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں وہ اسلام آباد میں بصارت سے محروم بچوں کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم تھے جو انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی تھی تاہم کسی وجہ سے یہ سہولت بند ہو گئی۔ اس وقت وہ تیسری جماعت میں تھے۔ ان کی والدہ انھیں روزانہ تقریباً 20 کلومیٹر کا سفر کر کے اسکول لے کر جاتیں اور چھٹی کے وقت تک اسکول کے دروازے کے باہر بیٹھی ان کا انتظار کرتی رہتی تھیں۔نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ ’میری والدہ نے تقریبا ایک سال ایسا ہی کیا، اگروہ یہ ایک سال تک یہ مشقت نہ کرتیں تو آج میں جس مقام پر ہوں یہاں تک کبھی نہ پہنچ پاتا۔وہ کہتے ہیں کہ نابینا بچوں کو اکثر والدین بوجھ سمجھتے ہیں اور ان میں اس بچوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔اسی اسکول میں زیرتعلیم دسویں جماعت کے ایک طالب شہاب الدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اساتذہ سے بے حد متاثر ہیں اور تعلیم کے بعد تدریس کے شعبے سے منسلک ہونا چاہتے ہیں۔ایک اور طالب علم غلام عباس کا کہنا تھا کہ ‘میری خواہش ہے کہ میں بھی عام بچوں کی طرح کھیلوں کودوں۔ مجھے کرکٹ پسند ہے اور میں کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔
‘ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور معاشرے میں کسی بھی جگہ خود کو ثابت کر سکتے ہیں۔
نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ بصارت سے محروم طالب علموں کے لیے پاکستان میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گریجویشن کے بعد انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن، بزنس ایڈمنسٹریشن یا وکالت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی مشکلات حائل تھیں یہاں تک کہ ایک مقامی یونیورسٹی میں انھیں ایم اے انگریزی کا داخلہ بھی نہ دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان پاس کیا۔وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اگر بصارت سے محروم طالب علم انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟۔نور حسین اعوان کایہ کہنا درست ہے پاکستان میں بصارت سے محروم افراد بھی بھارت اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے بصارت سے محروم افراد کی طرح مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے حکومت کی سرپرستی شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے، جس کااس ملک میں فقدان ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار بصارت سے محرومی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مختلف سیمینارز اور تقریبات میںبصارت سے محروم افراد کو مایوسی کے غار سے نکالنے اور انھیں معاشرے کامفید شہری بنانے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار وجود - پیر 09 مارچ 2026

دفعہ 144کی خلاف ورزی ، کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا،ضلعی انتظامیہ ہم نے ایک ماہ قبل این او سی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، عورت مارچ اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر عورت مارچ کی 11 خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسل...

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق وجود - پیر 09 مارچ 2026

میزائل ملبے تلے دب کر پاکستانی شہریوں کی موت پر دکھ ہوا ،وزیرِ اعظم پاکستان کا سفارتی مشن دبئی حکام سے رابطے میں ہے،ایکس اکاونٹ پر بیان حکومت پاکستان نے حالیہ دنوں میں دبئی میں ہونے والے میزائلوں حملوں میں 2پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ا...

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے وجود - پیر 09 مارچ 2026

رجسٹرڈ 14 لاکھ موٹرسائیکلوں پر 55 روپے کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے، سہیل آفریدی پیٹرول میں اضافہ مسترد ، بی آر ٹی کا کرایہ نہیں بڑھائیں گے؛ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، پیٹرول کی مد م...

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان وجود - اتوار 08 مارچ 2026

امریکی فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے،ایران نے معافی مانگی ہے، مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے وعدہ کیا اب ان پر حملہ نہیں کرے گا ، ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔سوش...

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب وجود - اتوار 08 مارچ 2026

ہمسائیہ ممالک پر ایران کے حملے اپنے دفاع میں تھے اور نشانہ پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈّے اور تنصیبات تھیں،مسعود پزیشکیان کا سرکاری ٹی وی پر خطاب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران ہتھیار نہیں ڈال دیتا اُس وقت تک اس سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جس پر ایرانی ...

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب

مضامین
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

خاموش چیخیں وجود منگل 10 مارچ 2026
خاموش چیخیں

بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر