وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

بدھ 18 اکتوبر 2017 نابینا بچوں کے لیے مندر میں علم کی روشنی

تہمینہ حیات
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی نابینائوں کاعالمی دن منایا گیا ،اس موقع پر پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کااہتمام کیاگیا جس میں ارباب حکومت نے بینائی سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال رکن اور کارآمد شہری بنانے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جبکہ چند ہفتے قبل ہی سرکاری اداروں میں نابینائوں کے کوٹے پر ملازمتوں کامطالبہ کرنے والوں کو پنجاب پولیس نے دھو کر رکھ دیاتھا اور آج تک خادم اعلیٰ نے پنجاب پولیس کی اس بہیمیت پر کسی پولیس اہلکار اور نابینائوں کو کوٹے کے مطابق ملازمتیں فراہم کرنے سے گریز کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا تو کجا اس واقعے کی تفتیش کرانے کااعلان بھی نہیں کیا۔
جہاں تک پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کاتعلق ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد جوش وجذبے کے اعتبار سے کسی بھی ملک کے نابینا افراد سے کم نہیں ہیں ،اور انھوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا ہے، جس کی واضح مثال پاکستان کی نابینائوں کی کرکٹ ٹیم ہے جس نے پوری دنیا میں دھوم مچائی ہے اورپاکستان کے لیے کئی ایوارڈ حاصل کئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری حکومت نے بصارت سے محروم افراد کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے اور ان کومعاشرے کا فعال رکن بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میںبصارت سے محروم افراد کی اکثریت مایوسی کاشکار نظر آتی ہے۔
بصارت سے محرومی دو طرح کی ہوتی ہے ایک پیدائشی اور دوسرے مختلف امراض یا جسم میں کسی مادے کی کمی کے سبب بصارت کمزور ہوتے ہوتے بالکل ختم ہوجانے کی صورت حال شامل ہے ، بصارت سے محرومی صرف پاکستان یا تیسری دنیا کے ممالک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے امیرترین ممالک بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین نہ صرف یہ کہ اس کاکوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں بلکہ بصارت سے محرومی کی شرح پر کنٹرول بھی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بصارت سے محروم افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے اور ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔
لانسٹ گلوبل ہیلتھ میں چھپی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بہتر امداد کے ذریعے دنیا کے لوگوں کے بینائی کے مسائل کا علاج نہ ہو سکا تو 2050 تک دنیا میں اندھے پن کے شکار افراد کی تعداد 30 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب پندرہ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔لمبی عمر بھی نابینا افراد کی تعداد میں اضافے کا ایک سبب ہے۔جنوبی ایشیا اور نیم صحارائی افریقہ میں اندھے پن اور نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہے۔اس تحقیق کے مطابق نظر کی کمزوری کے شکار افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔لیکن چونکہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے ماہرین نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں نابینا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔دنیا کے 188 ممالک سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق2ارب سے زیادہ آبادی کم سے شدید نوعیت کے امراض چشم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔یہ تعداد 2050 تک5 ارب پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
پروفیسر رپرٹ بورنی جن کا تعلق انگلیا رسکن یونیورسٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ تھوڑی سے بھی نظر کی کمزوری کبھی کبھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے جیسے کچھ لوگ اس مسئلے کی وجہ سے ڈرائیونگ نہیں کر پاتے اور اپنی کہیں آنے جانے کی آزادی کھو بیٹھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں تھوڑے انفراسٹرکچر کی مدد سے لوگوں کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔سائٹ سیورز نامی امدادی ادارہ جو دنیا کے 30 ممالک میں کام کرتا ہے کے مطابق آنکھ کے عدسے کے متاثر ہونے یعنی آنکھ میں موتیا آجانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ادارے سے منسلک عمران خان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے دائمی امراض چشم بڑھے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ یہ غریب ممالک میں بڑھے گا۔ان کے خیال میں ترقی پذیر ممالک میں صحت کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان ممالک میں زیادہ نرسوں اور ڈاکٹرز کی ضرورت ہے جنھیں آنکھوں کی صحت کے طریقہ کار سے متعلق تربیت دی جائے۔جنوبی ایشیا میں ایک کروڑ 17 لاکھ افراد آنکھوں کے مرض کا شکار ہیں جبکہ مشرقی ایشیا میں یہ تعداد 60 لاکھ 20 ہزار ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی تیس لاکھ 50 ہزار آبادی متاثر ہے۔اسی طرح مغربی یورپ کی کل آبادی کا اعشاریہ پانچ فیصد حصہ متاثر ہے۔
پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کے لیے جہاں کچھ سرکاری ادارے کام کررہے ہیں وہیں نجی سطح پر بھی بعض ادارے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حکومت اور نجی اداروں کے تعاون سے بھی اس حوالے سے کافی کام ہورہاہے جس کامنہ بولتا ثبوت کراچی میں قائدہ اعظم کے مزار کے قریب واقع ایداریو سینٹر اور راولپنڈی کے کلیان داس مندر میں قائم ااسکول اور تربیتی ادارے ہیں ۔اگر آپ راولپنڈی میں کوہاٹی بازار گئے ہیں تو آپ کلیان داس مندر کے قریب سے ضرور گزرے ہوں گے لیکن عین ممکن ہے کہ اس مندر کے قریب سے گزرتے ہوئے آپ کو یہ گمان بھی نہ گزرا ہو کہ آپ ایک قدیم مندر کے قریب سے گزر رہے ہیں یا جہاں آپ کھڑے ہیں۔ وہاں آپ کے قریب ہی ایک قدیم مندر سر اٹھائے کھڑا ہے ،تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا۔راولپنڈی کے علاقے کوہاٹی بازار میں واقع گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کی عمارت باہر سے بظاہر عام اسکولوں جیسی ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جیسے ہی آپ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ایک قدیم مندر کی عمارت جس کے گنبدوں پر وقت نے سیاہی مل دی ہے لیکن دیواروں پر دیوی دیوتاؤں کے نقش و نگار اب بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔
تقریباً 150 سال قبل تعمیر ہونے والا یہ مندر کسی زمانے میں کلیان داس مندر کہلاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے یہاں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم دی جا رہی ہے۔اس مندر کی تعمیرکا سنگ بنیاد راولپنڈی ہی کے ایک رہائشی لالہ کلیان داس نے 1850 کی دہائی میں رکھا تھا اور اس کی تعمیر پر 30 برس لگ گئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد یہ مندر کئی برس تک اجاڑ پڑا رہا۔ 1956 میں اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا گیا اور 1958 میں یہاں بیگم فاروقی نامی ایک خاتون نے بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ 1973 میں اسے سرکاری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔
گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں۔گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسکول کے پرنسپل نور حسین اعوان خود بھی پیدائشی طور بصارت سے محروم ہیں تاہم وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر صحیح رہنمائی، والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی میسر ہو تو نابینا افراد بھی معاشرے میں عام افراد کی طرح تخلیقی و تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ 15 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سفید چھڑی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نور حسین اعوان نے بتایا کہ ’عوام میں بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ بصارت سے محروم بچے بھی اعلیٰ تعلیم کا حاصل کر سکتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ 20، 22 سال کی عمر کے افراد کے والدین ہمارے پاس آئے ہیں کہ انھیں لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے۔‘نور حسین اعوان بتاتے ہیں کہ انھوں نے بھی ابتدائی تعلیمی دور میں سخت مشکلات کا سامنا کیا لیکن والدین نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول ’اولڈ مین اینڈ دی سی‘ کے اس جملے سے بے حد متاثر ہیں کہ ‘انسان کو تباہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔’ اور ان کے بقول اسی جملے نے انھیں زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کیا۔وہ بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں وہ اسلام آباد میں بصارت سے محروم بچوں کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم تھے جو انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی تھی تاہم کسی وجہ سے یہ سہولت بند ہو گئی۔ اس وقت وہ تیسری جماعت میں تھے۔ ان کی والدہ انھیں روزانہ تقریباً 20 کلومیٹر کا سفر کر کے اسکول لے کر جاتیں اور چھٹی کے وقت تک اسکول کے دروازے کے باہر بیٹھی ان کا انتظار کرتی رہتی تھیں۔نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ ’میری والدہ نے تقریبا ایک سال ایسا ہی کیا، اگروہ یہ ایک سال تک یہ مشقت نہ کرتیں تو آج میں جس مقام پر ہوں یہاں تک کبھی نہ پہنچ پاتا۔وہ کہتے ہیں کہ نابینا بچوں کو اکثر والدین بوجھ سمجھتے ہیں اور ان میں اس بچوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔اسی اسکول میں زیرتعلیم دسویں جماعت کے ایک طالب شہاب الدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اساتذہ سے بے حد متاثر ہیں اور تعلیم کے بعد تدریس کے شعبے سے منسلک ہونا چاہتے ہیں۔ایک اور طالب علم غلام عباس کا کہنا تھا کہ ‘میری خواہش ہے کہ میں بھی عام بچوں کی طرح کھیلوں کودوں۔ مجھے کرکٹ پسند ہے اور میں کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔
‘ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔غلام عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری سوچ وہی ہے جو ایک عام شخص کی ہے، ہم کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور معاشرے میں کسی بھی جگہ خود کو ثابت کر سکتے ہیں۔
نور حسین اعوان کہتے ہیں کہ بصارت سے محروم طالب علموں کے لیے پاکستان میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گریجویشن کے بعد انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن، بزنس ایڈمنسٹریشن یا وکالت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی مشکلات حائل تھیں یہاں تک کہ ایک مقامی یونیورسٹی میں انھیں ایم اے انگریزی کا داخلہ بھی نہ دیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان پاس کیا۔وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اگر بصارت سے محروم طالب علم انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟۔نور حسین اعوان کایہ کہنا درست ہے پاکستان میں بصارت سے محروم افراد بھی بھارت اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے بصارت سے محروم افراد کی طرح مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے حکومت کی سرپرستی شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے، جس کااس ملک میں فقدان ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار بصارت سے محرومی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مختلف سیمینارز اور تقریبات میںبصارت سے محروم افراد کو مایوسی کے غار سے نکالنے اور انھیں معاشرے کامفید شہری بنانے کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان