... loading ...
مسلم لیگ نون کی رہنما اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ نیب ریفرنسز میں احتساب عدالت میں پیش تو ہوگئیں مگر یہ پیشی ہنگامہ خیز رہی۔سابق وزیراعظم نوازشریف 13؍ اکتوبر کی پیشی میں موجود تو نہ تھے مگر اُن کی طرف سے ظافر خان پیش ہوئے۔ یہ امر واضح تھا کہ اس پیشی میں ملزمان پر فردِ جرم عائد ہوتی مگر مسلم لیگ نون کے وکلاء اور کارکنان کی ہنگامہ آرائی سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے مسلم لیگ نون کی حکمت عملی سے بھی تعبیر کیا ہے۔ جو فردِ جرم عائد ہونے اور مقدمے کی روانی کو متاثر رکھ کر دراصل وقت گزارنے کی حکمت عملی کو اپنے لیے درست سمجھتی ہے تاکہ اس عرصے میں وہ سیاسی اور قومی حالات کو اپنے موافق بنا سکیں اور نظام کے اندر موجود مخالف قوتوں کو کسی نہ کسی طرح عاجز کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔مگر اس واقعے نے عملی طور پر احتساب عدالت کی سیکورٹی کے لیے رینجرز کی تعیناتی کو درست ثابت کردیا ہے۔ جسے گزشتہ دنوں مسلم لیگ نون کی حکومت نے متنازع بنانے کی کوشش کی تھی۔کچھ حلقوں کی جانب سے احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کا یہ عمل مسلم لیگ نون کی طرف سے نظام حکومت پر ایک خود کش حملے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں دوسری طرف افواہوں کا زور ہے۔ مختلف حلقوں سے مختلف نوع کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ طاقت ور حلقوں کے مطابق مسلم لیگ نون کی حکومت مکمل طور پر سابق وزیراعظم نوازشریف کی خدمت گار بن کر کام کررہی ہے۔ اور اُسے کاروبارِ ریاست سے کوئی سروکار نہیںرہا۔ اس ضمن میں قومی معیشت کی دگرگوں صورتِ حال کی حساسیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی تناظر میں ایک کوشش خود فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھی ہوئی۔ اُنہوں نے کراچی میں ایک قومی معیشت پر ہونے والے سیمینار میں شرکت کی۔ اُن کے موقف سے اختلاف واتفاق دونوں ہی ہو سکتا ہے مگر مسلم لیگ نون کے اندرونی حلقوں سے یہ خبر مل رہی ہے کہ فوجی سربراہ کی جانب سے یہ کوشش اُن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے پسند نہیں کی گئی۔ اسی تسلسل میں جب فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو میں قومی معیشت پر بات کی گئی تو مسلم لیگ کے عقاب کہلانے والے وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس پر نہ صرف اعلانیہ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ بھی کہہ دیا کہ اُنہیں معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک خطرناک صورت حال کی طرف تیزرفتاری سے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ ہے۔ جو اس کا امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت فوج سے تصادم کی راہ اختیار کرنے سے نہیں ہچکچا رہی۔ فوج سے تصادم کی حکمت عملی کے فائدے اور نقصانات کے جائزے سے قطع نظر یہ ایک یقینی امر ہے کہ اب یہ تصادم ناگزیر ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد اب اتنا وقت گزر چکا ہے کہ مفاہمت کا کوئی بھی امکان باقی ہوتا تو اس کی کوشش ضرور کی جاتی۔
باخبر ذرائع کا اصرار ہے کہ اس حوالے سے کچھ پیغامات بھی ایک دوسروں کورات کی تاریکیوں اور پردے کے پیچھے بھیجے جاتے رہے۔ طاقت ور حلقوں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت اپنے کاربار ریاست کو جاری رکھے اور نوازشریف اور اُن کے خاندان کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دے۔ اس ضمن میں ابتدا میں نوازشریف کے بھائی شہبازشریف کے لیے کچھ گنجائشیں تلا ش بھی کرلی گئی تھیں۔ مگرنونی حلقوں کے مطابق اِسے خاندانی طور پر ناکام بنادیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اب تصادم نوشتہ دیوار ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نون کی پالیسی کے دوواضح رخ بتائے جارہے ہیں ۔ ایک طرف وہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر باقی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے جمہوریت کے نام پر ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے کہ جس میں سب مل جل کر نظام کے نام پر اکٹھے ہوں اور دوسری طرف وہ فوج سے تصادم کو سیاسی طور اس لیے مفید سمجھتے ہیں کہ یہ اس پورے کھیل کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔ چنانچہ باخبر حلقوں کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ نون کے رازونیاز جاری ہیں۔ تو دوسری طرف وزیرداخلہ احسن اقبال اور وزیرخارجہ خواجہ آصف کے ذریعے فوج کی سبکی کاسامان بھی مسلسل کیا جارہا ہے۔
اس پوری فضا میں اسلام آباد کے کچھ باخبر حلقے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اگلے پانچ ہفتے نہایت اہم ہیںجس میں نئے نظام کے بندوبست کی کچھ شکلیں سامنے آسکتی ہیں۔ کیونکہ نظام کو چلانے والے طاقت ور ریاستی حلقے اب یہ یقین کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ نون کی حکومت کو حکومت اور ریاست سے زیادہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے دلچسپی ہے۔ اس ضمن میں ایک باخبر ذریعے کا یہ کہنا ہے کہ اس پوری ڈانواڈول صورتِ حال کا پوری طرح پیپلز پارٹی ادراک کررہی ہے اور وہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ معاملات کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھانا چاہتے ۔ چنانچہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سیاسی بیانات کے اندر فوج کو اپنی طرف سے ایک خاموش مفاہمت کا پیغام دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...