... loading ...
تہمینہ حیات نقوی
سندھ میں یو ںتو تمام ہی سرکاری شعبے ابتری اور افراتفری کا شکار نظر آتے ہیں اور زیادہ تر سرکاری افسران ڈیوٹی پر آنے کے بعد صرف ایسے کام تلاش کرتے نظر آتے ہیں جس سے ان کو کچھ نادیدہ آمدنی ہوسکے لیکن تعلیم کا شعبہ خاص طورپر انتہائی ابتری کا شکار ہے،جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کامعیار گرتا جارہاہے ، اور طویل عرصے سے بورڈ کے امتحانات میں کسی سرکاری اسکول کے طلبہ وطالبات کوئی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت توناگفتہ بہ ہے ہی اور ان محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کیونکہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہنے کی وجہ سے ان اسکولوں کی خستہ حالی اور سہولتوں کے فقدان کے بارے میں حقائق بہت کم سامنے آتے ہیں ، کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی سرکاری اسکولوں کی حالت کو اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا،سندھ کے بڑے شہروں، کراچی ، حیدرآباد ،نوابشاہ، سکھر ، لاڑکانہ اور میر پور خاص میں بھی سرکاری اسکولوں کا یہ عالم ہے کہ بیشتر اسکولوں میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،بیشتر سرکاری اسکولوں میں اساتذہ دوسری ملازمتیں یا کاروبار کرتے ہیں اور حاضری لگانے کے لیے بھی کم ہی اسکول آتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے ان اسکولوں کے سربراہ یعنی ہیڈ ماسٹراور پرنسپل صاحبان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہوتے اس لیے اساتذہ کی ان بے قاعدگیوں پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ان اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے والے بچے اپنی اپنی کلاسوں میں شور مچاتے رہتے ہیں ، اور اگر اساتذہ اسکول آتے بھی ہیں تو عام طورپر ٹیچرز روم میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں اور ہفتہ میں ایک آدھ مرتبہ ہی طلبہ کو اپنا دیدار کراتے ہیں۔
دوسری طر ف بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے بنیادی سہولتوں کا فقدان نظر آتاہے، ایک سروے رپورٹ کے مطابق سندھ کے 95 فیصد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے پینے کا پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے، اور بچوں کو اردگرد کے گھروں سے مانگ کر پیاس بجھانا پڑتی ہے یا پھر پانی کی بوتلیں اور کین بھر کر اسکول لانا پڑتے ہیں۔اسی طرح ان سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے بیت الخلا نام کی کوئی سہولت بھی موجود نہیں ہے،اور یہ ضرورت بھی انھیں اسکولوں کے قریب جھاڑیوں میں جاکر پوری کرنا پڑتی ہے جبکہ طالبات کو اس حوالے سے خاصی پریشانی کاسامنا کرناپڑتاہے۔
کراچی میں پاکستان فشر فوک فورم نامی ایک این جی او کی جانب سے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل کیٹی بندر اور کھارو چھان میںکرائے گئے ایک سروے کے مطابق ان دونوں تحصیلوں میں مجموعی طورپر 3 ہزار 217 اسکول ہیں جن میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار889 بتائی جاتی ہے لیکن ان میں سے 95 فیصد اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور ان میں نہ تو طلبہ کے لیے پانی کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹوائلٹ کاکوئی انتظام ہے۔یہی نہیں بلکہ بیشتر اسکول بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہیں اور ان کی اپنی چاردیواری بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے علاقے کا کچرہ بھی ان اسکولوں کے سامنے جمع ہوتارہتاہے اور آوارہ کتے یہاں بسیراکرتے ہیں جس کی وجہ سے اسکول آنے والی طالبات اور چھوٹے بچوں کو خاص طورپر مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ روزپوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بھی عالمی یوم آب منایاگیا ، اس سال عالمی یوم آب کا موضوع تھا’’ انسان محبت کے بغیر تو زندہ رہ سکتاہے لیکن پانی کے بغیر نہیں‘‘عالمی یوم آب کے موقع پر بہت سی غیر سرکاری تنظیموں نے سرکاری اسکولوں میں بچوں کو صاف پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف اسکولوں میں پروگراموں کا انعقاد کیا ،اس موقع پر جب مختلف تنظیموں کی ٹیمیں مختلف سرکاری اسکولوں میں پہنچیں تو انھیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ بیشتر اسکولوں میں پانی کاکوئی انتظام ہی نہیں تھا ۔اس صورتحال کے سبب طلبہ کو پانی کی اہمیت ، گندے پانی کی نکاسی اور ہاتھ دھونے کی اہمیت سے آگاہ کرنے والی ٹیموں کو اردگرد سے پانی کا انتظام کرکے طلبہ وطالبات کو پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنا پڑا اور انھیں بتانا پڑا کہ ایسے اسکولوں میں جہاں پانی کاسرے سے کوئی انتظام ہی نہیں تعلیم حاصل کرتے ہوئے انھیں پانی کی اہمیت کا اندازہ بخوبی ہوگیا ہوگا اس لیے انھیں چاہئے کہ وہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے پر توجہ دیں۔
اس پروگرام کے دوران کراچی کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری کے ایک دوسری جماعت کے طالب علم نے طلبہ کوپانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے والی پہنچنے والی ٹیم کے ارکان کو بتایا کہ اس کے پاس پانی کی بوتل نہیں ہے اس لیے وہ اسکول سے گھر واپس جاکر ہی پیاس بجھاتاہے۔ایک دوسرے طالب علم نے بتایا کہ اگر اسے بہت زور کی پیاس لگتی ہے تو وہ قریبی مسجد میں جاکر پانی پیتاہے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ واش روم کی ضرورت محسوس ہونے پر وہ قریبی جھاڑیوں میں جاکر فراغت حاصل کرتاہے۔ابراہیم حیدری میں واقع اس سرکاری اسکول میں طلبہ کی تعداد کم وبیش200 ہے لیکن ان سب کاکہناہے کہ انھوں نے آج تک اسکول میں پانی اور واش روم کی کوئی سہولت نہیں دیکھی۔
اسکول کے ایک استاد نے بتایا کہ میں یہاں12سال سے خدمات انجام دے رہاہوں ہرسال ہمیں کہاجاتاہے کہ اب اسکول میں پینے کے پانی اور واش روم کی سہولت فراہم کردی جائے گی لیکن ان 12 برسوں کے دوران اس وعدے کی تکمیل کے لیے ایک قدم بھی اٹھتا نظر نہیںآیا ہے۔
اس حوالے سے ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں کی یہ تصویر سامنے آنے کے بعد اس کاسختی سے نوٹس لیاہے انھوںنے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈاہر کو حکم دیاہے کہ وہ خود سندھ کے ایک ایک ضلع میں جاکر سرکاری اسکولوں کا جائزہ لیں اور پانی اور واش روم کی سہولتوں سے محروم
اسکولوںمیں یہ سہولتیں بہم پہنچانے کی صرف ہدایات نہ دیں بلکہ اپنے سامنے ان اسکولوں میں پانی کی ٹنکیاں اور واش روم تعمیر کرائیں ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کام کو چیلنج سمجھ کر قبول کریں اور 3 ماہ کے اندر تمام اسکولوں میں پانی اور واش روم کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں، وزیر اعلیٰ ہائوس کے ایک ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں میں پانی اور واش روم کی سہولتیں نہ ہونے کی خبروں کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کے افسران سے سوال کیاہے کہ پانی اور واش روم تک کی سہولت نہ ہونے پر طلبہ اور اساتذہ درس وتدریس پر کس طرح توجہ دے سکتے ہیں۔اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعمیر کے وقت ہی ان میں پانی کی فراہمی اور واش روم کی کسی سہولت کاکوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا اور خود سرکاری ریکارڈ کے مطابق کراچی کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری میں 10 اور روہڑی کے علاقے میں4 سرکاری اسکول قائم ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے اربا ب اختیار نے ان میں سے کسی میں بھی پانی اور واش روم کی کسی سہولت کا کبھی کوئی انتظام کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
اب دیکھنا ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم وزیر اعلیٰ سندھ کے احکام کی کس حد تک تکمیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار اس حوالے سے ان کے ساتھ کتنا تعاون کرتے ہیں ،یا یہ معاملہ ایک دفعہ فنڈز کی عدم دستیابی کے عذر کے ساتھ داخل دفتر کردیاجائے گا۔
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...
وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...