وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں 95 فیصدسرکاری اسکول پانی سے بھی محروم

منگل 10 اکتوبر 2017 سندھ میں 95 فیصدسرکاری اسکول پانی سے بھی محروم

تہمینہ حیات نقوی
سندھ میں یو ںتو تمام ہی سرکاری شعبے ابتری اور افراتفری کا شکار نظر آتے ہیں اور زیادہ تر سرکاری افسران ڈیوٹی پر آنے کے بعد صرف ایسے کام تلاش کرتے نظر آتے ہیں جس سے ان کو کچھ نادیدہ آمدنی ہوسکے لیکن تعلیم کا شعبہ خاص طورپر انتہائی ابتری کا شکار ہے،جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کامعیار گرتا جارہاہے ، اور طویل عرصے سے بورڈ کے امتحانات میں کسی سرکاری اسکول کے طلبہ وطالبات کوئی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت توناگفتہ بہ ہے ہی اور ان محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کیونکہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہنے کی وجہ سے ان اسکولوں کی خستہ حالی اور سہولتوں کے فقدان کے بارے میں حقائق بہت کم سامنے آتے ہیں ، کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی سرکاری اسکولوں کی حالت کو اطمینان بخش قرار نہیں دیاجاسکتا،سندھ کے بڑے شہروں، کراچی ، حیدرآباد ،نوابشاہ، سکھر ، لاڑکانہ اور میر پور خاص میں بھی سرکاری اسکولوں کا یہ عالم ہے کہ بیشتر اسکولوں میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،بیشتر سرکاری اسکولوں میں اساتذہ دوسری ملازمتیں یا کاروبار کرتے ہیں اور حاضری لگانے کے لیے بھی کم ہی اسکول آتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے ان اسکولوں کے سربراہ یعنی ہیڈ ماسٹراور پرنسپل صاحبان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہوتے اس لیے اساتذہ کی ان بے قاعدگیوں پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ان اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے والے بچے اپنی اپنی کلاسوں میں شور مچاتے رہتے ہیں ، اور اگر اساتذہ اسکول آتے بھی ہیں تو عام طورپر ٹیچرز روم میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں اور ہفتہ میں ایک آدھ مرتبہ ہی طلبہ کو اپنا دیدار کراتے ہیں۔
دوسری طر ف بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے بنیادی سہولتوں کا فقدان نظر آتاہے، ایک سروے رپورٹ کے مطابق سندھ کے 95 فیصد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے پینے کا پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے، اور بچوں کو اردگرد کے گھروں سے مانگ کر پیاس بجھانا پڑتی ہے یا پھر پانی کی بوتلیں اور کین بھر کر اسکول لانا پڑتے ہیں۔اسی طرح ان سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے لیے بیت الخلا نام کی کوئی سہولت بھی موجود نہیں ہے،اور یہ ضرورت بھی انھیں اسکولوں کے قریب جھاڑیوں میں جاکر پوری کرنا پڑتی ہے جبکہ طالبات کو اس حوالے سے خاصی پریشانی کاسامنا کرناپڑتاہے۔
کراچی میں پاکستان فشر فوک فورم نامی ایک این جی او کی جانب سے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل کیٹی بندر اور کھارو چھان میںکرائے گئے ایک سروے کے مطابق ان دونوں تحصیلوں میں مجموعی طورپر 3 ہزار 217 اسکول ہیں جن میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار889 بتائی جاتی ہے لیکن ان میں سے 95 فیصد اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور ان میں نہ تو طلبہ کے لیے پانی کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی ٹوائلٹ کاکوئی انتظام ہے۔یہی نہیں بلکہ بیشتر اسکول بجلی کی سہولت سے بھی محروم ہیں اور ان کی اپنی چاردیواری بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے علاقے کا کچرہ بھی ان اسکولوں کے سامنے جمع ہوتارہتاہے اور آوارہ کتے یہاں بسیراکرتے ہیں جس کی وجہ سے اسکول آنے والی طالبات اور چھوٹے بچوں کو خاص طورپر مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ روزپوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بھی عالمی یوم آب منایاگیا ، اس سال عالمی یوم آب کا موضوع تھا’’ انسان محبت کے بغیر تو زندہ رہ سکتاہے لیکن پانی کے بغیر نہیں‘‘عالمی یوم آب کے موقع پر بہت سی غیر سرکاری تنظیموں نے سرکاری اسکولوں میں بچوں کو صاف پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف اسکولوں میں پروگراموں کا انعقاد کیا ،اس موقع پر جب مختلف تنظیموں کی ٹیمیں مختلف سرکاری اسکولوں میں پہنچیں تو انھیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ بیشتر اسکولوں میں پانی کاکوئی انتظام ہی نہیں تھا ۔اس صورتحال کے سبب طلبہ کو پانی کی اہمیت ، گندے پانی کی نکاسی اور ہاتھ دھونے کی اہمیت سے آگاہ کرنے والی ٹیموں کو اردگرد سے پانی کا انتظام کرکے طلبہ وطالبات کو پانی کی اہمیت سے آگاہ کرنا پڑا اور انھیں بتانا پڑا کہ ایسے اسکولوں میں جہاں پانی کاسرے سے کوئی انتظام ہی نہیں تعلیم حاصل کرتے ہوئے انھیں پانی کی اہمیت کا اندازہ بخوبی ہوگیا ہوگا اس لیے انھیں چاہئے کہ وہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے پر توجہ دیں۔
اس پروگرام کے دوران کراچی کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری کے ایک دوسری جماعت کے طالب علم نے طلبہ کوپانی کی اہمیت سے آگاہ کرنے والی پہنچنے والی ٹیم کے ارکان کو بتایا کہ اس کے پاس پانی کی بوتل نہیں ہے اس لیے وہ اسکول سے گھر واپس جاکر ہی پیاس بجھاتاہے۔ایک دوسرے طالب علم نے بتایا کہ اگر اسے بہت زور کی پیاس لگتی ہے تو وہ قریبی مسجد میں جاکر پانی پیتاہے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ واش روم کی ضرورت محسوس ہونے پر وہ قریبی جھاڑیوں میں جاکر فراغت حاصل کرتاہے۔ابراہیم حیدری میں واقع اس سرکاری اسکول میں طلبہ کی تعداد کم وبیش200 ہے لیکن ان سب کاکہناہے کہ انھوں نے آج تک اسکول میں پانی اور واش روم کی کوئی سہولت نہیں دیکھی۔
اسکول کے ایک استاد نے بتایا کہ میں یہاں12سال سے خدمات انجام دے رہاہوں ہرسال ہمیں کہاجاتاہے کہ اب اسکول میں پینے کے پانی اور واش روم کی سہولت فراہم کردی جائے گی لیکن ان 12 برسوں کے دوران اس وعدے کی تکمیل کے لیے ایک قدم بھی اٹھتا نظر نہیںآیا ہے۔
اس حوالے سے ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں کی یہ تصویر سامنے آنے کے بعد اس کاسختی سے نوٹس لیاہے انھوںنے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈاہر کو حکم دیاہے کہ وہ خود سندھ کے ایک ایک ضلع میں جاکر سرکاری اسکولوں کا جائزہ لیں اور پانی اور واش روم کی سہولتوں سے محروم
اسکولوںمیں یہ سہولتیں بہم پہنچانے کی صرف ہدایات نہ دیں بلکہ اپنے سامنے ان اسکولوں میں پانی کی ٹنکیاں اور واش روم تعمیر کرائیں ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کام کو چیلنج سمجھ کر قبول کریں اور 3 ماہ کے اندر تمام اسکولوں میں پانی اور واش روم کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں، وزیر اعلیٰ ہائوس کے ایک ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے سرکاری اسکولوں میں پانی اور واش روم کی سہولتیں نہ ہونے کی خبروں کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کے افسران سے سوال کیاہے کہ پانی اور واش روم تک کی سہولت نہ ہونے پر طلبہ اور اساتذہ درس وتدریس پر کس طرح توجہ دے سکتے ہیں۔اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعمیر کے وقت ہی ان میں پانی کی فراہمی اور واش روم کی کسی سہولت کاکوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا اور خود سرکاری ریکارڈ کے مطابق کراچی کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری میں 10 اور روہڑی کے علاقے میں4 سرکاری اسکول قائم ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے اربا ب اختیار نے ان میں سے کسی میں بھی پانی اور واش روم کی کسی سہولت کا کبھی کوئی انتظام کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
اب دیکھنا ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم وزیر اعلیٰ سندھ کے احکام کی کس حد تک تکمیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار اس حوالے سے ان کے ساتھ کتنا تعاون کرتے ہیں ،یا یہ معاملہ ایک دفعہ فنڈز کی عدم دستیابی کے عذر کے ساتھ داخل دفتر کردیاجائے گا۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر