وجود

... loading ...

وجود

ٹیکسوں میں ردوبدل نریندرمودی کے لیے وبال جان چھوٹے تاجروں نے میدان سنبھالنے کاالٹی میٹم دیدیا

منگل 10 اکتوبر 2017 ٹیکسوں میں ردوبدل نریندرمودی کے لیے وبال جان  چھوٹے تاجروں نے میدان سنبھالنے کاالٹی میٹم دیدیا

بھارت میں معاشی وصنعتی ترقی کی رفتار تیز ترکرنے کے لیے وزیر اعظم نریندرا مودی کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں اور معاشی نمو کی سست روی کی وجہ سے ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے بڑھنے کو تیار نظر نہیں معاشی شرح نمو میں ہونے والی اس کمی نے بھارت میں ٹیکس وصولی کی شرح بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیکسوں کے نظام میں ردوبدل کرنے کا اعلان کیاتھاجس کے تحت تمام تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیاد پر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے بجائے ہر ماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی اور خیال کیاجاتاتھا کہ اس ردوبدل کے نتیجے میں بھارت کے ٹیکس وصولی کے ذمے دار ادارے ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ،لیکن بھارت کے لاکھوں چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں نے حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نظام میں کی جانے والی تبدیلی قبول کرنے سے انکار کردیاہے اور اطلاعات کے مطابق پورے بھارت کی چھوٹے تاجروں کی تنظیموں نے حکومت سے ٹیکسوں کے نظام میں یہ ردوبدل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے چھوٹے تاجروں کو حاصل سہولتیں بحال نہ کیں تو ملک بھر کے چھوٹے تاجراور صنعتکار اپنی دکانوں ، دفاتر اور کارخانوں کوتالے لگا کر اپنے ملازمین سمیت سڑکوں پر آجائیں گے اور ملک کی معیشت کا پہیہ جام کردیں گے۔
چھوٹے تاجروں اورصنعت کاروں کے اس الٹی میٹم نے بھارت کے وزیر اعظم کی نیند حرام کردی ہے کیونکہ اس طرح کے احتجاج کے نتیجے انھیں بھارت کوایشیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے کے منصوبے کوناکام بنانے کو کافی ثابت ہوسکتاہے اور بھارت کی سست رفتار سے ترقی کرتی ہوئی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں معاشی ترقی کی شرح میں مزید کمی آسکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے چھوٹے تاجروں کے غصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے معاملات میں سرخ فیتے کی کارفرمائی کو کم کرنے کافیصلہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق چھوٹے اور درمیانہ درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے احتجاج کے الٹی میٹم کے بعد نریندر ا مودی نے یہ تسلیم کیاہے کہ بعض اقتصادی پالیسیوں کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں تاہم اس کے ساتھ ہی انھوںنے معیشت کے حوالے سے اپنے اقدامات کادفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا معاشی ترقی کاپہیہ گھومتا رکھنے کے لئے بعض سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔نریندرا مودی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی تمامتر تدابیر کے باوجود جون کے مہینے میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران معاشی ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں ردوبدل اور ٹیکسوں کے نفاذ اور وصولی کے حوالے سے افسر شاہی کے اختیارات میں بے پناہ اضافے کے بعد بھارت کے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے نریندرا مودی کاخواب پورا نہیں ہوسکتا۔
بھارت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے کے لیے بھارت کی تا ریخ میں پہلی مرتبہ ملک کی29 ریاستوں کو ایک ہی کسٹم یونین میں ضم کرنے یعنی تمام ریاستوںپر بلا لحاظ ایک ہی طرح کے قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیاہے،اس فیصلے پر عملدرآمد کاطریقہ کار طے کرنے کے لیے بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلے جلد ہی بھارت کے گڈز اور سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔
بھارت کے وزیر اعظم چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو اب یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلے کی صدارت ہونے والے اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ی ایس ٹی کے حوالے سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کاطریقہ کار آسان بنانے پر غور کیاجائے گا تاکہ ٹیکس گوشوارے بھروانے کے لیے آنے والے اخراجات کی بچت ہوسکے اورچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر اور صنعت کار بروقت اپنے گوشوارے جمع کراکے مراعات کے حقدار بن سکیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کو قابل ادائیگی ٹیکس آمدنی کی حد میں مناسب اضافہ کرنا چاہئے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے قابل ٹیکس آمدنی کی موجودہ حد اپنی افادیت کھوچکی ہے اور یہ تاجر برادری پر بوجھ ثابت ہورہی ہے جس کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار برادری ٹیکسوں سے بچنے کے لیے دوسرے طریقہ کار تلاش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ حکومت کو قابل ٹیکس آمدنی کی حد میں اضافے کااعلان فوری طورپر کرنا چاہئے تاکہ تاجر اور صنعت کار اطمینان کے ساتھ بروقت ٹیکس گوشوارے جمع کراسکیں۔نریندرا مودی حکومت کے ٹیکس آفس میں ملازم ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کااعتراف کیاکہ ہم جانتے ہیں کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو ٹیکس کے نظام سے دشواریوں کاسامنا ہے ۔
بھارت کے برآمدکنندگا ن کی تنظیم کی فیڈریشن کے سربراہ اجے سہائی کاکہناہے کہ انھیں توقع تھی کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیادپر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی اجازت دے دے گی کیونکہ ہرماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ایک بڑا بوجھ ہے ،ان کاکہناہے کہ اس وقت جبکہ بھارت کے بڑے تاجروں اورصنعت کاروں پر بینکوں کے کبھی وصول نہ ہوسکنے والے قرضوں کابھاری بوجھ جمع ہوچکاہے حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں پر بوجھ لادنے اور کالا دھن بازیاب کرانے کے نام پر ان کی نقد رقم ضبط کئے جانے جیسی کارروائیوں سے کاروباری طبقے کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہاہے بھارت کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی فیڈریشن کے رہنما انیل بھردواج کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے ورکنگ کیپٹل یعنی اخراجات جاریہ کی رقوم ضبط کئے جانے کی وجہ سے ان کارخانوں اورکاروبارکرنے والوں کے ہاتھ بند ھ جاتے ہیں اور ان کاکاروبار جمود کاشکار ہوجاتاہے۔جس کااثر لازمی طورپر ٹیکسوں کی ادائیگیوں اور معاشی شرح نمو پر پڑتاہے۔
عام انتخابات میں نریندرا مودی کی کامیابی کا ایک بڑا سبب گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طورپر ان کی معاشی پالیسیاںتھیں جن کی بنیاد پر ملازمت کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہوئے تھے لیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اقدامات اس کے برعکس ثابت ہورہے ہیں جس کی وجہ سے آنے والے ریاستی انتخابات میں نریندرا مودی کی پارٹی کو سخت مقابلے کاسامنا کرنا پڑے گا اورانتخابات جیتنے کے لیے ایک دفعہ پھر مذہبی جنونیوں کاسہارا لینے پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے پوری دنیا میں بھارت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ نریندر ا مودی کی ان پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست ہوسکتی ہے اور انفرااسٹرکچر پر بھاری اخراجات کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافہ بوجھ پڑسکتاہے اور یہ تمام چیزیں بھارت کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی، بھارت کے ایک رکن اسمبلی نے گزشتہ روز یہ اعتراف کیا کہ بھارت کی ڈانواڈول معیشت کوسہارا دینا بہت مشکل کام ہے کیونکہ ملک کا بینکاری نظام پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری پر جمود طاری ہوچکاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندرا مودی اس مسئلے سے نکلنے اور ملک کے لاکھوںچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کومطمئن کرنے کے لیے کون سا حربہ اختیار کرتے ہیں اور ملک کے بینکار اور افسر شاہی اس کام میں ان کاکس حد تک ساتھ دیتی ہے۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر