وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ٹیکسوں میں ردوبدل نریندرمودی کے لیے وبال جان چھوٹے تاجروں نے میدان سنبھالنے کاالٹی میٹم دیدیا

منگل 10 اکتوبر 2017 ٹیکسوں میں ردوبدل نریندرمودی کے لیے وبال جان  چھوٹے تاجروں نے میدان سنبھالنے کاالٹی میٹم دیدیا

بھارت میں معاشی وصنعتی ترقی کی رفتار تیز ترکرنے کے لیے وزیر اعظم نریندرا مودی کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں اور معاشی نمو کی سست روی کی وجہ سے ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے بڑھنے کو تیار نظر نہیں معاشی شرح نمو میں ہونے والی اس کمی نے بھارت میں ٹیکس وصولی کی شرح بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیکسوں کے نظام میں ردوبدل کرنے کا اعلان کیاتھاجس کے تحت تمام تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیاد پر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے بجائے ہر ماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی اور خیال کیاجاتاتھا کہ اس ردوبدل کے نتیجے میں بھارت کے ٹیکس وصولی کے ذمے دار ادارے ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ،لیکن بھارت کے لاکھوں چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں نے حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نظام میں کی جانے والی تبدیلی قبول کرنے سے انکار کردیاہے اور اطلاعات کے مطابق پورے بھارت کی چھوٹے تاجروں کی تنظیموں نے حکومت سے ٹیکسوں کے نظام میں یہ ردوبدل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے چھوٹے تاجروں کو حاصل سہولتیں بحال نہ کیں تو ملک بھر کے چھوٹے تاجراور صنعتکار اپنی دکانوں ، دفاتر اور کارخانوں کوتالے لگا کر اپنے ملازمین سمیت سڑکوں پر آجائیں گے اور ملک کی معیشت کا پہیہ جام کردیں گے۔
چھوٹے تاجروں اورصنعت کاروں کے اس الٹی میٹم نے بھارت کے وزیر اعظم کی نیند حرام کردی ہے کیونکہ اس طرح کے احتجاج کے نتیجے انھیں بھارت کوایشیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے کے منصوبے کوناکام بنانے کو کافی ثابت ہوسکتاہے اور بھارت کی سست رفتار سے ترقی کرتی ہوئی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں معاشی ترقی کی شرح میں مزید کمی آسکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے چھوٹے تاجروں کے غصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے معاملات میں سرخ فیتے کی کارفرمائی کو کم کرنے کافیصلہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق چھوٹے اور درمیانہ درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے احتجاج کے الٹی میٹم کے بعد نریندر ا مودی نے یہ تسلیم کیاہے کہ بعض اقتصادی پالیسیوں کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں تاہم اس کے ساتھ ہی انھوںنے معیشت کے حوالے سے اپنے اقدامات کادفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا معاشی ترقی کاپہیہ گھومتا رکھنے کے لئے بعض سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔نریندرا مودی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی تمامتر تدابیر کے باوجود جون کے مہینے میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران معاشی ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں ردوبدل اور ٹیکسوں کے نفاذ اور وصولی کے حوالے سے افسر شاہی کے اختیارات میں بے پناہ اضافے کے بعد بھارت کے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے نریندرا مودی کاخواب پورا نہیں ہوسکتا۔
بھارت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے کے لیے بھارت کی تا ریخ میں پہلی مرتبہ ملک کی29 ریاستوں کو ایک ہی کسٹم یونین میں ضم کرنے یعنی تمام ریاستوںپر بلا لحاظ ایک ہی طرح کے قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیاہے،اس فیصلے پر عملدرآمد کاطریقہ کار طے کرنے کے لیے بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلے جلد ہی بھارت کے گڈز اور سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔
بھارت کے وزیر اعظم چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو اب یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلے کی صدارت ہونے والے اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ی ایس ٹی کے حوالے سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کاطریقہ کار آسان بنانے پر غور کیاجائے گا تاکہ ٹیکس گوشوارے بھروانے کے لیے آنے والے اخراجات کی بچت ہوسکے اورچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر اور صنعت کار بروقت اپنے گوشوارے جمع کراکے مراعات کے حقدار بن سکیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کو قابل ادائیگی ٹیکس آمدنی کی حد میں مناسب اضافہ کرنا چاہئے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے قابل ٹیکس آمدنی کی موجودہ حد اپنی افادیت کھوچکی ہے اور یہ تاجر برادری پر بوجھ ثابت ہورہی ہے جس کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار برادری ٹیکسوں سے بچنے کے لیے دوسرے طریقہ کار تلاش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ حکومت کو قابل ٹیکس آمدنی کی حد میں اضافے کااعلان فوری طورپر کرنا چاہئے تاکہ تاجر اور صنعت کار اطمینان کے ساتھ بروقت ٹیکس گوشوارے جمع کراسکیں۔نریندرا مودی حکومت کے ٹیکس آفس میں ملازم ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کااعتراف کیاکہ ہم جانتے ہیں کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو ٹیکس کے نظام سے دشواریوں کاسامنا ہے ۔
بھارت کے برآمدکنندگا ن کی تنظیم کی فیڈریشن کے سربراہ اجے سہائی کاکہناہے کہ انھیں توقع تھی کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیادپر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی اجازت دے دے گی کیونکہ ہرماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ایک بڑا بوجھ ہے ،ان کاکہناہے کہ اس وقت جبکہ بھارت کے بڑے تاجروں اورصنعت کاروں پر بینکوں کے کبھی وصول نہ ہوسکنے والے قرضوں کابھاری بوجھ جمع ہوچکاہے حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں پر بوجھ لادنے اور کالا دھن بازیاب کرانے کے نام پر ان کی نقد رقم ضبط کئے جانے جیسی کارروائیوں سے کاروباری طبقے کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہاہے بھارت کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی فیڈریشن کے رہنما انیل بھردواج کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے ورکنگ کیپٹل یعنی اخراجات جاریہ کی رقوم ضبط کئے جانے کی وجہ سے ان کارخانوں اورکاروبارکرنے والوں کے ہاتھ بند ھ جاتے ہیں اور ان کاکاروبار جمود کاشکار ہوجاتاہے۔جس کااثر لازمی طورپر ٹیکسوں کی ادائیگیوں اور معاشی شرح نمو پر پڑتاہے۔
عام انتخابات میں نریندرا مودی کی کامیابی کا ایک بڑا سبب گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طورپر ان کی معاشی پالیسیاںتھیں جن کی بنیاد پر ملازمت کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہوئے تھے لیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اقدامات اس کے برعکس ثابت ہورہے ہیں جس کی وجہ سے آنے والے ریاستی انتخابات میں نریندرا مودی کی پارٹی کو سخت مقابلے کاسامنا کرنا پڑے گا اورانتخابات جیتنے کے لیے ایک دفعہ پھر مذہبی جنونیوں کاسہارا لینے پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے پوری دنیا میں بھارت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ نریندر ا مودی کی ان پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست ہوسکتی ہے اور انفرااسٹرکچر پر بھاری اخراجات کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافہ بوجھ پڑسکتاہے اور یہ تمام چیزیں بھارت کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی، بھارت کے ایک رکن اسمبلی نے گزشتہ روز یہ اعتراف کیا کہ بھارت کی ڈانواڈول معیشت کوسہارا دینا بہت مشکل کام ہے کیونکہ ملک کا بینکاری نظام پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری پر جمود طاری ہوچکاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندرا مودی اس مسئلے سے نکلنے اور ملک کے لاکھوںچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کومطمئن کرنے کے لیے کون سا حربہ اختیار کرتے ہیں اور ملک کے بینکار اور افسر شاہی اس کام میں ان کاکس حد تک ساتھ دیتی ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان