... loading ...
بھارت میں معاشی وصنعتی ترقی کی رفتار تیز ترکرنے کے لیے وزیر اعظم نریندرا مودی کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں اور معاشی نمو کی سست روی کی وجہ سے ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے بڑھنے کو تیار نظر نہیں معاشی شرح نمو میں ہونے والی اس کمی نے بھارت میں ٹیکس وصولی کی شرح بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ، ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیکسوں کے نظام میں ردوبدل کرنے کا اعلان کیاتھاجس کے تحت تمام تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیاد پر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے بجائے ہر ماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی اور خیال کیاجاتاتھا کہ اس ردوبدل کے نتیجے میں بھارت کے ٹیکس وصولی کے ذمے دار ادارے ٹیکس وصولی کاہدف پورا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ،لیکن بھارت کے لاکھوں چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں نے حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نظام میں کی جانے والی تبدیلی قبول کرنے سے انکار کردیاہے اور اطلاعات کے مطابق پورے بھارت کی چھوٹے تاجروں کی تنظیموں نے حکومت سے ٹیکسوں کے نظام میں یہ ردوبدل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے چھوٹے تاجروں کو حاصل سہولتیں بحال نہ کیں تو ملک بھر کے چھوٹے تاجراور صنعتکار اپنی دکانوں ، دفاتر اور کارخانوں کوتالے لگا کر اپنے ملازمین سمیت سڑکوں پر آجائیں گے اور ملک کی معیشت کا پہیہ جام کردیں گے۔
چھوٹے تاجروں اورصنعت کاروں کے اس الٹی میٹم نے بھارت کے وزیر اعظم کی نیند حرام کردی ہے کیونکہ اس طرح کے احتجاج کے نتیجے انھیں بھارت کوایشیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے کے منصوبے کوناکام بنانے کو کافی ثابت ہوسکتاہے اور بھارت کی سست رفتار سے ترقی کرتی ہوئی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں معاشی ترقی کی شرح میں مزید کمی آسکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے چھوٹے تاجروں کے غصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے معاملات میں سرخ فیتے کی کارفرمائی کو کم کرنے کافیصلہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق چھوٹے اور درمیانہ درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے احتجاج کے الٹی میٹم کے بعد نریندر ا مودی نے یہ تسلیم کیاہے کہ بعض اقتصادی پالیسیوں کے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں تاہم اس کے ساتھ ہی انھوںنے معیشت کے حوالے سے اپنے اقدامات کادفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا معاشی ترقی کاپہیہ گھومتا رکھنے کے لئے بعض سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔نریندرا مودی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی تمامتر تدابیر کے باوجود جون کے مہینے میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران معاشی ترقی کی شرح 5.7 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں ردوبدل اور ٹیکسوں کے نفاذ اور وصولی کے حوالے سے افسر شاہی کے اختیارات میں بے پناہ اضافے کے بعد بھارت کے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے نریندرا مودی کاخواب پورا نہیں ہوسکتا۔
بھارت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نریندرا مودی نے ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے کے لیے بھارت کی تا ریخ میں پہلی مرتبہ ملک کی29 ریاستوں کو ایک ہی کسٹم یونین میں ضم کرنے یعنی تمام ریاستوںپر بلا لحاظ ایک ہی طرح کے قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیاہے،اس فیصلے پر عملدرآمد کاطریقہ کار طے کرنے کے لیے بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلے جلد ہی بھارت کے گڈز اور سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔
بھارت کے وزیر اعظم چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو اب یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلے کی صدارت ہونے والے اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ی ایس ٹی کے حوالے سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کاطریقہ کار آسان بنانے پر غور کیاجائے گا تاکہ ٹیکس گوشوارے بھروانے کے لیے آنے والے اخراجات کی بچت ہوسکے اورچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر اور صنعت کار بروقت اپنے گوشوارے جمع کراکے مراعات کے حقدار بن سکیں۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کا کہناہے کہ حکومت کو قابل ادائیگی ٹیکس آمدنی کی حد میں مناسب اضافہ کرنا چاہئے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے قابل ٹیکس آمدنی کی موجودہ حد اپنی افادیت کھوچکی ہے اور یہ تاجر برادری پر بوجھ ثابت ہورہی ہے جس کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار برادری ٹیکسوں سے بچنے کے لیے دوسرے طریقہ کار تلاش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کاکہناہے کہ حکومت کو قابل ٹیکس آمدنی کی حد میں اضافے کااعلان فوری طورپر کرنا چاہئے تاکہ تاجر اور صنعت کار اطمینان کے ساتھ بروقت ٹیکس گوشوارے جمع کراسکیں۔نریندرا مودی حکومت کے ٹیکس آفس میں ملازم ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کااعتراف کیاکہ ہم جانتے ہیں کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو ٹیکس کے نظام سے دشواریوں کاسامنا ہے ۔
بھارت کے برآمدکنندگا ن کی تنظیم کی فیڈریشن کے سربراہ اجے سہائی کاکہناہے کہ انھیں توقع تھی کہ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کو سہہ ماہی بنیادپر ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی اجازت دے دے گی کیونکہ ہرماہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ایک بڑا بوجھ ہے ،ان کاکہناہے کہ اس وقت جبکہ بھارت کے بڑے تاجروں اورصنعت کاروں پر بینکوں کے کبھی وصول نہ ہوسکنے والے قرضوں کابھاری بوجھ جمع ہوچکاہے حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں پر بوجھ لادنے اور کالا دھن بازیاب کرانے کے نام پر ان کی نقد رقم ضبط کئے جانے جیسی کارروائیوں سے کاروباری طبقے کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہاہے بھارت کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کی فیڈریشن کے رہنما انیل بھردواج کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کے ورکنگ کیپٹل یعنی اخراجات جاریہ کی رقوم ضبط کئے جانے کی وجہ سے ان کارخانوں اورکاروبارکرنے والوں کے ہاتھ بند ھ جاتے ہیں اور ان کاکاروبار جمود کاشکار ہوجاتاہے۔جس کااثر لازمی طورپر ٹیکسوں کی ادائیگیوں اور معاشی شرح نمو پر پڑتاہے۔
عام انتخابات میں نریندرا مودی کی کامیابی کا ایک بڑا سبب گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طورپر ان کی معاشی پالیسیاںتھیں جن کی بنیاد پر ملازمت کے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہوئے تھے لیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے اقدامات اس کے برعکس ثابت ہورہے ہیں جس کی وجہ سے آنے والے ریاستی انتخابات میں نریندرا مودی کی پارٹی کو سخت مقابلے کاسامنا کرنا پڑے گا اورانتخابات جیتنے کے لیے ایک دفعہ پھر مذہبی جنونیوں کاسہارا لینے پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے پوری دنیا میں بھارت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ نریندر ا مودی کی ان پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست ہوسکتی ہے اور انفرااسٹرکچر پر بھاری اخراجات کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافہ بوجھ پڑسکتاہے اور یہ تمام چیزیں بھارت کی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی، بھارت کے ایک رکن اسمبلی نے گزشتہ روز یہ اعتراف کیا کہ بھارت کی ڈانواڈول معیشت کوسہارا دینا بہت مشکل کام ہے کیونکہ ملک کا بینکاری نظام پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری پر جمود طاری ہوچکاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندرا مودی اس مسئلے سے نکلنے اور ملک کے لاکھوںچھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں اور صنعت کاروں کومطمئن کرنے کے لیے کون سا حربہ اختیار کرتے ہیں اور ملک کے بینکار اور افسر شاہی اس کام میں ان کاکس حد تک ساتھ دیتی ہے۔
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...