وجود

... loading ...

وجود

محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں

جمعرات 28 ستمبر 2017 محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک میں کسی بھی طرح ریاست کے اداروں کو مضبوط نہیں کیا گیا، ریاست کمزور اور افراد طاقتور ہوتے گئے جس کے نتیجے میں یہاں عوام محکوم ہوئے اورایک خاص طبقہ مزید طاقت پکڑگیا۔اب صورت حال یہ ہے ملک کے بیس کروڑ عوا م پر چندگنے چنے طاقتورافرادکی حکمرانی ہے۔غریبوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ انہی طاقتورخاندانوں کے افرادبارباراقتدارمیں آتے رہے۔جنھوں نے عوام کومزید غریب کی پستی میں دھکیلنے میں کوئی کثرنہ چھوڑی۔کسی بھی دور حکومت میں عوام کے لیے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا جو ان کی تقدیر بدل دے۔اور ان کوبہترمستقبل کی ضمانت فراہم کرے۔
ملک میں ایک طبقہ امیر سے امیر ہوتا گیا‘ارب پتی سے کھرب پتی بن گیا اور محنت کش طبقہ غربت کی گہرائیوں میںگرتاچلا گیا۔ہردورمیں حکمرانوں نے قرض پرقرض لیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ ہرپاکستانی تقریباایک لاکھ سے زائدکامقروض ہے۔ستم ظریقی یہ کہ ترقیاتی کاموں کے دعویدارحکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کی جانب بھی توجہ دیناضروری نہ سمجھا۔ سرکاری اسپتال اوراسکول برائے نام سرکاری رہ گئے ہیں ۔یہاں کسی نہ کسی طرح لوٹ مار کابازارگرم ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں علاج صحیح ہورہا ہے ‘نہ غریب کے بچے سرکاری اسکولو ں میں بہترتعلیم حاصل کرپارہے ہیں ۔ رہی بات حکمران اورطبقہ امراکی توان کے لیے مشکل کیاہے۔ پیسے کے بل بوتے بیرون واندرون ملک جہاں چاہیں علاج کراسکتے ہیں۔پاکستان میں اگر ان کے علاج کے لیے مہنگے ترین اسپتال اوراعلی قابل ڈاکٹرموجود ہیں ۔توبیرون جانے میں بھی ان کوکوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ رہی ان کے بچوں کی تعلیم کی بات توان کے بچے تورہتے ہی بیرون ملک ہیں اوروہیں تعلیم حاصل کرتے ہیں اورپھرجب وہ پڑھ لکھ جاتے ہیں تویہاں حکمرانی کرنے کے لیے آجاتے ہیں ۔اورسادہ لوح عوام انھیں منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجنے میں ذرابھی تاخیر نہیں کرتے۔
حکمران طبقہ کسی بھی جماعت کا ہو وہ صرف یہاں کے عوام کو غلام سمجھتا ہے ان کو کون سمجھائے کہ آخر یہ عوام بھی تو انسان ہیں مگر ایسا سوال ان سے کون کرے؟ بس یہ ایک کھیل ہے جس کو سمجھنے سے عام آدمی قاصر ہے۔ کراچی کے عوام کو یوں تو ہر طرح سے لوٹا گیا ہے ان سے ہر کسی نے ناانصافی کی ہے کبھی سیاسی میدان میں کبھی مذہبی میدان میں کبھی سماجی میدان میں کبھی ترقی کے میدان میں ان سے ناانصافیاں کی گئیں لیکن ان کے لیے کوئی کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔بھلا حکمراں ان کے لیے کیوں کریں کبھی ایم کیو ایم بندوق کے زور پر انہیں غلام بناتی ہے؟ کبھی پی پی ان کو ترقی کے نام پر دبادیتی ہے۔ کبھی مسلم لیگ (ن) فوجی آپریشن کے نام پر خواب دکھاتی ہے لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو کراچی کے عوام کے لیے حقیقی معنوں میں مسیحا بن آئے اور وہ ان کی ترقی کے لیے کام کرے۔
کراچی میں سب سے بڑی ناانصافی یا بے قاعدگی کوآپریٹو سوسائٹی کے نام پر کی گئی ایک اہم تحقیقاتی ادارے نے 400 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی جو دل دہلادینے والی تھی کہ جس جگہ پی ای سی ایچ ایس ہے وہاں ایک گروپ نے اقبال سوسائٹی کے نام پر فرضی سوسائٹی بنائی اور 400 سے زائد پلاٹ بھی فروخت کردیئے نہ زمین تھی اور نہ پلاٹ مگر پیسے لے لیے گئے اور لوگ لٹتے رہے۔ عقل کے اندھے عوام پیسے دیتے چلے گئے پرکسی نے زمین دیکھنے کی زحمت کہ نہ پلاٹ دیکھے۔ جب فراڈکھل کرسامنے آیاتوسرپکڑکربیٹھ گئے ۔ ان متاثرین کے سینکڑوں کیس عدالتوں میں چلائے گئے۔لیکن کسی بھی جانب سے اس پربات کی گئی نہ کہیں سے کوئی آوازاٹھی۔ نہ ہی کوئی ان کی دادرسی کے لیے آیا۔
کسی بھی کوآپریٹو سوسائٹی کے حوالے سے تحقیقات کی جائے توعقدہ کھلتا ہے کہ اس کا ایک پلاٹ چار پانچ افراد کے نام الاٹ ہے جب ایسی صورتحال ہوگی تو پھر وہی اس پلاٹ کا قبضہ لے سکے گا جس کے پاس طاقت ہوگی۔تب وہ ڈنڈے اور پیسے کے زور پر اس پلاٹ پرقبضہ کرکے بیٹھ جائے گا اور جو شریف ہوگا وہ بیچارا اپنے پیسے ڈوبنے پر صبر کرکے بیٹھنے کے سواکرہی کیا سکتاہے ۔حال ہی میں محکمہ اینٹی کرپشن خواب خرگوش سے بیدار ہوئی ہے اور 59 کوآپریٹو سوسائٹیوں سے ان کا ریکارڈ طلب کیا ہے اس سے ان غریبوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے جو اپنے کروڑوں اربوں روپے لٹواکر خاموشی سے گھر بیٹھ گئے ہیں۔ 59 کوآپریٹو سوسائٹیوں میں سے 39 کوآپریٹو سوسائٹیوں کا تو پورا ریکارڈ بھی نہیں ہے اور وہ بیچارے جنہوں نے الاٹمنٹ کرائی ہے وہ دھکے کھارہے ہیں اب ان کا کوئی ولی وارث نہیں ہے اب اگر محکمہ اینٹی کرپشن نے حقیقی معنوں میں تحقیقات کی تو کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلے گا اگر محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی رشوت لی اور حسب سابق تحقیقات میں ڈنڈی ماری تو غربت لوگوں کی یہ آخری امید بھی ٹوٹ جائے گی کیونکہ اب ان کا کوئی سہارا نہیں ہے وہ دن رات اﷲ سے ہی فریاد کررہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر