وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

جمعرات 05 اکتوبر 2017 کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی، ایف آئی اے، سی آئی اے، رینجرز اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کراچی کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے پاک کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور القاعدہ کے دہشت گرد اب بھی بڑی تعداد میں کراچی میں موجود ہیں، القاعدہ کے دہشت گردوں کی کراچی میں موجودگی کااندازہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق تواتر سے شائع ہونے والی خبروں سے لگایاجاسکتا ہے۔
ایک خیال کے مطابق القاعدہ نے 9/11 کے بعد ہی کراچی میں اپنے پیر جمانا شروع کردئے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس شہر میں اپنی کمین گاہوں کو محفوظ اور مستحکم بنایا ہے اورروپوشی کے جدید طریقوں پر عمل شروع کردیاہے جس کی وجہ سے شہر میں موجود اینٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کاپتہ چلانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کا صفایا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کراچی میںالقاعدہ کے دہشت گردوں کی مسلسل موجودگی کاانکشاف امریکہ کی فوجی اکیڈمی کے ادارے سی ٹی سی سینٹی نل کی جانب سے شائع کی گئی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیاہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مختلف ذرائع سے القاعدہ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر 12ستمبر 2001 سے 31 مئی2017 کے دوران کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف مجموعی طورپر 102 کارروائیاں کی گئیں۔جس کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ رکھنے والے کم وبیش 300 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیاگیا۔اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے طورپر حاصل کردہ اطلاعات پر بھی القاعدہ دہشت گردوں کے خلاف ہر سال کم وبیش 5 بڑی کارروائیاں کیں،القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوںکایہ سلسلہ گزشتہ کم وبیش15 سال سے جاری ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2013 سے2016 کے دوران القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف تواتر کے ساتھ اور پہلے سے زیادہ آپریشن اور کارروائیاں کی گئیں۔ان آپریشنز اور کارروائیوں کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں القاعدہ کے دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔رپورٹ میںکہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کاصفایا کرنے کے لیے آپریشن میں تیزی ستمبر 2014 میں ملنے والی اطلاعات کے بعد لائی گئی جن میں بتایاگیاتھا کہ القاعدہ کے دہشت گرد کراچی کے مختلف علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کررہے ہیں اور اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح 2015 سے2016 کے دوران تین گنا زیادہ کارروائیاں اورآپریشنز کیے گئے اورپہلے کے مقابلے میں6 گنا زیادہ افراد کو القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیاگیا۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ٹھکانے قائم کئے جانے کے بعد سے 2016 کے آخر تک دہشت گردوں کوگرفتار کرنے کے لیے24 کارروائیاں کی گئیںجس کے نتیجے میں کم وبیش88 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے گئے القاعدہ دہشت گردوں کی تفصیلات کاذکر کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سب سے زیادہ دہشت گرد کراچی شرقی کے ضلع ملیر سے گرفتار کئے گئے،رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ضلع ملیر میں 10 واقعات میں پورے شہر سے گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کی 26.7 فیصد تعداد ضلع ملیر سے گرفتار کی گئی۔اس حوالے سے کرچی ضلع وسطی میں مجموعی طورپر9 کارروائیاں کی گئیں اور اس ضلع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے 12.7 فیصد کے مساوی تھی۔ضلع جنوبی میں 6 واقعات میں گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 8.5 فیصد کے مساوی تھی۔اسی طرح کورنگی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ایسی 4-4 کارروائیاں کی گئیں اور مجموعی طورپر 5.6 فیصد دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔
رپورٹ میں28 ستمبر کو ملیر میں ہونے والے پولیس مقابلے کابھی ذکر کیاگیاہے اور بتایاگیاہے کہ پولیس نے اس مقابلے میں 5 دہشت گردوں کوہلاک کرنے کادعویٰ کیاہے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پولیس کے دعوے کے مطابق ہلاک کئے گئے دہشت گردایک ریموٹ کنٹرول گاڑی کے ذریعے محرم الحرام کے موقع پر برآمد ہونے والے جلوس میں دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔سپر ہائی وے پر ہونے والے اس مقابلے میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے حوالے سے ملیر پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کا تعلق القاعدہ کی عالمی تنظیم سے تھا۔
کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط کے مطابق ضلع شرقی میں گلشن اقبال اور اس کے گرد ونواح کے علاقے سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط 11.5 فی صد رہی، اس رپورٹ میں درج اعدادوشمار سے ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اس دوران کنٹونمنٹ کے زیر انتظام کراچی کے جن علاقوںمیں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں ان میں سے 4 کنٹونمنٹ علاقوں میں 3 کاتعلق ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں سے تھا۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی جانب سے کراچی میں اپنے قدم جمانے اور اس شہر میں قدم جمانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر پورے ملک کا اقتصادی اور کاروباری مرکز ہے یہ شہر رقبے اور وسعت کے اعتبار سے بہت بڑا ہے ،اوراس شہر میں مختلف النوع نسل کی آبادی موجود ہے اس لیے اس شہر میں دہشت گردوں کومقامی آبادی میں گھل مل جانے اور آزادانہ نقل وحمل میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور ان کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا۔جبکہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نئے لوگوں کی نشاندہی آسانی سے ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے، رپورٹ کے مطابق یہی وہ بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیموں کی توجہ اس شہر کی جانب مبذول ہوتی ہے اور وہ اس شہر کو اپنا مرکز بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے فوجی ادارے کی جانب سے مرتب کردہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس شہر میں موجود
دہشت گردوں کاپتہ چلانے اور ان کاصفایا کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں ، اوران کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں دہشت گردوں کاخاتمہ کرنے میں کس حد تک مدد مل سکتی ہے۔تاہم اس ضمن میں ایک بات اٹل ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں جرائم پیشہ عناصر کامکمل صفایا کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں اور شہر کے مستقل باشندوں کے درمیان عدم اعتماد کے موجودہ ماحول کو ختم کرکے ان کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بناناہوگا ،جب تک پولیس ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقامی آبادی کا بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوگا محض کرایہ داری کے قوانین میں تبدیلی اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کواپنی کمین گاہیں قائم کرنے سے روکنا اور ان کامکمل صفایا کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اس حقیقت پر غور کریں گے اور عوام کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کوعوام دوست رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے پر توجہ مرکوز کریں گے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان