وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

جمعرات 05 اکتوبر 2017 کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی، ایف آئی اے، سی آئی اے، رینجرز اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کراچی کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے پاک کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور القاعدہ کے دہشت گرد اب بھی بڑی تعداد میں کراچی میں موجود ہیں، القاعدہ کے دہشت گردوں کی کراچی میں موجودگی کااندازہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق تواتر سے شائع ہونے والی خبروں سے لگایاجاسکتا ہے۔
ایک خیال کے مطابق القاعدہ نے 9/11 کے بعد ہی کراچی میں اپنے پیر جمانا شروع کردئے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس شہر میں اپنی کمین گاہوں کو محفوظ اور مستحکم بنایا ہے اورروپوشی کے جدید طریقوں پر عمل شروع کردیاہے جس کی وجہ سے شہر میں موجود اینٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کاپتہ چلانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کا صفایا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کراچی میںالقاعدہ کے دہشت گردوں کی مسلسل موجودگی کاانکشاف امریکہ کی فوجی اکیڈمی کے ادارے سی ٹی سی سینٹی نل کی جانب سے شائع کی گئی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیاہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مختلف ذرائع سے القاعدہ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر 12ستمبر 2001 سے 31 مئی2017 کے دوران کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف مجموعی طورپر 102 کارروائیاں کی گئیں۔جس کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ رکھنے والے کم وبیش 300 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیاگیا۔اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے طورپر حاصل کردہ اطلاعات پر بھی القاعدہ دہشت گردوں کے خلاف ہر سال کم وبیش 5 بڑی کارروائیاں کیں،القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوںکایہ سلسلہ گزشتہ کم وبیش15 سال سے جاری ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2013 سے2016 کے دوران القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف تواتر کے ساتھ اور پہلے سے زیادہ آپریشن اور کارروائیاں کی گئیں۔ان آپریشنز اور کارروائیوں کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں القاعدہ کے دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔رپورٹ میںکہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کاصفایا کرنے کے لیے آپریشن میں تیزی ستمبر 2014 میں ملنے والی اطلاعات کے بعد لائی گئی جن میں بتایاگیاتھا کہ القاعدہ کے دہشت گرد کراچی کے مختلف علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کررہے ہیں اور اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح 2015 سے2016 کے دوران تین گنا زیادہ کارروائیاں اورآپریشنز کیے گئے اورپہلے کے مقابلے میں6 گنا زیادہ افراد کو القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیاگیا۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ٹھکانے قائم کئے جانے کے بعد سے 2016 کے آخر تک دہشت گردوں کوگرفتار کرنے کے لیے24 کارروائیاں کی گئیںجس کے نتیجے میں کم وبیش88 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے گئے القاعدہ دہشت گردوں کی تفصیلات کاذکر کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سب سے زیادہ دہشت گرد کراچی شرقی کے ضلع ملیر سے گرفتار کئے گئے،رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ضلع ملیر میں 10 واقعات میں پورے شہر سے گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کی 26.7 فیصد تعداد ضلع ملیر سے گرفتار کی گئی۔اس حوالے سے کرچی ضلع وسطی میں مجموعی طورپر9 کارروائیاں کی گئیں اور اس ضلع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے 12.7 فیصد کے مساوی تھی۔ضلع جنوبی میں 6 واقعات میں گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 8.5 فیصد کے مساوی تھی۔اسی طرح کورنگی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ایسی 4-4 کارروائیاں کی گئیں اور مجموعی طورپر 5.6 فیصد دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔
رپورٹ میں28 ستمبر کو ملیر میں ہونے والے پولیس مقابلے کابھی ذکر کیاگیاہے اور بتایاگیاہے کہ پولیس نے اس مقابلے میں 5 دہشت گردوں کوہلاک کرنے کادعویٰ کیاہے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پولیس کے دعوے کے مطابق ہلاک کئے گئے دہشت گردایک ریموٹ کنٹرول گاڑی کے ذریعے محرم الحرام کے موقع پر برآمد ہونے والے جلوس میں دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔سپر ہائی وے پر ہونے والے اس مقابلے میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے حوالے سے ملیر پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کا تعلق القاعدہ کی عالمی تنظیم سے تھا۔
کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط کے مطابق ضلع شرقی میں گلشن اقبال اور اس کے گرد ونواح کے علاقے سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط 11.5 فی صد رہی، اس رپورٹ میں درج اعدادوشمار سے ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اس دوران کنٹونمنٹ کے زیر انتظام کراچی کے جن علاقوںمیں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں ان میں سے 4 کنٹونمنٹ علاقوں میں 3 کاتعلق ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں سے تھا۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی جانب سے کراچی میں اپنے قدم جمانے اور اس شہر میں قدم جمانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر پورے ملک کا اقتصادی اور کاروباری مرکز ہے یہ شہر رقبے اور وسعت کے اعتبار سے بہت بڑا ہے ،اوراس شہر میں مختلف النوع نسل کی آبادی موجود ہے اس لیے اس شہر میں دہشت گردوں کومقامی آبادی میں گھل مل جانے اور آزادانہ نقل وحمل میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور ان کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا۔جبکہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نئے لوگوں کی نشاندہی آسانی سے ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے، رپورٹ کے مطابق یہی وہ بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیموں کی توجہ اس شہر کی جانب مبذول ہوتی ہے اور وہ اس شہر کو اپنا مرکز بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے فوجی ادارے کی جانب سے مرتب کردہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس شہر میں موجود
دہشت گردوں کاپتہ چلانے اور ان کاصفایا کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں ، اوران کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں دہشت گردوں کاخاتمہ کرنے میں کس حد تک مدد مل سکتی ہے۔تاہم اس ضمن میں ایک بات اٹل ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں جرائم پیشہ عناصر کامکمل صفایا کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں اور شہر کے مستقل باشندوں کے درمیان عدم اعتماد کے موجودہ ماحول کو ختم کرکے ان کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بناناہوگا ،جب تک پولیس ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقامی آبادی کا بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوگا محض کرایہ داری کے قوانین میں تبدیلی اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کواپنی کمین گاہیں قائم کرنے سے روکنا اور ان کامکمل صفایا کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اس حقیقت پر غور کریں گے اور عوام کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کوعوام دوست رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے پر توجہ مرکوز کریں گے۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا وجود - اتوار 13 اکتوبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کردوں کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پرپانی پھیر دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے موجودہ آرمی چیف نے کثیر سالہ منصوبہ تیارکیا تھا جس کی نگرانی آرمی چیف اویو کوحاوی خود کررہے تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کرد آبادی کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیل کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے لیے امریکی صدر کا ترکوں کی حمایت ترک کرنا حیران کن ہے ۔ اسرا...

ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

سوڈان میں جسٹس نعمات عبداللہ محمد خیر کو چیف جسٹس اور تاج السر علی الحبر کو ملک کا اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے ۔نعمات خیر سوڈان کی نئی تاریخ میں چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔عمر البشیر کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کو سپورٹ کرنے والی خواتین میں جسٹس نعمات بھی شریک تھیں۔وہ رواں سال اپریل میں خرطوم میں سوڈانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے منعقد ہونے والے دھرنے میں نظر آئی تھیں۔نعمات خیر 1957 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے خرطوم میں قاہرہ یونیورسٹی کے کیمپس سے قانون...

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے ۔بین الاقوامی کنسلٹنگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق چین 2014 سے 2018 کے درمیان 72.2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ بر اعظم افریقہ کے لئے سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کرنے والا ملک ہے ۔چین کے بعد فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک کے لئے 34.1ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس دوسرے ، 30.8 ارب ڈالر کے ساتھ امریکہ تیسرے اور 25.2 ارب ڈالر کے ساتھ متحدہ عرب امارات چوتھے نمبر پر ہے ۔...

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت میںدُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیا پردیش کی حکومت نے شادی کیلئے یہ اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے لیے درخواست صرف اسی صورت دی جاسکتی ہے جب دُلہن یہ ثابت کردے کہ اس کے ہونے والے شوہر کے گھر میں باتھ روم بھی موجود ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیاکہ سرکاری افسران ہر جگہ باتھ روم چیک نہیں کرسکتے لہٰذا وہ دُلہا سے باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی لینے کی شرط صرف دیہاتی علاقوں میں ہ...

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹی وی چینل پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات بالکل غلط ہیں کہ امریکا نے ترکی کو اس آپریشن کی اجازت دی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ترکی کو کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔اگر امریکا نے ترکی کو اجازت نہیں دی تو شام سے فوج کیوں نکالی، اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے شام سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کے حفاظتی خدشات...

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت بھر سے طلبا اور اساتذہ نے کشمیریوں پر تشدد کے خلاف مودی سرکار کو خط لکھ دیا۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد لاک ڈاؤن کو تقریباً دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور مظلوم کشمیریوں کا مسلسل دو ماہ سے دنیا سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے تاہم مودی سرکار ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اب تو غیر انسانی کرفیو کے خلاف بھارت سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔بھارت کی مختلف ریاستوں اور ٹیکنالوجی تعلیمی اداروں سے وابستہ تقریباً 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی ...

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

ترکی کی جانب سے شام کے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد چین نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کردیا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بدھ کو بمباری کا اعلان کیا تھا۔کارروائی کے اعلان کے بعد امریکا نے ترکی اور شام کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جس امریکی سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کو واپس بلانے سے داعش کے دہشت...

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو کے جنوبی علاقے کے میئر جارج لوئسکو وعدوں کے مطابق کام نہ کرنے پر شہریوں نے دفتر سے زبردستی باہر نکالا اور گاڑی میں باندھ کر شہر میں گھمایا۔ جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے ۔ پولیس نے واقعہ میں ملوث 11افراد کو گرفتارکرلیا ۔میئر جارج لوئس کو بظاہر کوئی زخم نہیں آئے تاہم انہیں بری طرح گھسیٹا گیا۔میکسیکو کے شہریوں کی جانب سے میئر پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو انتخابی مہم کے دو...

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

اسرائیلی وزارت خارجہ نے وزیر خارجہ یسرایل کاٹز کے ایما پر''مقبوضہ بیت المقدس''میں ترک حکومت کی سرگرمیوں اور ترکی کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ترکی کی سماجی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے القدس میں ترک حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی کسی بھی قسم کی سرگرمی پرپابندی لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا ...

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ

اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ، سیکریٹری جنرل یو این وجود - بدھ 09 اکتوبر 2019

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔ نیویارک سے جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی ادارے کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔اس ماہ عملے کو تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ہے ، اخراجات کی مد میں اس ماہ 23 کروڑ ڈالرز کا خسارہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ 19 رکن ممالک نے وعدے کے مطابق اخراجات چلانے کیلئے صرف دو ارب ڈالرز دیئے ۔ 64ممالک نے اپنے حصے کی ادائیگی نہیں کی ہے ،ادارہ ہر ماہ خسارے میں چل رہا ہے ،خسارے کے باعث یو این عملے کے ...

اقوام متحدہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ، سیکریٹری جنرل یو این

احتجاج کرنیوالوں کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے ، مصری وزیر اعظم وجود - بدھ 09 اکتوبر 2019

مصر کے وزیر اعظم مصطفی مدبولی نے صدر عبدالفتاح السیسی کے خلاف ریلیاں نکالنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ حکومت احتجاج کی آڑ میں کسی کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان مظاہروں کی مذمت کی اور انہیں ملک کے اندر بے چینی پھیلانے کی بے رحمانہ کوشش قرار دیا ۔اپنے پہلے سرکاری ردعمل میں وزیر اعظم مصطفی مدبولی نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011 کے انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام افراتفری کے منظر کو ایک بار...

احتجاج کرنیوالوں کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے ، مصری وزیر اعظم

قاز قستان میں5.5 شدت زلزلے کے جھٹکے وجود - بدھ 09 اکتوبر 2019

قاز قستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجکر 49 منٹ پر آیا۔زلزلہ کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ بیان کے مطابق زلزلہ کا مرکز ضلع قیزن سے 140 کلومیٹر (87 میل) دور جنوب مشرق میں زیرزمین 10کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔زلزلہ سے کسی جانی یا مالی کے نقصان کی فی الحال کوئی رپورٹ نہیں ۔

قاز قستان میں5.5 شدت زلزلے کے جھٹکے

مضامین
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

سفارت کاری کا ورلڈکپ۔۔۔!َََ
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
سفارت کاری کا ورلڈکپ۔۔۔!َََ <br> (راؤ محمد شاہد اقبال)

پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 25 ستمبر 2019
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے<br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار