وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

جمعرات 05 اکتوبر 2017 کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بدستور قائم ہیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی، ایف آئی اے، سی آئی اے، رینجرز اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کراچی کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے پاک کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور القاعدہ کے دہشت گرد اب بھی بڑی تعداد میں کراچی میں موجود ہیں، القاعدہ کے دہشت گردوں کی کراچی میں موجودگی کااندازہ ان کے کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق تواتر سے شائع ہونے والی خبروں سے لگایاجاسکتا ہے۔
ایک خیال کے مطابق القاعدہ نے 9/11 کے بعد ہی کراچی میں اپنے پیر جمانا شروع کردئے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس شہر میں اپنی کمین گاہوں کو محفوظ اور مستحکم بنایا ہے اورروپوشی کے جدید طریقوں پر عمل شروع کردیاہے جس کی وجہ سے شہر میں موجود اینٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کاپتہ چلانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کا صفایا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ کراچی میںالقاعدہ کے دہشت گردوں کی مسلسل موجودگی کاانکشاف امریکہ کی فوجی اکیڈمی کے ادارے سی ٹی سی سینٹی نل کی جانب سے شائع کی گئی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیاہے،رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مختلف ذرائع سے القاعدہ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر 12ستمبر 2001 سے 31 مئی2017 کے دوران کراچی میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف مجموعی طورپر 102 کارروائیاں کی گئیں۔جس کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ رکھنے والے کم وبیش 300 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیاگیا۔اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے طورپر حاصل کردہ اطلاعات پر بھی القاعدہ دہشت گردوں کے خلاف ہر سال کم وبیش 5 بڑی کارروائیاں کیں،القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوںکایہ سلسلہ گزشتہ کم وبیش15 سال سے جاری ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2013 سے2016 کے دوران القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف تواتر کے ساتھ اور پہلے سے زیادہ آپریشن اور کارروائیاں کی گئیں۔ان آپریشنز اور کارروائیوں کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں القاعدہ کے دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔رپورٹ میںکہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کاصفایا کرنے کے لیے آپریشن میں تیزی ستمبر 2014 میں ملنے والی اطلاعات کے بعد لائی گئی جن میں بتایاگیاتھا کہ القاعدہ کے دہشت گرد کراچی کے مختلف علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کررہے ہیں اور اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح 2015 سے2016 کے دوران تین گنا زیادہ کارروائیاں اورآپریشنز کیے گئے اورپہلے کے مقابلے میں6 گنا زیادہ افراد کو القاعدہ سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیاگیا۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ٹھکانے قائم کئے جانے کے بعد سے 2016 کے آخر تک دہشت گردوں کوگرفتار کرنے کے لیے24 کارروائیاں کی گئیںجس کے نتیجے میں کم وبیش88 مشتبہ دہشت گردوں کوگرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے گئے القاعدہ دہشت گردوں کی تفصیلات کاذکر کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سب سے زیادہ دہشت گرد کراچی شرقی کے ضلع ملیر سے گرفتار کئے گئے،رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ضلع ملیر میں 10 واقعات میں پورے شہر سے گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کی 26.7 فیصد تعداد ضلع ملیر سے گرفتار کی گئی۔اس حوالے سے کرچی ضلع وسطی میں مجموعی طورپر9 کارروائیاں کی گئیں اور اس ضلع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے 12.7 فیصد کے مساوی تھی۔ضلع جنوبی میں 6 واقعات میں گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 8.5 فیصد کے مساوی تھی۔اسی طرح کورنگی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ایسی 4-4 کارروائیاں کی گئیں اور مجموعی طورپر 5.6 فیصد دہشت گرد گرفتار کئے گئے۔
رپورٹ میں28 ستمبر کو ملیر میں ہونے والے پولیس مقابلے کابھی ذکر کیاگیاہے اور بتایاگیاہے کہ پولیس نے اس مقابلے میں 5 دہشت گردوں کوہلاک کرنے کادعویٰ کیاہے ،رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پولیس کے دعوے کے مطابق ہلاک کئے گئے دہشت گردایک ریموٹ کنٹرول گاڑی کے ذریعے محرم الحرام کے موقع پر برآمد ہونے والے جلوس میں دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔سپر ہائی وے پر ہونے والے اس مقابلے میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے حوالے سے ملیر پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کا تعلق القاعدہ کی عالمی تنظیم سے تھا۔
کراچی کے مختلف اضلاع سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط کے مطابق ضلع شرقی میں گلشن اقبال اور اس کے گرد ونواح کے علاقے سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کی اوسط 11.5 فی صد رہی، اس رپورٹ میں درج اعدادوشمار سے ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اس دوران کنٹونمنٹ کے زیر انتظام کراچی کے جن علاقوںمیں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں ان میں سے 4 کنٹونمنٹ علاقوں میں 3 کاتعلق ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں سے تھا۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی جانب سے کراچی میں اپنے قدم جمانے اور اس شہر میں قدم جمانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر پورے ملک کا اقتصادی اور کاروباری مرکز ہے یہ شہر رقبے اور وسعت کے اعتبار سے بہت بڑا ہے ،اوراس شہر میں مختلف النوع نسل کی آبادی موجود ہے اس لیے اس شہر میں دہشت گردوں کومقامی آبادی میں گھل مل جانے اور آزادانہ نقل وحمل میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور ان کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا۔جبکہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں نئے لوگوں کی نشاندہی آسانی سے ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انھیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاہے، رپورٹ کے مطابق یہی وہ بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیموں کی توجہ اس شہر کی جانب مبذول ہوتی ہے اور وہ اس شہر کو اپنا مرکز بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے فوجی ادارے کی جانب سے مرتب کردہ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس شہر میں موجود
دہشت گردوں کاپتہ چلانے اور ان کاصفایا کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں ، اوران کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں دہشت گردوں کاخاتمہ کرنے میں کس حد تک مدد مل سکتی ہے۔تاہم اس ضمن میں ایک بات اٹل ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں جرائم پیشہ عناصر کامکمل صفایا کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں اور شہر کے مستقل باشندوں کے درمیان عدم اعتماد کے موجودہ ماحول کو ختم کرکے ان کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بناناہوگا ،جب تک پولیس ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقامی آبادی کا بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوگا محض کرایہ داری کے قوانین میں تبدیلی اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کواپنی کمین گاہیں قائم کرنے سے روکنا اور ان کامکمل صفایا کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اس حقیقت پر غور کریں گے اور عوام کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کوعوام دوست رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے پر توجہ مرکوز کریں گے۔


متعلقہ خبریں


مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

مضامین
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

موضوع کی تلاش وجود منگل 17 فروری 2026
موضوع کی تلاش

جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر