وجود

... loading ...

وجود

پاکستان عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید324 ملین ڈالر کاقرض حاصل کرنے میں کامیاب

جمعرات 05 اکتوبر 2017 پاکستان عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید324 ملین ڈالر کاقرض حاصل کرنے میں کامیاب

پاکستان عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مجموعی طورپر مزید 324 ملین ڈالر یعنی 32کروڑ40 لاکھ ڈالر کاقرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیاہے ، اطلاعات کے مطابق دونوں نے اصولی طور پر قرض کی منظوری دیدی ہے۔قرض کی شرائط کے مطابق یہ رقم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ قبائلی عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور پنجاب کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو نئے قرض فراہم کرنے پر آمادگی سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ابھی عالمی مالیاتی اداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں لیاہے اور امریکی حکام نے عالمی بینک کے حکا م کو پاکستان کے لیے امداد روکنے کاکوئی اشارہ نہیں دیاہے اور یہ کہ دونوں عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دینے پر آمادہ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے لیے نئے قرضوں کی فراہمی کے لیے واشنگٹن اور منیلا میں قائم ان دونوں بینکوں کے ہیڈ کوارٹرز میں گزشتہ دو دن سے اجلاس جاری تھے اور ان اجلاسوں کے دوران نئے قرض کے لیے پاکستان کی درخواست کی مختلف پہلوئوں سے جانچ پڑتال کے بعد قرض کی منظوری دینے کافیصلہ کیاگیا۔اس طرح امریکہ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد ان دونوں بینکوں کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضوں کاپہلا واقعہ ہے۔تاہم یہ دونوں قرضے پاکستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دئے گئے ہیں ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ بینک پاکستان کو بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے بھی پہلے کی طرح قرض فراہم کرتے ہیں یانہیں؟۔
عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو بجٹ خسارے پر کنٹرول کے لیے کسی قسم کے قرض کی منظوری اسی وقت دیں گے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف اس بات کا سرٹیفکٹ جاری کرے گا کہ پاکستان کی معیشت کی صورت حال اچھی ہے اور پاکستان قرض کی رقم اور اس پر واجب الادا سود کی رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔جبکہ آئی ایم ایف اس طرح کاسرٹیفکٹ یا خط امریکی حکومت کی منظوری کے بعد ہی جاری کرے گا۔
عالمی بینک کے ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے اپنے بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے 114 ملین ڈالر یعنی 11 کروڑ40 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری اس شرط پر دی ہے کہ یہ رقم قبائلی علاقے کے ان لوگوں کی بحالی اور مدد کے لیے استعمال کی جائے گی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جنھیں گھر وں سے بے گھر ہونا پڑا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے دوران جن کی املاک تباہ وبرباد ہوگئی ہیں۔عالمی بینک کی شرائط کے مطابق پاکستان کے لیے منظور کی جانے والی قرض کی یہ رقم بچوں کے علاج معالجے کی صورت حال کو بہتر بنانے،وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ہنگامی صورت حال میں فوری مدد کانظام موثر بنانے اورلوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے انتظامات اور شہری نظام کو بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے منظور کئے جانے والے200 ملین ڈالر یعنی20 کروڑ ڈالر قرض کی رقم پنجاب کے دو شہروں ساہیوال اور سیالکوٹ میں شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر خرچ کی جاسکے گی۔پروگرام کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرض سے شروع کئے جانے والے پروگراموں سے ان دوشہروں کے کم وبیش 1.4 ملین یعنی14 لاکھ افراد کوبنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوسکے گی اور شہری سہولتوں کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنایاجاسکے گا۔
پاکستان میںعالمی بینک کے دفتر سے جاری ہونے والے خط کے مطابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی عوام کوسہولتوں کی فراہمی کے لیے عالمی بینک کی جانب سے دیاجانے والا یہ نیا قرض عالمی بینک کی جانب سے2015 میں دئے گئے 75 ملین ڈالر یعنی ساڑھے 7کروڑ ڈالر کے علاوہ ہے۔عالمی بینک نے2015 میں بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے دوران وفاق کے زیر انتظام علاقے، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی،کرم اور خیبر کے علاقوں کے عارضی طورپر بے گھر ہوجانے والے لوگوں کی بحالی کے لیے ہی قرض فراہم کیاتھا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ کے اجلاس میں پنجاب کے شہریوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی کے لیے قرض کی درخواست کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ حکومت کی جانب سے لاہور اور ملتان کے بعض علاقوں میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کے برعکس نصف سے زیادہ پنجاب کے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور انھیںسرکاری نلکوں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کاکوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔پنجاب کے بیشتر شہروں میں ٹرانسپورٹ کاکوئی نظام موجود نہیں ہے، سڑکوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے کسی باقاعدہ نظام کافقدان ہے، اس طرح پنجاب کے نصف سے زیادہ شہروں اور خود لاہور جیسے شہر کے بڑے علاقے میں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔اس طرح توقع کی جاتی ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے جانب سے جاری کئے جانے والے اس نئے قرض کی رقم اگر ایمانداری کے ساتھ منصفانہ طریقے سے خرچ کی گئی تو پنجاب کے وسیع علاقے کے لاکھوں شہریوں کوبنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔منصوبے کے مطابق اس رقم سے ساہیوال اورسیالکوٹ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے مختلف علاقوں میں بورنگ کرائی جائے گی اور ٹیوب ویلز لگائے جائیں گے اس کے علاوہ اس رقم سے ان دونوں شہروں میں کم وبیش20 واٹر پمپنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے 350 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائنیں نصب کی جائیں گی۔اس طرح ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان دونوں شہروں کے لاکھوں شہری پانی کی سہولت سے فیضیاب ہوسکیں گے اور انھیں آلودہ پانی کے استعمال سے چھٹکارا مل سکے گا۔ تاہم یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب ان منصوبوں پر پروگرام کے مطابق ایمانداری کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے اور دیگر منصوبوں کی طرح غیرملکی مالیاتی ادارے سے کڑی شرائط پر حاصل کردہ یہ رقم بھی حکمرانوں اور ان کے چہیتوں کے بینک اکائونٹس میں منتقل نہ ہوجائے۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر