وجود

... loading ...

وجود

اسحاق ڈار نے پاکستان کو قرضوں جال میں جکڑدیا‘سودقوم اداکرتی رہے گی

بدھ 27 ستمبر 2017 اسحاق ڈار نے پاکستان کو قرضوں جال میں جکڑدیا‘سودقوم اداکرتی رہے گی

وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر نیب کی جانب سے قائم کردہ مقدمات اور نیب عدالت کی جانب سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جانے کے بعد بظاہر یہی نظر آتاہے کہ اپنے سمدھی نواز شریف کی طرح انھیں بھی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔صورت خواہ کچھ بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ اسحاق ڈار نے اپنے سوا چار سالہ دور میں اس ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے اس طرح دبادیاہے کہ پوری قوم کو برسہابرس تک بھاری رقم سود کے طورپر ادا کرنا پڑے گی اور جو رقم اس ملک کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونی چاہئے تھی وہ سود کی ادائیگی پر ضائع ہوتی رہے گی۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں لیے گئے قرضوں کاجائزہ لیاجائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وزیر خزانہ نے محض پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو خوبصورت کرکے پیش کرتے رہنے کے لیے قرض پر قرض حاصل کیا صورت حال کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ اسحاق ڈار نے صرف رواں سال کے دوران مختلف مالیاتی اداروں سے 2.5 ٹریلین روپے یعنی ڈھائی کھر ب روپے کے قرض حاصل کئے جس کے نتیجے میں رواں سال جون تک پاکستان پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 25.1 ٹریلین یعنی 25 کھرب 10 ارب روپے تک پہنچ گیا، قرضوں کے بوجھ میں اس اضافے کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں اور اس پر سود اور سروسز چارجز وغیرہ کی ادائیگی کابوجھ بھی بڑھتاچلاگیا اور اب ملک کو برسہابرس تک سود اور سروسز چارجز کی مد میں اپنی مجموعی قومی آمدنی کاایک بڑا حصہ ان مالیاتی اداروں کو ادا کرنے پر مجبور رہنا پڑے گا۔اگرچہ اب بھی حکومتی حلقے اس سنگین صورت حال کے باوجود اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار کی کارکردگی خراب نہیں تھی لیکن اعدادوشمار ان دعووں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔
اسحاق ڈار کی غلط منصوبہ بندی کاسب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ ان کے دور میں پاکستان پر غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال کے اختتام تک اس کی مالیت 83 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔جس کے نتیجے میں اب ملک کو ہرسال ان قرضوں پر سود اور سروسنگ کی مد میں کم وبیش 8.2 بلین ڈالر یعنی کم وبیش8 ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑیں اور اس ادائیگی کا سلسلہ قرضوں کی مکمل ادائیگی تک جاری رہے گا،جس کی وجہ سے اس بات کے خطرات اپنی جگہ موجودہیں کہ ملک کو کسی بھی مرحلے پر اس رقم کی ادائیگی کے لیے مزید قرض حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتاہے جس سے قرضوں کی مالیت میں مزید اضافہ ہونا ناگزیر ہے۔اس صورت حال سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اب پاکستان پر موجود قرضوں اور سود اور سروسنگ چارجز کی ادائیگی کے لیے ملک کو ہرسال اپنی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 78.7 فیصد حصہ عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کرنا پڑے گا ، جس کے بعد ملک کے بعد اپنی دفاعی ضروریات اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا بمشکل 21 فیصد حصہ بچے گا ۔ یہ صورت حال پاکستان جیسے کم وسیلہ اور مسائل میں گھرے ہوئے ملک کے لیے کسی طرح بھی مناسب محفوظ قرار نہیں دی جاسکتی۔اس صورت حال کے پیش نظر اب یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان پرقرضوں کا بوجھ خطرناک حد سے بھی تجاوز کرچکاہے۔اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ اسحاق ڈار نے پوری قوم کو قرضوں کے ایسے جال میں جکڑ دیاہے جس سے باہر نکلنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن نظر آرہاہے۔
یہ درست ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ ہواہے اور شرح نمو سنگل سے ڈبل ڈجٹ میں آگئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پر واجبات کی شرح ملک کی اقتصادی شرح نمو سے کہیں زیادہ یعنی11 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اورماہر معاشیات اسد عمرنے گزشتہ روز اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ صورت حال خراب نہیں جیسا کہ ہم سوچ رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صورت حال خراب کی حد پار کرکے بدترین کی حد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرض کے اس بوجھ کے علاوہ حکومت پر اندرونی قرضوں کابوجھ بھی 21.4 ٹریلین یعنی 21 کھرب 40 ارب روپے سے تجاوز کرچکاہے ،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت پر اندرونی قرضوں کی مجموعی مالیت میں 1.732 ٹریلین یعنی ایک کھرب 73 ارب20 کروڑ روپے کااضافہ ہوا۔قرضوں کے اس بوجھ کو چھپانے کے لیے وفاقی وزارت خزانہ نے گزشتہ سال دومرتبہ اندرونی قرضوں کی تعریف تبدیل کی ،وزار ت خزانہ کے دعوے کے مطابق ملک پر اندرونی قرضوں کابوجھ 19.64 ٹریلین یعنی 19 کھرب64 ارب روپے ہے لیکن حزب اختلاف کی پارٹیاں حکومت کے پیش کردہ ان اعدادوشمار کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے پیش کردہ ان اعدادوشمار کو چیلنج کرنے کافیصلہ کیاہے۔ملک پر واجب الادا قرضوں کی مالیت کی شرح ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے
67.2 فیصد کے مساوی ہے۔قرضوں کی یہ شرح ملکی قرضوں کے لیے خود پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ سطح سے کہیں زیادہ اور پارلیمنٹ کے وضح کردہ اصولوں اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان پر واجب الادا قرضوں کے حوالے سے ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھاہواہے اور اگر مارکیٹ کے دبائو کی وجہ سے کسی بھی وقت پاکستان کو اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی کرنے پر مجبور ہونا پڑا تو پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی مالیت میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا ،جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان زیادہ دنوں تک اپنی کرنسی کی قیمت مصنوعی طورپر اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا ۔کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کاتجارتی خسارہ بڑھتاچلاجائے گا اور پاکستان کو اس خسارے کاتوازن برقرار رکھنے کے لیے مزید قرض لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔اس صورت حال یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ نااہل قرار دئے گئے وزیر اعظم نواز شریف کے سمدھی اس قوم کابال بال قرض میں جکڑچکے ہیں جس کی وجہ سے قوم طویل عرصے تک قرضوں پر سود ادا کرتے رہنے اور اس طرح پیداہونے والی مہنگائی پر ان کوکوسنے دیتی رہے گی۔

 


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل وجود - جمعه 09 جنوری 2026

قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف وجود - جمعه 09 جنوری 2026

بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 09 جنوری 2026

ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر