وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاک روس تعاون ،عروج کی نئی بلندیوں نے امریکا کوبوکھلا کر رکھ دیا

منگل 26 ستمبر 2017 پاک روس تعاون ،عروج کی نئی بلندیوں نے امریکا کوبوکھلا کر رکھ دیا

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات ماضی میں ایسے نہیں رہے جنھیں بہت زیادہ خوشگوار یا قریبی قرار دیاجاسکے لیکن 1971 کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر جمی برف توڑنے کی کوشش کی اور وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاک روس تعاون کو عروج حاصل ہوا اور روس ہی کے تعاون سے پاکستان فولاد سازی کے دور میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ابھی ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیداہوئی ہی تھی کہ فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر پورا منظر ہی بدل کر رکھ ڈالا اور پھر افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف امریکا کا بھرپور ساتھ دے کر اور روس کے خلاف لڑنے کے لیے طالبان کوتربیت اور امریکی اسلحہ کی فراہمی کا پلیٹ فارم مہیا کرکے جنرل ضیا نے روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی نچلی سطح پر پہنچا دیا ۔
9/11 کے بعد پاک روس تعلقات میں ایک دفعہ پھر بہتری کے آثار پیداہوئے اور2002 میں اسٹریٹیجک استحکام کے حوالے سے پاک روس مشاورتی گروپ کے قیام سے دونوںملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی حد تک گرمجوشی کے آثار پیداہوئے،اس گروپ کے قیام کا مقصد علاقائی استحکام کو درپیش خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے کارروائی اور اقدامات کرنا تھا۔ اس گروپ کے قیام کے دوران روس اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے جس کے بعد 2011 میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کے تبادلون کے معاہدے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملا۔ باہمی تعلقات میں پیدا ہونے والی اس بہتری کے نتیجے میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے شنگھائی تعاون کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی کھل کر حمایت کی اور اس طرح اس کونسل میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان کو کونسل کا مکمل رکن بنالیاگیا۔یہ واقعہ دراصل پاک روس تعلقات کے ایک نئے دورکا آغاز تھا،اس کے بعد پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے اور روس کی جانب سے پاکستان کے مختلف اہم منصوبوں کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کی گئی جن میں گڈو اور مظفر گڑھ کے بجلی گھروں کی بحالی اور ان کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شامل تھے۔
2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے دورہ روس کے موقع پر پاک روس تعلقات کے حقیقی معنوں میں ایک نئے دورکا آغاز ہوا ور روس کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔اس کے بعد پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں نمایاں تبدیلی ہوئی اور مختلف شعبوں میں روس کے ساتھ باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلنا شروع ہوگئے۔اس کے بعد پاکستان نے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے سلسلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور افغان جنگ کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیداہونے والی تلخیوں کے اثرات زائل کرنے اور روس کے ساتھ دوستی کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی خواہش کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کئے اور پاکستان اور روس کے عوام کے درمیان براہ راست تعلقات استوار کرنے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی کے رشتوں کوفروغ دینے اور مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کئے۔
اس عرصے کے دوران روس نے بھی افغانستان میں ہزیمت کی صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کئے اور بہت جلد عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا مقام پیدا کرلیا،روسی رہنمائوں کو اس بات کااحساس تھا کہ امریکا روس سے اپنی فوجیں مکمل طور پر واپس بلائے یا نہ بلائے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی اور پاکستان اس خطے میں اہم کردار ادا کرتارہے گا۔اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا کے تعاون سے بحال کی جانے والی افغان حکومت میں بھارت نے غیر معمولی اثر ورسوخ حاصل کیاہے لیکن بھارت اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت اور حیثیت کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے ،اور علاقے میں امن اور استحکام کے قیام میں پاکستان کی اہمیت اب بھی مسلمہ اور ناقابل فراموش ہے یعنی اس خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کونظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان کے قرب وجوار میں جنم لینے والی مختلف جیو اسٹریٹیجک اور جیو پولٹیکل تبدیلیوں سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان ہی کو ہوسکتاہے اورپاکستان کے پالیسی ساز اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے اس خطے میں واقع تمام ممالک کے ساتھ جن میں روس سرفہرست ہے اسٹریٹیجک تعلقات قائم اور مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور سیکورٹی کے معاملات کے پائیدار حل سے پاکستان کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوگا،کیونکہ پاکستان افغانستان کاسب سے قریبی پڑوسی ہے اور اپنے اسی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان نے افغان تنازع سے بھاری جانی ومالی نقصانات اٹھائے ہیں۔اس طرح افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کی صورت میں پاکستان سے قریبی تعلقات استوار رکھنے والے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔
روس کو اب بھی ایک متبادل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے،روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے اور اس طرح اسے ویٹو پاور بھی ہے اس کے علاوہ وہ ایس سی اوکابھی رکن ہے بھارت چوردروازے سے جس کی رکنیت حاصل کرکے پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے ، جس کی وجہ سے وہ علاقائی تنازعات کے تصفیے میں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔ عالمی برادری میں روس کو حاصل اس اہم حیثیت کی بناپر پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتاہے۔خاص طورپر اس وقت جبکہ امریکا نے پاکستان سے رخ موڑ کر اس خطے میں بھارت کی ہمنوائی شروع کی ہے ۔پاک روس تعاون کے فروغ اور ان دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات اس پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس صورت حال نے امریکی رہنمائوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ امریکی رہنمائوں کو اس بات کی قطعی امید نہیں تھی کہ پاکستان اس تیزی سے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرکے روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور عالی سطح پر روس کی جانب سے حمایت کو دیکھتے ہوئے امریکا کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے اور تمام اعلیٰ سطح کے امریکی حکام پاکستان کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات اور اس کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والی تلخیاں دور کرنے کی کوششوں میں مختلف تاویلات پیش کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات ایک مرتبہ پھر پہلے کی سطح پر لانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے بے اعتناعی کے اظہار کے بعد چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے ساتھ ہی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جانے کی کوشش کرکے خود کو بدلتے ہوئے عالمی پس منظر میں نمایاں طورپر فٹ کرلیاہے۔
موجودہ صورتحال کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ روس کے تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مضبوط ومستحکم کرنے کی جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ اس پر کاربند رہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر آجانے کی صورت میں بھی امریکا کی طرف غیر ضروری جھکائو کی پالیسی اختیار نہ کرے اوراس طرح تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرے ۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اور خاص طورپر امور خارجہ کے ماہرین اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں اور جیسا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ دنوں اپنے بیان میں واضح کیاہے کہ پاکستان کو اب کسی کے لیے قربانی کابکر ا نہیں بننے دیاجائے گاکسی بھی ملک کے معاملات میں اس حد تک ملوث ہونے سے گریز کیاجائے جس سے پاکستان کی اپنی سلامتی اور استحکام اور معاشی ترقی کی راہ پر منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہو۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے فوری طور پر چرچ میں آ کر ایک شخص ...

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

نیشنل الیکٹرک پاؤر ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نیپرا کے مطابق پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی، پی ٹی آئی حکومت کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطا 6 روپے11 پیسے اضافہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نیپرا کا کہنا ہے کہ حالیہ 1روپیہ 39 پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیر...

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بدستور جاری ہے، مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کم آمدنی والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک ...

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

برطانیہ بینک فراڈ کا گڑھ بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے برطانیہ کو بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں لوگوں کے ایک ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ بیرون ملک سے دھوکے بازی میں بھارت اور مغربی افریقہ کے شہری ملوث نکلے۔خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 754 ملین پونڈز چرائے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر سے ایک لاش ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی ہے۔ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق مشتعل افراد نے مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران فائرنگ بھی کی گئی ۔فائرنگ کے نتیجے میں مختارِ کار ماجد خاصخیلی اور ان کے 2 بھائی زخمی ہو گئے۔کمشنرعباس بلوچ کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ...

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

یوٹیلیٹی اسٹورز نے گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ،قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اطلاق فوری ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈا گھی کا 10 لٹر کین 1090 روپے مہنگا ہوگیا ،10 لٹر ڈالڈا گھی کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔ نوٹیفکیشن ...

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

بجلی کی قیمت میں 1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

حکومت نے بجلی کی قیمت میں مزید 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرا دیا، اور بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت توانائی کی جانب سے بھجوائی گئی تھی۔بجلی کی قیمت میں اضافہ سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی ، نیپرا نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ...

بجلی کی قیمت میں  1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

کراچی میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں سے عمارت خالی کروانے کے اشتہار اخبارات میں شائع کردیے گئے ہیں۔کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں شائع کرادئیے ہیں۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اشتہار میں سپریم کورٹ کے 16 جون اور 22 ستمبر والے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جا...

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع

مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا