وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین کی جانب سے بحر ہند میں طاقت میں اضافے کی کوشش

اتوار 24 ستمبر 2017 چین کی جانب سے بحر ہند میں طاقت میں اضافے کی کوشش

سلیم سعید
چین کی جانب سے بحر ہند میں اپنی بحری طاقت میں اضافے کی خواہش اور اس حوالے سے چین کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے پاکستان کی حکومت کو اپنے حساس صوبے بلوچستان میں کچھ مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے، تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ چین نے کراچی سے300میل کے فاصلے پر واقع بلوچستان کی ماہی گیری کی ایک بندرگاہ گوادر کوترقی دے کر اپنی تجارتی اوربحری قوت کے مظاہرے کے حوالے سے جو پیش رفت کی ہے اس پس منظر میں اگر گزشتہ کچھ دنوں کے دوران اغوا کے بعض واقعات اوربم دھماکوں کاجائزہ لیاجائے تو یہ سب کچھ چین کے لیے اس وارننگ سے کم نہیں ہے کہ چین کو گوادر میں گہرے پانی کی اس بندرگاہ سے استفادے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
گوادر کی بندرگاہ سری لنکا، جیبوتی، سیشلز کے بعد چین کے زیر اثر بندرگاہوں میں ایک بڑا اضافہ ہے،لیکن اس حوالے سے رونماہونے والے واقعات سے ظاہرہوتاہے کہ اس خطے میں چین کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری بہت زیادہ محفوظ نہیں ہے بلکہ خطرات سے پر ہے۔بلوچستان ایک پہاڑی اورریگستانی صوبہ ہے جس کی سرحدیں ایران اورافغانستان سے ملتی ہیں،یہ صوبہ صرف دہشت گردی اور علیحدگی پسند باغیوں کامرکز نہیں ہے بلکہ یہ صوبہ اسلحہ، تیل اور منشیات کے اسمگلروں کابھی مرکز ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے پر تشدد واقعات سے اس صوبے میں چین کے لیے موجود خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب داعش کے دہشت گردوں نے اس صوبے میں چین کے دو استادوں کو اغوا کرکے قتل کردیاتھا۔اس کے علاوہ اس صوبے میں مزدوری کرنے والے دوسرے صوبوں کے لوگوں کے بہیمانہ قتل کے واقعات بھی اپنی نوعیت کے منفرد واقعات نہیں ہیں۔
اس صورت حال میں پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی جانب سے چین کے حکام کو اس بات کی یقین دہانی کہ پاکستان میں ان کی سرمایہ کاری بالکل محفوظ ہے ایک مذاق ہی معلوم ہوتاہے۔تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ کوئٹہ میں 2چینی استادوں کے قتل کے واقعے سے قبل 2006 میں چین کی جانب سے اس ملک میں قدم جمانے کی کوششوں کے ابتدائی دور میں تین چینی انجینئروں کا قتل بھی دراصل چین کے لیے ایک وارننگ تھی کہ پاکستان میںان کی سرمایہ کاری اتنی آسان نہیں ہوگی۔ پاکستان کے نئے وزیر اعظم نے اپنا منصب سنبھالنے کے صرف3دن بعد ہی 3اگست کو چین کے سفیر سے ملاقات کرکے ان کویقین دلایا کہ چین کو پاکستان میں62 ارب ڈالر کے اخراجات یاسرمایہ کاری کومکمل تحفظ حاصل رہے گا اور اس حوالے سے چین کوپریشان نہیں ہونا چاہئے،چین اس وقت پاکستان میںسی پیک منصوبے کے تحت 28بلین ڈالر کے منصوبے پر عمل کے درمیانی مرحلے میں ہے،اس منصوبے کے تحت چین نہ صرف یہ کہ گوادر کی بندرگاہ کومزید ترقی دے گا بلکہ گوادر سمیت پورے ملک میں سڑکوں کاجال بچھارہاہے۔اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چین کے سفیر کویقین دلایا کہ وہ سی پیک کے منصوبے کو تیزی سے مکمل کرانے کے لیے ان منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے۔انھوں نے کوئٹہ میں چینی اساتذہ کے قتل کے واقعے کی سنگینی کو یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی کہ ان لوگوں کوچینی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ مشنری ہونے کی وجہ سے قتل کیاگیا،اور قتل کے اس واقعے کے بعد چین کی حکومت نے پاکستان میں سرمایہ کاری کودگناکردیاہے۔چین کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کی مکمل حمایت کایقین دلایا ہے اور چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے کہاہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بلندی کی نئی سطح تک پہنچ چکے ہیںاور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتاجائے گا۔
پاکستان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے چین کے نائب وزیر اعظم وانگ ینگ نے پاکستان آکر پاکستان کے یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کی تھی،پاکستان سی پیک کے منصوبے کو اپنی معیشت اور ترقی کے لیے بہت اہم تصور کرتاہے اور اس کاخیال ہے کہ گوادر کو ترقی دئے جانے کے بعد یہ پاکستان کادبئی بن سکتاہے۔تاہم چین کی سرمایہ کاری کویقینی بنانے اور اس سے پوری طرح استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کو ملکی سطح پر سیاسی مذاکرات کرکے معاملات کو معمول پر لاناہوگاکیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتاہے کہ انھیں ترقی کے ثمرات سے محروم رکھاجارہاہے کیونکہ چین کی سرمایہ کاری سے ابھی تک ان کوکوئی فائدہ نہیں پہنچ سکاہے۔جس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ یا تو اس سرمایہ کاری کے فوائد دوسرے صوبے سمیٹ رہے ہیں یا اس سے ہونے والے فوائد کی تمام رقم واپس چین کی جیب میں جارہی ہے۔
رقبے کے اعتبار سے بلوچستان جرمنی سے کچھ ہی چھوٹا اور پاکستان کے مجموعی رقبے کے 45فیصد کے مساوی ہے لیکن اس صوبے کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کے صرف 6فیصد کے مساوی یعنی ایک کروڑ 30لاکھ ہے لیکن اس صوبے کے لوگ پاکستان میں سب سے کم تعلیم یافتہ ،ملک کے بیشتر حصے سے کٹے ہوئے اور پسماندہ ہیں،یہ صوبہ سیاسی تشدد کامحور بھی ہے اور داعش اس صوبے میں فوجی گاڑیوں پر حملوں کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔جبکہ گزشتہ سال ایک ہسپتال پر حملے کی ذمہ داری طالبان بھی قبول کرکے اس صوبے میں اپنے وجود اکااحساس دلاچکے ہیں۔ ہسپتال پر اس حملے کے نتیجے میں 76افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت وکلا کی تھی جو ایک بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اپنے ساتھی وکلا کی میت اور زخمیوں کی امداد کے لیے ہسپتال پہنچے تھے۔ اس صوبے کے عوام سے حکومت کے اغماض اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے نتیجے میں صوبے میں بغاوت او رعلیحدگی کے جذبا ت پروان چڑھے ہیں اور علیحدگی پسند فوجی اڈوں ،ریلوے لائنز،اسکولوں ، اساتذہ اور دوسرے صوبوں کے لوگوںکونشانہ بناتے رہتے ہیں۔کیونکہ بہت سے لوگوں کاخیال ہے کہ ان لوگوں کی بلوچستان میں آمدکی وجہ سے وہ روزگار سے محروم ہورہے ہیں،جس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود جلاوطن سرگرم بلوچ نوجوان بہاول مینگل کے اس بیان سے کیاجاسکتاہے جس میں انھوںنے الزام عاید کیاتھا کہ وہ گوادر کی بندرگاہ تعمیر کرنے کے لیے افرادی قوت پنجاب سے لارہے ہیںاور بلوچ بیروزگاری کاعذاب جھیل رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کئی ارب ڈالر کے اس پراجیکٹ کی تکمیل سے بلوچوں کی زندگی بدل جائے گی اور وہ خوشحال ہوجائیں گے ۔ان کاکہناتھا کہ صرف یہی نہیں کہ بلوچوں کوملازمتیں نہیں مل رہی ہیں بلکہ بہت سے باروزگار بلوچ اپنی ماہی گیری کے روزگار سے بھی محروم کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ چین کی آمد کے بعد اب ان کو گوادر کے گرد ماہی گیری کی ممانعت کردی گئی ہے۔کیونکہ چین کی ایک ترقیاتی فرم نے پاکستان سے2059تک کے لیے بندرگاہ کو لیز پر حاصل کررکھاہے اورپاکستانی حکام کی معاونت سے اب وہ بندرگاہ کے گرد ایک سیکورٹی حصار قائم کررہی ہے جس کے تحت مقامی لوگوں کو بھی اس علاقے میں داخل ہونے کے لیے پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ بلوچستان کی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑاگرچہ اس الزام کی تصدیق کرتے ہیں لیکن ان کاکہنا ہے کہ ماہی گیروں کی فلاح وبہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت انھیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔
دوسری جانب پاک چین تعلقات کے جرمن ماہر اینڈریو اسمال کاکہنا ہے کہ چین جس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہاہے اس کے فوائد سامنے آنا لازمی ہیں، اس پروجیکٹ پر ہزاروں چینی انجینئر اور محنت کش کام کررہے ہیں،گوادر کو کوئٹہ سے ملانے والی ایک سڑک جلد تعمیر کی جائے گی اس کے علاوہ بجلی کے مزید پلانٹ لگائے جائیں گے،اس سے پاکستان میں بجلی کی ضرورت پوری ہوگی،یہ پراجیکٹ اگلے الیکشن تک مکمل ہوں گے، ان کاکہناہے کہ میرے خیال میں اس سے ملازمتوں کے مواقع پیداہوں گے ،وہ تعلیم پر توجہ دیں گے انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے مفید اور مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان مئی میں بلوچستان کی کابینہ کے چند ارکان کے ساتھ جب برسلز کے دورے پر گئے تھے تو انھوںنے وہاں یورپی ارکان کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاتھا کہ بلوچستان یورپ کو اونٹ کاگوشت برآمد کرسکتاہے جس کی اہمیت بے تحاشہ ہے اپنے اس دورے کے دوران انھوں نے بلوچستان کو ایشیا کاڈارک ہارس قراردیاتھا اور یورپی رہنمائوں کویہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ یہ اب اندھیرے سے باہر نکل رہاہے۔بلوچستان کی حکومت کی جانب سے صوبے میں ترقی کے دعووں کے باوجود اب بھی اس صوبے کی وسیع آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ان کو گندے پانی کی نکاسی کی سہولت حاصل نہیں ہے ، اور سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ان کاکاروبا ر تباہ ہورہاہے۔بلوچستان کے ایک اور سرگرم رہنما سعید احمد کاکہناہے کہ ہم نے سنا ہے کہ گوادر دبئی ،سنگاپور یا ہانگ کانگ بننے والاہے لیکن ہمیں تو پینے کاپانی اور بجلی بھی میسر نہیں ہے۔ایک علاقائی باغی فوج کی مبینہ زیادتیوں کی شکایت کی اوردعویٰ کیا کہ صوبے میں صرف سی پیک کی خاطر فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔جبکہ فوج کاکہناہے کہ ان کاہدف صرف انتہاپسند اور دہشت گرد ہیںاور دہشت گرد اب مایوسی کے عالم بکھر چکے ہیں۔علیحدگی پسند بلوچ نیم فوجی اہلکاروں فرنٹیئر کور پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات بھی عاید کرتے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2010 سے2015 کے دوران جبری غائب کئے گئے ساڑھے 4ہزار افراد کی لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔
چین کا خیال ہے کہ مستحکم پاکستان ہی بھارت کااچھی طرح مقابلہ کرسکتاہے۔جس کے ساتھ چین کے سرحدی تنازعات بھی ہیں اور 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے۔ جرمن مارشل فنڈ کے اسمال کے مطابق مستحکم پاکستان بھارت کواپنی مغربی سرحدوں سے دور کردے گا اورجنوبی ایشیامیں مستحکم حیثیت اختیار کرلے گا۔چونکہ گوادر کے حوالے سے کوئی فوجی معاہدہ نہیں ہے لیکن فوج اس کے بہت قریب ہے، اسمال کاکہناہے کہ پاک فوج کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہے چین کے بحریہ گوادر کی بندرگاہ کو کبھی کبھار ضرورت پڑنے پرجہاز لنگر انداز کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ نے چین پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کی خود مختاری سے متعلق تنازعے میں چین کے خلاف پابندیوں کی منظوری کے قانون پر دستخط کر دیے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ اس اقدام کے بعد چین کو خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں عوام کے خلاف جابرانہ اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ یہ امریکی قانون ایسے لوگوں اور اداروں کے خلاف کارروائی کی وجہ بنے گا، جو ہانگ کانگ کی آزادی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس قانون کے تحت امریکا میں ان پابندیوں سے متاثرہ افراد کی...

ٹرمپ نے چین پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے

دوران حمل ماں سے بچے میں کورونا کی منتقلی کے پہلے کیس کی تصدیق وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

فرانس میں ڈاکٹروں نے ایسے پہلے کیس کو رپورٹ کیا ہے جس میں نومولود بچے میں کورونا وائرس پیدائش سے قبل ماں کے شکم سے منتقل ہوا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع تحقیق میں اس کیس کے بارے میں تفصیلات شائع کی گئیں۔اب تک ایسے ایسے شواہد محدود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہو کہ دوران حمل بھی کورونا وائرس سے متاثر ماں بچے میں اس بیماری کو منتقل کرسکتی ہے ،مگر انتونیو بیسلیرے ہسپتال سے تعلق رکھنے والے محققین نے تصدیق کی دوران حمل بھی ماں کے شکم میں موجود بچے میں کورو...

دوران حمل ماں سے بچے میں کورونا کی منتقلی کے پہلے کیس کی تصدیق

کورونا ویکسین انسانوں پر تجربے کے آخری مرحلے میں داخل وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے کہاہے کہ ان کی تیارکردہ کورونا ویکسین 27 جولائی سے انسانوں پر تجربے کے آخری مراحل میں داخل ہو جائے گی۔ وہ اس ویکسین کو 30 ہزار افراد پر ٹیسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس کورونا ویکیسن کے انسانوں پر تجربے کے متعلق معلومات کلینکل ٹرائلز نامی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ تجربات اکتوبر سنہ 2022 تک جاری رہے گے ۔امریکی دوا ساز ادارے موڈرنا کی جانب سے حالیہ اعلان نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں ایک تحقیق کے نتائ...

کورونا ویکسین انسانوں پر تجربے کے آخری مرحلے میں داخل

برطانیا میں کورونا خوف سے دس لاکھ افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

برطانیا میں سگریٹ نوشی اور صحت کے متعلق کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے کے سروے نے کہاکہ کورونا کی وبا کے آغاز سے اب تک دس لاکھ سے زائد افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی ہے ۔ان میں سے 41 فیصد افراد نے پہلے چار ماہ میں کورونا کی وبا کے خوف کے پیش نظر اس عادت کو ترک کیا۔جبکہ یونیورسٹی کالج لندن کے ایک الگ کیے جانے والے سروے کے مطابق سنہ 2007 سے لے کر اب تک کسی بھی برس کے دوران رواں برس جون میں سب سے زیادہ افراد نے سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکومت نے متنبہ ...

برطانیا میں کورونا خوف سے دس لاکھ افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی

سعودی عرب میں قطری چینل کا نشریاتی لائسنس منسوخ، ایک کروڑ ریال جرمانہ وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

سعودی عرب نے قطر کے ملکیتی بی اِن اسپورٹس چینل کا مملکت میں نشریات کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کردیا ہے اور اس پراجارہ دارانہ طرزعمل اختیار کرنے پر ایک کروڑ ریال جرمانہ عائدکردیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے مسابقت(جی اے سی) نے اس ضمن میں ایک بیان جاری کیا اورکہاکہ وہ بی ان اسپورٹس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قطری چینل نے 2016 میں یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کے میچوں کے خصوصی نشریاتی حقوق کا استحصالی انداز میں ناجائز استع...

سعودی عرب میں قطری چینل کا نشریاتی لائسنس منسوخ، ایک کروڑ ریال جرمانہ

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک وجود - پیر 13 جولائی 2020

خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوان شہید ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ٹھکانے میں موجود 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں سے کی فائرنگ...

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے وجود - پیر 13 جولائی 2020

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں پر جرمانے عائد کر دیے گئے ۔ جرمانے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق بھی کیے گئے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 15 بینکوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر 1 ارب 68 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے کیے گئے ہیں ۔ ان بینکوں پر مارچ سے جون 2020 کے دوران جرمانے کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر جرمانے عوام کے سامنے لانے کا سلسلہ جولائی 2019 سے شروع کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے تمام پندرہ بینکوں کے ناموں کی...

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور وجود - پیر 13 جولائی 2020

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر تین دن میں شہر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحا ل بہتر نہیں ہوئی توگورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرسکتے ہیں،جماعت اسلامی نے ادارہ نورحق میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا ہے ،بجلی کی قیمتوں میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے ،گزشتہ 15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ،کے الیکٹرک کا لائسنس فوراًمنسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹی...

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار وجود - پیر 13 جولائی 2020

شہر قائد کے لیے 260 ملین گیلن پانی کا منصوبہ کے فور فیز ون تاخیر کا شکار ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے کے فور منصوبے سے متعلق وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا، خط صوبائی سیکرٹری پلاننگ نے وفاقی سیکرٹری پلاننگ کو لکھا جس میں بتایا گیا ہے کہ کے فور منصوبہ خاص وجوہات اور ڈیزائن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے ۔خط کے متن کے مطابق منصوبہ ساز کمپنی نیسپاک مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہے ، سندھ حکومت نے کمپنی کو ڈیزائن کے ازسر نو جائزہ لینے کا کہا تھا۔سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیسپا...

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز وجود - پیر 13 جولائی 2020

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے کہ انتقام کو دیکھتے ہوئے بھی ہم اگر آج کے دن، دو سال پہلے واپسی کا کٹھن فیصلہ نہ کرتے تو آج ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا۔ نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد 13 جولائی 2018 کو وطن واپسی کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہاتھا عین اس وقت سزاسنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔نہ قوم جان سکتی کہ کیسے بے گناہ نواشریف کو دباؤ...

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

امریکا، یوکے اور یورپی یونین کے بعد ایتھوپین ائر لائن نے بھی 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر ایتھوپین ائرلائن نے فضائی بیڑے میں شامل جہازوں کو آپریٹ کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کی اسناد اور لائسنسز سے متعلق کوائف طلب کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ وضاحت ایتھوپین سفارت خانے نے وزارت خارجہ کے توسط سے بذریعہ فیکس طلب کی ہے۔ فیکس کے متن کے مطابق پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز ک...

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان وجود - پیر 13 جولائی 2020

ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے پرعملدر آمداور بین الافغان مذاکرات کاشروع ہونا بہت اہم ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ اگرکوئی پہلے جنگ کاخاتمہ اور پھرمذاکرات چاہتاہے تو یہ غیر منطقی بات ہے ۔ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ جنگ اس لیے جاری ہے کیونکہ اسکے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ بیانات اور الزامات مسئلے کوحل نہیں کرسکتے ۔ ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور بین الافغان مذاکرات ہی مسئلے کا منطقی حل ہیں۔

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان