وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان 2018کی پہلی سہ ماہی میں عالمی مالیاتی اداروں کو 11ارب ڈالر کیسے ادا کرے گا؟

هفته 23 ستمبر 2017 پاکستان 2018کی پہلی سہ ماہی میں عالمی مالیاتی اداروں کو 11ارب ڈالر کیسے ادا کرے گا؟

موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے4سال قبل جب امور خزانہ کا قلمدان سنبھالا تھا تو انھوں خزانہ خالی ہونے کا شور مچا کر آئی ایم ایف سے رجوع کیا تھاتو عوام نے اس پر انتہائی شدید ردعمل کااظہار کیاتھا ،وزیرخزانہ نے عوام کے اس ردعمل کونظر انداز کردیاتھا جس کے بعد پاکستان کو قرضے ملنا شروع ہوئے اور اتنے ملے کہ پاکستان کازر مبادلہ 23ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہونے کی نوید سنا دی گئی،اور اس طرح پوری قوم قرضوں میںڈوبتی چلی گئی جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ قومی اسمبلی میںگزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران پاکستان کی وزارت خزانہ نے یہ اعتراف کیاتھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے گزشتہ 4سال کے دوران لیے گئے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی وجہ سے پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہوچکاہے ،وزارت خزانہ نے یہ اعتراف بھی کیاتھا کہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی جوتفصیل پیش کی گئی تھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 31 دسمبر 2016 تک پاکستان پر مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے تھے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کئے گئے ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔ اس طرح وزارت خزانہ کے اس جواب سے یہ ظاہرہوا کہ پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں۔وزارت خزانہ نے اپنے تحریری جواب میں یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔اس صورتحال سے یہ بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور آنیوالے دنوں میں جب موجودہ حکومت نہیں ہوگی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے قرضوں پر قرض حاصل کرنے کی اس روش پر تو حکومت نے بڑی بغلیں بجائی تھیں کہ ان قرضوں کی وجہ سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہاتھا لیکن پاکستان کوقرضوں کی فراہمی کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے اپنی شرائط پر عملدرآمد کرنے پر زور دینا شروع کردیا جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کوخوش رکھنے کے لیے وزارت خزانہ نے عوام پر ٹیکس در ٹیکس لگانے کاسلسلہ شروع کردیا اور ہر نئے ٹیکس کے ساتھ ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار یہ یقین دہانی کرانے کی ناکام کوشش کرتے رہے کہ ان ٹیکسوں سے عام آدمی کسی طرح بھی متاثر نہیں ہوگا،لیکن ان یقین دہانیوں کے برعکس نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے ساتھ ہی مہنگائی میںاضافہ ہونا شروع ہوایہاں تک کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کاحصول مشکل ہوتاچلاگیا اور عوام کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں ، موجودہ حکومت نے اندرونی و بیرونی اداروں سے بے تحاشہ قرضے لیے، قرض کی یہ رقم کہاں خرچ کی گئی یا کس کی کمپنی یااکائونٹ میں جمع ہوئی یہ الگ بحث ہے اور اس کاانکشاف تو شاید اس حکومت کے رخصت ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا، لیکن اس قدر قرضوں کی وجہ سے پاکستان کی معاشی حالت ابتر سے ابتر ہوتی چلی جارہی ہے، یہاں تک کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی ادارو ں کو مداخلت کرکے حکومت کو جھنجوڑنا پڑا ، جس پر آئی ایم ایف ودیگر مالیاتی اداروں نے پاکستان پر دبائو ڈالا کہ ڈالر اِس وقت 116 روپے فی ڈالر یا اس سے بھی کچھ زیادہ کا ہونا چاہیے تاکہ مہنگائی میں اضافہ ہو اور حکومت زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کر کے مالیاتی اداروں کو واپس کرے۔پاکستان جن عالمی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کررہاہے ان کی ویب سائیٹس چیک کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان اگلے سال یعنی 2018کی پہلی سہ ماہی میں عالمی مالیاتی اداروں کو 11ارب ڈالر اداکرنے کا پابند ہے۔ اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ بجٹ 2017-18میں ملکی و غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 14سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اس قدر زیادہ رقم چکا نے کے لیے یقینی طورپر پاکستان کو مزید قرضے لینے پڑیں گے، اور قرض لینے کے لیے ہم پہلے ہی ملک کے منافع بخش اداروں کو‘ جن میں ائیرپورٹس ، بندرگاہیںیہاں تک کہ موٹرویز تک پہلے ہی گروی رکھوا چکے ہیں،اس لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب مزید قرض لینے کے لیے پاکستان کن اثاثوں کوگروی رکھنے کی کوشش کرے گا۔جہاںتک ملک میں زرمبادلہ کے ذخائرکاتعلق ہے۔ تو اس حوالے سے حقائق کااندازہ سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے اس بیان سے لگایاجاسکتاہے جو انھوںنے گزشتہ سال اسلام آباد میں ایک سیمینار کے دوران دیاتھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا موجودہ بیرونی قرضہ 2018-19تک بڑھ کر 90 ارب ڈالر ہو جائے گا۔جس کی وجہ سے حکومت کو ہر سال 20 ارب ڈالر بطور سود کی قسط ادا کرنا ہونگے۔ یعنی آنے والے3 برس میں یہ اضافہ 38% ہو گا۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ مقتدر طبقے اس معاشی صورتحال سے بے خبر اپنے تجوریاں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ گردن تک قرضوں میں ڈوبے ملک کا سیاسی ڈھانچے یہاں کی اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔
عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ایسے ایسے حربے استعمال کیے جارہے ہیں کہ خدا کی پناہ یہ دعویٰ کیاجارہاہے کہ 2047یعنی پاکستان کے بننے کے 100 سال بعد پاکستان دنیا کی10 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا، عقل کے اندھوں کا یہ بیان سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ وزیر خزانہ ، اور دیگر وزرا اورحکومتی ادارے کافی عرصے سے اس قسم کے ہی بیانات جاری کررہے ہیں کہ پاکستان دنیا کا تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک بن چکا ہے،کبھی سالانہ شرح نمو بڑھنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ،کبھی پاکستان کوابھرتی ہوئی معیشت دکھا یا جارہا ہے۔کبھی یہ دعویٰ کیاجاتاہے کہ2025میں پاکستان دنیا کا سولہواں بڑا مستحکم ملک بن جائے گا، کبھی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے شادیانے بجائے جارہے ہیں ، کبھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کوایشیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج قرار دیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ خیر آگے بڑھنے کی آس رکھنا،خوش گمانی کرنایا ترقی کی امید رکھناکوئی بری بات نہیںہے بلکہ یہ مثبت اور تعمیری سوچ کی عکاسی کرتا ہے مگرخوش فہم ہونا، خیالی پلائو پکانا یا ہوا میں محل بنانا کوئی تعمیری یا ترقی پسندانہ رویہ نہیںہوتابلکہ حقیقی و ذزمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنی منصوبہ بندیا ں کرنے اور عملی جدوجہد سے ہی تعمیروترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جاسکتا ہے۔
جہاں تک سرکاری اہلکاروں کی لوٹ مار کا تعلق ہے تو اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب پی آئی اے کے سابق ایم ڈی کو ان کی ناقص کارکردگی اور مبینہ بے قاعدگیوں پر ملازمت سے فارغ کیاگیا تو وہ رخصت ہوتے ہوئے پی آئی اے کا ایک طیارہ اپنے ساتھ جرمنی لے گئے،اورحکومت اورپی آئی اے کے حکام نے یہ طیارہ واپس لانے کی کوششیں کرنے کے بجائے اس معاملے کو اس وقت تک دبائے رکھنے اورخاموشی اختیار رکھنے کی کوشش کی جب تک کہ یہ معاملہ میڈیا میںآنے کے بعد سینیٹ میں اس کی بازگشت نہ سنائی دی اور حکومت کو سینیٹ میں اس کا اعتراف کرناپڑا کہ اس سے پہلے موصوف ایم ڈی ایک عدد طیارہ اونے پونے داموں میں بیچ بھی چکے تھے۔ جس کا آج تک کسی نے حساب نہیں مانگا۔ بہرکیف پاکستان کی معیشت کو آسرا دینے کے لیے کوئی’’ وائٹل فورس‘‘ یعنی خدائی طاقت ہی درکار ہوگی ورنہ آئی ایم ایف کے پلان کے مطابق اگلے سال مارچ میں جب پاکستان مالیاتی اداروں کو ادائیگی کر چکا ہوگا، اور ملکی زر مبادلہ 14ارب ڈالر کے ارد گر د چکر لگا رہا ہوگا تو اس کے قوم کو اثرات مارچ میں نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ جب ڈالر 130 روپے کا ہو جائے گا ، اْس قت ملک کی اکا نومی کو کون سنبھالے گا، پھر میاں نواز شریف کس سے پوچھیں گے کہ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘
آج حقیقت یہ ہے اوروزیرخزانہ کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ملک کی% 90 سے زیادہ معیشت کالے دھن پر کھڑی ہے۔کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اب تک کوئی خاطر خواہ وصولی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی محکمے سے کرپشن ختم ہوئی ہے۔ البتہ کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کا شور و واویلا ضرور مچایا جا رہا ہے۔ سیاستدانوں کے درمیان بھی احتساب کے اس عمل پر اختلافات موجود ہیں۔حکومت حال ہی میں اربوں روپے کے نئے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ایک دفعہ پھر ٹیکسوں کا یہ بوجھ بالواسطہ طور پر عوام پر ڈال دیا جائے گا۔اس صورت حال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو اعتماد میںلے کرانھیں حقائق سے آگاہ کیاجائے اور یہ بتایاجائے کہ ہم واقعی ڈیفالٹ کی طرف جار ہے ہیں،اس طرح عوام کم از کم آنے والے کڑے وقتوں کامقابلہ کرنے کے لیے خود کوکسی حد تک تیار کرسکیں گے اور حکومت تو کفایت شعاری پر عمل کرنے سے رہی کم از کم عوام کفایت شعاری اختیار کرنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں تاکہ آنے والے کڑے وقت کاسامنا کرنے میں انھیں زیادہ دقت اور پریشانی نہ ہو۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر انتخابات ، معرکہ کون مارے گا، فیصلہ آج ہوگا وجود - اتوار 25 جولائی 2021

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دسویں پارلیمانی عام انتخابات آج (اتوار کو) ہونگے 45 براہ راست انتخابی نشستوں کیلئے 32 لاکھ 20 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے ، تحریک انصاف، نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں تگڑا مقابلہ متوقع ہے ۔الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر کی جانب سے انتِظامات مکمل پاک فوج، رینجرز، ایف سی، پی سی، اور پولیس کے 44 ہزار جوان الیکشن ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے 250 سول و عسکری افیسران کو مجسٹریٹ درجہ کے اختیارات سونپ دئیے گئے ہیں آزادکشمیر کے 33 انتخابی حل...

آزاد کشمیر انتخابات ، معرکہ کون مارے گا، فیصلہ آج ہوگا

پاکستان اورچین کا داسوواقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کاعزم وجود - اتوار 25 جولائی 2021

پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے داسو واقعہ کے ذمہ دار عناصر کو مل کر بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ پاک چین وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ا سٹریٹیجک شراکت داری کو پرعزم انداز میں آگے بڑھانے اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچانے کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے ۔ چین کے صوبے سیچوان کے دارالحکومت چینگڈو میں پاکستان اور چین کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات کا انعقاد ہوا۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ ...

پاکستان اورچین کا داسوواقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کاعزم

نواز شریف کی پاکستان مخالف لوگوں سے ملاقات انتہائی افسوسناک ہے ،فواد چودھری وجود - اتوار 25 جولائی 2021

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کیخلاف غیر مناسب زبان استعمال کرنے والے افغان مشیر حمد اللہ محب کی لندن میں نواز شریف نے ملاقات سے پہلے پارٹی سے اجازت لی۔ ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ عوام کے سامنے لائی جائے ۔ اسلام آباد میں معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان عہدیدار حمد اللہ محب اور امراللہ صالح کا ذاتی طورپر افغانستان کی سرزمین سے کوئی اتلی تعلق نہیں ہے ان کے خاندان بیرون ملک مقیم ہیں ۔ مئی کے...

نواز شریف کی پاکستان مخالف لوگوں سے ملاقات انتہائی افسوسناک ہے ،فواد چودھری

ویکسی نیشن کے بغیر فضائی سفر پر پابندی وجود - اتوار 25 جولائی 2021

این سی او سی کی ہدایت پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک فضائی سفر کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری کے دیا جس کے مطابق اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افراد ویکسی نیشن کے بغیر اندرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے ۔ سی اے اے کے مطابق پابندی کا اطلاق یکم اگست سے اندرون ملک پروازوں پر ہوگا، بیرون ملک سفر کرنے والے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ، ایسے مریض پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے جنہیں ویکسی نیشن کے ری ایکشن کی وجہ سے ڈاکٹرز سے منع کیا ہو۔ سی اے اے کے مطابق غیرملکی شہری بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ...

ویکسی نیشن کے بغیر فضائی سفر پر پابندی

نواز شریف سے ملنے والے محب نے پاکستان کو ہیرا منڈی سے تشبیہ دی تھی، اسد عمر وجود - اتوار 25 جولائی 2021

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ تمام سروے بتا رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر میں مقبول ترین لیڈر ہیں اور تحریک انصاف مقبول ترین جماعت ہے ۔اپنے ٹویٹ میں انہوںنے کہاکہ کہا کہ جس محنت اور جس دلیری سے علی امین گنڈاپور نے الیکشن مہم کو چلایا ہے ، انشااللہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئے گی ۔ایک اور ٹوئٹ میں اسدعمر نے کہا کہ نواز شریف نے حمداللہ محب سے ملاقات کی اور باہمی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا، ی...

نواز شریف سے ملنے والے محب نے پاکستان کو ہیرا منڈی سے تشبیہ دی تھی، اسد عمر

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے وجود - اتوار 25 جولائی 2021

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق 25جولائی 2018کے انتخابات کو تین سال مکمل ہوگئے ، بلوچستان میں ان انتخابات میںقومی اسمبلی کے 16 اور صوبائی اسمبلی کے 50 حلقوں پر 1ہزار 1سو 39امیدواروں نے حصہ لیا تھا جس کے نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی( عوامی) ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی ، جمہوری وطن پارٹی کے 50ارکان صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے...

25جولائی 2018کے عام انتخابات کے تین سال مکمل ہوگئے

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود - اتوار 25 جولائی 2021

بابری مسجد کی شہادت کے بعدنادم ہوکر مسلمان ہونے والے محمد عامر کی بھارتی شہر حیدر آباد میںپر اسرار موت واقع ہوئی ہے ۔ سابق کارسیو ک اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)کے سابق کارکن محمد عامر( بلبیر سنگھ) کی نعش حافظ بابا نگر کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہے ۔مقامی پولیس کے مطابق محلہ داروں نے پولیس کو آگاہ کیا جس کے بعد گھر سے ان کی لاش ملی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اب تک موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مط...

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں شدید بارشیں، مختلف حادثات میں 136 ہلاک وجود - اتوار 25 جولائی 2021

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ اڑھتالیس گھنٹوں کے دوران موسلادھاربارش کے باعث مختلف واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 136 ہو گئی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا کے ریاستی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ شدید بارش لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی پانی نے ساحلی ضلع رائے آباد اور مغربی ضلع ستارا سمیت متعدد نشیبی علاقوں کو متاثر کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 3900 سے زیادہ افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر امدادی کیمپوں میں پہنچا دیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع رائے آباد میں ابھی بھی م...

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں شدید بارشیں، مختلف حادثات میں 136 ہلاک

امریکی صدر ، افغان صدر کے درمیان رابطہ ، اشرف غنی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی وجود - اتوار 25 جولائی 2021

امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں اور دباؤ کے پیش نظر افغان صدر اشرف غنی کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد بھی مکمل سفارتی اور انسانی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی اپنے افغان ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں طالبان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں، پرتشدد واقعات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ طالبان کی موجودہ جارحانہ کارروائیاں اس تنازع کے پر امن حل کے لی...

امریکی صدر ، افغان صدر کے درمیان رابطہ ، اشرف غنی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

جی 20 وزرا ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے میں ناکام ہوگئے وجود - اتوار 25 جولائی 2021

اٹلی کے وزیر ماحولیاتی تبدیلی روبرٹو سِنگولانی نے کہا ہے کہ جی 20 گروپ کے امیر ممالک کے توانائی اور ماحولیات کے وزرا حتمی مذاکرات میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحریری وعدے پر اتفاق رائے کے قیام میں ناکام ہوگئے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جی 20 اجلاس کو نومبر میں 100 دن کے بعد گلاسگو میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی گفتگو (کوپ 26) سے قبل فیصلہ کن اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔کسی ایک نکتے پر اتفاق رائے میں ناکامی سے اسکاٹ لینڈ میں معنی خیز معاہدے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچ...

جی 20 وزرا ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے میں ناکام ہوگئے

افغانستان کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ وجود - اتوار 25 جولائی 2021

افغان حکومت نے پرتشدد حالات اور طالبان کی سرگرمیوں پر قابو پانیکے لیے ملک کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہیکہ تشدد میں کمی اور طالبان کی سرگرمیاں روکنیکے لیے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔مقامی وقت کے مطابق کرفیو رات 10 بجے سے لیکر صبح بجے تک رہے گا، اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے پر پابندی ہوگی۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق کابل،ننگرہار اور پنج شیر صوبے رات کیکرفیو سے مستثنیٰ ہوں گے ۔...

افغانستان کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ

وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ وجود - هفته 24 جولائی 2021

وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ دیا ہے کہ پہلے ریفرنڈم میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے ، ہماری حکومت میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم میں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق یا آزاد ریاست کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں گے ،مسلم لیگ (ن) نے آج تک کوئی چیز ایمانداری سے نہیں کی ،آزاد کشمیر میں(ن )لیگ کی حکومت ہے ، عملہ ان کا ہے ، الیکشن کمیشن پسند کا ہے اور ہم پر دھاندلی کے الزام...

وزیر اعظم عمران خان کا کشمیری عوام کو دو ریفرنڈم کرانے کا عندیہ

مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین