وجود

... loading ...

وجود

چین پاکستان میں 37 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا،ایم او یو پر دستخط ہوگئے

هفته 23 ستمبر 2017 چین پاکستان میں 37 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا،ایم او یو پر دستخط ہوگئے

چین پاکستان میں مشترکہ منصوبوں میں37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، اس حوالے سے گزشتہ روز ایک تقریب میںایم او یو پر دستخط کردئے گئے ہیں،اس معاہدے کے تحت چین کی مختلف کمپنیاں اپنی ٹیکسٹائل فیکٹریاں چین سے پنجاب منتقل کریں گی،اور اس عمل کے دوران پنجاب منتقل کی جانے والی ہر فیکٹری پر کم وبیش25 ملین ڈالر یعنی ڈھائی کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی آر جی ایم ای اے) کے مرکزی چیئرمین اعجاز کھوکھر نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ 18ویں انٹرنیشنل ٹیکسٹائل ایشیا نمائش کے دوران طے پایا ہے۔انھوں نے بتایا کہ چین اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری پروگرام کے تحت جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے تحت چین پاکستان میں ساڑھے 37 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ اس نمائش میں شریک ٹیکسٹائل کے بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے اور اس کے بدلے پاکستان سے تیار شدہ مال خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہرکی ہے۔اس سے پاکستان سے تیار شدہ مال کی برآمد میں اضافے سے برآمدی آمدنی بڑھے گی اور پاکستان کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ چینی کمپنیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ،لاہور اور فیصل آباد کے کارخانوں کے انجینئرز کو چین لے جاکر انھیں تربیت فراہم کریں گے اور اس طرح جدید ٹیکنک کے ذریعے تیار کردہ جدید ڈیزائن کی ٹیکسٹائل منصوعات خریدیں گے۔ایسوسی ایشن اور ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی اس نمائش میں پاکستان اور چین کے درمیان مستقل تعاون کرتے رہنے اور اس طرح کی نمائشوں کے انعقاد میں بھی تعاون کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ایسوسی ایشن کے نائب صدر جواد چوہدری نے بتایا کہ اس 3روزہ نمائش میں ٹیکسٹائل کی جو جدید مشینری نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اس کے استعمال سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی تیاری میں جدت پیداہوگی اور کام کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے تیار مال کی لاگت میں کمی آئے گی اور پاکستان کی تیار کردہ ٹیکسٹائل مصنوعات کو بیرون ملک دیگر ممالک کامقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔اس طرح پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات بڑھیں گی اور برآمدی آمدنی میں اضافہ ہوگا انھوں نے امیدظاہر کی کہ مقامی صنعت کار اور سرمایہ کار اس جدید مشینری سے استفادہ کرنے اور اپنے تیار شدہ مال کی طلب اورقیمتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دیں گے۔انھوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ایشیا نمائش سے صنعتکاروں اور اس صنعت کے خریداروں کوباہم دوبدو ملاقاتیں کرنے ایک دوسرے کے مسائل اور ضروریات کوسمجھنے کاموقع ملا ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستانی صنعت کاروں کو اپنے تیار کردہ مال کا معیار عالمی منڈی کی طلب کے مطابق بنانے اور اس طرح بیرونی منڈیوں میں پاکستان کے تیار کردہ مال کو زیادہ قابل قبول بنانے میں مدد ملے گی جس سے نہ صرف یہ کہ ان صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کاتجارتی خسارہ کم کرنے اور زرمبادلے کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بھی موقع ملے گا۔اس طرح پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کوایک دفعہ پھر اس کاکھویاہوا مقام واپس دلانے اور پاکستان کی برآمد میں ٹیکسٹائل کا حصہ بڑھانے کاموقع ملے گا۔جواد چوہدری نے بتایا کہ اس نمائش میںدنیاکے تمام ممالک کی ٹیکسٹائل کی صنعت کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جس کے نتیجے میں چین کے علاوہ آسٹریا ، چیک سلاواکیہ،،فرانس ، جرمنی،بھارت ، اٹلی کوریا، تائیوان،ترکی ،برطانیہ اور دنیا کے دیگر درجنوں ممالک کے صنعت کارو ں اور خریداروں نے اس میں شرکت کی اس طرح پاکستانی صنعت کاروں کو دیگر ممالک کی تیار کردہ ٹیکسٹائل کی اشیا کے ساتھ اس کی تیار ی میںاستعمال کی جانے والی مشینری کامعائنہ کرنے کاموقع ملا،اس طرح انھیں مختلف ممالک میں اپنی مصنوعات کی کھپت کے امکانات کااندازہ لگانے کے ساتھ متعلقہ ممالک کے لوگوں کی پسند اور ان ملکوں میں تیار ہونے والی ٹیکسٹائل مصنوعات کے معیار اور ان کی پیکنگ وغیرہ کے طریقہ کو بھی دیکھنے اور سمجھنے کاموقع ملا،صنعت کار اب اپنے اس مشاہداتی تجربے کی بنیاد پر اپنی مصنوعات کامعیار بہتر بنانے اور مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے اسے قابل قبول بنانے بلکہ مختلف ممالک میں انھیں مقبول بنانے کاموقع ملے گا۔ جبکہ جدید مشینری کی تنصیب سے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، اور وہ اپنی افرادی قوت کو بہتر انداز میں تربیت فراہم کرکے جدید مشینری سے بہتر طورپر استفادہ کرنے کے قابل بناسکیں گے۔ٹیکسٹائل ایشیا کے نام سے لگائی جانے والی اس نمائش کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے پاکستانی صنعت کاروں کو چین کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے ساتھ بھی ٹیکسٹائل کے شعبے میں مشترکہ منصوبے لگانے کے امکانات کاجائزہ لینے اور اس حوالے سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کاموقع ملا ، جس سے اگلے برسوں بلکہ مہینوںکے دوران مزید کئی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے معاہدوں کا امکان رد نہیں کیاجاسکتا جس کے نتیجے میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میںاضافہ ہوگا اور ٹیکسٹائل صنعت کی مضبوط بنیادوں پر بحالی سے پاکستان کی افرادی قوت کو ملازمتون کے بہتر مواقع ملنے کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔امید کی جاتی ہے کہ ہماری وزارت تجارت وصنعت اور وزارت خارجہ کے ارباب اختیارمختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے مقامی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی ہرممکن مدد اور حوصلہ کریں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو بھرپور سیکورٹی فراہم کرنے کاانتظام کرنے اور انھیںان کے سرمائے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کریں گے تاکہ انھیں پاکستان میں سرمایہ کاری میں جھجھک محسوس نہ ہو۔


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر