... loading ...
چین پاکستان میں مشترکہ منصوبوں میں37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، اس حوالے سے گزشتہ روز ایک تقریب میںایم او یو پر دستخط کردئے گئے ہیں،اس معاہدے کے تحت چین کی مختلف کمپنیاں اپنی ٹیکسٹائل فیکٹریاں چین سے پنجاب منتقل کریں گی،اور اس عمل کے دوران پنجاب منتقل کی جانے والی ہر فیکٹری پر کم وبیش25 ملین ڈالر یعنی ڈھائی کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی آر جی ایم ای اے) کے مرکزی چیئرمین اعجاز کھوکھر نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ 18ویں انٹرنیشنل ٹیکسٹائل ایشیا نمائش کے دوران طے پایا ہے۔انھوں نے بتایا کہ چین اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری پروگرام کے تحت جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے تحت چین پاکستان میں ساڑھے 37 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ اس نمائش میں شریک ٹیکسٹائل کے بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے اور اس کے بدلے پاکستان سے تیار شدہ مال خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہرکی ہے۔اس سے پاکستان سے تیار شدہ مال کی برآمد میں اضافے سے برآمدی آمدنی بڑھے گی اور پاکستان کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ چینی کمپنیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ،لاہور اور فیصل آباد کے کارخانوں کے انجینئرز کو چین لے جاکر انھیں تربیت فراہم کریں گے اور اس طرح جدید ٹیکنک کے ذریعے تیار کردہ جدید ڈیزائن کی ٹیکسٹائل منصوعات خریدیں گے۔ایسوسی ایشن اور ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی اس نمائش میں پاکستان اور چین کے درمیان مستقل تعاون کرتے رہنے اور اس طرح کی نمائشوں کے انعقاد میں بھی تعاون کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ایسوسی ایشن کے نائب صدر جواد چوہدری نے بتایا کہ اس 3روزہ نمائش میں ٹیکسٹائل کی جو جدید مشینری نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اس کے استعمال سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی تیاری میں جدت پیداہوگی اور کام کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے تیار مال کی لاگت میں کمی آئے گی اور پاکستان کی تیار کردہ ٹیکسٹائل مصنوعات کو بیرون ملک دیگر ممالک کامقابلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔اس طرح پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات بڑھیں گی اور برآمدی آمدنی میں اضافہ ہوگا انھوں نے امیدظاہر کی کہ مقامی صنعت کار اور سرمایہ کار اس جدید مشینری سے استفادہ کرنے اور اپنے تیار شدہ مال کی طلب اورقیمتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دیں گے۔انھوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ایشیا نمائش سے صنعتکاروں اور اس صنعت کے خریداروں کوباہم دوبدو ملاقاتیں کرنے ایک دوسرے کے مسائل اور ضروریات کوسمجھنے کاموقع ملا ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستانی صنعت کاروں کو اپنے تیار کردہ مال کا معیار عالمی منڈی کی طلب کے مطابق بنانے اور اس طرح بیرونی منڈیوں میں پاکستان کے تیار کردہ مال کو زیادہ قابل قبول بنانے میں مدد ملے گی جس سے نہ صرف یہ کہ ان صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کاتجارتی خسارہ کم کرنے اور زرمبادلے کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بھی موقع ملے گا۔اس طرح پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کوایک دفعہ پھر اس کاکھویاہوا مقام واپس دلانے اور پاکستان کی برآمد میں ٹیکسٹائل کا حصہ بڑھانے کاموقع ملے گا۔جواد چوہدری نے بتایا کہ اس نمائش میںدنیاکے تمام ممالک کی ٹیکسٹائل کی صنعت کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جس کے نتیجے میں چین کے علاوہ آسٹریا ، چیک سلاواکیہ،،فرانس ، جرمنی،بھارت ، اٹلی کوریا، تائیوان،ترکی ،برطانیہ اور دنیا کے دیگر درجنوں ممالک کے صنعت کارو ں اور خریداروں نے اس میں شرکت کی اس طرح پاکستانی صنعت کاروں کو دیگر ممالک کی تیار کردہ ٹیکسٹائل کی اشیا کے ساتھ اس کی تیار ی میںاستعمال کی جانے والی مشینری کامعائنہ کرنے کاموقع ملا،اس طرح انھیں مختلف ممالک میں اپنی مصنوعات کی کھپت کے امکانات کااندازہ لگانے کے ساتھ متعلقہ ممالک کے لوگوں کی پسند اور ان ملکوں میں تیار ہونے والی ٹیکسٹائل مصنوعات کے معیار اور ان کی پیکنگ وغیرہ کے طریقہ کو بھی دیکھنے اور سمجھنے کاموقع ملا،صنعت کار اب اپنے اس مشاہداتی تجربے کی بنیاد پر اپنی مصنوعات کامعیار بہتر بنانے اور مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے اسے قابل قبول بنانے بلکہ مختلف ممالک میں انھیں مقبول بنانے کاموقع ملے گا۔ جبکہ جدید مشینری کی تنصیب سے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، اور وہ اپنی افرادی قوت کو بہتر انداز میں تربیت فراہم کرکے جدید مشینری سے بہتر طورپر استفادہ کرنے کے قابل بناسکیں گے۔ٹیکسٹائل ایشیا کے نام سے لگائی جانے والی اس نمائش کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے پاکستانی صنعت کاروں کو چین کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے ساتھ بھی ٹیکسٹائل کے شعبے میں مشترکہ منصوبے لگانے کے امکانات کاجائزہ لینے اور اس حوالے سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کاموقع ملا ، جس سے اگلے برسوں بلکہ مہینوںکے دوران مزید کئی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے معاہدوں کا امکان رد نہیں کیاجاسکتا جس کے نتیجے میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میںاضافہ ہوگا اور ٹیکسٹائل صنعت کی مضبوط بنیادوں پر بحالی سے پاکستان کی افرادی قوت کو ملازمتون کے بہتر مواقع ملنے کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔امید کی جاتی ہے کہ ہماری وزارت تجارت وصنعت اور وزارت خارجہ کے ارباب اختیارمختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے مقامی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی ہرممکن مدد اور حوصلہ کریں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو بھرپور سیکورٹی فراہم کرنے کاانتظام کرنے اور انھیںان کے سرمائے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کریں گے تاکہ انھیں پاکستان میں سرمایہ کاری میں جھجھک محسوس نہ ہو۔
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...
مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...
شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...
ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...