وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خلیفۂ ثانی امیرالمومنین سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ،سوانح وسیرت

جمعه 22 ستمبر 2017 خلیفۂ ثانی امیرالمومنین سیدنا	عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ،سوانح وسیرت

مفتی محمد طاہر مکی
تاریخ شہادت یکم محرم الحرام
آپکا نسب نامہ
حضرت عمرؓ کانسب نامہ یہ ہے عمربن خطاب بن عبد العزیٰ بن ریاح بن قرطہ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی ۔
اسلام کس عمر میںقبول کیا
امیر المومنین ابو حفص القرشی العددی الفاروق ؓ سن 6 ہجری میں مشرف باسلام ہوئے اسوقت آپکی عمر 27 برس تھی ۔امام ذہبی اور امام نووی کاقول ہے کہ آپ واقعہء فیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے،آپ اشراف واکابر قر یش میں سے تھے، آپکے خاندان کی بہت زیادہ عزت تھی یہاںتک کہ اگر کبھی عرب کے اندر یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ جنگ ہوجایا کرتی تھی تو آپ ہی کے خاندان کے افرادصلح و صفائی کے لیے سفیر بنکر جایا کرتے تھے آپ اسوقت اسلام لائے جب چالیس مرد،اور گیارہ عورتیں اسلام قبول کرچکے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد ہی مکہ میں اسلام کاعام چرچہ ہوا اور مسلمانوں کو حد درجہ مسرت ہوئی اور آپکا شمار بھی سابقین الاولین میں ہوتا ہے یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں ۔آپ عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشا رت دی گئی تھی ۔آپکی ذات گرامی خلفائے راشدین میں شامل ہے۔ آپکو رسول اللہ ﷺ کے سسر ہونے کاشرف بھی حاصل ہے ۔آپ علماء وانتہاء درجہ کے زاہدین صحابہ کرام میں شمارہوتے ہیں ۔آپ سے رسول اللہ ﷺ کی539 ،احادیث مروی ہیں ۔
حضرت عمر سے احادیث کی
روایت کرنیوالے اصحاب
آپ سے احادیث روایت کرنے والے اصحاب میں حضرت عثمان ابن عفان ؓ،علی ؓ،طلحہ، سعدؓ، ابن عوف ،ؓابن مسعود،ؓ ابوذر،ؓ عمرابن عبسہ ،ؓ آپ کے فرزند عبداللہ،ؓ ابن عباس،ؓ ابن زبیر،ؓ انس،ؓ ابو ہریرہ،ؓ عمر ابن عاص ،ؓؓ ابو موسیٰ اشعری،ؓ البراء بن عازب ،ؓ ابو سعید الخدری،ؓرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت دیگر صحابہ ؓ شامل ہیں۔
(جاری سوانح حیات
حضرت عمرؓ صفحہ دوئم)
حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میںچند احادیث
ترمذی نے ابن عمر ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ الٰہی عمر ابن خطاب یا ابو جہل بن ہشام میں سے جس کو چاہے تو مسلمان بنا کر اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ابن عباس کی روایت میں کسی دوسرے شخص کا نام درج نہیںصرف حضرت عمر کا ہی ذکر ہے، لیکن احمد ؒنے حضرت عمر سے اسطرح روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے تعرض کی غرض سے گھر سے چلا تو میں نے آپ کو مسجد میں پایا ۔پس میں کسی قدر پیچھے ٹھہر گیا آپ نے سورۃ الحاقہ کی تلاوت شروع فرمائی میں قرآن کے اس اثر سے جو دل کو متاثر کررہا تھا حیران تھا میں نے اپنے دل میں کہا بخدا یہ شخص مجھے شاعر معلوم ہوتا ہے (جو اسقدر دلنشین کلا م پڑھ رہا ہے) قریش بھی ایسا ہی کہتے ہیں ،میرے دل میں خطرہ گزرا تھا کہ آپ اس آیت پر پہنچے جسکا ترجمہ یہ ہے کہ’’ یہ قول رسول کریمﷺ کا ہے یہ کسی شاعر کا قول نہیں ۔تم میں سے تھوڑے ہی لوگ ایمان والے ہیں‘‘یہ آیت سنتے ہی اسلام نے میرے دل میں گھر کرلیا اور مجھ پر اس کی عظمت ظاہر ہو گئی ۔
حضرت عمر کا قبول اسلام
طبرانی ،ابو نعیم ،بیہقی وغیرہ نے حضرت عمر کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح بیان کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں رسالت ماٰب ﷺ کا سخت ترین دشمن تھا ۔موسم گرما میں ایکدن میںمکہ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا اور کہااے عمر بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم خود کو بہت کچھ سمجھتے ہواور تمہارے گھر میں وہ کام ہوجائے کہ تم کواس کی خبر تک نہ ہو ،میں نے کہا کیا ہوا ،اس شخص نے کہا ہوتا کیا تمہاری بہن مسلمان ہوگئی ہے !یہ سنتے ہی میں جہاں تھا وہیں سے غصے سے لوٹا اور سیدھا بہن کے مکان پر گیا دروازہ کھٹکھٹایا اندر سے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا عمر! اندر جو لوگ تھے وہ سب گھبراگئے وہ ایک کتاب کو پڑھ رہے تھے جلدی میں اسے اٹھانا بھول گئے وہ کتاب باہر ہی رکھی رہی ،میری بہن نے دروازہ کھولا اسے دیکھتے ہی میں نے کہا اے دشمن جان !تو بے ا یمان ہوگئی اپنے دین سے ہٹ گئی یہ کہہ کر جو کچھ میرے ہاتھ میں تھا میں نے اس کے سر پر دے مارا ،سرسے خون بہنے لگا ،بلاآخر میں نے وہ کتاب مانگی بہن نے کہا تم اس کو چھو نے کے اہل نہیں ہوا س کو پاک لوگ ہاتھ میں لے سکتے ہیں پھر میرے اصرار پر مجبور ہو کر اسنے وہ کتاب مجھے دی۔ اس کتاب کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا تھا’’ اللہ ‘‘کے نام کی ہیبت سے میں کانپ گیا پھر آگے دیکھا تو لکھا تھا’’ سبّح للہ ما فی السمٰوٰت والارض‘‘ میں پھر لرزہ براندام ہوگیا آگے جب میں اس آیت پر پہنچا ’’آمنو اباللہ ورسولہ‘‘ تو بے ساختہ میری زبان سے نکلا اشہد ان لا الٰہ الااللہ ،بس یہ پڑ ھنا تھا کہ سب گھر والے میری طرف دوڑے اور مجھے مبارکبا دینے لگے۔
پیر کے روز رسول اکرم ﷺ پہلے ہی دعا فرما چکے تھے کہ الٰہ العالمین اپنے دین کے ان دو دشمنوں ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے جسے تو چاہے اس کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما ۔حضور ﷺ اسوقت کوہ صفا کی وادی کے مکان میں تشریف فرما تھے یہ لوگ مجھے وہاں لے گئے میں نے وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر سے پوچھا کون ؟میں نے عرض کیا میں عمر ہوںچونکہ تمام لوگ میری عداوت سے واقف تھے چنانچہ میرا نام سن کر کسی کو دروازہ کھولنے کی جرأت نہ ہوئی یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دروازہ کھولدو ،لوگوں نے دروازہ کھول دیا اور دو آدمیوں نے میرے بازو پکڑ لیے اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے ،آپﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو ،پھر آپ نے میرا دامن پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرما یا عمر مسلمان ہوجاؤ !الٰہی عمر کو ہدایت دے !میں نے فوراًکلمہ شہادت پڑھا اور مسلمانوں نے اس زور سے نعرئہ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کی گلیوں میں اسکی آواز پہنچی لوگ ڈرگئے اور مجھ سے لڑنے کی ہمت کسی کو نہ ہوئی ،میں باہر نکلاتھوڑی دھینگا مشتی ضرور ہوئی مگر میں ضربات سے محفوظ رہا ،یہاں سے میں اپنے ماموں ابو جہل بن ہشام کے ہاں گیا وہ کفار میں با اثر سمجھا جاتا تھا ،میں نے اس کے دروازے پر دستک دی آوازآئی کون ؟ میں نے کہا عمرہوں اور میں نے تیرا دین چھوڑدیا ہے ،اس نے کہا عمر ایسا مت کرنا یہ کہہ کر اس نے خوف کے مارے اندر سے دروازہ بند کردیا،الغرض یوں حضرت عمر ؓ ایک ایک کافر کے ہاں گئے اورکہا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں تم مجھ سے کیوں نہیں لڑتے دوسرے مسلمانوں کو تو تم نے پریشان کر رکھا ہے اور مجھ سے آنکھ بھی نہیں ملاتے ،مگر کس میں جرأت تھی کہ عمر کے آگے آئے ۔
حضرت عمر کالقب فاروق کب پڑا
ابن سعد ذکوان نے فرمایا کہ میں نے امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے معلوم کیا کہ حضرت عمر کا لقب فاروق کس نے رکھا ؟تو انہوں نے جواب دیا رسول خدا نے ،حضور ﷺ نے فرمایا اسلام ظاہر ہوگیا اور حق وباطل کے درمیان فرق پیدا ہوگیا ۔
مسجد حرام میں مسلمانوں کا نماز پڑھنا
ابن سعد اور طبرانی ؒنے حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کا اسلام گویا اسلام کی فتح تھی آپ کی ہجرت، نصرت، اور آپ کی امامت ،رحمت تھی۔ ہم میں یہ ہمت وطاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ شریف میں نماز پڑھ سکیں لیکن جب حضرت عمر نے اسلام قبول کرلیا تب ہم بیت اللہ میں دا خل ہوئے ۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سب سے اول عمر نے علیٰ الاعلان اپنا اسلام ظاہر کیا ۔حضرت صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر ایمان لائے تب اسلام ظاہر ہوا (اس سے قبل لوگ اپناا سلام لانا ظاہر نہیں کر تے تھے )اورہم کعبہ کے گرد بیٹھنے ،طواف کرنے ،مشرکین سے بدلہ لینے اور انکو جواب دینے کے قابل ہوگئے۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے سوا کسی کو نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو ،جس وقت حضرت عمر ہجرت کے ارادے سے نکلے تو آپ نے تلوار اٹھائی اور اپنے شانے پر لٹکائی ،ترکش سے تیرنکال لیا پھر کعبۃ اللہ میں تشریف لا ئے و ہاں کچھ اشراف قریش بیٹھے تھے انکے سامنے سات مرتبہ طواف کیامقام ابراہیم پر دو رکعت نفل ادا کئے اور پھر اشراف قریش کے پاس آکر ایک ایک سے الگ الگ فرمایا کہ تمہاری صورتیں بگڑیں ،تمہارا ناس ہو جائے !ہے کوئی تم میں جو اپنی ماں کے بیٹے کو یتیم اوربیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ؟آئے اور جنگل کے اس طرف آکر مجھ سے مقابلہ کرے ! مگر وہاں کس میں دم تھا کہ مراد رسولﷺ کے ان الفاظ کا جواب دیتا،یا آپکا پیچھا کرتا ۔
فضیلت عمر احادیث کی روشنی میں
امام بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک روز فرمایا کہ میں نے خواب میں (نبی کا خواب سچا ہوتا ہے )جنت کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ اس میں ایک عورت جنت کے قصر کی جانب بیٹھی ہوئی وضو کررہی ہے،میں نے دریافت کیا کہ یہ محل کس کا ہے ؟فرشتوں نے جواب دیا عمر کا ۔ایک اور جگہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دودھ پیا پھر بچا ہوا دودھ عمر کو دیدیا ،صحابہ ؓ نے دریافت کیا کہ اس کی تعبیر کیا ہوئی ؟تو آپ نے فرمایاکہ ’’ علم ‘‘ایک بار پیغمبر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اے عمر !مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے جس راستے سے تم گزرو گے اس راستے سے شیطا ن نہیں گزرے گا۔
ترمذی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جن وانس وشیاطین کو عمر سے بھاگتے دیکھتا ہوں ۔ابن ماجہ اور حاکم نے ابی بن کعب سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث روایت کی ہے کہ وہ شخص جس سے خدا عز وجل سب سے پہلے مصافحہ فرمائے گا اور سلام بھیجے گا پھر ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرے گا وہ عمر ؓ ہے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر کی جانب اشارہ فرماتے ہوئے ارشادفرمایا کہ یہ وہ ہستی ہے جس کے باعث فتنہ و فساد کے دروازے بندہیں اور جب تک یہ زندہ رہیںگے اسوقت تک تم میں کوئی شخص پھوٹ یا فتنہ وفسادنہیں ڈال سکے گا ۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓکی روایت کے مطابق شیطا ن حضرت عمر سے ڈر کر بھاگتاہے ایک اور حدیث میں آتاہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل مجھے کہتاتھاکہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا (اسلام کو عمر کی موت سے بہت نقصان ہوگا)۔
حضرت عمر سے محبت اور عداوت
حضرت ابو سعید خدری ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے عمرؓ سے بغض رکھا اسنے مجھ سے بغض رکھا اورجس شخص نے عمر سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی،حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو عمر کو کبھی فراموش نہ کرنا ۔
حضرت عمر کی رائے کے مطابق نازل ہونے والی آیات قرآنی‘نمبر1…
حضرت عمر کی رائے تھی کہ امہات المئومنین رسول اللہ سے ملنے کسی غیر شخص کے آگے نہ آئیں اور یہ بات آپنے رسول اکرم ﷺ کو کہی اتنے میں اللہ نے قرآن میں پردے کا حکم دیدیا ۔،نمبر2…حضرت عمر ؓنے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے خواہش ظاہر کی کہ کاش ہم مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بنا تے تو اس کے بعد آیت نازل ہوئی جس کاترجمہ یہ ہے کہ’’ آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیجئے‘‘ ۔ نمبر3…ازواج مطہرات نے نان ونفقہ کے بارے میں متحد ہو کر کچھ عرض کیا تو اسو قت جو الفاظ حضرت عمر ؓنے کہے بالکل وہی الفاظ اللہ نے قرآن میں نازل فرمادئے۔نمبر 4…تحریم شراب ۔نمبر5 … اسیران بدرکے قضیہ کے بارے میں ۔نمبر6 … ایک آیت نا زل ہوئی جس کا مفہوم یہ تھا کہ ہم نے انسان کو گندھی ہوئی مٹی سے بنایا ،تو حضرت عمر کی زبان سے بے ساختہ نکلا ’’ فتبارک اللہ احسن الخالقین ‘‘اسکے بعد ہی یہ آیت نازل ہوگئی نمبر7…جب رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابیّ مرا تو اس کے لوگو ں نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا اور درخواست کی کہ اس کا جنازہ آپ پڑھائیں جب آپ ﷺ جانے کے لیے تیار ہوئے تو حضرت عمرؓ فرماتے میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ تو آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا بخدا میں نے اتنا کہا ادھر سے آیت نازل ہوئی کہ’’ جب ان میں سے کوئی مرے تو آپ ان پرنما نہ پڑھیں ‘‘اس کے علاوہ تقریبا 33آیات کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ وہ حضرت عمر کی رائے کے مطابق نازل ہوئیں ہیں۔
حضرت عمر کی کرامات
ایک بار حضرت عمرؓ نے ساریہ نامی ایک شخص کو لشکر کا امیر بنا کر جہاد پر بھیجا کافی عرصے کے بعد آپ خطبہء جمعہ ارشاد فرمارہے تھے تو دوران خطبہ آپ نے فرمایا ’’یا ساریہ الجبل‘‘ یعنی ساریہ پہاڑ کی طرف ،لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے بعد از خطبہ استفسار پر حضرت عمر نے بتایااللہ نے سارے پردے ہٹاکر مجھے منظر دکھایا کہ میدان جنگ میں مسلمانوں پر پہاڑ کے اُس طرف سے دشمن حملہ آور ہونے کو ہے میں نے آواز لگائی اللہ نے وہ آواز ساریہ تک پہنچادی اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمادی ،اسی طرح کا ایک اور واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص سے حضرت عمر ؓنے پوچھا تیرا نام کیا ہے اس نے بتایا جمرہ(چنگاری)آپنے دریافت کیا باپ کا نام اس نے کہا شہاب (شعلہ)آپ نے سوال کیا قبیلے کا نام ؟ جواب دیا حرقہ(آگ) آپنے پوچھا وطن اسنے کہا حرّہ (گرمی )آپنے کہا حرّہ کہاں واقع ہے اس نے کہا اس نے کہا نظمی (شعلہ) میں یہ سنکر آپنے فرمایا اپنے اہل وعیال کی خبر لو وہ تو جل مرے ،وہ شخص گھر گیاتو واقعی اسکا گھر جل چکا تھا ۔
جب عمرو بن العاص نے مصر فتح کیا تو بہت سے لوگ حضرت عمر ابن العاص کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہاں دریائے نیل بہتا ہے۔ جب وہ خشک ہو جاتا ہے تو ہمارے پرانے دستور کے مطابق اس میں ایک کنواری لڑکی خوب سجا کر ڈالدیتے ہیں تو وہ جاری ہو جا تا ہے ،حضرت عمرو ابن العاص ؓنے فرمایا یہ سب لغو باتیں ہیں اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام ان تمام باتوں کو مٹانے آیا ہے چنانچہ آپ نے اجازت نہ دی اب چونکہ وہاں کے سب لوگوں کی کھیتی کا دارومدار اسی دریاکے پانی پر ہوتا تھا پانی خشک ہوگیا اور لوگ جلا وطنی کرنے لگے تو حضرت عمر و ابن العاص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا۔حضرت عمرنے آپ کو جوابی خط لکھا اس میں دریا کے نام بھی ایک خط تھا کہ’’ بندہ الٰہی عمر امیر المئومنین کی طرف سے دریائے نیل کو معلوم ہو کہ اگر تو خود بخود جاری ہوتاہے تو مت جاری ہو ،اور اگرتجھے اللہ تبارک وتعالیٰ جاری فرماتا ہے تو میں اللہ واحد قہار ہی سے استدعا کرتا ہوں کہ تجھے جا ری کردے ۔‘حضرت عمرو ابن العاس نے یہ رقعہ دریا میں ڈالدیا اگلے دن دریا کے اندر پانی کی سطح پہلے سے بلند تھی اور آج تک جاری ہے ۔
حضرت عمر کی جانب سے
گورنروں کے لیے شرائط نامہ
آپ جب کسی شخص کو والی مقرر فرماتے تھے تو یہ شرائط رکھتے تھے اور ضبط تحریر میں لاتے تھے ،کہ وہ تر کی گھوڑے پر سوار نہ ہو ،اعلیٰ درجے کی غذا نہ کھائے،باریک ریشمی کپڑا نہ پہنے ،اور اہل حاجت کے لیے اپنے دروازے بند نہ کرے اگر ایسا کریگا تو وہ سز کا مستحق ہو گا ،(آپ والیوں کو بھی احکام کی خلاف ورزی پر سزا دیتے تھے)
حضرت عمر بیت المال سے
کیا حاصل کرتے تھے
حضرت عمر ؓ خود فرماتے ہیں کہ عمر کے لیے بیت المال سے سوائے دو جوڑے کپڑوں کے ایک سردی اور ایک گرمی کے لیے ،حج اور عمرے کا خرچ ،اپنی اور گھروالوں کی غذاجیسی عام مسلمان استعمال کرتے ہیں ،کے علاوہ کوئی اور چیز جائز نہیں ۔لوگوں کا بیان ہے کہ قحط سالی میں جو ایک سال تک چلی تھی آپ نے مسلسل ایک سال تک گوشت نہیںکھایا ،سادگی کا یہ عالم تھا کہ آپ اکثر صوت کا لباس پہنتے تھے جس میں چمڑے کا پیوند لگا ہوا ہوتا تھا حالانکہ آپ امیر المومنین تھے،اور اسی لباس میں بازار تشریف لے جایا کرتے تھے اور اہل بازار کو تنبیہ فرمایا کرتے تھے ،عبد اللہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓکے ساتھ حج کیا ،سفر کے دوران آپ جب کسی منزل پر پڑا ئو ڈالتے تھے تو کوئی خیمہ یا شامیانہ نہیں لگواتے تھے بلکہ یونہی کسی درخت کے نیچے کمبل وغیرہ ڈال کر آرام فرمالیا کرتے تھے ،عبداللہ بن عامرکا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا یا اورکہا کاش میں اس تنکے کی طرح ہوتا ،کاش میں کچھ نہ ہوتا ،کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،حضرت عمر ؓفرماتے تھے کہ مجھے سب سے زیا دہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو مجھے میرے عیب سے آگاہ کرے ، حضرت عمرؓ کو جب کبھی غصہ آجایا کرتا تب آپ کے سامنے کوئی آیت پڑھ دیتا یا اللہ کا خوف یاد دلاتا تھا تو فوراً آپکا غصہ ختم ہوجایا کرتاتھا ۔
تاریخ خلافت اور فتو حات
حضرت عمرؓ فاروق حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حیات ہی میں جمادی الثانی 13 ؁ھ خلافت کے لیے نامزد ہوگئے تھے ،امام زہری ؒفرماتے ہیں کہ جس روز صدیق اکبر ؓکا انتقال ہوا سی روز آپ نے خلافت سنبھال لی یعنی 22ج مادی الثانی 13؁ ھجری کو!آ پ کے دور خلافت میں بے حد فتو حات ہوئیں یعنی 14 ھ ؁ میں دمشق ،صلح وجنگ سے سے فتح ہوا ،اسکے بعد حمص ،بعلبک پر بذریعہ صلح قابض ہوئے، اور اسی سال بصرہ فتح ہوا ۔،پھر 15 ؁ ھ میں ملک اردن فتح ہوا کنگ سے ،اور طبریہ صلح سے مسلمانوں کے قبضے میں آیا یرموک و قادسیہ پر زبر دست جنگیں ہوئیں ،اسی سال حضرت سعد نے کوفہ کا شہر بسایا ،اسی سال حضرت عمر ؓنے لوگوں کی جاگیریں مقرر کیں ،دفاتر کھولے اور لوگوں کو عطیات بخشے، 16 ؁ھ میں اہواز اور مدائن فتح ہوئے ،حضرت سعدابن ابی وقاص نے ایوان کسریٰ میں نماز جمعہ اداکی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عراق کی مملکت میں ماہ صفر میںپڑھاگیا۔اسی سال یزدجر بن کسریٰ نے شکست فاش اٹھائی اوردوسرے مقام کی طرف بھاگ گیا ،اسی سال تکریت فتح ہوا اور وہاں تو حضرت عمر بنفس نفیس تشریف لے گئے ،پھر بیت المقدس فتح ہوا اور آپنے شہر جابیہ میں اپنا مشہور خطبہ دیا ،اسی سال قنسرین اور سردج جنگ سے اور حلب اور انطاکیہ اور منبح صلح وصفائی سے فتح ہوئے ،اسی سال حضرت علی المرتضیٰ کے مشورے سے سال ماہ ربیع الاول میں سال ہجری کا اجرا ہوا۔، 17 ؁ھ میں آپنے مسجد نبوی کی توسیع کا کام کیا ،اہواز کا شہر بھی اسی سال فتح ہوا ، 18ھ میں نیشاپور صلح سے اور حلوان جنگ سے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ،سمساط ،حرّان ،نصیبین ،اور بعض جزائر جنگ سے بعض مئورخین کا خیال ہیکہ صلح سے فتح ہوئے ! ۱۹ ؁ھ میں قیساریہ جنگ سے قبضے میں آیا ، 20 ؁ھ میں مصر جنگ کے بعد فتح ہوا ،قیصر روم کا انتقال ہوا ،اور حضرت عمر نے خیبر اور نجران سے یہودیوں کو جلا وطن کیا ،خیبر اور وادی القریٰ کو تقسیم کردیا ، 21 ؁ھ میں جنگ عظیم کے بعد اسکندریہ اور نہاوند فتح ہوئے ، ان شہروں کے فتح ہونے کے بعد ملک عجم میں کوئی سر کش جماعت باقی نہ رہی ، 22 ؁ھ میں آذر بائیجان بقول بعض جنگ اور بقول بعض صلح سے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ،اسکے بعد دینور ،ماسبذان، اور ہمدان جنگ سے فتح ہوئے ، 23 ؁ھ میں مکران ، کرمان ،سبحستان ،اور اصفہان اور اسکے اطراف کے علاقے قبضے میں آئے ،اور اسی سال کے آخر میں حضرت عمر کی شہادت واقع ہوئی ۔
اوّلیات عمر
امام عسکری کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنکو امیرالمومنین سے موسوم کیا گیا ، آپ کی اولیات میں خاص طور پر قابل ذکر باتیں یہ ہیں ، نمبر اول آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تاریخ وسال ہجری جاری کیا نمبر۲ بیت المال قائم کیانمبر۳ماہ رمضان میں تراویح باجماعت شروع کروائی نمبر۴ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے راتوں کو آبادی کا گشت کیا نمبر۵ مذمت کرنے والے لوگوں پر حد جاری فرمائی اور سزائیں دیں نمبر۶ شراب پینے والوں کو اسی کوڑے لگوائے نمبر۷ متعہ کی حرمت کو عام کیا اور اسے کسی فرد کے لیے بھی جائز نہ رکھا نمبر۸ جن باندیوں سے اولاد ہو جائے ان کی خریدو فروخت ممنوع قرار دیدی نمبر۹نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا حکم دیا نمبر۱۰دفاتر قائم کئے اور وزارتیں مقرّر فرمائیں نمبر۱۱سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں نمبر۱۲مصرسے بحر ایلہ کے راستے مدینہ منوّرہ غلہ پہچانے کابندوبست کیا نمبر۱۳صدقہ کامال اسلامی امور میںخرچ کرنے سے روکا نمبر۱۴ترکہ اور ورثے کے مقرر ہ حصوں کی تقسیم کا نفاذ فرمایا نمبر۱۵ گھوڑوںکی زکوٰۃ وصول کی نمبر۱۶ ا ٓپ ٓنے ہی سب سے پہلے درّہ ایجاد کیا(جوآجکل جرنیل اسکی نشانی رکھتے ہیں ) نمبر۱۷ شہروں میں قاضی مقرر فرمائے نمبر ۱۸ کوفہ، بصرہ، شام ،مصر ،جزیرہ اور موصل شہر آباد ہوئے ۔،
حضرت عمر ؓنے منیٰ سے ابطح واپس آتے ہوئے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اسکی پشت سے تکیہ لگا کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کراسطرح دعا مانگی ! الٰہی میں بوڑھا ہوگیا ہوں میرے قویٰ میں ضعف آگیا ہے رغبتوں میں انتشار آگیا ہے اس سے قبل کہ میں ناکا رہ ہوجائوں اور میری عقل میں فتور پیدا ہوجائے تو مجھے اپنے پاس طلب فرمالے، اسلم نے ایک اور دعا حضرت عمر کی نقل کی ہے کہ الٰہی! مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اپنے محبوب کے شہر میں مجھے موت دے۔ اور ابھی ذوالحجہ ختم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ آپ شہید کر دئے گئے ۔
اسباب شہادت
امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ کسی نابالغ لڑکے کو باہر سے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ،اکبار حاکم کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کوفہ سے آپ کو لکھا کہ یہاں ایک بہت ہی ہوشیار اور کاریگر لڑکا موجود ہے ،لوہار اور بڑھئی کاکام اچھی طرح جانتا ہے ،نقّاشی بھی بہت عمدہ کرتا ہے ،اگر اجازت ہو تو اسکو مدینہ بھیجدوں تاکہ اہل مدینہ کے کام آسکے ، آپ نے اجازت دیدی ،یہاں آکر اس نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے شکایت کی کہ حاکم کوفہ مجھ سے سو 100درہم ٹیکس زیا دہ وصول کرتا تھا ،آپ ؓ نے فرمایا 100 درہم زیادہ تو نہیں ،حضرت عمر کا جواب اسکو ناگوار گزرا اور وہ غصہ سے بڑبڑاتا ہوا واپس ہوا ، چندروز بعد حضرت عمر نے اسے بلواکر کہا کہ تو کہتا تھا کہ اگر آپ کہیں تو میں ایسی چکی تیار کردوں جو ہوا سے چلے ’’اس نے کڑے تیوروں سے جواب دیا کہ ،،میں آپ کے لیے ایسی چکی تیار کردوں گا جس کا لوگ ہمیشہ ذکر کیا کرینگے،جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ لڑکا مجھے قتل کی دھمکی دیکر گیا ہے (اس لڑکے کانام ابو لولو تھا )۔
آپ کی شہادت تاریخ ووقت
ابولولو کو جو امیر المو منین کا جواب نا گوار گزرا کہ اس نے سمجھا کہ آپ ؓ مغیرہ بن شعبہ ؓ کو تنبیہ فرما ئینگے بس اسوقت سے اس ’’ابو لولو‘‘ نے ایک خنجر بنا کر زہرمیں بجھا کر اپنے پاس رکھ لیا ، 16 ذی الحجہ 23 ؁ھ بروز چہار شنبہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی نماز کی صفیں درست کروارہے تھے کہ’’ ابو لولو‘‘ نے آپ کے شانے اور پہلو پر خنجر کے دو وار کئے جس سے آپ گر پڑے پھر اس نے خنجر چلانا شروع کر دیا تو تیرہ نمازی اور زخمی ہو گئے ،اتنے میں ایک عراقی نے اسپر کپڑا ڈالدیا تاکہ اس کو پکڑا جا سکے ابو لولو نے جب دیکھا کہ وہ قابو ہو چکا ہے اسنے خود کشی کرلی اور جاں بحق ہو گیا،سورج نکلنے کے قریب تھا حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف نے دو چھوٹی سورتوں کے ساتھ نماز پڑھائی اور حضرت عمر کو آپ کے مکان پر لائے اوّلاً آپ کو نبیذ پلائی مگروہ آ پ کے زخموں کے راستے باہر نکل آئی پھر آپ کو دودھ پلایا وہ بھی آپ کے زخموں کے راستے باہر نکل آیا ،اتنے میں حضرت عمر نے کہا شکر ہے میری شہادت کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہ ہوئی ’’ابولولو ‘‘مجوسی تھا ،پھر آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے فرمایا کہ بتائو ہم کتنے مقروض ہیں ۔انہوں نے حساب کرکے بتایا کہ تقریباًچھیاسی ہزار روپیہ قرض ہے !آپ نے ارشاد فرمایا یہ رقم ہمارے مال سے اداکرنا اور اگر قرض پورانہ ہو تو بنو عدّی سے مانگنا ،پھر بھی کم پڑے تو قریش سے لینا پھر فرمایا جائو ام المومنین حضرت عائشہؓ سے جاکر کہو کہ عمر یہ اجازت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دونوں دوستوں کے پاس دفن ہو !ابن عمر حضرت عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمر کی خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے رکھی تھی مگر آج میں اپنی ذات پر حضرت امیر المومنین کو ترجیح دیتی ہوں۔ ابن عمر نے آکر عرض کیاکہ اجازت مل گئی یہ سن کر آپ نے خداکا شکر ادا کیا ،اور پھر فرمایاکہ میں اپنے بعد منتخب ہونیوالے خلیفہ کو وصیّت کرتا ہوں کہ وہ خداسے ڈرتارہے ،اور تمام مہاجر وانصار اور تمام رعایا کے ساتھ نیکی سے کام لے اور اسی قسم کی بہت سی وصیّتیں فرماتے ہوئے آپنے جان جان آفریں کے سپرد کردی ۔
حضرت عمرکی نماز جنازہ و تدفین
حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ حضرت صہیب ؓ نے پڑھائی ، جس وقت آپ کا جنازہ تیار ہوگیا تو لوگ آپ کا جنازہ لیکر چلے ،حضرت عبداللہ ابن عمر ؓنے حضرت عائشہ کے پاس پہنچ کر سلام عرض کیا اور والد محترم کے دفن کی اجازت چاہی انہوںنے اجازت دیدی اور آپ کو آپ کے دوستوں (رسول اللہ ﷺ اور صدیق اکبرؓ)کے پہلو میں یکشنبہ کے دن چاند رات کو سپرد خاک کردیا گیا بوقت شہادت آپکی عمر 63سال تھی بعض کاقول ہے کہ 66برس عمر تھی ،روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے کو وصیّت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں بے جا خرچ نہ کرنا کیونکہ میں اگر اللہ کے نزدیک بہتر ہوں تو وہ اس معمولی کفن کو تبدیل کردیگا اور اگر میں اسکے نزدیک بہتر نہیں ہوں تو وہ یہ کفن بھی چھین لیگا ،اور میری قبر لمبی چوڑی نہ بنانا کہ اگر میں خداکے نزدیک بہتر ہوں تو وہ میری قبر کو حدّ نگاہ تک وسیع کردیگا ورنہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو اتنی تنگ کر دی جائیگی کہ پسلیاں ٹوٹ جائینگی۔،ابن عباس نے بعد وفات حضرت عمرؓ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی عرق آلود ہے۔ انھوں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کس حال میں ہیں آپنے فرمایا ابھی ابھی حساب وکتاب دیکر فارغ ہواہوں ،اگر اللہ تعالیٰ رئوف الرحیم نہ ہوتا تو میری عزت برباد ہونے میں کوئی کسر باقی نہ تھی ۔
( ماخذ تاریخ الخلفاء از امام حافظ الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی نوراللہ مرقدہ)


متعلقہ خبریں


بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بحرین میں ایک دوا کی خریداری کے لیے 400 سے زائد جعلی نسخے دینے پر تین افراد کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جن میں سے دو ایشیائی شہری ہیں جنہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی نے میڈیکل اسٹورز کی معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی دوا حیران کن طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔تحقیقات سے پتا چلا کہ اعصابی درد میں استعمال ہونے والی اس دوا کے نسخے چند ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل...

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

مسجد اقصی کے باہر گذشتہ روز ہزاروں افراد نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے خلاف شدید نعرے بازے کی اور انہیں خائن اور غدارقرار دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے باہر مظاہرے کا اہتمام اسلامک ایکشن محاذ کی طرف سے کیا گیا ۔نماز ظہر کے بعد ہزاروں افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے سات...

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان اور صہیونی ریاست کیساتھ معاہدے کرنے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق منامہ میں حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ منامہ میں ایک مظاہرہ کیاگیا جس میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی شدید مذمت کی۔ادھر سماجی کارکنوں نے منامہ میں اسرائیل ۔ عرب دوستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تفص...

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے مطابق تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گ...

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بھارت میں ہفتے کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک بیان میں کہاگیاکہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ان گرفتاریوں کے لیے مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ گروہ بھارت میں متعدد اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا، جب کہ ان حملوں کا ممکنہ مقصد عام افراد کو ہلاک...

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک میں بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے ''تھائی لینڈ عوام کا ہے '' کے نعرے کے ساتھ دارالحکومت میں مارچ کیا اور ملک میں بادشاہت کے وجود پر سوال اٹھا ئے ۔ گزشتہ دو ماہ سے بنکاک میں قریب روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے ، جس میں نوجوان طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2014 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پرایوت چن اوچا مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہی خاندان ملکی سیا...

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریبا نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیو ریسرچ سینٹرکے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے ۔ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ویکسین سے متعلق تحفظات کی وجہ یہ ہے ک...

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈان کی وجہ سے برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش ائیرویز کے سی ای او نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے دوران پراوزیں اڑانے سے ڈرنے کی وجہ سے حالات فوری معمول پر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں لیکن ائیرلائن کی جانب سے موسم سرما کا سیزن گزارنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔برٹش ائیرویز کے سی ای او کا کہنا ت...

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس...

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے وجود - منگل 15 ستمبر 2020

دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ دوڑ علامتی طور پر ایک نئے طاقت کے اُبھار اور عالمی سطح پر نئے رجحانات کی تشکیل کا سبب بھی یقینی طور بنے گی۔ اس ضمن میں عالمی ذرائع ابلاغ پر روزانہ کی بنیاد پر اندازے ظاہر کیے جاتے ہیںاور اس دوڑ میں شامل ملکوں میں جاری تحقیقات کو جگہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اب یہ بات زیادہ زور دے کر دہرائی جارہی ہے کہ چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے ۔ برطانوی ...

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے