وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خلیفۂ ثانی امیرالمومنین سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ،سوانح وسیرت

جمعه 22 ستمبر 2017 خلیفۂ ثانی امیرالمومنین سیدنا	عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ،سوانح وسیرت

مفتی محمد طاہر مکی
تاریخ شہادت یکم محرم الحرام
آپکا نسب نامہ
حضرت عمرؓ کانسب نامہ یہ ہے عمربن خطاب بن عبد العزیٰ بن ریاح بن قرطہ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی ۔
اسلام کس عمر میںقبول کیا
امیر المومنین ابو حفص القرشی العددی الفاروق ؓ سن 6 ہجری میں مشرف باسلام ہوئے اسوقت آپکی عمر 27 برس تھی ۔امام ذہبی اور امام نووی کاقول ہے کہ آپ واقعہء فیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے،آپ اشراف واکابر قر یش میں سے تھے، آپکے خاندان کی بہت زیادہ عزت تھی یہاںتک کہ اگر کبھی عرب کے اندر یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ جنگ ہوجایا کرتی تھی تو آپ ہی کے خاندان کے افرادصلح و صفائی کے لیے سفیر بنکر جایا کرتے تھے آپ اسوقت اسلام لائے جب چالیس مرد،اور گیارہ عورتیں اسلام قبول کرچکے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد ہی مکہ میں اسلام کاعام چرچہ ہوا اور مسلمانوں کو حد درجہ مسرت ہوئی اور آپکا شمار بھی سابقین الاولین میں ہوتا ہے یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں ۔آپ عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشا رت دی گئی تھی ۔آپکی ذات گرامی خلفائے راشدین میں شامل ہے۔ آپکو رسول اللہ ﷺ کے سسر ہونے کاشرف بھی حاصل ہے ۔آپ علماء وانتہاء درجہ کے زاہدین صحابہ کرام میں شمارہوتے ہیں ۔آپ سے رسول اللہ ﷺ کی539 ،احادیث مروی ہیں ۔
حضرت عمر سے احادیث کی
روایت کرنیوالے اصحاب
آپ سے احادیث روایت کرنے والے اصحاب میں حضرت عثمان ابن عفان ؓ،علی ؓ،طلحہ، سعدؓ، ابن عوف ،ؓابن مسعود،ؓ ابوذر،ؓ عمرابن عبسہ ،ؓ آپ کے فرزند عبداللہ،ؓ ابن عباس،ؓ ابن زبیر،ؓ انس،ؓ ابو ہریرہ،ؓ عمر ابن عاص ،ؓؓ ابو موسیٰ اشعری،ؓ البراء بن عازب ،ؓ ابو سعید الخدری،ؓرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت دیگر صحابہ ؓ شامل ہیں۔
(جاری سوانح حیات
حضرت عمرؓ صفحہ دوئم)
حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میںچند احادیث
ترمذی نے ابن عمر ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ الٰہی عمر ابن خطاب یا ابو جہل بن ہشام میں سے جس کو چاہے تو مسلمان بنا کر اسلام کو غلبہ عطا فرما ۔ابن عباس کی روایت میں کسی دوسرے شخص کا نام درج نہیںصرف حضرت عمر کا ہی ذکر ہے، لیکن احمد ؒنے حضرت عمر سے اسطرح روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے تعرض کی غرض سے گھر سے چلا تو میں نے آپ کو مسجد میں پایا ۔پس میں کسی قدر پیچھے ٹھہر گیا آپ نے سورۃ الحاقہ کی تلاوت شروع فرمائی میں قرآن کے اس اثر سے جو دل کو متاثر کررہا تھا حیران تھا میں نے اپنے دل میں کہا بخدا یہ شخص مجھے شاعر معلوم ہوتا ہے (جو اسقدر دلنشین کلا م پڑھ رہا ہے) قریش بھی ایسا ہی کہتے ہیں ،میرے دل میں خطرہ گزرا تھا کہ آپ اس آیت پر پہنچے جسکا ترجمہ یہ ہے کہ’’ یہ قول رسول کریمﷺ کا ہے یہ کسی شاعر کا قول نہیں ۔تم میں سے تھوڑے ہی لوگ ایمان والے ہیں‘‘یہ آیت سنتے ہی اسلام نے میرے دل میں گھر کرلیا اور مجھ پر اس کی عظمت ظاہر ہو گئی ۔
حضرت عمر کا قبول اسلام
طبرانی ،ابو نعیم ،بیہقی وغیرہ نے حضرت عمر کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح بیان کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں رسالت ماٰب ﷺ کا سخت ترین دشمن تھا ۔موسم گرما میں ایکدن میںمکہ کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا اور کہااے عمر بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم خود کو بہت کچھ سمجھتے ہواور تمہارے گھر میں وہ کام ہوجائے کہ تم کواس کی خبر تک نہ ہو ،میں نے کہا کیا ہوا ،اس شخص نے کہا ہوتا کیا تمہاری بہن مسلمان ہوگئی ہے !یہ سنتے ہی میں جہاں تھا وہیں سے غصے سے لوٹا اور سیدھا بہن کے مکان پر گیا دروازہ کھٹکھٹایا اندر سے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا عمر! اندر جو لوگ تھے وہ سب گھبراگئے وہ ایک کتاب کو پڑھ رہے تھے جلدی میں اسے اٹھانا بھول گئے وہ کتاب باہر ہی رکھی رہی ،میری بہن نے دروازہ کھولا اسے دیکھتے ہی میں نے کہا اے دشمن جان !تو بے ا یمان ہوگئی اپنے دین سے ہٹ گئی یہ کہہ کر جو کچھ میرے ہاتھ میں تھا میں نے اس کے سر پر دے مارا ،سرسے خون بہنے لگا ،بلاآخر میں نے وہ کتاب مانگی بہن نے کہا تم اس کو چھو نے کے اہل نہیں ہوا س کو پاک لوگ ہاتھ میں لے سکتے ہیں پھر میرے اصرار پر مجبور ہو کر اسنے وہ کتاب مجھے دی۔ اس کتاب کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا تھا’’ اللہ ‘‘کے نام کی ہیبت سے میں کانپ گیا پھر آگے دیکھا تو لکھا تھا’’ سبّح للہ ما فی السمٰوٰت والارض‘‘ میں پھر لرزہ براندام ہوگیا آگے جب میں اس آیت پر پہنچا ’’آمنو اباللہ ورسولہ‘‘ تو بے ساختہ میری زبان سے نکلا اشہد ان لا الٰہ الااللہ ،بس یہ پڑ ھنا تھا کہ سب گھر والے میری طرف دوڑے اور مجھے مبارکبا دینے لگے۔
پیر کے روز رسول اکرم ﷺ پہلے ہی دعا فرما چکے تھے کہ الٰہ العالمین اپنے دین کے ان دو دشمنوں ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے جسے تو چاہے اس کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ عطا فرما ۔حضور ﷺ اسوقت کوہ صفا کی وادی کے مکان میں تشریف فرما تھے یہ لوگ مجھے وہاں لے گئے میں نے وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر سے پوچھا کون ؟میں نے عرض کیا میں عمر ہوںچونکہ تمام لوگ میری عداوت سے واقف تھے چنانچہ میرا نام سن کر کسی کو دروازہ کھولنے کی جرأت نہ ہوئی یہانتک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دروازہ کھولدو ،لوگوں نے دروازہ کھول دیا اور دو آدمیوں نے میرے بازو پکڑ لیے اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے ،آپﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو ،پھر آپ نے میرا دامن پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرما یا عمر مسلمان ہوجاؤ !الٰہی عمر کو ہدایت دے !میں نے فوراًکلمہ شہادت پڑھا اور مسلمانوں نے اس زور سے نعرئہ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کی گلیوں میں اسکی آواز پہنچی لوگ ڈرگئے اور مجھ سے لڑنے کی ہمت کسی کو نہ ہوئی ،میں باہر نکلاتھوڑی دھینگا مشتی ضرور ہوئی مگر میں ضربات سے محفوظ رہا ،یہاں سے میں اپنے ماموں ابو جہل بن ہشام کے ہاں گیا وہ کفار میں با اثر سمجھا جاتا تھا ،میں نے اس کے دروازے پر دستک دی آوازآئی کون ؟ میں نے کہا عمرہوں اور میں نے تیرا دین چھوڑدیا ہے ،اس نے کہا عمر ایسا مت کرنا یہ کہہ کر اس نے خوف کے مارے اندر سے دروازہ بند کردیا،الغرض یوں حضرت عمر ؓ ایک ایک کافر کے ہاں گئے اورکہا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں تم مجھ سے کیوں نہیں لڑتے دوسرے مسلمانوں کو تو تم نے پریشان کر رکھا ہے اور مجھ سے آنکھ بھی نہیں ملاتے ،مگر کس میں جرأت تھی کہ عمر کے آگے آئے ۔
حضرت عمر کالقب فاروق کب پڑا
ابن سعد ذکوان نے فرمایا کہ میں نے امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے معلوم کیا کہ حضرت عمر کا لقب فاروق کس نے رکھا ؟تو انہوں نے جواب دیا رسول خدا نے ،حضور ﷺ نے فرمایا اسلام ظاہر ہوگیا اور حق وباطل کے درمیان فرق پیدا ہوگیا ۔
مسجد حرام میں مسلمانوں کا نماز پڑھنا
ابن سعد اور طبرانی ؒنے حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کا اسلام گویا اسلام کی فتح تھی آپ کی ہجرت، نصرت، اور آپ کی امامت ،رحمت تھی۔ ہم میں یہ ہمت وطاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ شریف میں نماز پڑھ سکیں لیکن جب حضرت عمر نے اسلام قبول کرلیا تب ہم بیت اللہ میں دا خل ہوئے ۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سب سے اول عمر نے علیٰ الاعلان اپنا اسلام ظاہر کیا ۔حضرت صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر ایمان لائے تب اسلام ظاہر ہوا (اس سے قبل لوگ اپناا سلام لانا ظاہر نہیں کر تے تھے )اورہم کعبہ کے گرد بیٹھنے ،طواف کرنے ،مشرکین سے بدلہ لینے اور انکو جواب دینے کے قابل ہوگئے۔حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے سوا کسی کو نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو ،جس وقت حضرت عمر ہجرت کے ارادے سے نکلے تو آپ نے تلوار اٹھائی اور اپنے شانے پر لٹکائی ،ترکش سے تیرنکال لیا پھر کعبۃ اللہ میں تشریف لا ئے و ہاں کچھ اشراف قریش بیٹھے تھے انکے سامنے سات مرتبہ طواف کیامقام ابراہیم پر دو رکعت نفل ادا کئے اور پھر اشراف قریش کے پاس آکر ایک ایک سے الگ الگ فرمایا کہ تمہاری صورتیں بگڑیں ،تمہارا ناس ہو جائے !ہے کوئی تم میں جو اپنی ماں کے بیٹے کو یتیم اوربیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ؟آئے اور جنگل کے اس طرف آکر مجھ سے مقابلہ کرے ! مگر وہاں کس میں دم تھا کہ مراد رسولﷺ کے ان الفاظ کا جواب دیتا،یا آپکا پیچھا کرتا ۔
فضیلت عمر احادیث کی روشنی میں
امام بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک روز فرمایا کہ میں نے خواب میں (نبی کا خواب سچا ہوتا ہے )جنت کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ اس میں ایک عورت جنت کے قصر کی جانب بیٹھی ہوئی وضو کررہی ہے،میں نے دریافت کیا کہ یہ محل کس کا ہے ؟فرشتوں نے جواب دیا عمر کا ۔ایک اور جگہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دودھ پیا پھر بچا ہوا دودھ عمر کو دیدیا ،صحابہ ؓ نے دریافت کیا کہ اس کی تعبیر کیا ہوئی ؟تو آپ نے فرمایاکہ ’’ علم ‘‘ایک بار پیغمبر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اے عمر !مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے جس راستے سے تم گزرو گے اس راستے سے شیطا ن نہیں گزرے گا۔
ترمذی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جن وانس وشیاطین کو عمر سے بھاگتے دیکھتا ہوں ۔ابن ماجہ اور حاکم نے ابی بن کعب سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث روایت کی ہے کہ وہ شخص جس سے خدا عز وجل سب سے پہلے مصافحہ فرمائے گا اور سلام بھیجے گا پھر ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرے گا وہ عمر ؓ ہے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر کی جانب اشارہ فرماتے ہوئے ارشادفرمایا کہ یہ وہ ہستی ہے جس کے باعث فتنہ و فساد کے دروازے بندہیں اور جب تک یہ زندہ رہیںگے اسوقت تک تم میں کوئی شخص پھوٹ یا فتنہ وفسادنہیں ڈال سکے گا ۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓکی روایت کے مطابق شیطا ن حضرت عمر سے ڈر کر بھاگتاہے ایک اور حدیث میں آتاہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل مجھے کہتاتھاکہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا (اسلام کو عمر کی موت سے بہت نقصان ہوگا)۔
حضرت عمر سے محبت اور عداوت
حضرت ابو سعید خدری ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے عمرؓ سے بغض رکھا اسنے مجھ سے بغض رکھا اورجس شخص نے عمر سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی،حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ جب تم صالحین کا ذکر کرو تو عمر کو کبھی فراموش نہ کرنا ۔
حضرت عمر کی رائے کے مطابق نازل ہونے والی آیات قرآنی‘نمبر1…
حضرت عمر کی رائے تھی کہ امہات المئومنین رسول اللہ سے ملنے کسی غیر شخص کے آگے نہ آئیں اور یہ بات آپنے رسول اکرم ﷺ کو کہی اتنے میں اللہ نے قرآن میں پردے کا حکم دیدیا ۔،نمبر2…حضرت عمر ؓنے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے خواہش ظاہر کی کہ کاش ہم مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بنا تے تو اس کے بعد آیت نازل ہوئی جس کاترجمہ یہ ہے کہ’’ آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیجئے‘‘ ۔ نمبر3…ازواج مطہرات نے نان ونفقہ کے بارے میں متحد ہو کر کچھ عرض کیا تو اسو قت جو الفاظ حضرت عمر ؓنے کہے بالکل وہی الفاظ اللہ نے قرآن میں نازل فرمادئے۔نمبر 4…تحریم شراب ۔نمبر5 … اسیران بدرکے قضیہ کے بارے میں ۔نمبر6 … ایک آیت نا زل ہوئی جس کا مفہوم یہ تھا کہ ہم نے انسان کو گندھی ہوئی مٹی سے بنایا ،تو حضرت عمر کی زبان سے بے ساختہ نکلا ’’ فتبارک اللہ احسن الخالقین ‘‘اسکے بعد ہی یہ آیت نازل ہوگئی نمبر7…جب رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابیّ مرا تو اس کے لوگو ں نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا اور درخواست کی کہ اس کا جنازہ آپ پڑھائیں جب آپ ﷺ جانے کے لیے تیار ہوئے تو حضرت عمرؓ فرماتے میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یہ تو آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا بخدا میں نے اتنا کہا ادھر سے آیت نازل ہوئی کہ’’ جب ان میں سے کوئی مرے تو آپ ان پرنما نہ پڑھیں ‘‘اس کے علاوہ تقریبا 33آیات کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ وہ حضرت عمر کی رائے کے مطابق نازل ہوئیں ہیں۔
حضرت عمر کی کرامات
ایک بار حضرت عمرؓ نے ساریہ نامی ایک شخص کو لشکر کا امیر بنا کر جہاد پر بھیجا کافی عرصے کے بعد آپ خطبہء جمعہ ارشاد فرمارہے تھے تو دوران خطبہ آپ نے فرمایا ’’یا ساریہ الجبل‘‘ یعنی ساریہ پہاڑ کی طرف ،لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے بعد از خطبہ استفسار پر حضرت عمر نے بتایااللہ نے سارے پردے ہٹاکر مجھے منظر دکھایا کہ میدان جنگ میں مسلمانوں پر پہاڑ کے اُس طرف سے دشمن حملہ آور ہونے کو ہے میں نے آواز لگائی اللہ نے وہ آواز ساریہ تک پہنچادی اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمادی ،اسی طرح کا ایک اور واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص سے حضرت عمر ؓنے پوچھا تیرا نام کیا ہے اس نے بتایا جمرہ(چنگاری)آپنے دریافت کیا باپ کا نام اس نے کہا شہاب (شعلہ)آپ نے سوال کیا قبیلے کا نام ؟ جواب دیا حرقہ(آگ) آپنے پوچھا وطن اسنے کہا حرّہ (گرمی )آپنے کہا حرّہ کہاں واقع ہے اس نے کہا اس نے کہا نظمی (شعلہ) میں یہ سنکر آپنے فرمایا اپنے اہل وعیال کی خبر لو وہ تو جل مرے ،وہ شخص گھر گیاتو واقعی اسکا گھر جل چکا تھا ۔
جب عمرو بن العاص نے مصر فتح کیا تو بہت سے لوگ حضرت عمر ابن العاص کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہاں دریائے نیل بہتا ہے۔ جب وہ خشک ہو جاتا ہے تو ہمارے پرانے دستور کے مطابق اس میں ایک کنواری لڑکی خوب سجا کر ڈالدیتے ہیں تو وہ جاری ہو جا تا ہے ،حضرت عمرو ابن العاص ؓنے فرمایا یہ سب لغو باتیں ہیں اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام ان تمام باتوں کو مٹانے آیا ہے چنانچہ آپ نے اجازت نہ دی اب چونکہ وہاں کے سب لوگوں کی کھیتی کا دارومدار اسی دریاکے پانی پر ہوتا تھا پانی خشک ہوگیا اور لوگ جلا وطنی کرنے لگے تو حضرت عمر و ابن العاص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا۔حضرت عمرنے آپ کو جوابی خط لکھا اس میں دریا کے نام بھی ایک خط تھا کہ’’ بندہ الٰہی عمر امیر المئومنین کی طرف سے دریائے نیل کو معلوم ہو کہ اگر تو خود بخود جاری ہوتاہے تو مت جاری ہو ،اور اگرتجھے اللہ تبارک وتعالیٰ جاری فرماتا ہے تو میں اللہ واحد قہار ہی سے استدعا کرتا ہوں کہ تجھے جا ری کردے ۔‘حضرت عمرو ابن العاس نے یہ رقعہ دریا میں ڈالدیا اگلے دن دریا کے اندر پانی کی سطح پہلے سے بلند تھی اور آج تک جاری ہے ۔
حضرت عمر کی جانب سے
گورنروں کے لیے شرائط نامہ
آپ جب کسی شخص کو والی مقرر فرماتے تھے تو یہ شرائط رکھتے تھے اور ضبط تحریر میں لاتے تھے ،کہ وہ تر کی گھوڑے پر سوار نہ ہو ،اعلیٰ درجے کی غذا نہ کھائے،باریک ریشمی کپڑا نہ پہنے ،اور اہل حاجت کے لیے اپنے دروازے بند نہ کرے اگر ایسا کریگا تو وہ سز کا مستحق ہو گا ،(آپ والیوں کو بھی احکام کی خلاف ورزی پر سزا دیتے تھے)
حضرت عمر بیت المال سے
کیا حاصل کرتے تھے
حضرت عمر ؓ خود فرماتے ہیں کہ عمر کے لیے بیت المال سے سوائے دو جوڑے کپڑوں کے ایک سردی اور ایک گرمی کے لیے ،حج اور عمرے کا خرچ ،اپنی اور گھروالوں کی غذاجیسی عام مسلمان استعمال کرتے ہیں ،کے علاوہ کوئی اور چیز جائز نہیں ۔لوگوں کا بیان ہے کہ قحط سالی میں جو ایک سال تک چلی تھی آپ نے مسلسل ایک سال تک گوشت نہیںکھایا ،سادگی کا یہ عالم تھا کہ آپ اکثر صوت کا لباس پہنتے تھے جس میں چمڑے کا پیوند لگا ہوا ہوتا تھا حالانکہ آپ امیر المومنین تھے،اور اسی لباس میں بازار تشریف لے جایا کرتے تھے اور اہل بازار کو تنبیہ فرمایا کرتے تھے ،عبد اللہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓکے ساتھ حج کیا ،سفر کے دوران آپ جب کسی منزل پر پڑا ئو ڈالتے تھے تو کوئی خیمہ یا شامیانہ نہیں لگواتے تھے بلکہ یونہی کسی درخت کے نیچے کمبل وغیرہ ڈال کر آرام فرمالیا کرتے تھے ،عبداللہ بن عامرکا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا یا اورکہا کاش میں اس تنکے کی طرح ہوتا ،کاش میں کچھ نہ ہوتا ،کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،حضرت عمر ؓفرماتے تھے کہ مجھے سب سے زیا دہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو مجھے میرے عیب سے آگاہ کرے ، حضرت عمرؓ کو جب کبھی غصہ آجایا کرتا تب آپ کے سامنے کوئی آیت پڑھ دیتا یا اللہ کا خوف یاد دلاتا تھا تو فوراً آپکا غصہ ختم ہوجایا کرتاتھا ۔
تاریخ خلافت اور فتو حات
حضرت عمرؓ فاروق حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حیات ہی میں جمادی الثانی 13 ؁ھ خلافت کے لیے نامزد ہوگئے تھے ،امام زہری ؒفرماتے ہیں کہ جس روز صدیق اکبر ؓکا انتقال ہوا سی روز آپ نے خلافت سنبھال لی یعنی 22ج مادی الثانی 13؁ ھجری کو!آ پ کے دور خلافت میں بے حد فتو حات ہوئیں یعنی 14 ھ ؁ میں دمشق ،صلح وجنگ سے سے فتح ہوا ،اسکے بعد حمص ،بعلبک پر بذریعہ صلح قابض ہوئے، اور اسی سال بصرہ فتح ہوا ۔،پھر 15 ؁ ھ میں ملک اردن فتح ہوا کنگ سے ،اور طبریہ صلح سے مسلمانوں کے قبضے میں آیا یرموک و قادسیہ پر زبر دست جنگیں ہوئیں ،اسی سال حضرت سعد نے کوفہ کا شہر بسایا ،اسی سال حضرت عمر ؓنے لوگوں کی جاگیریں مقرر کیں ،دفاتر کھولے اور لوگوں کو عطیات بخشے، 16 ؁ھ میں اہواز اور مدائن فتح ہوئے ،حضرت سعدابن ابی وقاص نے ایوان کسریٰ میں نماز جمعہ اداکی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عراق کی مملکت میں ماہ صفر میںپڑھاگیا۔اسی سال یزدجر بن کسریٰ نے شکست فاش اٹھائی اوردوسرے مقام کی طرف بھاگ گیا ،اسی سال تکریت فتح ہوا اور وہاں تو حضرت عمر بنفس نفیس تشریف لے گئے ،پھر بیت المقدس فتح ہوا اور آپنے شہر جابیہ میں اپنا مشہور خطبہ دیا ،اسی سال قنسرین اور سردج جنگ سے اور حلب اور انطاکیہ اور منبح صلح وصفائی سے فتح ہوئے ،اسی سال حضرت علی المرتضیٰ کے مشورے سے سال ماہ ربیع الاول میں سال ہجری کا اجرا ہوا۔، 17 ؁ھ میں آپنے مسجد نبوی کی توسیع کا کام کیا ،اہواز کا شہر بھی اسی سال فتح ہوا ، 18ھ میں نیشاپور صلح سے اور حلوان جنگ سے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ،سمساط ،حرّان ،نصیبین ،اور بعض جزائر جنگ سے بعض مئورخین کا خیال ہیکہ صلح سے فتح ہوئے ! ۱۹ ؁ھ میں قیساریہ جنگ سے قبضے میں آیا ، 20 ؁ھ میں مصر جنگ کے بعد فتح ہوا ،قیصر روم کا انتقال ہوا ،اور حضرت عمر نے خیبر اور نجران سے یہودیوں کو جلا وطن کیا ،خیبر اور وادی القریٰ کو تقسیم کردیا ، 21 ؁ھ میں جنگ عظیم کے بعد اسکندریہ اور نہاوند فتح ہوئے ، ان شہروں کے فتح ہونے کے بعد ملک عجم میں کوئی سر کش جماعت باقی نہ رہی ، 22 ؁ھ میں آذر بائیجان بقول بعض جنگ اور بقول بعض صلح سے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ،اسکے بعد دینور ،ماسبذان، اور ہمدان جنگ سے فتح ہوئے ، 23 ؁ھ میں مکران ، کرمان ،سبحستان ،اور اصفہان اور اسکے اطراف کے علاقے قبضے میں آئے ،اور اسی سال کے آخر میں حضرت عمر کی شہادت واقع ہوئی ۔
اوّلیات عمر
امام عسکری کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنکو امیرالمومنین سے موسوم کیا گیا ، آپ کی اولیات میں خاص طور پر قابل ذکر باتیں یہ ہیں ، نمبر اول آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تاریخ وسال ہجری جاری کیا نمبر۲ بیت المال قائم کیانمبر۳ماہ رمضان میں تراویح باجماعت شروع کروائی نمبر۴ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے راتوں کو آبادی کا گشت کیا نمبر۵ مذمت کرنے والے لوگوں پر حد جاری فرمائی اور سزائیں دیں نمبر۶ شراب پینے والوں کو اسی کوڑے لگوائے نمبر۷ متعہ کی حرمت کو عام کیا اور اسے کسی فرد کے لیے بھی جائز نہ رکھا نمبر۸ جن باندیوں سے اولاد ہو جائے ان کی خریدو فروخت ممنوع قرار دیدی نمبر۹نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھنے کا حکم دیا نمبر۱۰دفاتر قائم کئے اور وزارتیں مقرّر فرمائیں نمبر۱۱سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں نمبر۱۲مصرسے بحر ایلہ کے راستے مدینہ منوّرہ غلہ پہچانے کابندوبست کیا نمبر۱۳صدقہ کامال اسلامی امور میںخرچ کرنے سے روکا نمبر۱۴ترکہ اور ورثے کے مقرر ہ حصوں کی تقسیم کا نفاذ فرمایا نمبر۱۵ گھوڑوںکی زکوٰۃ وصول کی نمبر۱۶ ا ٓپ ٓنے ہی سب سے پہلے درّہ ایجاد کیا(جوآجکل جرنیل اسکی نشانی رکھتے ہیں ) نمبر۱۷ شہروں میں قاضی مقرر فرمائے نمبر ۱۸ کوفہ، بصرہ، شام ،مصر ،جزیرہ اور موصل شہر آباد ہوئے ۔،
حضرت عمر ؓنے منیٰ سے ابطح واپس آتے ہوئے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اسکی پشت سے تکیہ لگا کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کراسطرح دعا مانگی ! الٰہی میں بوڑھا ہوگیا ہوں میرے قویٰ میں ضعف آگیا ہے رغبتوں میں انتشار آگیا ہے اس سے قبل کہ میں ناکا رہ ہوجائوں اور میری عقل میں فتور پیدا ہوجائے تو مجھے اپنے پاس طلب فرمالے، اسلم نے ایک اور دعا حضرت عمر کی نقل کی ہے کہ الٰہی! مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اپنے محبوب کے شہر میں مجھے موت دے۔ اور ابھی ذوالحجہ ختم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ آپ شہید کر دئے گئے ۔
اسباب شہادت
امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ کسی نابالغ لڑکے کو باہر سے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ،اکبار حاکم کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کوفہ سے آپ کو لکھا کہ یہاں ایک بہت ہی ہوشیار اور کاریگر لڑکا موجود ہے ،لوہار اور بڑھئی کاکام اچھی طرح جانتا ہے ،نقّاشی بھی بہت عمدہ کرتا ہے ،اگر اجازت ہو تو اسکو مدینہ بھیجدوں تاکہ اہل مدینہ کے کام آسکے ، آپ نے اجازت دیدی ،یہاں آکر اس نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے شکایت کی کہ حاکم کوفہ مجھ سے سو 100درہم ٹیکس زیا دہ وصول کرتا تھا ،آپ ؓ نے فرمایا 100 درہم زیادہ تو نہیں ،حضرت عمر کا جواب اسکو ناگوار گزرا اور وہ غصہ سے بڑبڑاتا ہوا واپس ہوا ، چندروز بعد حضرت عمر نے اسے بلواکر کہا کہ تو کہتا تھا کہ اگر آپ کہیں تو میں ایسی چکی تیار کردوں جو ہوا سے چلے ’’اس نے کڑے تیوروں سے جواب دیا کہ ،،میں آپ کے لیے ایسی چکی تیار کردوں گا جس کا لوگ ہمیشہ ذکر کیا کرینگے،جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ لڑکا مجھے قتل کی دھمکی دیکر گیا ہے (اس لڑکے کانام ابو لولو تھا )۔
آپ کی شہادت تاریخ ووقت
ابولولو کو جو امیر المو منین کا جواب نا گوار گزرا کہ اس نے سمجھا کہ آپ ؓ مغیرہ بن شعبہ ؓ کو تنبیہ فرما ئینگے بس اسوقت سے اس ’’ابو لولو‘‘ نے ایک خنجر بنا کر زہرمیں بجھا کر اپنے پاس رکھ لیا ، 16 ذی الحجہ 23 ؁ھ بروز چہار شنبہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی نماز کی صفیں درست کروارہے تھے کہ’’ ابو لولو‘‘ نے آپ کے شانے اور پہلو پر خنجر کے دو وار کئے جس سے آپ گر پڑے پھر اس نے خنجر چلانا شروع کر دیا تو تیرہ نمازی اور زخمی ہو گئے ،اتنے میں ایک عراقی نے اسپر کپڑا ڈالدیا تاکہ اس کو پکڑا جا سکے ابو لولو نے جب دیکھا کہ وہ قابو ہو چکا ہے اسنے خود کشی کرلی اور جاں بحق ہو گیا،سورج نکلنے کے قریب تھا حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف نے دو چھوٹی سورتوں کے ساتھ نماز پڑھائی اور حضرت عمر کو آپ کے مکان پر لائے اوّلاً آپ کو نبیذ پلائی مگروہ آ پ کے زخموں کے راستے باہر نکل آئی پھر آپ کو دودھ پلایا وہ بھی آپ کے زخموں کے راستے باہر نکل آیا ،اتنے میں حضرت عمر نے کہا شکر ہے میری شہادت کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہ ہوئی ’’ابولولو ‘‘مجوسی تھا ،پھر آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے فرمایا کہ بتائو ہم کتنے مقروض ہیں ۔انہوں نے حساب کرکے بتایا کہ تقریباًچھیاسی ہزار روپیہ قرض ہے !آپ نے ارشاد فرمایا یہ رقم ہمارے مال سے اداکرنا اور اگر قرض پورانہ ہو تو بنو عدّی سے مانگنا ،پھر بھی کم پڑے تو قریش سے لینا پھر فرمایا جائو ام المومنین حضرت عائشہؓ سے جاکر کہو کہ عمر یہ اجازت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دونوں دوستوں کے پاس دفن ہو !ابن عمر حضرت عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمر کی خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے رکھی تھی مگر آج میں اپنی ذات پر حضرت امیر المومنین کو ترجیح دیتی ہوں۔ ابن عمر نے آکر عرض کیاکہ اجازت مل گئی یہ سن کر آپ نے خداکا شکر ادا کیا ،اور پھر فرمایاکہ میں اپنے بعد منتخب ہونیوالے خلیفہ کو وصیّت کرتا ہوں کہ وہ خداسے ڈرتارہے ،اور تمام مہاجر وانصار اور تمام رعایا کے ساتھ نیکی سے کام لے اور اسی قسم کی بہت سی وصیّتیں فرماتے ہوئے آپنے جان جان آفریں کے سپرد کردی ۔
حضرت عمرکی نماز جنازہ و تدفین
حضرت عمرؓ کی نماز جنازہ حضرت صہیب ؓ نے پڑھائی ، جس وقت آپ کا جنازہ تیار ہوگیا تو لوگ آپ کا جنازہ لیکر چلے ،حضرت عبداللہ ابن عمر ؓنے حضرت عائشہ کے پاس پہنچ کر سلام عرض کیا اور والد محترم کے دفن کی اجازت چاہی انہوںنے اجازت دیدی اور آپ کو آپ کے دوستوں (رسول اللہ ﷺ اور صدیق اکبرؓ)کے پہلو میں یکشنبہ کے دن چاند رات کو سپرد خاک کردیا گیا بوقت شہادت آپکی عمر 63سال تھی بعض کاقول ہے کہ 66برس عمر تھی ،روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے کو وصیّت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں بے جا خرچ نہ کرنا کیونکہ میں اگر اللہ کے نزدیک بہتر ہوں تو وہ اس معمولی کفن کو تبدیل کردیگا اور اگر میں اسکے نزدیک بہتر نہیں ہوں تو وہ یہ کفن بھی چھین لیگا ،اور میری قبر لمبی چوڑی نہ بنانا کہ اگر میں خداکے نزدیک بہتر ہوں تو وہ میری قبر کو حدّ نگاہ تک وسیع کردیگا ورنہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو اتنی تنگ کر دی جائیگی کہ پسلیاں ٹوٹ جائینگی۔،ابن عباس نے بعد وفات حضرت عمرؓ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی عرق آلود ہے۔ انھوں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کس حال میں ہیں آپنے فرمایا ابھی ابھی حساب وکتاب دیکر فارغ ہواہوں ،اگر اللہ تعالیٰ رئوف الرحیم نہ ہوتا تو میری عزت برباد ہونے میں کوئی کسر باقی نہ تھی ۔
( ماخذ تاریخ الخلفاء از امام حافظ الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی نوراللہ مرقدہ)


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان