... loading ...
آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کاخسارہ کم کرنے لیے کی جانے والی کوششوں کے برعکس گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکسوں کی چوری اور کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو78 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ 2016-17 کے دوران مجموعی طورپر 39.41 بلین روپے یعنی 39 ارب41 کروڑ روپے ٹیکسوں کے واجبات کی مد میں جمع کئے گئے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی تیار کردہ یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جاچکی ہے اور اب جلد ہی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے بھی پیش کردی جائے گی۔ٹیکسوں سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے ذمہ دار اداروں کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت اور مدد کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی چوری ممکن ہی نہیں ہے۔اس کام میں متعلقہ ٹیکس حکام ہی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے سینکڑوں افراد کو نان اسیسمنٹ، یعنی ناقابل ادائیگی ہونے، ٹیکس کم ظاہر کرنے اورڈیوٹیز کی شرح کم لگانے یا نہ لگانے کے بارے میں مشورے دے سکتے ہیں اور اس حوالے سے متعلقہ فرد کی مدد کرسکتے ہیں ۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں تخمینہ لگایاگیاہے کہ فنانشیل انسٹرومنٹ کے کیش نہ ہونے کی وجہ سے کم وبیش 27.992 بلین روپے کی وصولی رک کر رہ گئی رپورٹ میں عدالتوں میں مقدمات کی موثر پیروی کرنے اور عدالتی عمل کو مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ٹیکس حکام کی جانب سے ٹیکس چوروں پر جرمانے عاید نہ کئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 11.87 بلین یعنی 11 ارب 87 کروڑ روپے کانقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق 51 ہزار319 معاملات میں ایف بی آر کے13 فیلڈ افسران نے برآمد اور درآمد کنندگان کی جانب سے درآمد یابرآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت ، وزن ،مقدار اور اس کی ہیئت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنا ثابت ہونے کے باوجود یا تو جرمانہ عاید ہی نہیں کیا یا پھر جرمانہ وصول کرنے میں ناکام رہے۔اس کے علاوہ درآمد کی گئی اشیا کی مس کلاسیفیکشن یعنی اس کو غلط زمرے میں رکھے جانے کی وجہ سے خزانے کو 4.39 بلین روپے یعنی 4 ارب 39 کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔
آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 5 ہزار511 معاملات میں ایف بی آر کے14 افسران درآمدی اشیا پاکستان کسٹمز ٹیرف میں درج کلاسیفیکشن کے برعکس غلط کلاسیفیکشن کے تحت کلیئر کردیں جس کی وجہ سے درآمدکنندگا ن اصل ڈیوٹی ادا کرنے سے بچ گئے اور بہت کم ڈیوٹی ادا کرکے مال کلیئر کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔اسی طرح ایک ہزار 190 معاملات میں غیر قانوی طریقے سے چھوٹ دئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کومجموعی طورپر 3.64 بلین روپے یعنی 3 ارب 64 کروڑ روپے کانقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اسلام آ باد اور اپریزمنٹ ایسٹ کراچی نے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ ٹیکسوں میں ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو درآمد کردہ پلانٹس، مشینری اورسازوسامان پر غیر قانونی طریقے سے چھوٹ فراہم کی اور اس طرح قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس کی عدم وصولی یا کم وصولی کے ذریعے بھی قومی خزانے کو 3.41 بلین روپے یعنی3 ارب 41 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 86 ہزار725 معاملات میں اشیا کے بارے میں ڈکلریشن اور شپنگ بلز کی جانچ پڑتال سے ظاہرہوتاہے کہ ایف بی آر کے14 فیلڈ افسران نے درآمد شدہ اشیا پر یاتو ود ہولڈنگ ٹیکس وصول ہی نہیں کیا یا انتہائی کم شرح سے وصول کیا اور اس طرح قومی خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کے 14افسران نے کسٹمز اور ڈیوٹیز کی عدم ادائیگیوں یا دیگر بے قاعدگیوں کے الزام میں ضبط کی جانے والی اشیا جن میں گاڑیاں اور دیگر جلد خراب ہوجانے والی اشیا شامل تھیں بروقت ٹھکانے نہیں لگائیں جس کی وجہ سے حکومت کی متوقع آمدنی کی 4.47 بلین یعنی 4ارب 47 کروڑ روپے پر مبنی رقم رک کر رہ گئی اور اس حوالے سے سرکاری خزانے کو نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے افسران نے 5ویں شیڈول کے تحت غیرقانونی طورپر ٹیکسوں میں چھوٹ دے کرقومی خزانے کو 3.35 بلین روپے یعنی 3 ارب 35 کروڑ روپے کانقصان پہنچایا 5 ویں شیڈول کے تحت آنے والی درآمد شدہ مخصوص اشیا پر شیڈول کے تحت متعلقہ فہرست میں درج شرح کے مطابق ٹیکس نافذ کرنا ضروری ہوتاہے۔2016-17 کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں برآمدی نوعیت کاسامان تیار کرنے والی صنعتوں اورکارخانوں سے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول نہ کئے جانے کے سبب قومی خزانے کو 2.74 بلین یعنی 2 ارب 74 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم شرح سے وصول کئے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 1.32 بلین یعنی ایک ارب32 کروڑ روپے کانقصان پہنچانے کا انکشاف کیا گیاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ٹیکسوں اورڈیوٹیز میں غیر قانونی طورپر چھوٹ دئے جانے کے سبب قومی خزانے کو 1.14 بلین یعنی ایک ارب 14 کروڑ کا نقصان پہنچایاگیااور ان کلیمڈ اشیا کی کلیئرنس نہ کرکے قومی خزانے کے 763.98 ملین روپے یعنی 76 کروڑ39 لاکھ 80 ہزار روپے غیر ضروری طورپر منجمد کردئے گئے۔اس کے علاوہ اشیا کی اصل قیمت سے کم قیمت لگائے جانے کے سبب بھی قومی خزانے کو 620 ملین روپے یعنی 62 کروڑ روپے کانقصان پہنچایاگیا۔ایس آر او کاغیر قانونی فائدہ دے کر قومی خزانے کوڈیوٹی اورٹیکسوں کی مد میں 576.44 ملین روپے یعنی 57 کروڑ64 لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ایس آر اوکا غیر ضروری فائدہ دے کر اور بندرگاہ کے گوداموں میں مال زیادہ دنوں تک رکھنے پر سرچارج اور ٹیکسوں کی عدم وصولی سے بھی قومی خزانے کو 533.582 ملین روپے یعنی 53 کروڑ35لاکھ 82 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح ویسٹیج اور فیکٹری سے ناکارہ قرار دی گئی اشیاکو بروقت فروخت نہ کئے جانے سے قومی خزانے کی 467.37 ملین روپے کی رقم یعنی46 کروڑ 73 لاکھ70 ہزار روپے منجمد ہوگئے۔ حکومت کے فیصل شدہ واجبات وصول نہ کئے جانے کے سبب بھی قومی خزانے کو1.2 بلین روپے یعنی ایک ارب20 کروڑ روپے کانقصان اٹھانا پڑا،ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی عدم وصولی پر خزانے کو 382.7 ملین روپے یعنی38 کروڑ 27 لاکھ روپے کا اورایک ایس آر او کے تحت غیر قانونی طورپر چھوٹ دے کر سیلز ٹیکس کی مد میں عدم وصولی کے ذریعے343.13 ملین یعنی 34 کروڑ31 لاکھ30 ہزار روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔مشینری اور دیگر پرزہ جات کی فروخت پر ڈیوٹی اورٹیکس وصول نہ کئے جانے کے سبب قومی خزانے کو88.65 ملین روپے یعنی8کروڑ 86 لاکھ50 ہزار روپے کانقصان پہنچایاگیا۔جبکہ درآمد شدہ اشیا پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی عدم وصولی کے سبب قومی خزانے کو196.46 ملین روپے یعنی19کروڑ 64 لاکھ 60 لاکھ روپے کانقصان ہوا۔
اب دیکھنا یہ ہے قومی اسمبلی او رپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارباب اختیار قومی خزانے کو پہنچنے والے اس نقصان کاکس طرح نوٹس لیتے ہیں اور اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کیاکارروائی کی جاتی ہے؟
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...
سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...
نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...
قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...
ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...
کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...
متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...
دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...
منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...
ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...
اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...