وجود

... loading ...

وجود

تاجروں کاسیلز ٹیکس جمع کرانے سے گریز ‘ایف بی آر قابل عمل حکمت عملی سے محروم

بدھ 20 ستمبر 2017 تاجروں کاسیلز ٹیکس جمع کرانے سے گریز ‘ایف بی آر قابل عمل حکمت عملی سے محروم

وزیر خزانہ نے قومی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے انسانی استعمال کی کم وبیش ہر شے پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا ہے جو ہر شہری سے اس کی خریداری کے ساتھ ہی وصول کرلیاجاتاہے لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریونیو بورڈ میں سیلز ٹیکس اداکرنے والوں کی حیثیت سے اپنی رجسٹریشن کرانے والے تاجروں کی بہت کم تعداد باقاعدگی سے سیلز ٹیکس ادا کررہی ہے،فیڈرل ریونیو بورڈ کے پاس موجود اعدادوشمار اور ریکارڈ کے مطابق2016-17 کے دوران ایف بی آر کے پاس سیلز ٹیکس جمع کرانے والوں کی حیثیت سے ناموں کا اندراج کرانے والے تاجروں اور صنعت کاروں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ27 ہزار268 تھی لیکن ان ایک لاکھ 27 ہزار سے زاید رجسٹرڈ تاجروں ،ٹھیکیداروں اور صنعت کاروں میں سے صرف 20 ہزار 700 نے سیلز ٹیکس جمع کرایا جبکہ بقیہ 80 فیصد سے زیادہ رجسٹرڈ افراد نے سرکاری خزانے کی مد میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا،جس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ہمارے ایف بی آر کے حکام سیلز ٹیکس کی وصولی کا کوئی موثر اور جامع طریقہ کار وضح کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ قومی خزانے کو اس کی اس آمدنی سے محروم کررہے ہیں جو وہ عوام سے پہلے ہی وصول کرچکے ہیں ۔ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطا بق2016-17 کے دوران مجموعی طورپرایک لاکھ 27 ہزار268 رجسٹرڈ سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں میں سے صرف ایک لاکھ 14 ہزار102 افراد یافرموں نے اپنے سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرائے یعنی 13 ہزار166 رجسٹرڈ فرموں یعنی 11 فیصدنے سرے سے اپنے گوشوارے ہی جمع نہیں کرائے سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے والے 40 ہزار اداروں افراد یا ٹھیکیداروں نے اپنے گوشواروں میں سیلز ٹیکس صفر میں ظاہر کیا یعنی انھوں نے کسی طرح کا سیلز ٹیکس واجب الادا ہونے سے ہی انکار کیا،اور اپنے گوشواروں میں لکھ دیا کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی ایسا کاروبار نہیں کیا یا خدمات انجام نہیں دیں جن پر سیلز ٹیکس نافذ کیاجاسکتاہو،ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کاکہناہے کہ یہ ممکن ہے کہ سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے والے بعض اداروں نے واقعی ایسا کوئی کاروبار نہ کیا ہو یا ایسے سیکٹر میں خدمات انجام نہ دی ہوں جہاں سیلز ٹیکس واجب الادا ہوتاہو لیکن ایف بی آرکے ریجنل ٹیکس افسران اور لارج ٹیکس پیئر یونٹ کے افسران کافرض ہے کہ وہ جمع کرائے گئے گوشواروں کی چھان بین کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ سیلز ٹیکس نافذ العمل نہ ہونے کے اس دعوے میں حقیقت کتنی ہے، اسی طرح جن لوگوں نے گوشوارے جمع نہیں کرائے ان کے معاملات کی بھی چھان بین کی جائے کہ ان کی جانب سے گوشوارے جمع نہ کرائے جانے کی بنیا دی وجہ کیاہے۔
ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق55 ہزار یونٹس یعنی مجموعی طورپر 48 فیصد اداروں نے یہ ظاہر کیاہے کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی کام ہی نہیں کیا۔ان میں سے بعض کاسبب ادارے بندکردئے جانے یعنی کاروبار ختم کردیاجانا بھی ہوسکتاہے لیکن ایف بی آر کی جانب سے تفصیلی چھان بین اور انکوائری کے بعد ہی ان کی اصلیت کاعلم ہوسکتاہے ۔ایف بی آر کے ذرائع کاکہناہے کہ جو ادارے یا لوگ گوشوارے جمع نہیں کراتے وہ دراصل قومی خزانے میں کوئی رقم جمع نہیں کرارہے ہوتے ہیں ۔ایف بی آر کے موجود اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ٹیکس بیس کو وسعت دینا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ایک مشکل کام ہے اس کے لیے بھرپور توجہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے،صرف تجارتی اداروں کی رجسٹریشن کرلینے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ ٹیکس نیٹ میں شامل کیے جانے والے اداروں کے جمع کردہ گوشواروں کی چھان بین اور ان کی اصل آمدنی اور قابل ادا ٹیکس کاتعین کرنا بھی ایف بی آر کے متعلقہ حکام کاہی فرض ہے لیکن ایف بی آر کے گزشتہ مالی سال کے ریکارڈ سے ظاہرہوتا ہے کہ ایف بی آر کے حکام نے اب تک اس حوالے سے کاغذی خانہ پری کے سوا عملا ً کچھ نہیں کیا۔جس کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا اور ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی تخمینے سے بہت کم رہی ، یہی وہ صورت حال تھی جس کی وجہ سے وزارت خزانہ کو جاریہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا سہارالینے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق 2016-17 کے دوران ٹیکسوں کے گوشوارے جمع کرانے والوں میں بڑی تعداد ایسے اداروں اور افراد کی ہے جنھوں نے زیر نظر سال کے دوران اپنے کاروبار اورکام سے ہونے والی آمدنی کو قابل ٹیکس قرار نہیں دیاہے جبکہ ان میں سے بہت سوں نے زیر نظر سال کے دوران کسی طرح کی کاروباری سرگرمی سے ہی انکار کیاہے اور یہ ظاہر کیاہے کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی کاروبار ہی نہیں کیا۔تاہم اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ رجسٹرڈ ٹیکس پیئرز کی اتنی بڑی تعداد کی جانب سے قابل ٹیکس ہونے سے انکار اور ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرائے جانے کے باوجود زیر نظر سال کے دوران سیلز ٹیکس کی وصولی کی شرح اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں کچھ بہتر رہی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق2016-17 کے دوران مجموعی طورپر سیلز ٹیکس کی مد میں 628.63 بلین یعنی 628 ارب 63 کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے جبکہ اس سے قبل والے سال کے دوران اس مد میں وصول کی جانے والی رقم میں 624.1 بلین روپے یعنی 624 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی اس طرح زیر نظر سال کے دوران کاروباری سرگرمیاں تیز رہنے کے باوجود سیلز ٹیکس کی مد میں وصولی کی شرح میں صرف 0.74 فیصد کااضافہ کیاجاسکا،خیال کیاجاتاہے کہ اگر ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے گوشواروں کی چھان بین اور گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے بارے میں تفتیش کاموثر اور جامع نظام وضح کرلیاہوتاتو یہ وصولی تصور سے کہیں زیادہ ہوتی۔
ایف بی آر کے پاس موجود ریکارڈ سے پتہ چلتاہے کہ سیلز ٹیکس کی مد میں سب سے زیادہ رقم کراچی سے وصول کی گئی جبکہ سیلز ٹیکس میں لاہور میں کاحصہ محض28 فیصد رہا جبکہ بقیہ رقم 13 شہروں سے وصول کی گئی جن میں کوئٹہ،پشاور ، اسلام آباد ، راولپنڈی، فیصل آباد ، گوجرانوالہ،ملتان، ایبٹ آباد، سکھر، حیدرآباد اور سیالکوٹ سے وصول کی گئی۔اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہرہواہے کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے صرف چند مخصوص اشیا کواپنا ہدف بنایاہواہے جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ زیر نظر سال کے دوران وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کا بڑا حصہ یعنی کم وبیش73 فیصد حصہ 10 اشیا پر وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس سے حاصل ہوا ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات سے 43.8 فیصد،قدرتی گیس سے 8.9 فیصد، کھاد سے 4.8 فیصد،سیمنٹ سے 2.8 فیصد،بجلی سے 2.4 فیصد ، سگریٹ سے 2.6 فیصد،چینی سے 2.1 فیصد،چائے سے 1.3 فیصداور اشیائے خوراک سے 0.8 فیصد وصول کیاگیا۔
ایف بی آر کے ایک سینئر افسر کاکہنا ہے کہ سیلز ٹیکس وصولی کاکوئی موثر نظام تشکیل نہ دیے جانے کے سبب سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا ہے تاہم اگر اس نظام کو زیادہ موثر بنادیاجائے تو اس مد میں وصولی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا جس سے اس ملک کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے رقم کی کمی پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ کو خود کو نیب عدالتوں سے متوقع سزاؤں سے بچانے کی سرگرمیوں سے کب وقت ملے گا اور وہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے پر کب توجہ دیں گے ، تاہم واقف حال حلقوں کاکہناہے کہ وزار ت خزانہ کے ارباب اختیار ملک میں ٹیکس وصولی کاکوئی ایسا موثر نظام قائم کرنا ہی نہیں چاہتے جس کے شکنجے میں ہر ایک پھنس جائے اور کسی استثنیٰ کے بغیر ہر ایک کو واجب الادا ٹیکس ادا کرنا پڑے کیونکہ اس طرح کے نظام سے تمام بڑے سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کو مالی امداد فراہم کرنے والے بڑے سرمایہ داروں ،تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی پورا پورا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور جب ان کے پاس کالا دھن باقی نہیں بچے گا تو وہ سیاسی جماعتوں کو اس فراخدلی کے ساتھ چندے فراہم نہیں کرسکیں جن کی بنیاد پر سیاسی رہنما اپنی انتخابی اور عوام رابطہ مہم کے دوران لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کردیتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

مضامین
ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر