وجود

... loading ...

وجود

کے الیکٹرک کے ہاتھوں کراچی کے 50 فیصد سے زیادہ اسکولوں بجلی سے محروم‘طلبہ اذیت کاشکار!

منگل 19 ستمبر 2017 کے الیکٹرک کے ہاتھوں کراچی کے 50 فیصد سے زیادہ اسکولوں بجلی سے محروم‘طلبہ اذیت کاشکار!

کے الیکٹرک نے بجلی کے بلز کی عدم ادائی پر کراچی کے 50 فیصد سے زیادہ اسکولوں کی بجلی کاٹ دی ہے، جس کی وجہ سے بجلی سے محروم ہوجانے والے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ شدید گرمی کے موسم میں مشکلات ومصائب کاشکار ہیں اور ان کو اپنے فرائض کی انجام دہی اور طلبہ کو حصول تعلیم میں شدید دشواریوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے ، اطلاعات کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم نے گزشتہ 5سال سے اسکولوں کو بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بلز کی ادائی کے لیے کوئی رقم جاری نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ان تمام اداروں کے واجبات میں ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے ، جبکہ محکمہ تعلیم کے حکام کا کہناہے کہ سندھ کی حکومت نے محکمہ کو گزشتہ 5 سال سے یوٹلیٹی بلز کی ادائی کے لیے کوئی فنڈ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے بلز کی ادائی ممکن نہیں رہی اور اب واجبات اتنے زیادہ ہوچکے ہیں کہ خصوصی فنڈز کے اجرا ء کے بغیر ان کی ادائی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے مارچ میں کراچی کے ایک ہزار457 اسکولوں کی بجلی بلز کی عدم ادائی پر منقطع کردی تھی کے الیکٹرک کے ذرائع کے مطابق ان اسکولوں پر کے الیکٹرک کے مجموعی طورپر 23 کروڑ 48 لاکھ روپے واجب الادا ہیں ۔سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے کے الیکٹرک کے حکام سے مذاکرات کرکے ان سے بلز کی ادائی کے لیے مہلت حاصل کی تھی اور بلز کی ادائی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن وہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے جس پر کے الیکٹرک نے آخری حربے کے طورپر اسکولوں کو بجلی سے محروم کردیا۔
سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کا کہناہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں بجلی کے بلوں کی ادائی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی تھی جس کی وجہ سے بلز کی ادائی ممکن نہیں ہوسکی اور بلز کی عدم ادائی کی بنیاد پر کے الیکٹرک نے اسکولوں کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنا شروع کردیاہے اور اس کے نتیجے میں شہر میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول بجلی کی سہوت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے اس حوالے سے محکمہ تعلیم سے شکایت کی تھی لیکن ان کی بات پر توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں ہے اوران کی شکایت کو بھی ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑادیا گیا ۔ڈائریکٹریٹ آف اسکول کے ایک افسر نے بتایا کہ ہم نے کے الیکٹرک کے حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ اسکولوں کو بجلی سے محروم کرنے کاآخری قدم نہ اٹھائیں ، ہم نے انھیں یقین دہانی کرائی تھی کہ سندھ حکومت سے فنڈز ملتے ہی تمام بلز کی ادائی کردی جائے گی لیکن اس وقت محکمہ کے پاس ایسی کوئی رقم موجود نہیں ہے جس سے بلز کی ادائی کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اس درخواست اور یقین دہانی پر کے الیکٹرک نے عارضی طورپر بعض اسکولوں کی بجلی اس شرط پر بحال کردی تھی کہ بقایاجات کی جلد از جلد ادائی کاانتظام کیاجائے گا لیکن سندھ حکومت نے اس مد میں اب تک کوئی رقم جاری نہیں کی جس کی وجہ سے اب کے الیکٹرک کے اربابِ اختیار بلز کی ادائی سے کم کوئی بات سننے اور کوئی یقین دہانی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق کراچی کے اسکولوں کی بجلی بحال کرانے کے لیے کے الیکٹرک کے بلز کے واجبات کی مد میں کم از کم 15 کروڑ روپے فوری جمع کرانا لازمی ہے کیونکہ اس کے بغیر کے الیکٹرک اسکولوں کی بجلی بحال کرنے کوتیار نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بلز کی ادائی کے لیے فوری طورپر11 کروڑ روپے ادا کرنے کے حوالے سے ایک سمری سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی گئی تھی لیکن اس کی ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے،اور یہ سمری اعلیٰ افسران کے گرد ہی گردش کررہی ہے،سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلز ادا کر کے اسکولوں کی بجلی بحال کرانے کے بجائے اطلاعات کے مطابق محکمہ کے متعلقہ افسران نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران سے اسکولوں میں بجلی کے استعمال اور کے الیکٹرک کے واجبات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے اسکولوں میں بجلی کے استعمال کے حوالے سے اپنی رپورٹیں محکمے میں جمع کرادی ہیں لیکن ابھی ان پر کوئی فیصلہ نہیں کیاگیاہے اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کی پیش کردہ رپورٹ کی منظوری کے بعد ہی کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے ۔
ایک طرف سندھ کے وزیرتعلیم اور سیکریٹری تعلیم یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ سندھ میں اسکولوں کی حالت بہتر بنانے اور اسکولوں میں طلبہ کی تعلیم کے لیے ماحول کو زیادہ بہتر بنایا جارہاہے لیکن دوسری طرف حقیقی صورت حال یہ ہے کہ سندھ کے دیہی علاقے تو کجا کراچی کے سرکاری اسکولوں کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے ، اور شہر میں شاید ہی کوئی ایسا اسکول ہو جہاں طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ موجود ہوں اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو پینے کے پانی بجلی اور دیگر ضروری سہولتیں حاصل ہوں اور جن کی لیبس میں طلبہ کے تجربات کے لیے تمام ضروری سازوسامان موجود ہو۔سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے سندھ کے وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کی اسی بے اعتناعی کی وجہ سے اس حقیقت کے باوجود کہ شہروں میں لوگوں میں اپنے بچوں کوتعلیم سے آراستہ کرنے کا شعور بڑھ رہاہے اور غریب سے غریب شہری بھی اپنے بچوں کواسکولوں میں داخل کرانا چاہتاہے۔ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے اورایک اندازے کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوچکی ہے ، جبکہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار روز بروز گرتا چلاجارہا ہے جس کا اندازہ میٹرک کے نتائج سے لگایا جاسکتاہے ۔
ماہرین تعلیم اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کامعیار گرنے کی بنیادی وجہ سرکاری اسکولوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی جانب سے ارباب اختیار کی غفلت ہے ، معیار تعلیم گرنے کی ایک دوسری بڑی وجہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی مناسبت سے قابل اساتذہ کی خدمات کی فراہمی سے گریز بھی ہے ظاہر ہے کہ جب اساتذہ ہی نہیں ہوں گے تو طلبہ پڑھیں گے کیسے اور ان اسکولوں کے نتائج بہتر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟


متعلقہ خبریں


مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

مضامین
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

موضوع کی تلاش وجود منگل 17 فروری 2026
موضوع کی تلاش

جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر