... loading ...
کے الیکٹرک نے بجلی کے بلز کی عدم ادائی پر کراچی کے 50 فیصد سے زیادہ اسکولوں کی بجلی کاٹ دی ہے، جس کی وجہ سے بجلی سے محروم ہوجانے والے اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ شدید گرمی کے موسم میں مشکلات ومصائب کاشکار ہیں اور ان کو اپنے فرائض کی انجام دہی اور طلبہ کو حصول تعلیم میں شدید دشواریوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے ، اطلاعات کے مطابق سندھ کے محکمہ تعلیم نے گزشتہ 5سال سے اسکولوں کو بجلی اور دیگر یوٹیلٹیز کے بلز کی ادائی کے لیے کوئی رقم جاری نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ان تمام اداروں کے واجبات میں ہر ماہ اضافہ ہورہا ہے ، جبکہ محکمہ تعلیم کے حکام کا کہناہے کہ سندھ کی حکومت نے محکمہ کو گزشتہ 5 سال سے یوٹلیٹی بلز کی ادائی کے لیے کوئی فنڈ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے بلز کی ادائی ممکن نہیں رہی اور اب واجبات اتنے زیادہ ہوچکے ہیں کہ خصوصی فنڈز کے اجرا ء کے بغیر ان کی ادائی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے مارچ میں کراچی کے ایک ہزار457 اسکولوں کی بجلی بلز کی عدم ادائی پر منقطع کردی تھی کے الیکٹرک کے ذرائع کے مطابق ان اسکولوں پر کے الیکٹرک کے مجموعی طورپر 23 کروڑ 48 لاکھ روپے واجب الادا ہیں ۔سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے کے الیکٹرک کے حکام سے مذاکرات کرکے ان سے بلز کی ادائی کے لیے مہلت حاصل کی تھی اور بلز کی ادائی کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن وہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے جس پر کے الیکٹرک نے آخری حربے کے طورپر اسکولوں کو بجلی سے محروم کردیا۔
سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کا کہناہے کہ سندھ حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں بجلی کے بلوں کی ادائی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی تھی جس کی وجہ سے بلز کی ادائی ممکن نہیں ہوسکی اور بلز کی عدم ادائی کی بنیاد پر کے الیکٹرک نے اسکولوں کو بجلی کی سہولت سے محروم کرنا شروع کردیاہے اور اس کے نتیجے میں شہر میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول بجلی کی سہوت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے اس حوالے سے محکمہ تعلیم سے شکایت کی تھی لیکن ان کی بات پر توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں ہے اوران کی شکایت کو بھی ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑادیا گیا ۔ڈائریکٹریٹ آف اسکول کے ایک افسر نے بتایا کہ ہم نے کے الیکٹرک کے حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ اسکولوں کو بجلی سے محروم کرنے کاآخری قدم نہ اٹھائیں ، ہم نے انھیں یقین دہانی کرائی تھی کہ سندھ حکومت سے فنڈز ملتے ہی تمام بلز کی ادائی کردی جائے گی لیکن اس وقت محکمہ کے پاس ایسی کوئی رقم موجود نہیں ہے جس سے بلز کی ادائی کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اس درخواست اور یقین دہانی پر کے الیکٹرک نے عارضی طورپر بعض اسکولوں کی بجلی اس شرط پر بحال کردی تھی کہ بقایاجات کی جلد از جلد ادائی کاانتظام کیاجائے گا لیکن سندھ حکومت نے اس مد میں اب تک کوئی رقم جاری نہیں کی جس کی وجہ سے اب کے الیکٹرک کے اربابِ اختیار بلز کی ادائی سے کم کوئی بات سننے اور کوئی یقین دہانی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق کراچی کے اسکولوں کی بجلی بحال کرانے کے لیے کے الیکٹرک کے بلز کے واجبات کی مد میں کم از کم 15 کروڑ روپے فوری جمع کرانا لازمی ہے کیونکہ اس کے بغیر کے الیکٹرک اسکولوں کی بجلی بحال کرنے کوتیار نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بلز کی ادائی کے لیے فوری طورپر11 کروڑ روپے ادا کرنے کے حوالے سے ایک سمری سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی گئی تھی لیکن اس کی ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے،اور یہ سمری اعلیٰ افسران کے گرد ہی گردش کررہی ہے،سندھ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلز ادا کر کے اسکولوں کی بجلی بحال کرانے کے بجائے اطلاعات کے مطابق محکمہ کے متعلقہ افسران نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران سے اسکولوں میں بجلی کے استعمال اور کے الیکٹرک کے واجبات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے اسکولوں میں بجلی کے استعمال کے حوالے سے اپنی رپورٹیں محکمے میں جمع کرادی ہیں لیکن ابھی ان پر کوئی فیصلہ نہیں کیاگیاہے اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کی پیش کردہ رپورٹ کی منظوری کے بعد ہی کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے ۔
ایک طرف سندھ کے وزیرتعلیم اور سیکریٹری تعلیم یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ سندھ میں اسکولوں کی حالت بہتر بنانے اور اسکولوں میں طلبہ کی تعلیم کے لیے ماحول کو زیادہ بہتر بنایا جارہاہے لیکن دوسری طرف حقیقی صورت حال یہ ہے کہ سندھ کے دیہی علاقے تو کجا کراچی کے سرکاری اسکولوں کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے ، اور شہر میں شاید ہی کوئی ایسا اسکول ہو جہاں طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ موجود ہوں اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو پینے کے پانی بجلی اور دیگر ضروری سہولتیں حاصل ہوں اور جن کی لیبس میں طلبہ کے تجربات کے لیے تمام ضروری سازوسامان موجود ہو۔سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے سندھ کے وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کی اسی بے اعتناعی کی وجہ سے اس حقیقت کے باوجود کہ شہروں میں لوگوں میں اپنے بچوں کوتعلیم سے آراستہ کرنے کا شعور بڑھ رہاہے اور غریب سے غریب شہری بھی اپنے بچوں کواسکولوں میں داخل کرانا چاہتاہے۔ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے اورایک اندازے کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوچکی ہے ، جبکہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار روز بروز گرتا چلاجارہا ہے جس کا اندازہ میٹرک کے نتائج سے لگایا جاسکتاہے ۔
ماہرین تعلیم اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کامعیار گرنے کی بنیادی وجہ سرکاری اسکولوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی جانب سے ارباب اختیار کی غفلت ہے ، معیار تعلیم گرنے کی ایک دوسری بڑی وجہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی مناسبت سے قابل اساتذہ کی خدمات کی فراہمی سے گریز بھی ہے ظاہر ہے کہ جب اساتذہ ہی نہیں ہوں گے تو طلبہ پڑھیں گے کیسے اور ان اسکولوں کے نتائج بہتر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...