وجود

... loading ...

وجود

بھارت غیر مہذب ‘جمہوریت کے نام پر دھبہ ہے!

منگل 19 ستمبر 2017 بھارت غیر مہذب ‘جمہوریت کے نام پر دھبہ ہے!

ورلڈ بینک نے اعتراف کیا ہے کہ آبی تنازع کے حوالے سے ہونے والے پاک بھارت اجلاسوں میں اب تک ایک بھی نکتے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔اطلاعات کے مطابق ورلڈ بینک نے انڈس واٹر معاہدے سے متعلق اجلاسوں پر بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت سیکریٹری سطح کے مذاکرات کا دور 14 اور 15 ؍ستمبر کو واشنگٹن میں ہوا جس میں کشن گنگا، رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی تعمیر سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک سمیت عالمی بینک نے بھی مذاکرات کو سراہا اور معاہدے کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
عالمی بینک نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ پاک بھارت آبی تنازع کے حل کے حوالے سے ہونے والے اب تک کے تمام اجلاسوں میں پیش کئی گئی کسی بھی ایک رائے پر اتفاق نہیں ہوسکا تاہم عالمی بینک آبی تنازع کو پرامن انداز میں حل کے لیے کام جاری رکھے گا اور مسئلے کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت غیر جانبدارانہ اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کے آبی تنازع کے تصفیے کے لیے کسی ایک نکتے پر بھی متفق نہ ہونے سے متعلق عالمی بینک کی یہ رپورٹ کوئی حیران کن نہیں ہے، کیونکہ گزشہ70سال کے دوران بھارت نے اپنے ہر عمل اور قول سے یہ ثابت کیاہے کہ بھارت جمہوری مہذب ملک نہیں بلکہ دنیا کی واحد انتہا پسند ریاست ہے۔ جو سیکولرازم اور جمہوریت کے نا م پر بدنما دھبہ ہے ،بھارت اپنے قیام اورسیکولرازم اورجمہوریت کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ بھارتی رہنما روز اول ہی سے ذات پات کے نظام پر سختی سے کاربند ہیں ۔ خود ساختہ اونچی ذات کے برہمن اور کھشتری کے علاوہ تمام قوموں اور ذاتوں کو نیچ اور اچھوت سمجھا جاتا جاتا ہے۔ پورے بھارت میں بالعموم اور کشمیر میں خاص طور پر بنیادی انسانی حقوق اور انسانیت کی تذلیل قابض بھارتی فوج کا وطیرہ ہے۔ بھارتی فوج کی سفاکی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ حال ہی میں CPRF میں انسانیت کی تذلیل کرتے ہوئے ایک کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ کے سامنے باندھ کر پورے شہر میں انسانی ڈھال بنا کر گھمایا۔ بزدل ،قابض بھارتی اعلان کر رہے تھے۔ “ پتھر بازوں کا یہی انجام ہوگا “ انسانیت کی اس تذلیل پر بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں کو سانپ سونگھ گیا۔
اس صورت حال پر پوری مہذب دنیا کاحیران ہونا سمجھ میں آنے والی بات ہے مہذب دنیا کے لیے یہ یقینا ایک اچھوتی بات ہے کہ ایک سینئربھارتی فوجی افسر اپنے اندر کی خباثت ظاہر کرتے ہوئے اپنی ناکامی اور بزدلی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے اپنی کم علمی کا اعلان کر رہا ہے۔
کشمیر کی نام نہاد اسمبلی کے دومرتبہ وزیر اعلی ٰ اور بھارتی پارلیمنٹ کے سابق ممبر فاروق عبداللہ بھارتیوں کی انسانیت سوز بزدلی اور اس شرمنا ک گھٹیا بزدلانہ حرکت پر بھر پور مذمت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ باضمیر بھارتیوں کا سرتو شرم سے جھک گیا ہوگا۔ لیکن انتہا پسند مودی کے گروہ کو خوشی ہوئی ہوگی۔ کشمیریوں کی بہادری کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگاکہ بھارتی فوجی گاڑی سے بندھا ہوا ، کشمیری نوجوان فاروق ڈار بلا کسی خوف اپنا سر فخر سے بلند کیے ہوئے ہے۔ اسے نہ تشدد کا خوف تھا نہ موت کا۔کیونکہ کشمیری نوجوانوں کے لیے شہادت باعث فخر اور بھارتی فوجیوں کے لیے موت باعث خوف ہے۔ کشمیری حریت پسند شہادت کی خاطر سولی پر چڑھ کر بھی اپنا سر بلند رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس بھارتی فوجیوں کے سامنے جب کشمیری نوجوان نعرے بلند کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں موجود پتھر بھی ان فوجیوں کو اپنی موت کاپیغام نظر آتے ہیں اوروہ خوف کے مارے اندھادھند فائرنگ شروع کردیتے ہیں اور پھر اس فائرنگ کو حق بجانب قرار دینے کے لیے مختلف تاویلات گھڑتے ہیں ، بھارتی فوجیوں کے خوف اور کشمیریوں کے مقصد حیات میں واضح فرق ہے۔
کشمیریوں کا مقصد حیات آئندہ نسلوں کی بقا اورآزادی کے لیے غازی یا شہید ہونا ہے۔ بھارتیوں کا قبضہ برقرار رکھنے لیے کشمیریوں کی نسل کشی ،ان کی قتل وغارت ناجائز اور نسانیت سوز احکامات کی تعمیل اور نوکری برقرار رکھنا ہے۔ ان ظالم قابض فوجیوں کا ضمیر انہیں جھنجھوڑتا ہے۔ اس وجہ سے وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں ۔ اپنے افسران کو گولیاں مار کر ہلاک کررہے ہیں ۔ خود کشیاں کر رہے ہیں ۔نوکریاں چھوڑ کر بھگوڑے ہورہے ہیں ۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بارے میں کشمیر کی بیٹی شہلا رشید ببانگ دہل کہتی ہیں ۔ “قابض بھارتی فوجیوں کی کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق ا ور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ انتہا پسند گائے ذبح کرنے پر نہتے مسلمانوں کو شہید کردیتے ہیں ۔بزرگوں عورتوں ،بچوں کو شدید تشدد اور تذلیل کا نشانا بناتے ہیں ۔ آر ایس ایس کے غنڈے نام نہاد اسمبلی میں کشمیری ممبران پر گائے ذبح کرنے پر حملہ کردیتے ہیں ۔ جواباً ، بھرپور ذلیل کیے جاتے ہیں ۔ معصوم بچے اور عورتیں ان کا خاص نشانا ہیں ۔ انتہا پسند بزدلوں کے ذہنی گھٹیا پن کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے ،زندہ سنگ بازوں اورسربازوں کے خوف سے تو کانپتے ہوئے انسانی ڈھا ل کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن شہید ہونے والوں کی لاشوں پر اپنی کمینگی اور گھٹیا پن کا مظاہر ہ کرتے ہوئے خنجروں کے وار کرکے بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھا کر اپنی بربریت کو تسکین دیتے ہیں ۔ کشمیری بچوں کے جنازوں پر فائرنگ کرکے کشمیریوں کو شہید کرنا دنیا میں صرف بھارتی فوجیوں کا ہی مکروہ کردار ہے۔ ان کا سیاہ چہرہ مزید بدنما ہوگیا ہے۔ “ پوری دنیا کے باضمیر اور انسانیت دوست عوام کشمیری عوام کے ساتھ ہیں ۔ پاکستانی قوم اپنی پوری قوت سے اخلاقی ، انسانی ،سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔ بزرگ حریت قیادت میں کشمیریوں کی چوتھی نسل آزادی کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ بھارت کے سازشی اور بزدل حکمران اپنے حواس کھو چکے ہیں ۔ وہ انسانیت کے خلاف مظالم کی انتہا کر رہے ہیں ۔ جبکہ کشمیری قوم اپنے یقین کامل اور جذبہ آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ انشااللہ انتھک اور طویل جدوجہد کے بعد آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔وہ موت کے منہ میں بیٹھ کر بھی اپنا سر فخر سربلند رکھتے ہیں ۔ان کے بزرگ انہیں ایک ہی درس دیتے ہیں ۔ ہم کیا چاہتے ہیں آزادی۔ اس پوری صورت حال کے باوجود امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کے اشارے پر جاپان کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم کی پزیرائی سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بنیادی طورپر مسلم دشمن ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف بھارت اور دوسری جانب میانمار سے پینگیں بڑھا نے میں مصروف ہیں ۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر